مختصر کہانیاں

بھگوڑا (قسط نمبر13) ریاض عاقب کوہلر میرادل جیسے اچ…

بھگوڑا (قسط نمبر13)
ریاض عاقب کوہلر
میرادل جیسے اچھل کر حلق میں آگیا تھا۔ انسپکٹر اکبر خان نے مجھے پہچان لیا تھا اور میں چاروں طرف سے پولیس کے گھیرے میں تھا۔ مشین گن میں اپنے ہاتھوں ٹھاکر کے حوالے کر چکا تھا۔ میں تھوڑی کوشش کر کے اگر انسپکٹر کو یرغمال بنالیتا تو شاید وہاں سے بہ خیریت نکل جاتا مگر اس صورت میں ٹھاکرمجھے پناہ دینے کے الزام میں دھر لیا جاتا اور دیش سے غداری کا انجام اس کے لیے کوئی اچھا نہ ہوتا۔یہ ساری سوچیں ایک لمحے کے لیے میرے دماغ میں گھومیں اور اس سے پہلے کہ میں کوئی تدبیر کرتا ٹھاکر انسپکٹر اکبر خان کا میری طرف اٹھا ہوا پستول والا ہاتھ نیچے کرتا ہوا بولا۔
”کیا کر رہے ہو تھانیدار صاحب…. بتایا تو ہے اپنا بندہ ہے، اور تم اندر جاﺅ پتر!“
میں سر ہلاتا ہوا کمرے کے اندر چلا گیا۔ سارے پولیس والے نیچے حویلی میں پھررہے تھے۔ اوپر تھانیدار کے علاوہ کوئی نہیں آیا تھا۔
”ٹھاکرصاحب آپ نہیں جانتے….؟“
”مجھے پتا ہے“ ۔ ٹھاکرنے قطع کلامی کی۔ ”آپ کمرے میں آ کر میری ایک بات سن لیں۔
انسپکٹر گومگو کی کیفیت میں ٹھاکر کے ساتھ کمرے کے اندر چلا آیا۔
”تمام اپنے کمرے میں چلے جاﺅ۔“ ٹھاکرنے کمرے کی لائیٹ آن کر کے کہا ۔ ”شیتل کو بھی ساتھ لے جاﺅ۔“
سر لا دیوی ”جی اچھا“ کہہ کر شیتل کا ہاتھ پکڑے کمرے سے باہر چل دی۔ پرکاش کامنی اور للیتا بھی اس کے پیچھے ہو لیے۔
”بیٹھیں تھانیدار صاحب!“ ٹھاکر نے کرسی کی طرف اشارہ کیا۔
”ٹھاکرصاحب!۔آپ جانتے تو ہوں گے کہ رشوت لینا میرے مذہب میں حرام ہے اور اﷲ کا شکر ہے کہ میں نے آج تک نہ رشوت لی ہے نہ دی ہے۔ اس لیے آپ بھی اس طرح کی کوئی کوشش نہ کرنا۔“
”یہ بات اگر مجھے پتا نہیں ہو گی تو کس کو ہو گی۔“ ٹھاکر اطمینان سے بولا۔”پرنتو آپ ظالم بھی تو نہیں ہیں…. نا ….؟ عمر جان اگر تخریب کار یا دہشت گرد ہوتا تو آپ کو پورا ادھیکار تھا کہ اسے گرفتار کر کے سرکار کے حوالے کر یں۔“
”آپ کوکیسے پتا چلا کہ عمر جان، دہشت گرد نہیں ہے؟اور یہ بھی یاد رکھنا کہ دہشت گرد سے مراد خالی خولی بم دھماکے کرنے والا نہیں ہوتا۔ کسی دوسرے ملک میں ناجائز داخل ہو کر اس کے راز حاصل کرنے والا جاسوس بھی اس زمرے میں آتا ہے۔“
”یہ بھی ٹھیک ہے۔“ ٹھاکر کااطمینان برقرار تھا۔ ”پرنتو کوئی ان میں سے کسی جرم میں ملوث نہ پایا جائے اور بھٹک کر دوسرے ملک کی سرحد پار کر لے تو اس کے لیے آپ کا قانون کون سا ایکٹ لاگو کرتا ہے۔“
”اس کا فیصلہ کرنے والے میں اورآپ نہیں کہ آیا بھٹک کر سرحد پار کرنے والا واقعی بھٹک کر آیا ہے۔ یا ہمیں بھٹکا رہا ہے۔“
”نہیں تھانیدار صاحب !….اب آپ بات کو گول مول کرنے لگے ہیں، ایسے پھوکٹ میں کسی کو ٹارچر کرنا جبکہ وہ بے قصوربھی ہو صرف انڈین ایجنسیوں کو ہی شو بھادیتا ہے۔“
”ٹھاکر آپ بھی انڈیا ہی کے ہیں …. اور دھرتی ماتا کی حفاظت کی ذمہ دار صرف پولیس، کوئی سرکاری اہلکا ر یا”را“ کا نمائندہ نہیں ہو سکتا۔ اس کی حفاظت کرنا تمام جنتا کا فرض ہے۔“
”اوش فرض ہے، لیکن اس کے لیے کسی بے قصور کی بھینٹ دینا کہاں کی دانش مندی ہے۔“ میں اس دوران خاموش بیٹھا ان کی باتیں سنتا رہا۔ ٹھاکر میرے حق میں بڑے اچھے دلائل دے رہا تھا۔ شاید میں اس انداز میں انسپکٹر سے بحث نہ کرسکتا۔
”آپ کے پاس اس کی بے گناہی کا کیا ثبوت ہے؟“ انسپکٹرنے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔
”ثبوت سے اگر آپ کی مراد کوئی دستاویزی ثبوت ہے تو میں شماچاہوں گا۔البتہ اگر آپ میری شاکسی (گواہی) پر اعتبار کر سکتے ہیں تو پھر مان لو کہ عمر جان نردوش ہے۔“
”ٹھاکر صاحب !مجھے مطمئن کرنے کے لیے صرف آپ کی گواہی کافی نہیں ہے۔“
”تھانیدار صاحب۔“ میں نے کہا۔ ”آپ مسلمان ہیں اور الحمد ﷲ میں بھی خدائے وحدہ لاشریک کو ماننے والا ہوں اور اس علیم وخبیر ہستی کی قسم کھا کر یہ کہتا ہوں کہ میں کسی منصوبے کے تحت انڈیا میں داخل نہیں ہوا۔ میں بالکل لاعلمی میں اور راستا بھول کر ادھر آنکلا ہوں۔ ابھی اس سے بڑا کوئی اور ثبوت میرے پاس نہیں ہے جو میں آپ کو پیش کروں۔“
”اس کے علاوہ کسی اور ثبوت کی ضرورت بھی نہیں ہے۔“ انسپکٹر اکبر خان ایک دم مطمئن ہوتے ہوئے بولا۔
”اس کی بات سن کر ٹھاکر نے اطمینان کی ایک گہری سانس لی تھی۔
’تھانیدار نے کہا ۔”آﺅ چلیں فی الحال حویلی کا جائزہ لیتے ہیں اس کے بعد ڈاکوﺅں کے بارے تفصیلی رپورٹ بھی تیارکرناہو گی۔ میں دوپہر کے وقت آﺅں گا پھر عمر جان کے مسئلے پر تفصیلی بات چیت کریں گے کہ اس کو پاکستان پہنچانے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے۔“
”دھنے واد تھانیدار صاحب۔“ ٹھا کر اس کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا ۔ ”عمر پُتر آپ بھی آرام کریں۔“
”ٹھیک ہے چچا جان۔“ میں نے کہا اور وہ دونوں سر ہلاتے کمرے سے نکلتے چلے گئے۔
چارپائی پر لیٹے مجھے تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ شیتل کمرے میں داخل ہوئی اور میرے قریب آ کر بیٹھ گئی۔
”کیا کہہ رہا تھا انسپکٹر؟“ وہ میرے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی ۔ ”ٹھا کرچچا! مطمئن دکھائی دے رہا ہے اور آپ پریشان سے لگ رہے ہیں۔“
”آں…. ہاں…. انسپکٹر؟“ میں اپنے خیالات سے چونکا۔ ”وہ مجھے بے گناہ سمجھتے ہوئے میری مدد پر آمادہ ہو گیا ہے۔“
”پھر آپ کو تو خوش ہونا چاہئے۔“
”خوش ہی تو ہوں۔“ میں خوشدلی سے بولا۔ ”بس تھوڑی تھکن ہے جس کی وجہ سے تمھیں پریشان لگ رہاہوں۔“
”ہاں آپ کافی دیر ڈاکوﺅں سے مقابلہ بھی تو کرتے رہے ہیں۔ کہیں چوٹ تو نہیں لگی ہے۔“
وہ ہنوز میرے بالوں میں انگلیاں پھیر رہی تھی اور اس کے ملائم ہاتھوں کا لمس مجھے بہت سکون دے رہا تھا۔“
”نہیں۔“ میں بہ مشکل بول پایا۔ نیند مجھ پر حاوی ہوتی جارہی تھی۔
”میرا خیال ہے آپ کو نیند آرہی ہے۔“ وہ چاہت سے بولی۔ ”چلو سو جاﺅ۔“اور میں اسے جواب دیئے بغیر نیند کی گہری وادیوں میں اترتا چلا گیا۔
میری آنکھ کھلی تو شیتل مجھے ادھر ہی بیٹھی نظر آئی۔ وہ ٹکٹکی باندھے بڑی محویت سے میرے چہرے کوگھور رہی تھی اور اس کا ایک ہاتھ مسلسل میرے بالوں میں سرسرا رہا تھا۔ اس کی دلکش خوب صورت گہری سیاہ آنکھوں میں مجھے اپنے لیے بے پایاں محبت کا احساس ہلکورے لیتا ہوا محسوس ہوا۔مجھے ایک دم اس سے خوف محسوس ہوا۔ وہ دھیرے دھیرے مجھ پر اثر انداز ہو رہی تھی۔ میں نے ایک لمحے کے لیے اس کی جھیل ایسی گہری آنکھوں میں جھانک کر دوبارہ آنکھیں بند کر لیں کہ کہیں وہ میری کمزوری نہ بھانپ لے۔
