مختصر کہانیاں

بلیک روز سمرین شاہ قسط نمبر 23 تیسرا عنوان…

???? بلیک روز
???? سمرین شاہ
???? قسط نمبر 23

???? تیسرا عنوان ????
وہ بیٹھی ہوئی تھی اس کا سر جھکا ہوا تھا وہ بالکل سٹل تھی جبکہ اس کے ہونٹ مسلسل جنبش ہورہے تھے جیسے وہ کچھ پڑھ رہی ہو آنکھیں رونے کے باعث اب خاصی سُرخ ہوگئی تھی جیسا سارا خون سمٹ کر وہاں سما گیا ہو محبت تو اسے سب سے تھی لیکن اتنا تو ہما کو نہیں تڑپایا تھا جب اس کے خونی رشتے اسے بچھڑ گئے تھے اور وہ جانتی تھی بچھڑنے والے کھبی لوٹ کر نہیں آتے لیکن زُلنین بھی وہ بن پانی مچلی کی طرح ہوگئی اور اسے لگا وہ سب سی قمیتی متاع کھو دیں گی ۔
کوئی ہل کی ٹھک ٹھک کرتا چلتا ہوا آیا اور ہما نے سر اُٹھایا تو لمبی اور خوبصورت سی کالے لمبے فراک میں کوئی ملبوس تھی دیکھنے میں تو باہر کی کوئی لگ رہی تھی
"آپ کون ؟۔”
وہ عجیب انداز میں مسکرائی اور اس کی عجیب ہی نظریں ہما کو بے حد محسوس ہوئی
"زُلنین کی کزن اور تم کون ہو ؟۔”
ہما کو لگا یہ ڈاکڑ کے ساتھ دوسری کزن آئی ہوگی اس نے سر ہلایا اور بولی
"دوست ہو میں ان کی ۔”
"او ! کون سے نمبر والی ۔”
ہما نے جھٹکے سے سر اُٹھایا اس نے اپنے سینے پہ بازو باندھے ہوئے تھےاور وہ بڑی سی کنگ سائز والی چیر پہ بیٹھ گئی کیا مالکانہ انداز تھا جیسے اس کا گھر ہو
"جی کیا ؟۔”
وہ سمجھ چکی تھی لیکن انجان بنتے ہوئے بولی اسے پتا نہیں کیوں یہ سفید دو دھیا جیسی سفید لڑکی سے الجھن سی محسوس ہوئی
"یار جب ہم دو سال پہلے آئے تھے تو زُلنین کی اور دوست تھی پھر سال بعد جیزی آیا تھا تو کوئی اور تھی یہ زُلنین واقی اُتنی کپڑے نہیں بدلتا جتنی گرل فرینڈز بدلتا ہے
اگر زُلنین کو پتا چلتا کے اس کے کردار پہ انگلیاں اُٹھائی جارہی ہے تو وہ پرمیس کی گردن مروڑ دیتا اتنا تو اس کے دشمن گوائی دیتے ہیں کے زُلنین جیسا سچ پکا اور کھڑا مسلمان ہے ۔”
ہما کا چہرہ لال ہوگیا جبکہ مٹھیاں بھینچی گئی
"میں زُلنین کی گرل فرینڈ نہیں ہو اور مجھے لگتا آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے زُلنین کی کوئی گرل فرینڈ نہیں ہے ۔”
اُف اتنا غصہ وہ تو اس کی کزن تھی زیادہ جانتی ہوگی لیکن زُلنین جیسے کے لیے ایسے الفاظ اُف !
