مختصر کہانیاں

یارم (سمیرا حمید) قسط نمبر 30 ۔ ایک بار امرحہ نے …

یارم (سمیرا حمید)
قسط نمبر 30
۔
ایک بار امرحہ نے عالیان سے پوچھا تھا ۔
”تم کبھی سائی کے پاس گئے ہو ؟“
”ہاں !“وہ شرارت سے مسکرانے لگا …..مسخری ہنسی….
”تم ایسے کیوں ہنس رہے ہو ؟“
”ایسے کیسے ؟“
”مسخری سے….“
”مجھے تو پتہ ہی نہیں کہ میں مسخری ہنسی ہنس رہا ہوں۔“
”ایک بار میری بہن بھی ایسے ہی ہنسی تھی میں نے اس کے بال پکڑ لیے تھے…..دوبارہ نہیں اس نے مجھے چڑایا تھا…..“
”میں تمہیں چڑا تو نہیں رہا….البتہ تم میرے بال پکڑ سکتی ہو….ویسے بال پکڑ کر تم کیا کرتی ہو….؟“
”میں نے اس کا سر دیوار میں دے مارا تھا…..“
غیر ارادی طور پر عالیان اس سے ایک قدم دور ہوا…..اپنا سر بچانے کے لیے…..امرحہ نے فلک شگاف قہقہہ لگایا۔
”مجھے یقین دلاؤ کہ تم مذاق ہی کر رہی ہو ….“وہ رک کراسے دیکھنے لگا۔
”میں نے ایسا کیا ہے….“امرحہ کو اس کی حیرت اچھی لگی۔
”تم بہت چھوٹی ہو گی تب نا…..“حیرت سے اس کی آنکھیں امرحہ پر ٹھہر سی گئیں۔
”نہیں میں فرسٹ ایر میں تھی تب…..“
”اور اس کاکیا بنا ؟“بائیں ہاتھ کی پہلی انگلی کو اس نے بائیں آنکھ کے کنارے رکھا ۔
”کس کا میری بہن کا ؟“امرحہ کو اس کی حیرت اچھی لگی۔
”نہیں، اس کے بے چارے سر کا ….؟“
”ٹھیک ہی رہا ….بس اب وہ ذرا تیز آواز میں بات کرے تو اس کے سر میں ٹیس اُٹھتی ہے…..“امرحہ نے اپنی ہنسی ضبط کرتے ہوئے کہا ۔
”کیا اب بھی تم تیار ہو اپنے بال پکڑوانے کے لیے۔“
”نہیں….بالکل نہیں…..“وہ اپنے سر کو اس سے 215

اور دور لے گیا.
"پھر بتاو تم نے سائی سے کیا کہا ……میرے بارے میں ہی کچھ کہا ہو گا….”
"تمہیں یہ یقین کیوں ہے کہ تمہارے بارے میں ہی کچھ کہا ہو گا…..”
"تمہارے ہنسنے کے انداز سے …….کیا تم نے اسے یہ بتایا ہے کہ میں بھیں بھیں کر کے روتی ہوں اور ایسا کرتے کس قدر بڑی لگتی ہوں….یا تم نے اسے یہ بتایا ہے کہ میں نے تمہیں تھپڑ مار دیا تھا…..؟”
عالیان لب دبائے اپنی ہنسی دبانے کی کوشش کرتا رہا اور جب مزاقا "صرف اسے ڈرانے کے لیے امرحہ نے ہاتھ اسکے بالوں کی طرف بڑھائے تو وہ قہقہہ لگاتا ہوا بھاگ گیا.
"میں اب اسے یہ بتانے جا رہا ہوں کی وہ تم جیسی خونخوار جنگ کی بلی سے بچ کر رہے…..”جاتے ہوئے وہ کہہ کر گیا.
سائی دیکھ رہا تھا کہ امرحہ چپ کی چپ ہی رہ گئی ہے……
"امرحہ….”سائی نے اسے متوجہ کیا.