”اٹھو…. نا…. دوپہر ہونے والی ہے۔“ وہ لگاوٹ سے بولی۔ ” نہا لو۔ دیکھو کپڑے کتنے میلے ہو رہے ہیں۔ بدل لو۔“ میں جلدی سے اٹھ بیٹھا اور کہا۔
”تم بھی نہا لو نا…. اور للیتا سے کوئی ڈھنگ کے کپڑے لے کر پہن لو۔“
”میں بھی بس تمھارے جاگنے کا انتظار کر رہی تھی۔ ”وہ مترنم لہجے میں بولی۔ ”ابھی میںجاتی ہوں سرلا آنٹی دو دفعہ ادھر آچکی ہیں لیکن صاحب جی کی نیند ہی پوری نہیں ہو رہی تھی۔“
”تو اٹھا دیا ہوتا…. نا؟“
”کیوں؟“ وہ تیکھے لہجے میں بولی۔
”شاید انھوں نے کوئی ضرورت بات کرنا ہو۔“
”میرے لیے آپ کی نیند سے کوئی چیز اہم نہیں۔“ یہ کہتے ہی وہ میرے پاس سے اٹھ کر باہر چلدی۔میں نے بھی بستر سے اُٹھ کر بوٹ پاﺅں میں ڈالے۔ میرا ارادہ نہا کر کپڑے بدلنے کا تھا۔ اسی وقت پرکاش ہلکے سے دروازہ کھٹکھٹا کر اندر داخل ہوا ۔
”بھیا، انسپکٹر صاحب آئے ہوئے ہیں۔“
”ان سے ملنے سے پہلے نہا نہ لوں؟“
”نہیں۔“ پرکاش نے نفی میں سر ہلایا۔ ”وہ کہہ رہے ہیں کہ پہلے مجھ سے مل لو۔“
”چلو پھر۔“
انسپکٹر اکبر خان سول کپڑو ں میں تھا۔ دن کی روشنی میں میں نے اس کا بغور مشاہدہ لیا۔ درمیانہ قد۔ متناسب جسم، سیاہ گھنگر یا لے بال، کشادہ پیشانی، چمکدار آنکھیں جو مقابل کو اپنے اندر اترتی ہوئی محسوس ہوتیں اور اٹھی ہوئی ستواں ناک مجموعی طورپروہ پُر رعب اور و جیہہ شخصیت کا مالک تھا۔ مجھے دیکھتے ہی وہ کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
”آﺅ عمر بھائی۔“ اس نے معانقے کے لیے اپنے بازو پھیلائے۔میں نے بھی اسے چھاتی سے لگا کر پُرجوش انداز میں دبایا۔
”بیٹھو۔“اس نے کرسی کی طرح اشارہ کیا ۔
میں جواباً بولا۔”آپ بھی بیٹھیں نا؟“ہم دونوں کرسیاں سنبھال کر آمنے سامنے بیٹھ گئے۔
میں نے پوچھا ۔”سنائیںکیا ہوا ڈاکوﺅں کے مسئلے کا؟“
”وہ تو تقریباً حل ہی سمجھو۔ تیرہ ڈاکو توآپ کے ہاتھوں جہنم واصل ہو گئے تھے۔ باقی کے آٹھ نے گرفتاری پیش کر دی۔ ہلاک ہونے والوں کی ہلاکت کا سہر ا پولیس کے سر ڈال دیا ہے۔ ایس پی صاحب سے فون پر بات ہوئی ہے۔ یہ سب سن کر بہت خوش ہوا اور نمایاں کا رکردگی دکھانے والے پولیس اہلکاروں کے لیے انعام اور ترقی کا وعدہ بھی کیا ہے۔ اب صرف آپ کا مسئلہ حل طلب ہے۔“
”میرا مسئلہ تو انڈیا سے نکلنا ہے ….اس سلسلے میں آپ میری کیا مدد کر سکتے ہیں۔“
”میرے بس سے باہر ہے۔“ وہ اطمینان سے بولا۔ ”البتہ انڈیا کے جس کونے کا کہو وہاں تک پہنچا سکتا ہوں۔“
”ٹھیک ہے مجھے بمبئی تک پہنچا دو۔“
”ہاں یہ میرے لیے اتنا مشکل نہیں ہو گا۔“ اس نے اعتماد سے کہا۔ ”ٹھاکر صاحب نے بھی مجھ سے یہی درخواست کی تھی۔“ وہ پرکاش کو مخاطب ہوا۔ ”پرکاش گلوکو بلا لاﺅ۔“اور پرکاش جو بڑے غور سے ہماری باتیں سن رہا تھا۔ ”جی اچھا“ کہہ کر کمرے سے باہر نکل گیا اورچند منٹ بعد ایک ملازم نما شخص کو لیے لوٹا۔
”یہ میرا ذاتی حجام ہے۔ بلکہ خاندانی حجام کہوں تو زیادہ مناسب رہے گا۔ ”انسپکٹر نے اس کا تعارف کرایا۔ میں نے کرسی سے اٹھ کر اس سے ہاتھ ملایا اور ساتھ پڑی کرسی کی طرف اشارہ کر کے بولا۔ ”بیٹھو۔“
”نہیں گلو۔“ اکبر خان نے نفی میں سرہلایا۔ ”تم اس کے بال چھوٹے کر دو اور اس کی داڑھی مونچھیں بھی صاف کر دو۔“
”جی سر“ کہہ کرگلو نے اپنے کندھے سے لٹکا تھیلا اتارا اور اس میں سے مطلوبہ اوزار اور سفید کپڑا نکالا ۔ سفید کپڑا مجھے اوڑھا کروہ اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔ میرے بال کافی بڑے ہو گئے تھے۔ کیونکہ تین چار مہینے سے کٹوانے کی نوبت نہیں آ سکی تھی۔
”ایک بات پوچھ سکتا ہوں …. عمر؟“ انسپکٹر مستفسر ہوا۔
”کیوں نہیں۔“
”بمبئی پہنچ کر آپ کا لائحہ عمل کیا ہو گا؟“
”یہ آپ کو تو خود بخود جاننا چاہئے ۔“ میں حیرانی سے بولا۔
”ٹھیک ہے لیکن میں آپ کے منہ سے سننا چاہتا ہوں۔“
”میرا ارادہ انڈر گراﺅنڈ لوگوں سے روابط بڑھا کر سمندر کے راستے پاکستان جانے کا ہے۔کیونکہ جائز اور قانونی طریقے سے تو یہ کام ناممکنات میں سے ہے۔“
”میرا بھی یہی خیال تھا۔“انسپکٹر اکبر خان نے کہا۔ ”لیکن اس طریقے سے بھی آپ کا انڈیا سے نکلنا مشکل ہے۔“
”کیوں؟“ میں نے حیرانی سے پوچھا۔
”اس کی وجہ ہے شیش ناگ۔“ انسپکٹر اکبر خان نے عجیب سا جواب دیا۔
”شیش ناگ؟“
”ہاں…. شیش ناگ…. کو برے کا چھوٹا بھائی۔ جو تمھارے خون کا پیاسا ہے۔ اس نے قسم کھائی ہوئی ہے کہ عمر جان عرف جانو کمانڈو کو اپنے ہاتھوں ہلاک کرے گا چاہے اس کے لیے اسے پاکستان کیوں نہ جانا پڑے۔“
میں ہنسا۔”میرا خیال ہے یہ سارا سانپوں کا خاندان ہے۔بہ ہر حال اس کی قسم سے میرا سمندر کے راستے جانا کیوں کر مشکل ثابت ہوا۔“اس وقت ٹھاکر کمرے میں داخل ہوا اور ہمیں گفتگو میں مشغول دیکھ کر خاموشی سے بیٹھ گیا۔
”شیش ناگ زیر زمین دنیا کا ایک بڑا نام ہے۔ بمبئی زیرِ زمین ورلڈ پر آج کل سیٹھ رابندر ناتھ کی حکمرانی ہے اور شیش ناگ اس کا دایاں بازو سمجھا جاتا ہے۔ آپ کا انبالہ سے دہلی پہنچنا اور پھر وہاں سے بھی فرار ہونا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ آپ کا رخ بمبئی کی طرف ہے۔ اگر آپ انبالہ سے دہلی کی بجائے جالندھر کا رخ کرتے تو آپ کا ارادہ پہاڑی راستے سے سرحد عبور کرنے کا ہوتا۔اب تو ایک اوسط درجے کی ذہنیت کا مالک بھی سمجھ سکتا ہے کہ آپ بمبئی کا راستا ہی اختیار کریں گے اور آپ کے سواگت کے لیے انھوں نے پہلے سے بمبئی میں تیاریاں مکمل کر رکھی ہیں۔“
”ایک رانبدر ناتھ گروہ ہی تو بمبئی میں نہیں رہتانا….بمبئی تو جرائم پیشہ افراد کا گڑھ ہے۔“
”ٹھیک کہہ رہے ہو۔لیکن ان جرائم پیشہ افراد کے روابط ایک دوسرے سے بہت راسخ ہوتے ہیں۔ مخالفت کے باوجود کسی تیسرے یعنی باہر کے آدمی کے لیے یہ ایک ہو جاتے ہیں۔“
میں نے پوچھا۔”تو اس صورت میں مجھے کیا کرنا چاہئے؟“
”اس صورت میں میرا مشورہ ہے کہ آپ کم از کم ایک ماہ تک منظرِ عام سے ہٹ جائیں تاکہ آپ کی تلاش کا کام سرد پڑ جائے، اس کے بعد آپ کسی بھی راستے انڈیا سے نکلنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ اس دوران میں کوشش کروں گا کہ کسی اعتبار والے آدمی کے ساتھ مل کر آپ کے لیے نقلی کا غذات تیار کر ادوں اور یوں آپ بڑ ی آسانی سے انڈیا سے کسی دوسرے ملک ہوائی راستے سے جا سکتے ہیں اور پھر وہاں سے پاکستان پہنچنابالکل آسان ہو گا۔ جہاں تک تعلق ہے چھپ کر مہینا گزارنے کا اس کے لیے میری نظر میں ٹھاکر صاحب کی حویلی بالکل فٹ ہے۔“
”یہ ہوئی نابات۔“ ٹھاکر نے اس کی تائید میں نعرہ لگایا۔
”بہت مشکل بلکہ ناممکن ہے۔“ میں نے انکار میں سر ہلایا۔
”کیوں؟“
” انسپکٹر صاحب !….آپ میرے گھریلو حالات سے واقف نہیں ہیں ۔ یہاں پر میرا ایک ایک منٹ جیسے صدیاں بن کے گزر رہا ہے۔ میرے بس میں ہو تو میں اُڑ کر گھر پہنچ جاﺅں ۔“