"او غصہ کیوں آرہا ہے اچھا اچھا بھئی گرل فرینڈ نہیں دوست تو تھی کیونکہ میں نے خود دیکھیں ہیں ۔”
"اچھا ٹھیک ہے ۔”
وہ تیزی سے بولی اسے اپنے طبیعت کی سمجھ نہیں آئی تھی اتنا غصہ تو اس کو اپنے باپ پر بھی نہیں آیا تھا دروازہ کھلا اور جزلان باہر نکلا ہما تیزی سے اُٹھی
"وہ اب ٹھیک ہے نا ۔”
جزلان نے اسے نہیں جھٹکے سے پرمیس کو دیکھا تھا جو ہما کے سامنے ہی بیٹھی تھی او گاڈ اب تو زُلنین نے مار دینا ہے
"ہاں آپ جائے اندر لیٹا ہوا ہے آپ کا پوچھ رہا تھا ۔”
وہ سر ہلاتے اندر گھس پڑی اور جزلان نے تیزی سے دروازہ بند کیا اور غصے سے دیکھا
"آپ ہما کے سامنے کیوں آئی ہے ۔”
پرمیس کی آنکھیں لال ہوگئی اور سرُخ ہونٹ سختی سے بھینچے گئے تھے
"تو یہ ہے وہ جو۔ زُلنین زولفیقار اپنا پتھر جیسا دل ہار بیٹھے ۔”
کیا کٹیلا لہجہ تھا پرمیس کا جیسے وہ ہما کو اپنے لہجے سے کاٹ ڈالنا چاہتئ تھی
"پرمیس زُلنین نے منع کیا تھا کیوں ایسا کام کرتی ہے کے اس گھر میں آپ کی انٹری بند ہوجائے زُلنین اور چاچو جب فیصلہ کرنے پہ آجائے تو دادا ابا اور کشف پھوپھو بھی کچھ نہیں کرسکتی ۔”
پرمیس کی آنکھوں میں ایک خون کی بوند آنکھوں سے نکلے جزلان نرم پڑ گیا
"اس عام سی انسان میں کیا ہے اور زُلنین کو پتا بھی ہے یہ لاحاصل ہے وہ کھبی بھی ہما کو حاصل نہیں کرسکتا کوئی روکے یا نہ روکے لیکن ایک جن اور انسان کا ڈرفنس سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے ۔”
"آپ کی بات سے میں کب انکار کررہا ہوں ۔”
وہ اس کے ساتھ بیٹھ گیا اور ان کو نرمی سے دیکھا
"دیکھیں زُلنین کا یہ عشق بس میں نہیں تھا ۔”
"کیوں بس میں نہیں تھا ۔”
وہ چیخ ہی تو پڑی ا
جزلان ڈر گیا کے اب وہ آئے گا اور گردن دبوچے گا اُف زُلنین کے ہاتھ تو اندر تک گھس جاتے تھے
"آپ کو ایک کمیکیل دکھاتا ہو وہ پیے شاہد زُلنین کا دل آجائے ۔”
پرمیس نے سر تیزی سے اُٹھایا چہرہ پہ روشنی پھوٹی
"سچی ! کیا اس کو پینے سے زُلنین میرا دیوانہ ہوجائے گا تو پھر اُٹھو ۔”
اُف اب جزلان کو یہ جھوٹ مہنگا پڑ گیا کیونکہ پرمیس کے ناخن حد درجے بڑے تھے جزلان نے دونوں طرف پھسنا تھا
※※※※※※※※※※※※※
مجھے تیری اب ضرورت ہے
یہ مجھ کو اب پتا چلا
"بول کیوں نہیں رہی ہو اتنی خاموشی تب ہوتی ہے جب بہت زیادہ رونے کا دل چارہا ہو اور بہت زیادہ رونے سے مراد ہے کوئی بات بہت دل کو لگی ہو اور دل کو لگنے سے مراد ہے کوئی بات تھی اور وہ کیا بات ہے ہما ۔”
ہما اس کے سامنے والی کُرسی پہ بیٹھی ہوئی تھی اور بالکل خاموش تھی جبکہ بستر پہ نیم دراز زُلنین اس کی تکلیف بھانپ گیا تھا ہما نے پھر بھی اس کے کہنے پہ سر نہیں اُٹھایا ۔