خاموشی سے سائی کو دیکھ کر امرحہ اسکے پاس سے چلی آئی…..اور بزنس ڈیپارٹمنٹ آ گئی.
کاش آج تو اسے عالیان نظر آ جائے…..اور کوریڈور میں دیوار کے ساتھ سر ٹکائے’ ایک سیدھی اور ایک ترچھی ٹانگ کھڑی کیے اپنے آئی فون کے ساتھ مصروف وہ اسے نظر آ گیا…..امرحہ کو خود کو دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ اتنے بڑے مانچسٹر میں اکیلی رہ گئی ہے ….جبکہ اسے دیکھ کر اسنے جانا تھا کہ اکیلا ہونا کسے کہتے ہیں……
وہ ایسے خاموش کھڑا تھا جیسے اسکی زبان نے کبھی کلام کی زحمت ہی نہیں اٹھائی..نہ وہ یہ خواہش رکھتی ہے…..کوئی اتنا خاموش ہو سکتا ہے کہ اس پر یہ گمان گزرے ….عالیان پر یہ گمان پختہ ہو رہا تھا…..جن بہاروں کو ساتھ لیے وہ چلا کرتا تھا’ان سب بہاروں کو خفا کیے ان سے خفا ہوئے وہ بے نور سا کھڑا تھا اسے دیکھ کر مسکرانے پر مائل لوگ مسکراہٹ روک لینے پر مجبور ہو جاتے تھے……امرحہ کو اسکی اس شبیہ نے شاکر و جامد کر دیا….کیا یہ عالیان ہے؟
"تم یہاں ایسے کیوں کھڑی ہو؟”ویرا پیچھے سے آئی اسکے ہاتھ میں کافی مگ تھے.
"میں….میں تمہیں ڈھونڈنے آئی تھی.”
"کیا میں گم ہو چکی ہوں….کب؟”
"مجھے تمہارا فون چاھیے تھا’دادا سے بات کرنی ہے…..میرے فون میں کچھ مسئلہ ہے’لاو اپنا فون دکھاو…..”وہ ویرا تھی……ویرا…زیرو….زیرو….
سیونٹی (0070)
"تم اپنا فون دے رہی ہو یا نہیں……”امرحہ نے برا ماننے کی اداکاری کی.
"اپنا فون دو’میں ٹھیک کر دیتی ہوں پاگل. …”
"وہ خبر تھا میں گھر کر چھوڑ آئی ہوں….”امرحہ کی قسمت خراب کہ اسی وقت اسکے بیگ کی اوپری جیب میں رکھے فون پر کسی کا میسج آیا…..کس پاگل نے اسے اس وقت میسج بھیجا تھا. ….یہ کوئی وقت تھا بھلا….ویرا نے دائیں آنکھ کی کمان اچکائی”یعنی دوں تو گھر ہے نا امرحہ…..ہے نا…..؟”
"اوہ یہ تو میرے پاس ہی ہے ….”امرحہ کی اداکاری عروج پر تھی.
"اور بھی کچھ دیکھ لو… کیا کیا تمہارے پاس ہی ہے جسے تم گمشدہ سمجھے بیٹھی ہو.”
"یہ کافی کس کیلیے ہے؟”
"میرے اور عالیاں کیلیے.”