”اگر یہ بات ہے تو پھر آپ کی مرضی۔“ انسپکٹر نے کندھے اچکائے ۔ ”تاہم میں نے آپ سے بمبئی پہنچانے کا وعدہ کیا ہے اور کل تک انشا ءاﷲ میں اپنا وعدہ پورا کردوں گا۔“اس کے جواب میں مَیں کچھ نہ بول سکا کیونکہ میری شیو کرنے کے لیے صابن لگانے کے بعد گلو اُسترا سنبھال چکا تھا۔ تھوڑی دیر بعد جب گلونے ایک دستی آئینہ میرے سامنے پکڑا تو ایک لمحے کے لیے میں خود کو نہ پہچان سکا۔
”ویسے آپ کو خود اس چیز کا خیال نہیں آیا تھا۔“ مجھے حیرانی سے اپنا چہر تکتے دیکھ کر اکبر خان مستفسر ہوا۔
”آیا تھا…. لیکن موقع نہ مل سکا۔“
”گلو باہر گاڑی میں رکھا سوٹ نکال لاﺅ۔“
”جی سر۔“ کہہ کر گلو باہر نکل گیا۔
”یہ قابل اعتماد ہے؟“ اس کے کمرے سے نکلتے ہی میں نے انسپکٹر اکبر خان سے پوچھا۔
”بالکل یہ پولیس کا ایک قابل اعتماد مخبر ہے…. اور باقاعدہ تنخواہ دار سپاہی ہے لیکن اس نے کبھی وردی نہیں پہنی اپنی تنخواہ سے زیادہ یہ حجام کے کام میں پیسے کما لیتا ہے۔ میرے لیے یہ بالکل چھوٹے بھائیوں جیسا ہے اور میں نے مستقل اسے اپنے لیے مختص کیا ہوا ہے۔ میری کوئی بھی بات اس سے مخفی نہیں۔ اس کے کار آمد ہونے کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ سیٹھ ہری چرن داس کی بیٹی کو ایک نظر دیکھ کر اس نے پہچان لیا۔ حالانکہ اصولاً ایک انسپکٹر ہونے کے ناتے مجھے اسے پہچاننا چاہے تھا، لیکن اس کا فوٹو دیکھنے کے باوجود میں اس پر دھیان نہ دے سکا۔“
”شیتل کو اس نے کس وقت دیکھا؟“ میں حیرانی سے مستفسر ہوا۔
”اگر سیٹھ ہری چرن کی بیٹی کا نام شیتل ہے تو اسے گلو نے ابھی باتھ روم جاتے ہوئے دیکھا تھا۔ میں اسے ٹھاکر کی کوئی رشتا دار سمجھ رہا تھا۔“ انسپکٹر نے وضاحت کی ۔”ویسے یہ یہاں کیسے پہنچی؟“
”یہ میرے ساتھ یہاں آئی ہے۔“میں نے جواب دیا۔
”آپ کے ساتھ…. مگر کیسے؟“اور اس کے استفسار پر میں نے مختصراً شیتل کی کہانی سنا دی۔
”رگھو دادا…. وہی دہلی کے مشہور دادا کے متعلق کہہ رہے ہونا؟“
”شاید وہی ہو ۔“ میںنے اثبات میں سر ہلایا۔
”کیا آپ اس مکان کی نشان دہی کر سکتے ہیں؟“ انسپکٹر اکبر خان بے چینی ظاہر کی۔
”کیوں نہیں۔“ میں اعتماد سے بولا۔ ”آپ کاغذ پنسل لادیں میں آپ کو اس جگہ کا مکمل نقشہ بنا کر دے سکتا ہوں۔“
”ابھی لو۔“ انسپکٹر جلدی سے کھڑا ہوگیا۔ اس کا ارادہ شاید اپنی کار سے پنسل کاغذ لانے کا تھا۔ مگر گلو کو کمرے کے اندر داخل ہوتے دیکھ کر وہ دوبارہ کرسی پر بیٹھ گیا۔ ”گلو سوٹ ادھر کرسی پر رکھو اور بھاگ کر گاڑی سے پنسل کاغذ نکال لاﺅ۔“
”جی سر۔“ کہہ کر گلو ایک مرتبہ پھر کمرے سے نکل گیا۔ اس مرتبہ وہ بہت جلدی واپس لوٹاتھا۔ اس نے ایک نوٹ بک اور پین لا کر اکبر خان کے حوالے کیا جو اس نے میری طرف بڑھا دیا۔
میں نے نوٹ بک کھول کر ایک لمحے کے لیے سوچا اور پھر اندازے سے ٹھا کر کی بستی رام پورہ سے رگھو دادا کے اڈے تک کا خا کہ تیار کر دیا۔ بعض جگہوں پر میں نے ضروری اندراج بھی کر دیئے۔ اس دوران انسپکٹر اکبر خان بے چینی سے پہلو بدلتا رہا اور یہ بے چینی اس بات کی غماز تھی کہ رگھو دادا کی موت کا کارنامہ وہ اپنے نام سے کیش کروانا چاہ رہا تھا۔
جیسے ہی میں نے اپنے کام سے فارغ ہو کر نوٹ بک اس کی طرف بڑھائی ۔ اس نے جھپٹ کر نوٹ بک پکڑلی اور جلدی جلدی اس پر نگاہ دوڑانے لگا۔
ایک دو جگہوں کے متعلق استفسار کرنے کے بعد اس نے مطمئن ہو کر نوٹ بک جیب میں ڈالی اور جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔
”عمر بھائی !….ابھی آپ مجھے اجازت دیں کل انشا ءاﷲ میں سویرے آجاﺅں گا۔ پھر بمبئی کی طرف چلیں گے۔“
”کھانا تو کھا کر جائیں۔“ ٹھا کر جو کافی دیر سے خاموش بیٹھا تھا جلدی سے بولا۔
”نہیں ٹھاکر صاحب کھانے کا وقت نہیں ہے۔“
”اگر میری مدد کی ضرورت ہو تو میں حاضر ہوں۔“ میںنے پُر خلوص پیش کش کی ۔
”آپ کی مدد کی ضرورت تو تھی لیکن مجھے ڈر ہے کہ کوئی پولیس والا آپ کو پہچان نہ لے اور ہمیں لینے کے دینے پڑ جائیں۔“
”ہاں یہ تو ہے۔“ میں نے اثبات میں سر ہلا یا۔
”ٹھیک ہے پھر ہمیں اجازت۔“ انسپکٹر اور گلو ہم سے ہاتھ ملا کر رخصت ہو گئے۔
”پُتر آپ جلدی سے نہا لیں بھوجن تیار ہے صرف آپ کا انتظار ہے۔“
”میں بس یوں گیا اور یوں آیا۔“ میں چٹکی بجاتے ہوئے بولا اور ساتھ ہی انسپکٹر اکبر خان کا لایا ہوا سوٹ اٹھا کر باتھ روم کی طرف بڑھ گیا۔ راستے میں مجھے ٹھاکر کا ایک ملازم کمرے کے جانب آتا ہوا ملا۔ اس نے ہاتھ میں ایک ڈبا پکڑا ہواتھا۔مجھے دیکھتے ہی وہ بولا۔
”تھانیدار صاحب نے آپ کے لیے جوتے بھیجے ہیں۔“
”اچھا کمرے میں رکھو میں آرہا ہوں۔“اور وہ سر ہلاتا ہواکمرے کے جانب بڑھ گیا۔
خوب جی بھرکر نہانے کے بعد میں نے سوٹ پہنا۔ وہ حیران کن طور مجھے فٹ تھا واقعی اکبر خان کا مشاہدہ غضب کا تھا۔
ٹائی باندھنے کا طریقہ مجھے نہیں آتا تھا اس لیے وہ لپیٹ کر میں نے جیب میں ڈال لی۔ پستول اور رقم میں دوسرے کوٹ کی جیب میں منتقل کرنا نہیں بھولا تھا۔
کمرے میں شیتل بن ٹھن کر میرے انتظار میں بیٹھی تھی اس نے للیتا سے شلوار قمیض لے کر پہن لی تھی۔ و ہ خاموشی سے میرے ساتھ اٹھ کر کھڑی ہوئی اور ہم دونوں کھانے کے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔پورا خاندان ہم دونوں کے انتظار میں بیٹھا تھا۔ ہمیں دیکھ کر ان کی آنکھوں میں ستائش کے آثار بڑی شدت سے ابھرے تھے۔
”آﺅپتر! بیٹھو ۔“ ہمیں دیکھتے ہی ٹھاکرنے کہا۔ ”بڑی دیر کر دی۔“
”ہاں انکل ۔“ میں مسکراتا ہوا بولا۔ ”بس ذرا لش پش نکال رہے تھے۔“
”واہ گرو کی کرپا سے آپ دونوں ہر لباس میں اچھے لگتے ہو پُتر۔“ ٹھاکر پُرخلوص لہجے میں بولا۔
”یہ آپ کی خوب صورت نظر کا کمال ہے ٹھاکر چچا۔“ میں ممنونیت سے بولا۔ اسی وقت ایک ملازم ٹیبل پرہمارے آگے کھانا چننے لگا۔
”چچا…. ڈاکوﺅں کے حملے سے کتنا نقصان ہوا ہے۔“
”ایک چوکیدار سور گباش ہوا ہے۔ باقی کے دونوں ملازموں نے گھوڑوں کے اصطبل میں چھپ کر اپنی جان بچالی تھی۔“ ٹھا کر نے کہا۔ ”یہ تو واہ گرو کی کرپا سے آپ ادھر موجود تھے ورنہ پتا نہیں وہ ہمارا کیا حشر کرتے۔“
”پولیس اتنی جلدی کیسے پہنچ گئی تھی۔“ میں نے وہ سوال پوچھا جو مجھے انسپکٹر اکبر خان سے پوچھنا چاہئے تھا، لیکن اپنے مسئلے میں الجھ کر مجھے اس سے یہ پوچھنے کا خیال نہیں رہا تھا۔