"کوئی بات نہیں ہے ۔”
"فور گاڈ سیک ہما مجھ سے تو چھپانا چھوڑ دوں ۔”
زُلنین نرمی سے بولا اس کا نرم لہجہ ہما کو رونے پہ مجبور کرتا
"آپ سے کچھ مانگوں تو کیا آپ مجھے آپ دیں گے زُلنین ۔”
پتا نہیں کیا سوچ کر وہ بولی تھی
"بولو ہما کیا چاہیے تمھیں ایسے کیوں بول رہی اِدھر دیکھو ۔” ہما نے اپنی سرُخ آنکھیں اُٹھائی زُلنین کو جھٹکا لگا تیزی سے اُٹھا ہما نے اس کا بازو پکڑا
"اب کیا کررہے ہیں ڈرپ کی سوئی چپُے گی لیٹے ۔”
ہما اس کے اُٹھنے پر بھوکلا گئی
"کیا ہوا ہے ؟ روئی کیوں ہو بتاو ہما کسی نے کچھ کا ہے ۔”
وہ اب اسے دیکھ رہا تھا
"کچھ بھی نہیں کہا کسی نے ، ”
"تمھارے پاپا کا فون آیا تھا ۔”
"نہیں !۔”
"پھر کیا ہوا !۔”
"کچھ نہیں !۔”
وہ تیزی سے اونچی آواز میں بولی
اب زُلنین خاموش ہوگیا
"زُلنین میں امریکہ واپس جانا چاہتی ہو ۔”
ہما کی اس بات پر زُلنین اب تیزی سے اُٹھ چکا تھا
"کیا ! ہوش میں تو ہو ۔”
ہما پہلے تو گھبڑا گئی پھر سنبھل کر بولی
"جی پلیز ہاں آپ فکر نہ کریں میں آپ کی سکول کا ۔”
"ہما سٹاپ آٹ مجھے بتاو کسی نے تمھیں کچھ ہے ۔”
اب زُلنین اپنے غصے کو کنڑول نہیں کرسکا یہ اسے ہوا کیا ہے اچانک
"زُلنین آپ لیٹ جائے آپ کی طبیعت ۔”
"بھاڑ میں گئی طبیعت ہما ! مجھے بتاو کسی نے تمھیں کچھ ، ہوا کیا ہے۔”
اُف زُلنین نے اپنا سر تھاما ہما گھبڑا گئی
"زُلنین ! زُلنین ۔”
وہ ڈر ہی تو گئی زُلنین اپنا سر گرایا زُلنین کا دل کیا اس درد اور تکلیف سے جان چھڑانے کے لیے خود کو ماردیں اتنا درد اس کے سر اور گردن میں
"ٹھیک ہو میں ،تم جاو پھر امریکہ کیا کررہی ہو یہاں پیکنگ کرو ۔”
ایک تو درد کے ساتھ دل میں تکلیف اوپر سے بے پناہ غصے نے زُلنین کو پھٹنے پہ مجبور کردیا
"زُلنین پلیز سمجھے میری بات ۔”
"ہما میں اس وقت چاہتا ہو آپ یہاں سے چلی جائے پلیز ۔”
زُلنین پھر آنکھیں آگ رنگ ہوگئی تھی اور وہ کروٹ لے چکا تھا ہما کو لگا وہ بہت زیادہ ناراض ہوگیا لیکن وہ اس کو نہیں کھونا چاہتی تھی ،جو بھی اس کے ساتھ رہتا تھا وہ دور ہوجاتا تھا اب وہ زُلنین کو کھونا نہیں چاہتی تھی اب وہ کیسے بتاتی اسے اس سے کتنی محبت ہے پر تھی تو لڑکی اور مغرب میں رہنے کے باوجود مشرق تربیت تھی وہ اپنی تربیت پہ دھبا نہیں لگا سکتی تھی ۔
"میں کل آو گی ۔”
وہ اس کو کہتے ہوئے اُٹھ پڑی لیکن مڑی اور کچھ پڑھتے ہی زُلنین کے سر پہ پھونکا تو زُلنین کو دو منٹ میں اپنے آپ پُرسکون ہوتا ہوا محسوس ہوا وہ جان گیا وہ کیا پڑھ کر گئی ہے ۔
***************
وہ گھر کے اندر داخل ہوئی دروازہ بند کر کے جونہی آگئے بڑھی اس نے دیکھا ٹی وی آن تھا ، ٹی آن تھا ؟؟؟