نجانے کیوں لیکن اسے لگا کہ گرم کافی ویرا نے اس پر انڈیل دی ہے…. وہ ہے کون عالیان کے لیے کافی لے جانے والی…. اور عالیا کیوں پیئے گا اسکی کافی….جی نہیں ……..نہیں پیتا وہ ایسے ویسوں کی کافی ٹوئیٹ …… سوچ کا یہ ریلہ ایک دم سے اسکے ذہن میں آیا….. وہ تیزی سے جانے لگی اور جاتے جاتے اپنے ایشین فلیگ کے نام سے مشہور ہو چکے دوپٹے کو تیزی سے سنبھالنے کی آسکر ایوارڈ اداکاری کرتے ویرا 216

کی کافی گرا بیٹھی۔
اوہ سوری۔۔۔ کریمی ایوارڈ اداکاری۔۔۔
ویرا کی دائیں آنکھ کی کمان پھر سے اچکی امرحہ۔۔۔۔
ویرا نے اتنا ہی کہا تھا کہ امرحہ جلدی سے واپس پلٹ آئی۔۔۔ عالیان اس سے ناراض ہے۔۔ ٹھیک ہے ایسا ہی ہے۔۔۔
لیکن اسکا مطلب یہ تو نہیں کہ۔۔۔ کہ۔۔۔
خیالات کا ہجوم اسکے دماغ میں جھکڑ کی طرح چلنے لگا۔۔۔ وہ عالیان کو دیکھنے کیوں گئی تھی۔۔۔ کیوں۔۔۔؟ یہ سوال اسکے اندر بازگشت بن گیا۔۔۔
سب ٹھیک ہوجائے گا یا بس سب ختم ہوجائے گا۔۔۔؟ امرحہ بلاوجہ یونی کے چکر لگانے لگی۔۔۔
اسے کسی پل چین نہیں تھا۔۔۔ سو جھوٹ سچ بول کر اس نے اپنے آپ کو تسلی دے لی تھی۔۔۔ تو وہ تسلی قائم کیوں نہیں رہ رہی تھی۔۔۔ وہ پاگل بنی بلاوجہ یہاں ست وہاں گھوم رہی ہے۔۔۔
یہ کیا تم تتلی بنی چکرارہی ہو۔۔۔؟ کسی نے کبھی اسکے پیچھے آکر کہا تھا۔۔۔
میں یونی گھوم رہی ہوں
میں تمہیں روز ہی یونی گھومتے دیکھتا یوں۔۔۔ کتنا گھومنا ہے تم نے۔۔۔؟؟؟
مجھے ایسا کرنا پسند ہے۔۔۔ لیکن ٹھہرو۔۔۔ تم روز میرا پیچھا کرتے ہو۔۔۔؟
ایک دم اسکے چہرے کے رنگ بدلے جیسے اس کی چوری پکڑی گئی ہو۔۔
ایسی باتیں معلوم ہو ہی جاتی ہیں۔۔۔
تم میری جاسوسی کرتے ہو نا۔۔۔؟؟
اسے جاسوسی کا نام نہیں دیا جا سکتا۔۔۔
بیگ میں سے اس نے
دو لولی پاپ نکالے ایک خود کھانے لگا ایک اسکے آگے کیا۔۔۔
کیا تم دائم کے لیئے کام کر رہے ہو۔۔۔ اسے یہ خوف رہتا ہے کہ یونیورسٹی میں، میں ضرور کچھ الٹا سیدھا کرکے پاکستان کا نام لے ڈوبوں گی۔۔۔اسے میری سمجھداری پر شک کیوں ہے آخر۔۔۔؟
لولی پاپ منہ میں لگائے وہ جی جان مگا کر ہنسا۔۔۔ تم باتوں کو کتنے رخ دے ڈالتی ہو امرحہ۔۔۔! تم ایسی باتیں کرنا کہاں سے سیکھتی ہو۔۔ نہ میں تمہاری جاسوسی کر رہاہوں۔۔۔ نہ ہی دائم نے مجھے تمہارے پیچے لگایا ہے۔۔۔ ویسے پاکستان میں تم کافی مقبول رہی ہوگی۔۔۔
امرحہ سناٹے میں آگئی ۔۔۔ اب اسے کیسے معلوم یہ۔۔۔
اس بات سے تمہارا کیا مطلب ہے۔۔۔؟؟؟ اسکا رنگ فق ہو گیا۔