”تھانیدار صاحب کو پہلے سے شک تھا کہ بلونت کے بھائی آنند میں اتنی جرا¿ت نہیں کہ تھانے پر حملہ کر سکے۔ یہ ضرور کوئی چال ہے۔ اس لیے وہ پولیس فورس کے ساتھ رام پورہ تھانے میں ان کے حملے کا منتظر رہا۔ اس کی نظر میں ڈاکو یا تو رام پورہ چوکی پر حملہ آور ہوتے یا پھر میرے گھر پر…. اور اس کا دوسرا اندازہ ٹھیک نکلا، لیکن تھانیدار صاحب سے بنیادی غلطی یہ ہوئی کہ اسے اپنی فورس کو دوحصوں میں تقسیم کر کے آدھی فورس میری حویلی میں رکھنی چاہئے تھی اور باقی ماندہ چوکی میں۔ یہ تو شکر ہے واہ گرو کا کہ آپ حویلی میں موجود تھے ورنہ پولیس کے پہنچنے سے پہلے ڈاکو ہمارا کام کر دیتے ۔“
”اچھا اب کھانا شروع کرو۔ گپ شپ بعد میں ہوتی رہے گی۔“ سر لادیوی نے روسٹ گوسٹ کا ڈونگہ میری طرف بڑھایا۔ گوشت کے بارے میں شاید ٹھاکرنے ان کو کوئی خصوصی حکم دیا تھا کہ گوشت سے بنی ہوئی دو تین ڈشیں ڈائننگ ٹیبل پر نظر آرہی تھیں اور اس کی وجہ یہی تھی کہ پہلے وہ میرے مسلمان ہونے سے ناواقف تھے ٹھا کر نے بھی کسی مصلحت سے ان کو نہیں بتایا تھا۔ بہر حال کل کا ازالہ انھوں نے آج کے مینو سے کر دیا تھا۔
یوں بھی جس کھانے میں گوشت شامل نہ ہو تو مسلمان کو وہ کھانا ہی نہیں لگتا شیتل نے البتہ صرف سبزی پر اکتفا کیا تھا اور اس کا ساتھ صرف سرلا دیوی نے دیا تھا۔ باقی تمام نے بڑی رغبت سے گوشت کی ڈشوں پر ہاتھ صاف کئے تھے۔
کھانے کے بعد چاے پی گئی اور اس کے بعد میں اور ٹھاکر حویلی میں چہل قدمی کرنے لگے۔ پرکاش نے اس مرتبہ بھی عورتوں میں بیٹھنا پسند کیا تھا۔ اس کا محبوب مشغلہ شیتل کو گھورنا تھا۔ وہ کم بخت تھی ہی اتنی خوب صورت کہ اچھے بھلے ہوش مندوں کے ہوش اُڑا دیتی تھی۔ پرکاش کی یہ دلچسپی ٹھا کر یا دوسروں سے ڈھکی چھپی نہیں تھی، لیکن اس بات پر ٹوکنے کی ضرورت ٹھاکرنے شاید اس لیے محسوس نہیں کی تھی کہ وہ میرے اور شیتل کے تعلق سے واقف تھا۔ اس کی ماں اور بہنوں نے اسے روکا ٹوکا تھا یا نہیں اس بارے میں لاعلم تھا۔ بہر حال انڈین ثقافت کے لحاظ سے یہ کوئی اتنی معیوب بات نہیں تھی۔
”ابھی تو شیتل آپ کے ساتھ ہی جائے گی نا؟“ ٹھا کر خاموشی توڑتا ہوا بولا۔
”مجبوری ہے۔“ میں کندھے اچکا کربولا۔
”اگر میں اپنی بہو کے طور پر اسے پسند کر لوں…. تو؟“ٹھاکر مستفسر ہوا۔
”میری طرف سے کھلی اجازت ہے۔“ میں رضا مندی سے بولا۔ ”اگر شیتل مانتی ہے تو آج ہی دونوں کو بیاہ دو۔“
”خیر اتنی آسانی سے تو وہ نہیں ماننے لگی۔“ ٹھاکر ہنستے ہوئے بولا۔ ”اس کے پتا جی سے بات کرنا پڑے گی۔“
”چلو جیسے آپ کا جی چاہے اسی طرح کر لینا۔“ میں اس لایعنی موضوع سے جان چھڑاتے ہوئے بولا۔ شاید لاشعوری طور پر مجھے شیتل کی کسی اور کے ساتھ شادی کی بات اچھی نہیں لگ رہی تھی۔
”صبح تو تھانیدار صاحب کے آنے کے بعد ہی جانا ہو گا۔“
”جی ۔“ میں نے اثبات میں سر ہلایا۔
ہم گھنٹا ڈیڑھ حویلی میں چہل قدمی کرتے رہے۔ اس دوران ٹھا کر مجھے بمبئی کے بارے مختلف قسم کی معلومات مہیا کرتا رہا۔
”اس کا مطلب ہے اگر ہم بغیر آرام کیے چلتے رہیں تو بمبئی تک بیس پچیس گھنٹوں میں پہنچ جائیں گے۔“
”بالکل۔“ ٹھاکر نے کہا۔ ”لیکن راستے میں آرام نہیں کرو گے تو کھانے پینے اور دوسری ضروریات کے لیے تو رکنا پڑے گانا؟“
”چلو پھر کمرے میں چلیں تاکہ میں زیادہ سے زیادہ آرام سٹور کرلوں۔“ میں ہنستے ہوئے بولا اور ہم دونوں اندرونی حویلی کی جانب بڑھ گئے، لیکن آرام میری قسمت میں نہیں تھا۔ دور ہی سے مجھے پرکاش اور کامنی کے نعرے سنائی دینے لگے۔
”کیا ہو گیا بھئی؟“ ہم جیسے ہی کمرے میں گھسے ٹھا کر مستفسر ہوا۔
وہ چاروں کارپٹ پر آمنے سامنے بیٹھے تاش کھیل رہے تھے۔ شیتل اور للیتا غالباً بازی ہار گئے تھے۔ ٹھا کر کے پوچھنے پر کامنی نے یہی کچھ جوش و خروش سے بتایا تھا۔
”اچھا۔ اب ہم دونوں کے ساتھ کون کھیلے گا؟“ ٹھاکر بچوں کے سے لہجے میں بولا۔یہ اس کی خوبی تھی کہ روز مرہ کے مسائل میں وہ سنجیدہ ، بُردبار، اور نہایت ہوش مند نظرآتا تھا۔ مگر اس کے برعکس جب اپنے بچوں کے درمیان گپ شپ کے لیے بیٹھتا تو روایتی سکھ دکھائی دیتا تھا۔
”مگر مجھے تو کوئی خاص کھیلنا نہیں آتا۔“ میں نے جان چھڑانا چاہی۔
”جیسے بھی کھیلنا آتا ہے، اب تو کھیلنا پڑے گا۔ تمھاری وائف نے پرکاش بھیا کو چیلنج کیا تھا اور ہار گئی۔ اب کیا بدلہ نہیں لو گے؟“ کامنی نے تیز لہجے میں پوچھا۔
”اچھا“ میں گویا ہار مانتے ہوئے بولا۔ ”چلو ٹھاکر چچا پھر جیتی ہوئی ٹیم سے دو دو ہاتھ ہو جائیں۔“
”نہیں …. نہیں۔“ کامنی نے ایک مرتبہ پھر مداخلت کی۔ ”آپ اور بھابی بیٹھیں۔“
”ڈیڈی کو بیٹھنے دو گڑیا۔“ پرکاش نے کہا۔ ”ان دونوں کے ساتھ صحیح مزہ نہیں آئے گا۔“
”چھوڑیں ٹھا کرچچا کو ۔“ میں تاش کی گڈی پکڑ کر شیتل کے سامنے بیٹھتا ہوا بولا۔”اپنی جنگ ہم خود لڑیں گے۔“تمام میری بات پر بے ساختہ ہنس پڑے تھے۔
پتے لگا کر میں نے مہارت سے بانٹے اور پہلی دفعہ میں ان کو بازی ہو گئی۔پرکاش اور کامنی ایک دوسرے کو الزام دینے لگے۔ دونوں کا موّقف تھا کہ دوسرے کی غلطی سے بازی ہوئی ہے۔
”چلو جس کی بھی غلطی تھی گیم تو برابر ہو گئی نا۔“ میں اطمینان سے بولا۔
”ٹھیک ہے لیکن ہار جیت کا تو فیصلہ ہونا چاہئے نا؟“پرکاش اسی انداز میں بولا۔
”ایک اور بازی کھیلتے ہیں۔“
”جیسے تمھاری مرضی۔“ میں نے کہا۔
اس مرتبہ بھی پہلے ہاتھ پر ان کو بازی ہو گئی۔ ٹھاکر بے ساختہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔
”یہ تمھارے بس کی بات نہیں ہے پُتری!“ ٹھاکر کامنی کی جگہ بیٹھتا ہوا بولا۔ ”عمر پُتر کافی منجھا ہوا کھلاڑی لگتا ہے۔“
لیکن یہ ٹھاکر کی بھول تھی کہ وہ خود میدان میں اتر کر عمر کو ہرا لے گا۔پہلی بازی ہارتے ہی اس نے پتے پھینک دیئے۔
”تمھاری گیم ہماری بدھی میں نہیں آرہی پُتر۔“ ٹھا کر کھلے دل سے بولا۔
”جان بھیا! مجھے بھی اس طرح کھیلتا سکھا دونا۔“ للیتا میری بغل میں گھستی ہوئی بولی۔ ”تاکہ میں بھی پرکاش بھیا سے اپنی شکست کے بدلے لے سکوں روزانہ مجھے ہر اتارہتا ہے۔“ میں نے کن انکھیوں سے شیتل کے جانب دیکھا، وہ للیتا کے اس طرح میرے ساتھ مل کر بیٹھنے پر بڑے کڑے تیوروں سے اسے گھورنے لگی تھی۔لیکن میں جان بوجھ کر اس سے انجان بن کر للیتا سے بولا۔
”چھوڑو اس گیم کی چالوں کو میں تمھیں جادو کی گیمیں سکھاتا ہوں۔“
”واقعی ؟“ وہ حیرانی سے بولی۔ ”آپ کو جادو کی گیمیںآتی ہیں۔“
”ایسی ویسی ۔“ میں نے مصنوعی فخریہ لہجے میں کہا۔
”میں بھی سیکھوں گی۔“ کامنی بھی بھاگ کر میرے پاس آبیٹھی اور میں تاش کی گڈی پکڑ کر انھیں شعبدہ بازیاں دکھانے لگا۔شیتل بڑے غصے سے مجھے گھور رہی تھی، اس کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ وہ ان دونوں کو کچا ہی چبا جاتی۔