اس یاد پڑتا تھا صبح اس نے کوئی ٹی وی نہیں دیکھی تھی ایک دم کھل کیسے گئی ہوگی ہر دن ہیکٹک ہوتا جارہا تھا اور اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کے نانو کے بعد اس کی زندگی اتنی مشکل کیوں ہوجائے گی
تھکے ہوئے قدموں سے وہ چلتے ہوئے آگئے آئی اس نے دیکھا کوئی فلم لگی ہوئی تھی اس نے بڑھ کر بند کرنے لگی لیکن ٹی وی بند نہیں ہورہی تھی اس نے دوبارہ بٹن دبایا پھر بھی ٹی وی بند نہیں ہوئی اس نے جھک کر دیکھا اور پھر زور سے دبایا پھر بھی آف نہیں ہوئے جھلا کر پیچھے ہوکر اس نے پلگ اُتارا اور پھر ٹی وی بند ہوگئی پلگ کو پھینک کر وہ صوفے پہ گرنے والے انداز میں بیٹھ گئی کیا کریں اب اچانک پیناو بجنے کی آواز وہ ایک دم فریز ہوگئی اس لگا کہی دوسری ٹی وی تو نہیں آن نانو کے اور اس کے کمرے میں تو کوئی ٹی وی نہیں تھی پھر یہ آواز پھر ایک عورت کی آواز ابھری جو درد میں تھی اور لگا اس کی دُنیا کی سب سے بڑی شہہ چھین لی ہو پر آواز میں درد کے ساتھ ایک الگ ہی خوبصورتی تھی
We could be reveling�
Forever in the love you bring�
And we could be wasted on�
You and not count it lost
پہلے لگا اس کا وہم لیکن ہر لائن میں آواز اونچی ہوتی جارہی تھی وہ ہمت کرتے اُٹھی آج تو پتا کریں یہ ہو کیا رہا ہے آواز کا تعاقب کرتی وہ چلتے ہوئے اس طرف آئی وہ دروازہ اسے یاد پڑتا وہ کھلا تھا اور جب بند کیا تھا تو کسی چیز نے اسے دھکا دیا تھا ہاں کچھ ہے ضرور تیزی سے چل کر اس نے دروازہ کھولا اور آواز کلیر ہوگئی نیچے بیسمنٹ تھا فون پینٹ سے نکال کر اس نے ٹارچ آن کیا تیزی سے سڑھیوں سے نیچے جانے لگی لیکن مکڑی کے جالے نے اس کے قدم روک دیں ہے
‏Like fools in love�
We’re bound to make a scene�
Our hearts bleed for you, oh�Our hearts bleed for you, oh�
اس نے سویٹر کو تھوڑا سا آگئے کیا اور تیزی سے جالے کو توڑا �
Our hearts bleed, our hearts
‏bleed�For you�We could burn down the days�Inside the light of your face�توڑتے وقت وہ آگئے چلنے لگی جب پیر کسی چیز سے زور سے ٹکرایا وہ وہ زور سے جاکر سڑھیوں سے گری ایک دم ہلکی سی روشنی بھی تھی وہ بھی اس کے گرنے کے باعث غائب ہوگئی ہما کا سر بڑی زور سے کسی چیز پہ لگا تھا اور درد اس کے جسم میں پھیلتا جارہا تھا اس نے کچھ فون تلاش کرنا چاہا لیکن کہی مل نہیں پارہا تھا اپنے سر کو پکڑا تو اسے نمی محسوس ہوئی اس کو اگنور کرتی وہ اپنی دھندلائی آنکھوں اور آندھیرے سمیت اِدھر اُدھر ہاتھ مارنے لگی �And we could throw the years away�And not regret the price we paid�Like fools in love�We’re bound to make a scene