لولی پاپ منہ سے نکال کر وہ بلند و بانگ قہقہے لگانے لگا۔۔۔ تمہاری شکل بتارہی ہے کہ میری بات کو پھر سے تم نے اپنی مرضی کا رنگ دے ڈالا ہے۔۔ تم باتوں کو اپنی مرضی کا رنگ دیتی ہو۔۔۔اور ایسے غصہ کرتی ہو ۔۔۔ بھڑکتی ہو۔۔۔اور چڑ جاتی ہو۔۔۔ کتنا زرخیز دماغ ہے تمہارا امرحہ۔۔۔ میں نے آج تک اتنا زرخیز دماغ کسی کا نہیں دیکھا۔۔۔امرحہ نت نئی سوچوں کی عظیم کاشتکار۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔
یہ پکڑو اپنا لولی پاپ۔۔۔ میں نہیں کھاتی یہ ۔۔ بچی نہیں ہوں میں۔۔۔ وہ برا مان گئی اور آگے بڑھ گئی اور وہ لولی پاپ پکڑے اسکے پیچھے ہولیا۔۔۔ اور تب تک اسکے پیچھے ہی رہا، جب تک اس نے وہ لولی پاپ کھا لیا۔
خود سے اور سوچوں سے تھک کر امرحہ نے خود کو تھکا ڈالا۔۔۔ ایسی تھکن جو کسی آرام اور دوا سے جانے والی نہ تھی۔۔۔
************************************
"کھیل تماشا” کتاب دس بار سے زیادہ لیڈی مہر کو سنائی جاچکی تھی۔۔۔ ماسٹر بالی اور رجنی نے شٹل کاک میں دیر تک راج کیا تھا۔۔۔ لیڈی مہر کا دل ہی نہیں بھرتا تھا اس کتاب کو سن سن کر۔۔۔ اور امرحہ کو ایسے یاد ہو گئ تھی کہ وہ آرام سے شروع سے آخر تک تقریر کی طرح اسے سنا سکتی تھی۔۔۔ دسویں بار تو امرحہ نے کتاب پکڑنے کی زحمت ہی کی تھی ورنہ کتاب تو اسے ازبر ہو چکی تھی۔
پھرامرحہ انہیں ایک محبت سو افسانے سنانےلگی….نہیں نہیں اشفاق احمد کے لکھے نہیں یونیورسٹی میں لکھے جانے والے چلتے پھرتے افسانے۔
”سائی کی طرف سے تو کوئی مسئلہ نہیں ہو گا لیکن دیپا گجرات سے ہے اور سنا ہے اس کے خاندان والے خاصے روایتی ہیں….انہیں اگر معلوم ہو جائے کہ دیپا ایک سیاہ فام عیسائی کو پسند کرنے لگی ہے تو مشکل سے ہی اسے ایک بھی دن یونی میں رہنے دیں…..“
لیڈی مہر سر ہلاتی رہیں انہیں سائی کی کہانی نء جذباتی کر دیا تھا۔
”مجھے تو عالیان کی فکر ہونے لگی ہے تمہاری کہانیاں سن سن کر…..“
امرحہ نے لیڈی مہر کو دیکھ کر نظریں چرا لیں۔
”شارلٹ بھی آنے والی ہےفون آیا تھا اس کا …..عالیان بھی شاید کسی نمونے کو پسند کر چکا ہو گا ….“وہ خاموش سی ہو گئیں۔
”عالیان کتنا بھی انکار کرے میں جلد ہی اس کی شادی کر دوں گی…..وہ کہتا ہے کامیاب بزنس مین بن جاؤں گا تو سوچوں گا ….لیکن تب تک شاید میں دیکھ نہ سکوں….مجھے انکار تو نہیں کرے گالیکن میں زبردستی نہیں کرنا چاہتی…..“
آپ اس سے بہت پیار کرتی ہیں نا ؟“
”نہیں ….وہ مجھ سے بہت پیار کرتا ہے ….اس کی محبت مجھے حیران کر دیتی ہے….میں نےایک سال پہلے اسے منع کیاتھا کہ مجھ سے پوچھے بغیر گھر نہ آیا کرے….دیکھ لو میری سالگرہ کے علاوہ وہ کبھی مجھ سے پوچھے بغیر گھر نہیں آتا….وہ کچھ نہ کہے مجھ سے….میرے لے کچھ خاص نہ کرے….مجھے خبرہو جاتی ہے کہ میرے دس بچوں میں سے سب سے زیادہ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے….دوسرے بچے احسان مند ہو کر عقیدت میں مجھ سے محبت کرتےہیں لیکن جب پہلی بار میں نے اسے گود میں بٹھایا اور اس کی روتی ہوئی آنکھوں کو چوما تو وہ ایسے میرے سینے سے لگ گیا جیسے مجھ میں سما جائے گا ….وہ مجھ سے بار بار پوچھتا ۔میں اسے چھوڑ کرتو نہیں جاؤں گی….اس کی ماں کے بعد میں دوسری عورت ہوں جس سے وہ بےتحاشا محبت کرتا ہے اور مجھے یقین ہےتیسری عورت اس کی بیوی ہو گی جس پر وہ قربان ہی ہو جائے گا ….عالیان بہت سمجھ دار ہےلہکن بعض معاملات میں وہ بہت شدت پسند بھی ہے۔“
”عالیان کے ماں باپ،خاندان ….اس نے ہمت کرکے پوچھا ۔ایک بار پہلے بھی اس نے یہ ہمت کی تھی اور لیڈی مہر نےکہا تھا کہ وہ اپنے بچوں کے ماضی کے بارے میں ان کے علاوہ کسی اور سے بات کرنا نہیں چاہتیں،یہ بہت احساس معاملہ ہے۔
”تم عالیان کی دوست ہو امرحہ…..!لیکن یہ غلطی کبھی نہ کرنا۔اس سے اس کے ماضی کے بارے میں پوچھنے کی ….ایک بار میں نے کوشش کی تھی۔اس نے مجھ سے درخواست کی تھی کے میں اس بارے میں کبھی بات نا کروں۔وہ تکلیف سے گزرنا نہیں چاہتا’اتنے سے ذکر پر وہ کی دن گم سم رہا تھا۔ایک دن وہ ٹھیک ہو جائے گا میں جانتی ہوں۔ہر دکھ اور صدمے کے بھرنے کا اپنا ایک الگ وقت اور انداز ہوتا ہے۔میرے لئے تو یہی کافی ہے کے وہ اپنی زندگی میں خوش باش ہے’ بہت مشکل سے میں نے اسے ٹھیک کیا تھا’ جب تک وہ اور ٹھیک نا ہو جائے میں اور کسی کو اسے تکلیف نہیں دینے دوں گی۔ ۔۔۔۔۔چاہے وہ کوئی بھی ہو۔خاندان کے نام پر اس کے پاس صرف ایک ماں تھی .جو جوانی میں ہی مر گئی۔۔۔۔اب میں ہوں اسکا خاندان۔۔۔۔۔۔۔اس لئے مجھے یہ ڈر لگا رہتا ہے کے وہ کسی ایشیائی لڑکی کو پسند نا کر لے۔ذات پات اور خاندان یہ سب ایشیائی لوگوں کے لئے بہت اہم ہوتا ہے ایک سال پہلے یونی میں عالیان کا ایک دوست بنا تھا’ پاکستان سے تھا۔اچھا دوست تھا اسکا لیکن جب اسے معلوم ہوا عالیان کی ماں ایک عیسائی عورت تھی تو اس نے آہستہ آہستہ عالیان سے تعلق ہی ختم کر لیا کہاں وہ عالیان کو اپنی زمینوں اور باغوں کی سیر کو بلا رہا تھا۔۔۔۔۔عالیان بہت آبدیدہ ہوا اس لڑکے کے سلوک سے زمانہ جاہلیت میں جو لوگ بتوں کی پوجا کرتے تھے جو مشرک تھے پھر مسلمان ہو گئے لیکن ان میں سے بہت سوں کے گھر والے مسلمان نہیں ہووے تھے تو کیا جو مسلمان ہو چکے وہ اس لیے قابل نفرت رھیں گے؟ کے ان کے خاندان کے لوگ ابھی بھی مشرک ہیں؟ جب عالیان چھوٹا تھا میں نے اسے بتایا تھا کے اس کے کاغذات میں دو مزہب لکھے گئے ہیں مسلمان اور عیسائیت۔ ۔۔۔۔