میں دل ہی دل میں اس کی حالت سے محظوظ ہوتا رہا۔ میں نے محسوس کیا کہ للیتا کچھ زیادہ ہی پُر جوش ہو رہی تھی۔ کسی نوجوان لڑکی کا مرد سے اٹھکیلیاں کرنا بلاشبہ ہمارے معاشرے میں معیوب ہے مگر انڈین معاشرے میں اس کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ میں جن حالات سے گزر رہا تھا ان میں شیتل جیسی عقل و خرد سے بیگانہ کر دینے والے حسن کی مالک لڑکی بھی مجھے کوئی خاص متاثر نہیں کر سکتی تھی، کجا للیتا جیسی عام شکل وصورت کی لڑکی جس کی خوبی صرف اتنی تھی کہ وہ جوان تھی۔
شیتل زیادہ دیر للیتا کی پیش قدمی کو برداشت نہ کر سکی اور للیتا سے بولی۔
”للیتا چھوڑو تاش کو…. چلو میرے ساتھ مجھے اپنے کپڑے دکھاﺅ تاکہ میں ان میں سے اپنے لیے ایک دو جوڑے پسند کرلوں۔ کل ہم نے جانا ہے میرے پاس صرف یہی کپڑے ہیں جو میں نے پہنے ہوئے ہیں۔“شیتل کی مکاری دیکھ کر میرا دل چاہا کہ قہقہہ لگا کر ہنس دوں لیکن مجبوراً مجھے اپنی ہنسی دبانی پڑی اور میں زیرلب مسکرا کر نیچے دیکھنے لگا۔
”چلتے ہیں دیدی!“ للیتا نے جان چھڑانے کی کوشش کی۔ ”ابھی تک تو شام ہونے میں بھی کافی دیر ہے اور آپ نے تو صبح جانا ہے۔“
”بُری بات بیٹا۔“ ٹھاکر نے للیتا کو سرزنش کرتے ہوئے کہا۔ ”ابھی چلو اور اپنی بہن کو کپڑے دکھاﺅ واپس آ کر عمر پتر سے جو کچھ سیکھنا ہو سیکھ لینا عمر بھی تو صبح تک ادھر ہی ہے۔“ اور للیتا بادل نخواستہ اٹھ کر شیتل کے ساتھ چل دی۔
”تم بھی چلو گڑیا۔“ میں نے تاش کی گڈی اکٹھی کر کے کامنی کے حوالے کرتے ہوئے کہا۔
”ابھی نہیں بھیا۔“ وہ لاڈ سے بولی۔ ”للیتا دیدی چلی گئی ہے اس کی غیر موجودی میںمجھے دو تین گیمیں سکھا دونا؟“
”نہیں۔“ میں مسکراتے ہوئے بولا۔ ”للیتا کو پتا چل گیا تو وہ میری جان کو آجائے گی اور پھر اسے بھی جب تک وہ گیمیں سکھا نہیں دوں گا وہ میری جان نہیں چھوڑے گی۔ جبکہ میرا ارادہ اب آرام کرنے کا ہے۔“
”کامنی اٹھو۔ بھائی کو آرام کرنے دو“ ۔ ٹھاکر کا انداز سرزنش کرنے والا تھا۔
”پتا جی آپ بھی نابس….“ کامنی من بسورتی کمرے سے باہر نکل گئی۔
”ٹھیک ہے پُتر آپ آرام کریں۔“ ٹھاکر اٹھتے ہوئے بولا۔ ”سفر کافی لمبا ہے اور دوران سفر آپ کو آرام کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔“
”مہربانی ٹھاکر چچا ۔“ میں نے کہا۔ اور وہ اپنی بیگم کے ساتھ وہاں سے نکل گیا ۔
تھوڑی ہی دیر بعد شیتل کمرے میں داخل ہوئی۔ ہاتھ میں موجود کپڑوں کا بنڈل الماری میں پھینک کر وہ سیدھی میری طرف بڑھی اور میرا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر افسردگی سے بولی۔
”جان! کیا حقیقتاً آپ کو للیتا مجھ سے زیادہ پسند ا ہے۔ حالانکہ وہ مجھ سے زیادہ خوب صورت تو نہیں ہے۔“
”شیتل !تمھارا دماغ تو اپنی جگہ پر ہے۔“ میں ہلکی ناراضی سے بولا۔ ”میں نے کب کہا ہے کہ للیتا مجھے پسند ہے۔“
”تو پھر یہ سب کیا تھا؟“
”کیا؟“ میں حیرانی سے مستفسر ہوا۔
”یہی للیتا کاآپ کی بغل میں گھسنا، بازو پر چٹکیاں کاٹنا اور دوسری ناروا حرکات کاارتکاب کرنا، جواباً آپ کا اس کی حوصلہ افزائی کرنا۔“
”جب عقل بانٹی جارہی تھی نا تو تم اپنے حصے کی صورت لے کر دوبارہ اسی لائن میں کھڑی ہو گئیں تھیں اس لیے صورت تو خوب اچھی حاصل کرلی لیکن عقل کے حصول میں ناکام رہیں۔“
”پھوکٹ میں نہ ٹرخاﺅ، میری بات کا جواب دو۔“ میری بات سن کر اس کا چہرہ خوشی سے چمکنے لگا تھا لیکن اس کے بات کرنے کا اندازہ یوںتھا جیسے وہ سخت غصے میں ہو۔
”میں اپنے ہر فعل میں خود مختار ہوں۔“میں خشک لہجے میں بولا۔ اس کے چہرے پر چھلکنے والی خوشی ماند پڑگئی اور وہ میرا ہاتھ چھوڑتے ہوئے دھیمے لہجے میں بولی۔
”سوری مسٹر عمر جان!…. شما چاہتی ہوں کہ میری بات سے آپ کو تکلیف پہنچی۔“
اور میں نے اس کی بات کا جواب دیئے بغیر کروٹ بدل کر آنکھیں موند لیں۔ گو اس کا افسردہ لہجہ سن کر مجھے دلی دکھ پہنچا تھا لیکن میرا مقصد اسے اپنی ذات سے متنفر کرنا تھا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ مجھ سے غلط قسم کی امیدیں باندھے۔
مجھے کروٹ باندھے ایک دو لمحے گذرے تھے کہ میری سماعت میں اس کی سسکیاں گونجیں میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ مجھے اپنی جگہ پر بیٹھی نظر آئی دونوں ہاتھ گود میں رکھے ٹپ ٹپ آنسوبہارہی تھی۔میں گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔
”اے شیتل! کیا ہوا؟“ میں نے اسے کندھوں سے پکڑ کرپوچھا۔ ”خیر تو ہے۔ کیا گھریا د آ رہا ہے۔“ مجھے اس رونے کا سبب معلوم تھا مگر میں اس موضوع کو چھیڑنے سے ڈرتا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آنسو دکھ کے اظہارکا سب سے آسان اور مکمل ذریعہ ہیں۔ لمبی چوڑی بات چیت اور فصیح و بلیغ جملے بھی ان دو قطروں کے مقابلے میں ہیچ نظر آتے ہیں۔ خصوصاً عورتیں تو ان کوبہ طور ہتھیار استعمال کرتی ہیں۔ یہ ان کا ایسا ہتھیار ہیں جن کا وار کبھی اوچھا نہیں پڑتا۔
میں اپنے رویے پر پہلے بھی نادم تھا لیکن اسے روتے دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ میں اس کے ساتھ واقعی بہت بڑی زیادتی کر بیٹھا تھا۔
میرے استفسار پر اس نے نفی میں سر ہلایا اور دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا۔
”یار ایک تو تم چھوٹی چھوٹی باتوں پر جو رونا شروع کر دیتی ہونا؟“ میرا لہجہ خوشگوار تھا۔”میں تو یونھی تمھیں چھیڑ رہا تھا۔ کہاں للیتا اور کہاں تم…. تمھارا اور اس کا بھلا کیا مقابلا؟“
”جھوٹ بول رہے ہیں آپ۔“ وہ گلو گیر آواز میں بولی۔ ”میرے علاوہ ہر لڑکی کے ساتھ آپ ہنس کھیل سکتے ہیں۔ ایک میں جنموں جلی ہی آپ کوناپسند ہوں۔ میں….“اس سے پہلے کہ اس کے الزامات کی فہرست لمبی ہوتی میں نے اسے اپنی جانب کھینچا اوراس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایک ہاتھ سے اس کے بال بکھراتے ہوئے کہا۔ ”مجھے ڈر لگتا ہے تمھارے جان لیوا حسن سے۔ اس لیے تم سے پرے پرے رہتا ہوں۔“
میری بات سن کر پہلے تو اس نے بے یقینی سے مجھے گھورا مگر پھر میری آنکھوں میں سچائی کے رنگ دیکھ کر سرشاری سے آنکھیں موندلیں اور سر میرے کندھے سے ٹکا دیا۔میں نے اس سے غلط نہیں کہا تھا، اس کا کیف آگیں قرب پتھر کو بھی پگھلا سکتا تھا۔کئی لمحے اس طرح خاموشی سے گزر گئے۔ وہ آنکھیں موندے رنگین تصوروں میں گم تھی۔
”اب جاﺅ نا؟“ میں اس کی زلفیں بکھیرتے ہوئے بولا۔
”کاش…. وقت یہیں ٹھہر جائے۔“ اس کی حسرت بھری آواز گونجی۔
”شیتل پگلی، وقت کبھی نہیں گزرتا۔ ہم گزر جاتے ہیں اور چلتے چلتے جب ایک دن پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ وقت تو وہیں رکا ہوا ہے ہم باقی نہیں رہے۔“