"زُلنین !۔”
پتا نہیں کیوں ہر احساس میں وہ یاد آتا تھا جیسے وہ زُلنین کو پکارے گی تو وہ آجائے لیکن شاہد آشوب کا وقت شروع ہوچکا تھا اس میں زُلنین کی ہر پکار بے معانی تھی �Our hearts bleed for you, oh�Our hearts bleed for you, oh�Our hearts bleed, our hearts bleed�For you�جب ہاتھ کسی چیز پہ لگا تو اس نے اُٹھایا تو سدا شُکر اس کا فون ہی تھا جلدی سے اس نے لائٹ آن کی جب کسی نے اس کے بال زور سے کھینچے وہ چیخ پڑی لیکن فون پہلے کے مقابلے اس نے سختی سے پکڑے رکھا
"کون ہو تم !۔”�You have loved alive the dead and gone�And filled our thirsty veins with blood and song�Our hearts bleed for you, oh�Our hearts bleed for you, oh
ہما نے کاوئنڑ کو تھاما اور وہ زُلنین کو منہ کھولے دیکھ رہی تھی ۔
"زُلنین !۔”
"مجھے پتا ہے تم میری ہو لیکن پھر کہو گا میری بن جاو ۔”
آشوب شقائق البحر عام پھولوں کی طرح نہیں تھا وہ کسی بھی انکشاف میں جلدی سے اپنے اصل میں نہیں اسکتا تھا اسے بہت سے لفظوں بہت سے اقرار کی ضرورت تھی جس سے اس کی بدشگنی ختم کر سکے زُلنین کو کہتے ہوئے سر میں شدید درد ہوا تھا لیکن وہ آج کہہ دینا چاہتا تھا اقرار کردینا چاہتا تھا لیکن جو جو لفظ ادا کررہا تھا درد کا دائرہ بھرتا جارہا تھا اور ہما پہلے لفظ پہ سنبھلتی جب وہ مزید اسے شاکڈ کردیتا تھا ۔ اور جزلان نے سر پہ ہاتھ مارا یہ بھی دوسرا فائیق زولفیقار نکلا
"ہما ! آئی نو ایسا پروپوز کرنا پسند نہیں آیا ہوگا بٹ ایک دفعہ ہاں کردوں مجھے ہاں کے علاوہ آاا!۔”
زُلنین نے اپنا سر پکڑا پھر سے تکلیف !!! ہما ایک دم نیچے ہوئی
"زُلنین اُٹھے کس نے کہا تھا نیچے جھکنے کو سر چکرا گیا نا آپ کا ۔”
اس نے کندھا پکڑ کر اُٹھانے کی کوشش کی لیکن زُلنین جو وجود بھاری لگ رہا تھا
"میں کچھ پوچھ رہا ہو تم سے ۔”
اس نے ہما کا ہاتھ پکڑ لیا اور وہ اس کی نیلی آنکھوں میں دیکھنے لگی جسے پہلے بار وہ دیکھتے ہوئے جم گئی تھی جس کی آنکھوں میں ایک ہپنواٹئزگ فیلنگز تھی ہما نے نظریں چُرا لی کیونکہ وہ آنکھیں جواب طلب تھی وہ اک دم سے فیصلہ زلُنین کو وہ ایک مہینے سے زیادہ جانتی تھی اور ایک مہینے میں محبت !اور ایک ہی مہینے میں شادی کی آفر ؟ شاہد وہ خیال کی وجہ سے کررہا ہے میرا اکیلے رہنا بہت مشکل ہے اور میری چوٹ کو دیکھ کر پریشان ہوگیا ہے تبھی بولا ہوگا
"زُلنین اُٹھے آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ۔”
"میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہو !۔”
وہ تیزی سے بولا
"کیوں ؟۔”
ہما کے منہ سے بے اختیار نکلا زُلنین اک دم چُپ ہوگیا
"کیوں ؟۔”
وہ بھی آہستہ سے بولا
"وہی پوچھ رہی وجہ ؟۔”
وہ اب اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی
"پہلے اُٹھے پھر جواب دوں گی ۔”
جب اسے پتا تھا زُلنین جواب سُنے بغیر نہیں اُٹھے گا تو اسے بولنا پڑا کیونکہ اسے خود سمجھ نہیں آرہی تھی کیا جواب دیں اور ابھی زُلنین اس ے پیار کا اظہار کررہا ہے اسے اپنانا چاہتا ہے کیسے اس کی طبیعت خراب ہورہی ہے اگر وہ ہاں کردیں گی تو پھر ماما اور نانو کی طرح زُلنین بھی اسے چھوڑ کر چلا جائے گا اور نہ بھی نہیں کرنا چاہتی تھی اسی کشمکش میں اس نے زُلنین کو اُٹھانے کی مدد کی اور بیٹھایا ، اور سوپ کی طرف دیکھا اب تک تو ٹھنڈا ہوچکا ہوگا ہما نے گہرا سانس لیا
اور مڑ کر دوبارہ گرم کرنے لگی زُلنین کھانسنے لگا ہما نے مڑ کر دیکھا وہ اب کوئی لیکویڈ گلاس میں ڈال رہا تھا اور وہ عجیب سے رنگ کا تھا
"یہ کیا پے رہے ہیں آپ ۔”
زُلنین نے سر نہیں اُٹھایا
"زُلنین یہ کیا ہے ؟۔”
"ڈرنک ہے ۔”
وہ آہستگی سے بولا
"کیسا ڈرنک ۔”
وہ عجیب اور حیرت زدہ نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی
"جو ڈرنک ہوتا ہے جو پیتے ہیں سب ۔”
ہما آگئے سے کچھ کہتی زُلنین ہنس پڑا
"پاگل ہو یہ جزلان لایا آنار کا جوس ہے مجھے کمزوری ہورہی تھی ۔”
وہ مسکرایا ہما نے اپنے منہ پہ ہاتھ پھیرا
"یہ لو تم بھی پیو !۔”
"نہیں ! ”
وہ سوپ نکال کر لائی اور اس کے سامنے رکھا
"چلے پیے اور بتائے کیسا ہے ۔”
"میری بات کا جواب دیں دوں ۔”
ہما نے اپنے لب کاٹے اور دل تیزی سے دھڑکنے لگا زُلنین اسے ہی دیکھ رہا تھا
"کیا ابھی جواب ضروری ہے ۔”
"نہیں سوچ سکتی ہو لیکن آپ پاس پورے چار گھنٹے ہیں ۔”
وہ آپ چمچ اُٹھا کر ایک سپ لینے لگا اسے فلیور پسند نہیں آیا تھا لیکن پھر بھی اس نے پورا پینا تھا کیونکہ یہ ہما نے بنایا ہے
"زُلنین چار گھنٹے !!!۔”
"ہما تمھیں کوئی اور پسند ہے ۔”
وہ پوچھنا نہیں چاہتا تھا لیکن ایسی سپاٹ لہجے میں بولا ،ہما نے گھوری دکھائی اور چلتے ہوئے اس کے سامنے چیر پہ بیٹھی
"سوپ کیسا ہے ؟۔”
وہ ٹاپک بدل رہی تھی زُلنین نے اسے ایسے دیکھا کے سریسلی ہما اب جواب دیں بھی دوں !!!
"مجھے کچھ وقت تو دیں دے ۔”
"کتنا وقت میرا خیال ہے اب آپ کے ہاں کوئی بڑا نہیں جن کو آپ بتائیں اور مشورہ کریں بول بھی دوں لیکن جواب نہ میں نہیں ہونا چاہیے ۔”
"زُلنین ! یہ کیسا پروپوزل ہے زبردستی بھی کہتے نہیں کررہا لیکن جواب ایک ہی ہونا چاہئیے اور وہ ہے ہاں !!!”