اسے دونوں مذاہب کی تعلیم ڈی گئی میں نے اس سے درخواست کی کے وہ بالغ ہونے تک ایسا کوئی کام نا کرے جو اسلام کے منافی ہو اور اس نے میری درخواست مانی۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے عیسائی بچے بھی پالے ہیں امریحہ! لیکن میں نے ان کی مزہبی تعلیم میں کبھی اپنی خود غرضی کو آڑے نہیں آنے دیا۔۔۔۔۔میں چاہتی تو سب بچوں کو اسلام قبول کرنے کے لئے کہ سکتی تھی وہ مجھ سے اتنے متاثر تھے کے فورا میری بات مان لیتے۔۔۔۔۔وہ مجھے خدا کے بعد کا درجہ دیتے تھے۔ ۔۔لیکن میں اپنی ذات میں چھوٹی ہو جاتی۔۔۔۔۔میرے دو بیٹے اسلام کی سٹڈی کر رہے ہیں۔۔۔اللّه کو منظور ہوا تو وو اسلام قبول کر لیں گے شارلت اور مورگن کبھی غیر مناسب لباس نہیں پہنتی۔۔۔۔۔میرے لئے اتنا ہی بہت ہے میری روایات میں سے کچھ کو انہوں نے اپنایا۔۔۔۔۔وہ مجھے وضو کرواتے رھے ہیں ۔ ۔۔۔۔میں قران پڑھا کرتی تھی تو میرے پاس آ کر بیٹھ جایا کرتے تھے۔۔۔۔اذان پر خاموش ہو جایا کرتے ہیں۔ ۔۔۔انھیں یاد ہوتا ہے رمضان کب اے گا؟عید کب ہو گی؟ جو احدیث اور احکام انھیں سنائے ہیں وہ انہیں یاد ہیں۔۔۔۔۔
دیکھو امریحہ!ہم سچی محبت میں سب کچھ کر سکتے ہیں۔۔۔۔سب۔ ۔۔۔لیکن تنگ دلی’ خود گرزی اور تعصب کو دل سے ختم کرنا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دل کو صاف کرو۔۔۔۔۔پاک کرو تو ہی محبت مقدس ہو کر اڑتی ہے ۔۔۔۔جیسے خدائی ہستیوں پر خدائی پیغامات نازل ہوتے ہیں ۔۔۔۔محبت بھی تو خدائی پیگام ہوتی ہے محبت حساب کتاب سے بری ہوتی ہے دل میں بال برابر فرق بھی ہو تو محبت اپنا رخ بدل لیتی ہے ۔۔۔۔منہ پھیر لیتی ہے ۔۔۔۔اس کے ابدی قیام کے لئے وجود کو پاکیزہ رکھنا پڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔
امریحہ خاموش تھی۔ اسے خاموش ہی رہنا تھا
چند دنوں بعد اس نے ایک سوٹڈ بوٹڈ آدمی کو تیز آواز میں نشست گاہ میں بحث کرتے سنا نشست گاہ کا دروازہ بند تھا پھر بھی آوازیں باہر آ رہی تھی
کون ہے یہ؟ امریحہ نے سادھنا سے پوچھا
معلوم نہیں سال ڈیڑھ سال پہلے آیا تھا کافی بحث کر کے گیا تھا ۔۔۔۔
پولیس بلوانی پڑی تھی،بعد میں یہ گھر کے اطراف میں گھومتاپھرتا دیکھا گیا تھا۔“
امرحہ نے رات کو لیڈی مہر سے پوچھا تو انہوں نے سختی کا ایسا تاثر دیاکہ امرحہ معذرت کرکے اٹھ آئی۔
”یعنی دور رہو اس معاملے سے“….اور امرحہ دور ہو گئی…
رات کو وہ اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس بیٹھی پڑھ رہی تھی کہ اس نے عالیان کو دیکھا ….یہ پہلی بار تھا اسے دیکھ کر اسے بہت برا لگا….اس کی سائیکل کے پیچھے ویرا بیٹھی تھی….شٹل کاک کے باہر اسے اتار کروہ چلا گیا اور وہ ذرا سی لنگڑاتی ہوئی اندار آگئی….