”جان…. اگر آپ واپس نہ جائیں…. میں بھی نہیں جاتی ۔ ٹھاکرچچا کے اوپرآپ کے کافی احسانات ہیں وہ ضرور ہمارے لیے کوئی ٹھکانہ مہیا کر دے گا۔ نہیں تو میرے اپنے اکاﺅنٹ میں اڑھائی تین لاکھ روپے پڑے ہوں گے جو نئی زندگی شروع کرنے کے لیے ہمارے لیے کافی ہوں گے۔ دو تین مہینوں تک آپ کی تلاش کی سرگرمیاں ماند پڑ جائیں گی اس عرصے میں ہم یہیں ٹھاکر کے ہاں چھپ کر رہ سکتے ہیں۔ مم…. میں ساری زندگی داسی بن کرآپ کی سیوا کروں گی۔“
”شیتل! تم سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کر رہی ہو۔ میں اپنے پورے خاندان کو چھوڑنے کی ہمت نہیں کر سکتا۔ تمھارا صرف باپ ہے۔ جبکہ میرے بہن بھائی، ماں باپ، بیوی ، بیٹا کس کس رشتے کو بھلاﺅں گا اور ابھی تو ان پر سخت وقت بھی آیا ہوا ہے۔ نہ جانے وہاں کے حالات کیا ہوں گے اور …. اور دیکھو محبت صرف پانے کا نام نہیں ہے۔ ایک مفکر کا قول ہے کہ اس سے پیار مت کرو جس کو تم چاہتے ہو بلکہ اس سے پیار کرو جو تم سے پیار کرتا ہو اور تمھیں کئی ایسے خوب صورت دولت مند اور چاہنے والے لڑکے مل جائیں گے کہ جانو تمھیں یاد بھی نہیں آئے گا۔“
” اس قول پرآپ خود کیوں نہیں عمل کر لیتے ۔“
”کاش میں اس قول پر عمل کرنے کی پوزیشن میں ہوتا۔“
”جان پلیز مجھے چھوڑ کر نہ جاﺅ۔ مم…. میں….۔“
”شیتل میں وعدہ تو نہیں کرتا لیکن کوشش کروں گا کہ حالات اگر ٹھیک ہوگئے تو تمھیں ملنے کے لیے ضرور انڈیا آﺅں گا۔“
اس نے ابھی تک اپنا سر میرے کندھے پر رکھا ہوا تھا۔سر اٹھا کر اپنی غلافی آنکھیں سے میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے وہ دھیرے سے بولی ۔
یہ جدائیوں کے رستے بڑی دور تک گئے ہیں
جو گیا ہے پھر نہ آیا میری بات مان جاﺅ
”مجھے مجبور مت کرو۔“ میرے لہجے میں بے بسی تھی۔ ”اسی وجہ سے میں تمھیں بمبئی تک ساتھ نہیں لے جانا چاہتا تھا۔ مجھے پتا ہے کہ تم حتی الوسع مجھے روکنے کی کوشش کرو گی۔ کل رات تو میں نکل بھی گیا ہوتا مگر میری بدقسمتی کہ….“ میں پھیکی ہنسی ہنس دیا۔
”مجھے پتا ہے؟“ اس نے ایک مرتبہ پھر اپنی آنکھیں موند لیں۔
”کیا؟“
”یہی کہ میں تمھیں پسند نہیں ہوں اور جس وقت بھی تمھیں موقع ملا مجھے ضرور چھوڑ جاﺅ گے۔“
”اچھا چھوڑو اس موضوع کو اورجاﺅ۔ میں تھک گیا ہوں۔“
”نہیں۔“ وہ ہٹ دھرمی سے بولی۔ ”مجھے نیند آرہی ہے اور میں اسی جگہ سوﺅں گی۔“
میں نے بحث کرنا مناسب نہ سمجھا اور خود بھی تکیے کو دوہرا کرکے اس کے پاس بیٹھ گیا۔ نیند مجھے یوں بھی نہیں آرہی تھی۔ بس مختلف قسم کے خیالوں میں کھویا رہا۔ شیتل سچ مچ میری گود میں سر رکھے سو گئی تھی۔ نیند میں اس کا حسن اور بھی اجاگر ہو گیا تھا۔ میں نے اس کے پُرکشش چہرے سے نظریں چرائیں اور آنکھیں موند لیں۔
تقریباً شام ہونے کو تھی جب دروازے سے باہرکسی کے قدموں کی چاپ ابھری میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اور جلدی سے شیتل کا سر اپنی گود سے اٹھا کر تکیے پر رکھ دیا۔ دروازے پر دستک ہوئی ۔
”آجاﺅ۔“ میں با آواز بلند بولا۔ دروازہ کھول کر ٹھا کر کا ایک ملازم اندر داخل ہوا اور ادب سے بولا۔
”تھانیدار صاحب آئے ہیں مہاراج…. اور آپ کاانتظار کر رہے ہیں۔“
”ٹھیک ہے۔ میں آ رہا ہوں۔“
اور وہ ”جی مہاراج“ کہہ کر چلا گیا۔
اسی وقت شیتل بھی اٹھ بیٹھی۔”کون تھا جان!“ اس نے جمائی لیتے ہوئے پوچھا۔
”ٹھا کر چچا کا ملازم تھا۔ تھانیدار کی آمد کی اطلاع دینے آیا تھا۔“میں نے شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر انگلیوں سے اپنے بال سنوارے۔
”ٹھہرو…. میں بھی چلو گی۔“ مجھے کمرے سے باہر نکلتا دیکھ کر اس نے پیچھے سے آواز دی۔
’ہاتھ منہ تو دھولو۔“ کہہ کر میں باہر نکل آیا۔
تھانیدار اکبر خان ہاتھ میں نے چاے کا کپ پکڑے ٹھا کر کے ساتھ گپ شپ میں مصروف تھا۔
”آﺅ عمر بھائی۔“ مجھے دیکھتے ہی وہ کھڑاہوگیا۔ اس کے لہجے میں سے چھلکتی خوشی سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب رہا تھا۔
”سنائیں انسپکٹر صاحب کیا رہا؟“میں مستفسر ہوا۔
”اﷲ کا شکر ہے عمر بھائی چھاپہ کامیاب رہا….ایک بندہ تو زندہ پکڑا گیا ہے جس کو آپ کمرے میں بند کر کے آئے تھے۔ باقی لاشیں بھی کوئی خاص خراب نہیں ہوئی تھیں۔ سب سے زیادہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ جنگلی جانور خون کی بوپر وہاں نہیں پہنچے تھے۔ لاشوں کے علاوہ وہاں سے بھاری مقدار میں منشیات بھی برآمد ہوئی ہے جو عمارت کے تہہ خانے میں چھپائی گئی تھی۔“
”اس کا مطلب ہے آپ کے کیرئیر میں ایک اور کارنامے کا اضافہ ہو گیا ہے۔“
”میرے کیرئیر میں؟“ وہ حیرانی سے بولا۔ ”مگر کیسے ؟“
”آپ اس چھاپے اور رگھو گروپ کی اموات کو پولیس کا کارنامہ شو نہیں کراﺅ گے؟“
”کیا بات کرتے ہو عمر بھائی۔“اس نے نفی میں سر ہلایا۔ ”آپ مجھے ایسا خیال کرتے ہیں ٹھا کر کی حویلی میں آپ کا کارنامہ مجھے مجبوراً پولیس کے نام اس لیے کرنا پڑا کہ آپ کو چھپانا مقصود تھا۔ اس میں بھی ایک حوالدار کو میں نے سامنے رکھا ہے کہ میری غیر موجودی میں ایک تھانیدار نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے اور رگھوداداکا کیس تو یوں بھی پولیس اپنے کھاتے میں نہیں ڈال سکتی کہ لاشوں کے پوسٹ مارٹم سے ان کی موت کے وقت کا پتا با آسانی لگ جائے گا۔“
”پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کا بدلنا کون سا مشکل ہے۔“
”بہت مشکل ہے ،اگر بندہ راشی نہ ہو تو۔“
”تو پھررگھو دادا کا نام سن کر آپ نے اتنی بے چینی کیوں دکھائی تھی۔“
”وہ بے چینی اس کارنامے کو اپنے نام منسوب کرنے کی نہیں ،دھرتی کے ناسور کی لاش کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی تھی۔“
اس کی بات سن کر مجھ پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔ انسپکٹر اکبر خان واقعی اعلاکردار کا مالک تھا۔ ایسے بندے پر آنکھیں بند کر کے اعتماد کیا جا سکتا تھا۔ انڈیا حکومت کے ساتھ اس کی وفاداری ہر شبے سے بالاتر تھی۔ میری مدد کا وعدہ بھی اس نے صرف انسانی ہمدردی کی بنا پر اور مجھے بے قصور سمجھتے ہوئے کیا تھا۔ میرے اندازے واقعی اس کے بارے غلط ثابت ہوئے تھے۔
”ایک اور بات۔“ مجھے سوچ میں ڈوبا دیکھ کر اکبر خان بولا اور مجھے اپنی طرف متوجہ پا کر گویا ہوا۔ ”رگھو دادا کی موت تمھارے ساتھ لڑتے ہوئے ہوئی ہے اور اس کی لاشیں دیکھ کر بھی یہی پتا چلتا ہے کہ یہ جانو کمانڈو کا کام ہے خصوصاً اس کی ٹوٹی ہوئی گردن اور پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ بات واضح ہو جائے گی۔ اس کے بعد تمھاری تلاش میں سرگرداں ایجنسیوں نے اسی علاقے کارخ کرنا ہے۔“
”اس وقت تک ہم انشاءاﷲ یہاں سے نکل جائیں گے۔“
”ان شاءاﷲ۔“ انسپکٹر نے میری تائید کرتے ہوئے کہا۔ ”اور سیٹھ ہری چرن داس کی بیٹی کا کیا کرو گے؟“