وہ اسے دیکھ رہی تھی جو سوپ پینے میں ہی مصروف تھا
"نہ کی ریزن ضرور دینا مجھے پھر میں تمھیں قائل کر کے ہاں کروالو گا ۔”
"آپ کیوں ؟۔”
"کیونکہ ہما زُلنین سے اور زُلنین ہما سے اینڈ آف اٹ ۔”
"مجھے ایک ہفتہ دیں دے ۔”
وہ سر اُٹھا کر بولی
"ایک ہفتہ کس لیے ۔”
"سوچنے کے لیے زُلنین ! انسان اتنا جلدی نہیں فیصلہ کرسکتا ۔”
"ٹھیک ہے اگر مجھے ایک ہفتہ بلکہ نہیں 168 گھنٹے انتظار کروایا جائے گا تو میں ہاں میں جواب ایکسپیکٹ کرو ۔”
وہ اسے بھی ایسے نظروں سے دیکھ رہی تھی
"کوئی زبردستی نہیں ہے لیکن جواب میری پسند کا ہو ۔”
ہما ہنس پڑی
"یہ زُلنین زولفیقار ہی ہیں نا لگتا ہے بخار دماغ پر بھی چڑھ گیا ہے ۔”
ہما نے اس کا باول اُٹھایا اور مڑ کر دیکھا پرمیس اندر داخل ہوئی تھی اور اس وقت گرین سیلک میکسی میں ملبوس تھی ہمیشہ کی طرح اس کو ہونٹ رنگے ہوئے تھے اور ساتھ میں کل کے مقابلے آج اس نے گہرا سمجی سا آئی لائنر لگایا ہوا تھا زُلنین نے مڑ کر نہیں دیکھا اس کی تو نظریں ہما کی طرف تھی
"او تم ابھی تک یہاں ہو کیا اپنے بوئی او سوری دوست ہئ ساتھ ہی سپینڈ کی ہلیو کزن سوری تمھارا پوچھنے والی تھی لیکن تمھاری دوست نہیں چاہتی تھی تمھیں ڈسٹرب کرو ۔”
وہ زُلنین کو ہاتھ لگانے لگی زُلنین تیزی سے پیچھے ہوا
اور مڑا اس نے پرمیس کو سپاٹ نظروں سے دیکھا اس میں وہ زُلنین کی آنکھوں میں غصہ ایکسپیکٹ کررہی تھی لیکن زُلنین نے اس لیے کنڑول کیا تھا ایک تو اس کی طبیعت خراب تھی دوسرا ہما کے سامنے وہ ظاہر نہیں پڑ سکتا
"کوئی بات نہیں پرمیس ! اور ہما ابھی آئی ہے ۔”
البتہ لہجہ خاصا کاٹ دار تھا ہما کا تو چہرہ ہی دھوا دھوا ہوگیا تھا
"زُلنین میں شہر جارہی ہو انٹریر ڈیزائنر دیکھنے کیا مجھے آپ کی گاڑی مل سکتی ہے ۔”
ہما نے جھجھکتے ہوئے پوچھا زُلنین مڑا
"میں بھی چلتا ہو ! ۔”
"نہیں آپ ریسٹ کریں اگر آپ نہیں دینا چاہیتے ہیں تو میں کچھ اور انتظام کرلو گی کسی گاڑی ٹھیک کرنے والے کو بھی ڈھونڈنا ہے ۔”
"میں کردیتا ہو اور میں چلو گا میں تمھیں اسے اکیلا نہیں جانے دیں سکتا ۔”
زُلنین نے نفی میں تیزی سے سر ہلا پرمیس کو اپنا اگنور ہونا سخت بُرا لگا دل کیا اسی کے سامنے ہما کو شوٹ کردیں وہ مڑ کر فریج کی طرف بڑھئ
"نہیں زُلنین کوئی ضرورت نہیں ہے ۔”
"تم رائٹ سے کیسے ڈرائیو کرو گئ ۔”
"زُلنین میں نے لیفٹ اور رائٹ کی ڈرائیونگ کلاسس لے ہیں آپ گاڑی نہیں دینا چاہتے تو ٹھیک ہے ۔”
زُلنین کو ناچار مانا پڑا
"میرے کمرے کے کیز سٹینڈ میں چار چابیاں پڑئ ہے میں کہتا ہوا تم رینج رور لیے جاو باقی چھوٹی گاڑیاں اکسیڈنٹ کے چانسسز کم ہوتے ہیں ۔”