”کیاہوا تمہارے پاؤں کو ؟“امرحہ نے بڑے تنقیدی نظروں سے اس کے پیر کو دیکھا ۔اسے اس کی پیر کی قطعا کوئی فکر نہیں تھی….
”سٹرک پر گر گئی تھی۔ہلکی سی چوٹ آگئی ہے….“
”تمہاری سائیکل کہاں ہے….؟“
”آج تو میں سائیکل پر گئی ہی نہیں….“
”تو تم واپس کیسے آئی ہو؟“
ویرا نے بڑے آرام سے اسے دیکھا ”امرحہ ! تم نے کھڑکی سے دیکھ تو لیا ہے کہ مجھے عالیان چھوڑ کر گیا ہے۔“
امرحہ کو خاموش ہونا پڑا…یعنی اس کا پاؤں ٹوٹا تو اس نے عالیان سے کہا کہ مجھے گھر چھوڑ آؤ….رات کے اس وقت….اور وہ بھی آگیا….
رات گہری سیاہ ہو گئی….اور نیند سے اُڑان بھر لی….ساری رات آسمان سے سیاہی برستی رہی….سب کچھ اس سیاہی کے لبادے میں ملفوف ہو گیا…..اس کے لیے اگلی کہی راتیں سونا دوبھرہو گیا۔اس نے پھر ہمت کی عالیان کے پاس جانے کی….دوبارہ گئی اور اس کی پشت دیکھ کر سہم کرپلٹ آئی۔وہ آنکھیں جو اسے دیکھ کر جگمگایا کرتی تھیں اب اسے پہچاننے سے بھی انکاری ہو جاتی تو وہ رو سی پڑتی….اور پھر ایک بار وہ اسے پکارنے کی جرات کر بیٹھی۔
”عالیان !“وہ اپنے کسی دوست کے ساتھ بات کر رہا تھا،دوست چکا گیا تو وہ اس کی طرف پلٹا….اتنی دیر لگی اسے پلٹنے میں…
اس سے اگلی بات نہ ہوسکی اور گھبرا کر اس نے بیگ میں سے ایک عدد چاکلیٹ اس کے آگے کی….
”یہ لو میری طرف سے ٹوئیٹ….“
ایک لمحے کے لیے ہی صیح لیکن وہ حیران ہوا…..
”میں تمہارے لیے لائی ہوں…..“امرحہ نے مسکرانےکی کوشش کی جبکہ وہ رو دینے کو تھی۔
”میں ٹوئیٹ نہیں لیتا۔“اس نے اپنا رخ موڑ لیا۔
”تو مجھے دے دو….میں ابھی بھی لیتی ہوں….“اس کی پشت سے وہ بولی…..آواز کانپ رہی تھی اور وہ خود بھی…..
عالیان نے ذرا سی گردن موڑ کر اس کی طرف دیکھا وہ لاجواب ہو چکا تھا….صرف ایک لحظے کےلے وہ پرانا عالیان نظر آیا اور وہ پھر تیزی سے آگے بڑھ گیا جیسے کسی بھولے بھٹکے انسان نےاسے راستہ پوچھنے کے لیے روکا تھا۔
کتنا کچھ بدل گیا ہے….کتنا کچھ بدل رہا ہے…..
امرحہ نےاسے دور تک جاتے دیکھا….اور جب وہ نظر آنا بند ہو گیا تو پلٹ گئی….جس وقت وہ پلٹی اس وقت عالیان نےاسے بہت دور سے خود کو مکمل چھپا کر جاتے دیکھا۔

54

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/