”وہ اس کے ساتھ ہی بمبئی تک جائے گی۔“ کمرے میں داخل ہوتی ہوئی شیتل نے انسپکٹر کا فقرہ سن کر برجستہ کہا اور ہم تینوں بے ساختہ مسکرا پڑے۔اس نے قریب آ کر تمام کو نمسکار کیا اور کرسی لے کر میرے قریب بیٹھی گئی۔
”آپ اگر یہیں سے اپنے باپ کے پاس چلی جائیں تو میرا خیال ہے آپ کے لیے بہت بہتر ہو گا۔“ انسپکٹر خلوص سے اس کو مشورہ دیتے ہوئے بولا۔
”یہ پٹی غالباً آپ کو جان نے پڑھائی ہے۔“
”کون سی پٹی؟“ انسپکٹر حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔
”یہی شیتل سے اس جگہ جان چھڑانے کی ۔“ وہ اطمینان سے بولی۔
”نہیں بہن!“ انسپکٹر سنجیدہ لہجے میں بولا۔ ”عمر جان نے اس قسم کی کوئی بات نہیں کی ہے۔“
”اگر نہیں کی۔“ وہ میری جانب گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی۔ ”تو بڑی حیرانی کی بات ہے ورنہ اس کی اِچھا یہی ہے۔“اس کی بات سن کر ٹھا کر ہنس پڑا جبکہ انسپکٹر حیرانی سے بولا۔
”وہ کیوں؟“
”وہ آپ اسی سے پوچھیں۔“
”کیوں عمر بھائی۔“ انسپکٹر میری طرف متوجہ ہوا۔ ”بھلا اتنے خوب صورت ہم سفر سے کوئی جان چھڑانے کی کوشش کرتا ہے۔“
”ہم سفر نہیں…. مسافر بولو انسپکٹر صاحب۔“ میں نے اس کی مذاق میں کہی گئی بات کا جواب سنجیدگی سے دیا ۔ ”ایسا مسافر جس کی منزل جدا ہو۔“
”جھوٹ۔“ شیتل جذباتی لہجے میں بولی۔ ”میری تو منزل بھی یہ خود ہے۔“
”اچھا چھوڑو اس مکالمہ بازی کو ،بھوجن تیار ہو گیا ہو گا پہلے پیٹ پوجا کر لیں۔“ٹھاکر نے ہماری تکرارا ختم کرنے کی کامیاب کوشش کی ۔
”آپ چلیں میں شام کی نماز پڑھ کر آتا ہوں۔“ انسپکٹر اکبر خان بولا۔
”نماز تو میں نے بھی پڑھنی ہے۔“میں نے کہا۔
”ٹھیک ہے پُتر!“ ٹھاکر اٹھتا ہوا بولا۔ ”ہم کھانے کے کمرے میں تمھارا انتظار کر رہے ہیں۔“
اکبر خان وضو میں تھا اس لیے کمرے کے کونے میں چادر بچھا کر نماز میں مشغول ہو گیا اور میں وضو کرنے واش روم کی طرف بڑھ گیا۔
کھانا کھا کر انسپکٹر ہمیں صبح سویرے تیار ہونے کا مژدہ سنا کر رخصت ہوگیا۔ جبکہ ہم دونوں کافی دیر تک ٹھا کر فیملی کے ساتھ گپ شپ میں مصروف رہے اور رات گئے ہی کمرے میں واپس لوٹے۔
”یہ آپ نے ٹھا کر چچا کو بتایا ہے۔“ کمرے میں دو چارپائیوں کو دیکھ کر شیتل نے مجھے گھورا ۔
”نہیں لیکن اس کو اپنے بارے سب کچھ بتلا چکا ہوں۔“ میں نے حقیقت سے پردہ اٹھایا۔
”اچھا ہے کم از کم اس طرح تمھیں چارپائی تو نصیب ہو جائے گی۔ ورنہ مجھ سے تو تم ایسے بدک رہے ہو جیسے میں چھوت کی بیماری ہوں۔“میں نے اس کی بات کا جواب دیئے بغیر ٹھا کر کی مہیا کردہ شلوار قمیص اٹھائی اور ساتھ والے کمرے میں لباس تبدیل کرنے چلا گیا۔واپس آ کر میں نے کمرے کی لائیٹ بجھائی اور سونے کے لیے لیٹ گیا۔
شیتل گردن تک کمبل اوڑھے کوئی گیت گنگنارہی تھی۔ صورت کی طرح اس کی آواز بھی دلکش تھی۔ اس کی مترنم آواز نے میرے لیے لوری کا کام کیا اور میں نیند کی گہری وادیوں میں اترتا چلا گیا۔
l l l
صبح سویرے انسپکٹر اکبر خان کی آمد سے پہلے ہم دونوں تیار ہو چکے تھے اور اس کے پہنچتے ہی ہم رام پورہ سے روانہ ہو گئے۔ٹھاکر اور اس کے پورے خاندان نے ہمیں بہت محبت سے رخصت کیا تھا۔ ٹھاکرنے زبردستی دس ہزار کے بہ قدر رقم میری جیب میں ڈال دی تھی جبکہ سرلادیوی نے سچے موتیوں کا ایک ہار شیتل کے گلے میں ڈالا تھا۔دن کا کھانا ٹھاکر نے تیارکروا کر گاڑی میں رکھوا دیا تھا۔ جو ہم نے چار بجے کے قریب اجمیر شہر سے گزر کر کھایا اور اوپر سے تھرماس میں رکھی نیم گرم چاے پی کر دوبارہ عازم سفر ہوئے۔
رات کا کھانا ہم نے سڑک کے کنارے موجود ایک غیر معروف چھپر ہوٹل میں کھایا۔ گرم تندوری روٹیوں کے ساتھ چنے کی تڑکا لگی دال۔ میں گنجائش سے بھی زیادہ کھا گیا تھا۔ گرم دودھ پتی پی کر ہم ایک مرتبہ پھر سفر کے لیے تازہ دم ہو گئے۔ بل کی ادائی انسپکٹر اکبر خان نے کی تھی۔ لیکن سب سے آخر آتے وقت میں نے بوڑھے سے بیرے کو ایک ہزار کی رقم بہ طورٹپ پیش کی اور اسے ہکا بکا چھوڑ کر کار کے پاس آگیا۔ انسپکٹر نے ایک مرتبہ پھر ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی تھی۔ صبح سے وہی ڈرائیونگ کرتا آرہا تھا۔
”تھانے دار صاحب اب آپ پچھلی نشست پر لیٹ کر آرام کریں اگر آپ کی مدد کی ضرورت پڑی تو ہم آپ کو اٹھا دیں گے۔“میری بات پر اکبر خان ”شکریہ ۔“کہتے ہوئے عقبی نشست پر منتقل ہو گیا اور میں نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔ شیتل بھی میرے ساتھ فرنٹ سیٹ پر آکر بیٹھ گئی تھی۔
سردی کافی شدید تھی لیکن گاڑی میں لگے ہیڑ نے ماحول کو خوشگوار حد تک گرم کر رکھا تھا۔احمد آباد تک ہم بغیر کسی حادثے کے پہنچ گئے تھے۔ ایک دو جگہ پولیس والوں نے چیکنگ کے لیے روکا تھا مگر انسپکٹر اکبر خان کے سروس شناختی کارڈ نے کوئی مسئلہ پیدا نہ ہونے دیا۔
احمد آباد سے نکلے ہمیں تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی کہ انسپکٹر اکبر خان کے ہلکے ہلکے خراٹے سنائی دینے لگے۔ وہ غریب صبح سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تھا ذرا ساایزی ہوتے ہی نیند میں ڈوب گیا۔
”تم تو انسپکٹر صاحب کے ساتھ ہی واپس لوٹوگی نا؟“ کار میں چھاٹی خاموشی کو میں نے دھیمی آواز سے توڑا۔
”نہیں جناب۔“ اس نے نفی میں سر ہلا یا۔ ”میں اس وقت تک بمبئی میں رہوں گی جب تک آپ پاکستان نہیں چلے جاتے۔“
”بے وقوف بمبئی میں میرا واسطہ غنڈوں، موالیوں سے پڑے گا اور تمھارا ساتھ سوائے میرے مسائل بڑھانے کے اورکچھ فائدہ نہیں دے گا۔“
”غلط!“ اس نے زور و شور سے میری بات کی نفی کی۔ ”میں مسائل پیدا نہیں ،حل کروں گی۔“
”وہ کیسے؟“
”وہ ایسے کہ ایک تو آپ بمبئی سے ناواقف ہیں اور میں آپ کے لیے ایک قابل اعتماد گائیڈ کے فرائض سرانجام دوں گی دوسرے وہاں پر ہماری اپنی ذاتی رہائش گاہ موجود ہے جو آپ کے لیے بہترین چھپنے کا ٹھکانہ ثابت ہو گی۔“ شیتل نے اپنی بات کی وضاحت کی۔اس کی بات سن کر میں ایک لمحے کے لیے سوچ میں پڑ گیا۔ بات اس نے واقعی بڑے پتے کی تھی۔
”ٹھیک ہے ….مگر ایک وعدہ کرو۔“
”کیا؟“ وہ مستفسر ہوئی۔
”جب میں اپنے مطلب کے بندوں کو ڈھونڈنے نکلوں گا، تم میرے ساتھ چلنے کی ضد نہیں کروگی۔“
”منظور…. لیکن مجھ سے چھپنے کی کوشش تم بھی نہ کرنا ورنہ….“
”ورنہ کیا؟“
”ورنہ میں اخبار میں تلاش گمشدگی کا اشتہار دے دوں گی کہ ایک عدد کمانڈو غائب ہے جس کا حلیہ کچھ اس طرح سے ہے اور مشن وغیرہ یہ ہے۔ اطلاع دینے والے کے لیے اتنا انعام۔“
”وہ تم سے پہلے بھی بہت شائع ہو چکے ہیں۔“ میں اطمینان سے بولا۔
”اس کا مطلب ہے آپ مجھے چھوڑ کر جانے کا ارادہ کر چکے ہیں۔“
”بہت پہلے۔“ میں جواباً بولا۔