ہما نے اس کو دیکھا اور پھر مسکراہٹ دباتی چل پڑی
"زُلنین میں آسٹن مارٹن لو گی ۔”
وہ پیچھے سے آواز دیتے ہوہے چل پڑی زُلنین مسکرایا اور پرمیس نے زور سے فریج بند کیا
زُلنین نے تیزی سے اس کی طرف دیکھا
"واو اس کو چھونے کی اجازت اس کو گاڑیاں دیں جارہی ہے اس کی پروا کی جارہی ہے ۔”
زُلنین نے آنکھوں کو کنڑول کیا اور لب سختی سے دبائے
"ہاں بولو زُلنین ! مجھ پہ کیسے پیچھے بدک اُٹھے تم اور ہما کے لیے تو ایک انچ نہیں ہلے ۔”
"ہوگئی تمھاری بکواس ! پرمیس پوچھ سکتا ہو ہما کے سامنے آنے کا مقصد ۔”
سپاٹ لہجہ
"میرا جواب دوں پہلے ۔”
"میں دُنیا جہاں کی عورتوں پر حرام ہو سوائے ہما کے بس مل گیا جواب ۔”
وہ مضبوطی سے بولا
"وہ تمھاری بیوی نہیں ہے ۔”
اس نے غرا کر کہا
"محبت تو ہے میری اور بیوی بھی جلد بن جائے گی ۔”
"خواب دیکھتے رہنا زُلنین ماموں کی طرح ۔”
اب زُلنین کو غصہ آگیا
"میرا ان سے کوئی مقابلہ نہیں ہے مت نام لیا کرو ان کا ۔”
"تو ان کی محبت کی نیشانی سے عشق کیوں ہے تمھیں ۔”
زُلنین کچھ کہنے لگا جب ہما اندر آئی
"آسٹن مارٹن کی چابی نہیں ملی تو رینج رور لینے پڑی ۔”
"میرا خیال ہے ، شاہد جیزی لے گیا ہوگا ۔”
زُلنین اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
"آپ کا چہرہ پھر لال ہورہا ہے آئے جب تک آپ کو روم میں سیٹل نہیں کروا لیتی ۔”
وہ آگئے بڑھ کر زُلنین کو ہاتھ پکڑنے لگی پرمیس کو نظریں پھیرنے پڑی ورنہ اس نے ہاتھ میں شیشہ کا گریب جوس پکڑا ہوا تھا سیدھا ہما کی سر پہ مارتی
"میں تمھیں باہر چھوڑ رہا ہو ۔”
"ہر گز نہیں ۔”
وہ ڈپٹ کر بولی
"آپ کی دوائیاں کہاں ہے مجھے لگتا ہے آپ کے کزن کوئی بہت ہی بیکار ڈاکڑ ہے میں کوہی شہر سے لاتی ہو ڈاکڑ آپ کا چہرہ اتنا لال ہوگیا اوپر سے آپ کی آنکھیں بھی ایسا لگ رہا ہے رونے والی ہورہی ہے ۔”
"پروا بھی کرتی ہو اور ہاں کرنے میں ہچکچاتی ہو ۔”
زُلنین نے کہا وہ مڑی ایک ہاتھ میں چابی جبکہ دوسرے ہاتھ میں زُلنین کا ہاتھ اس نے آہستگی سے چھوڑ دیا
دل میں کہا
"پروا کرتی ہوں اس لیے تو ہاں کرنے سے ہچکچا رہی ہوں ۔”
اور زُلنین نے اسے دیکھا
"کیا ہوا ؟۔”
ہما نے نفی میں سر ہلایا
"چلے لیٹے میں چلتی ہو میں ڈرائیو احتیاط سے کروں گی ۔”
زُلنین نے سر اثبات میں ہلایا
"کرنے بھی چاہیے کیونکہ مجھے کار کی نہیں تمھاری پروا ہے ۔”
وہ مسکراتے ہوئے بولا
اور ہما کے دل کو کچھ ہوا فائیق کے کمرے میں موجود شقائق البحر کھڑے ہونے کی کوشش کررہا تھا لیکن آشوب اسے پہ بھاری ہوگیا
جاری ہے

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/