”کتنے اطمینان سے کہہ رہے ہو بہت پہلے۔“ وہ میرے بازو پر گھونسہ مارتے ہوئے بولی۔
”شیتل ایک شعر سناﺅں۔“ میں اچانک سنجیدہ ہوگیا
”سناﺅ۔“ وہ میرے کندھے پر سر ٹیکتے ہوئے بولی۔
زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے
تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے
”سچ؟“ اس نے خوشگوار حیرانی سے پوچھا۔
”سو فیصد سچ۔“ میں افسردہ ہو گیا۔ ”لیکن تم اگر خود کو میری جگہ پر رکھ کر سوچو تو تمھیں میری مجبوری کا پتا چلے گا۔ اپنے بارے میں تمھیں تفصیل سے بتا چکا ہوں۔ دشمنی کی وہ آگ جو ہمارے اور چودھری خاندان کے درمیان بھڑکی ہوئی ہے وہ پتا نہیں کتنے خرمنوں کو جلا کر سرد ہو گی۔ تمھیں اپنے ساتھ پاکستان لے جانے کا مطلب ہے اس جلتی آگ میں تمھیں بھی گھسیٹنا اور اور اس کامیں متحمل نہیں ہو سکتا۔ یہاںپر تمھیں ایک سے ایک اچھے رشتے مل جائیں گے۔ پاکستان پہنچ کر کم از کم ایک اطمینان مجھے حاصل رہے گا کہ مجھے چاہنے والی ایک ہستی ایسی ہے جو امن میں ہے اور میرے لیے دعا گو ہے۔“
”جان…. مجھے تمھارے ساتھ نرگ میں رہنا تنہا سورگ میں رہنے سے زیادہ عزیز ہے۔“
”بہ ہر حال کچھ بھی کہو میں تمھیں اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتا۔ البتہ اگر حالات ٹھیک ہو گئے تو میں تمھارے پاس آنے کی کوشش کروں گا۔“
”یہ بات آپ پہلے بھی کہہ چکے ہیں اب اسے دہرانے کی ضرورت نہیں۔“ وہ بے زاری سے بولی۔
اس کی بات سن کر میں نے چپ سادھ لی اس موضوع پراس سے بحث کرنا میرے لیے ناممکن تھا وہ اپنی ساری کشتیاں جلانے کو تیار تھی جبکہ میں حالات کے گھن چکر میں اس طرح پھنسا ہوا تھا کہ میرے سوچنے سمجھنے کے صلاحیتیں اس معاملے میں بالکل مفقود ہو چکی تھیں۔ میری بہتری اسی بات میں پنہاں تھی کہ میں یہ موضوع نہ چھیڑتا…. اس کے برعکس شیتل کا پسندیدہ موضوع یہی تھا۔
میری چپ کو بھانپ کر اس نے بھی خاموش رہنے میں عافیت سمجھی اور سیٹ سے پشت لگا کر آنکھیں بند کر لیں۔
صبح کے قریب ہم نے سورت کو کراس کر کے سڑک کے کنارے موجود ایک چھوٹی سی مسجد میں فجر کی نماز ادا کی۔ اس کے بعد انسپکٹر صاحب ایک ہوٹل سے تھرماس چاے کا اور اس کے ساتھ پانچ چھے پراٹھے لے آیا۔ صبح کا ناشتا ہم نے کار کے اندر ہی تناول کیا اور اس کے بعد وہاں سے روانہ ہو گئے۔ ڈرائیونگ سیٹ ایک مرتبہ پھر انسپکٹر اکبر خان نے سنبھال لی تھی۔
میں نے پوچھا۔”انسپکٹر صاحب !کتنا راستا باقی ہے۔“
”بس اب تو چند گھنٹوں کی بات ہے۔“یہ کہہ کر اس نے پوچھا ۔”ویسے آپ لوگوں نے کیا فیصلہ کیا ہے؟“
”کس بارے میں؟“ میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھا ۔
”یہی کہ شیتل تمھارے ساتھ رہے گی یا واپس جائے گی۔“ انسپکٹر اکبر خان نے اپنی بات کی وضاحت کی۔
”شیتل میرے ساتھ رہے گی۔“ میں اطمینان سے بولا۔ ”اس کی موجودی میں میرے کافی مسائل حل ہو جائیں گے۔“ میری بات سن کر شیتل کا مرجھایا ہوا چہرہ کھل اٹھا تھا۔ مجھے پتا تھا کہ میرے یا انسپکٹر کے سمجھانے سے اس نے نہیں سمجھنا تھا،الٹا میرے بارے الٹی سیدھی بدگمانیاں دل میں پال لینی ہیں اس لیے بہتریہی تھا کہ میں اسے اپنے ساتھ رکھتامیرے لیے اپنے دل میں وہ محبت کے جو گہرے جذبات رکھتی تھی ان کے ناطے اس کا اتنا حق تو بنتا تھا کہ انڈیا کے اندر اپنے آخری ایام اس کے ساتھ گزاروں۔
”اگر آپ نہ بھی چاہیں تب بھی میں نے آپ کے ساتھ ہی رہنا ہے۔“ وہ شوخی سے بولی۔ ”بہ ہر حال حوصلہ افزائی کے لیے دھنیواد۔“انسپکٹر اس کی بات سن کر قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔
”ویسے آپ کی خوش قسمتی میں کوئی کلام نہیں عمر بھائی۔“ انسپکٹر اکبر خان حسرت بھرے لہجے میں بولا۔ ”ہماری تو حسرت ہی رہی شیتل جیسی کسی لڑکی کے حصول کی۔“
”اگر آپ خود کو میری جگہ پر رکھ کر سوچیں تو مجھے سے بڑا بدقسمت آپ کو اور کوئی نہیں دکھائی دے گا۔“
”وہ کیسے؟“ وہ مستفسر ہوا۔
”وہ ایسے کہ آپ تصور کریں اس شخص کے بارے جس کے حوالے ایک بہت بڑ ا خزانہ کر نے کے بعد اسے یہ مژدہ بھی سنا دیا گیا ہو کہ اس کی زندگی کا صرف ایک دن باقی ہے۔“
میری بات سن کر اکبر خان نے چپ سادھ لی لیکن شیتل خاموش نہ رہ سکی۔
”اس کویوں کہیں تو زیادہ مناسب رہے گا کہ وہ شخص بذات خود خود کشی پر آمادہ ہے۔“
”لازمی بات ہے اتنا بڑا خزانہ پا کر اسے شادی مرگ تو ہونا ہے۔“ میں برجستہ بولا اور کار کا اندرونی ماحول اکبر خان کے قہقہے سے گونج اٹھا۔
دوپہر ڈھلے ہماری کار بمبئی کے مضافات میں داخل ہو گئی تھی۔ آبادی کے لحاظ سے بمبئی انڈیا کا سب سے بڑا شہر ہے۔ اس کی انڈیا میں وہی اہمیت ہے جو اہمیت کراچی کو پاکستا ن میں حاصل ہے۔مزید دو گھنٹے کی مسافت طے کرنے کے بعد ہم شیتل کی رہنمائی میں ساحل سمندر کے نزدیک ایک چھوٹے سے بنگلے کے قریب پہنچ چکے تھے۔
اطلاعی گھنٹی پر ایک بوڑھے سے شخص نے چھوٹا گیٹ کھول کرباہر جھانکا اور شیتل کو پہچان کر مو¿دبانہ انداز میں نمستکار کرنے کے بعد پورا گیٹ کھول دیا۔ میں نے اور اکبر خان نے نیچے اترنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔
گاڑی پورچ میں روک کر ہم دونوں باہرآگئے۔ اکبر خان بولا۔
”عمر بھائی مجھے اجازت دو، میں نے ابھی واپس جانا ہے۔“
”دماغ تو ٹھیک ہے۔“ شیتل جلدی سے بولی۔ ”اتنا طویل سفر دوبارہ کیسے طے کرو گے۔ آج رات آرام کر لو کل چلے جانا۔“
”مشکل ہے شیتل بہن۔“ اکبر خان نے نفی میں سر ہلایا۔ ”شانتی نگر میں میں بہت سے کام ادھورے چھوڑ آیا ہوں۔ اپنے یہاں پر آنے کی اطلاع میں نے کسی کو بھی نہیں دی ہے۔ اب جتنی جلدی بھی میں واپس چلا جاﺅں اتنا بہتر ہے…. اور جہاں تک تعلق ہے ڈرائیونگ کرنے کا اب واپسی میں نے کسی بس سروس کے ذریعے جاتا ہے اپنی کار میں ایک جاننے والے کے پاس چھوڑ جاوں گا جو بعد میں میرے پاس بھجوا دے گا۔“
”لیکن کھانا تو کھا کر جاﺅنا۔“ شیتل اس کو روکنے پر مصر ہوئی۔
” وقت نہیں ہے۔“ وہ مجھے گلے ملتا ہوا بولا۔ ”یار زندہ صحبت باقی۔ میرے لائق کوئی اور خدمت ہو تو حکم کرو۔“
”اکبر بھائی اﷲ آپ کو خوش رکھے اور عزت دے۔“ میں ممنونیت سے بولا۔ ”میں یہ تو نہیں کہتا کہ میں آپ کے احسان کا بدلہ چکا سکوں گا البتہ زندگی کے کسی موڑ پر بھی میری مدد کی ضرورت پڑے میں انشا ءاﷲ حاضر ہوں گا۔“
اکبر خان نے شیتل کے سر پر ہاتھ رکھا اور بولا۔
”بس میری بہن کا خیال رکھنا۔“ اور پھر کار میں بیٹھ کر رخصت ہو گیا۔
” اندر چلو۔“ شیتل مجھے صحن میں گم صم کھڑے دیکھ کر دھیرے سے بولی اور میں سر ہلاتا اس کے ساتھ چل پڑا۔ بمبئی میں پتا نہیں کیسے کیسے ہنگامے میرے منتظر تھے۔
(جاری ہے )

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/