#دربار_عشق #عائشہ_اقبال #قسط_نمبر_25 میری سرک…

#عائشہ_اقبال
#قسط_نمبر_25
میری سرکشی بھی تھی منفرد
میری عاجزی بھی کمال تھی
میں انا پرست بلا کا تھا
جو گرا بھی تو اپنے ہی پاؤں میں..!
جنگل کی خوفناکی اسے وہ منظر یاد دلانے پر اکسا رہی تھی۔جب اس لڑکی کو بنا کسی قصور کے قید کیا تھا۔اور واپس پلٹ کر دیکھا بھی نہیں ۔
کچھ عرصے پہلے کیا جانے والا گناہ اسے جینے نہیں دے رہا تھا۔.
اپنی انا میں مد مست وہ ظلم ڈھاتا رہا۔لیکن خدا کی نظر اپنے تمام بندوں پر یکساں ہوتی ہے وہ عادل ہے۔بھلا کوئی نا انصافی کیسے ہوسکتی ہے۔
وہ ماضی کی سوچوں میں مگن تھا کہ سامنے کھڑا تناور درخت اسے نظر نہیں آیا۔اچانک ٹکڑانے سے زوردار آواز فضا میں گونجی۔
تصادم کے سبب فرنٹ دروازہ کھلا۔دروازہ کھلتے ہی وہ باہر جنگل کی طرف گرا۔ وہ بل کھاتا ایک درخت سے ٹکراگیا۔
۔۔۔۔۔
سورج کی تپتی دھوپ اسکے چھلے ہوئے چہرے پہ پڑرہی تھی۔اجالا ہوتے ہی اسکی آنکھیں کھل گئی۔ساری بچی کچی طاقت جمع کرکے درخت سے پشت لگائے وہ بیٹھ گیا۔
تاریک اور گھنے جنگل میں وہ واحد تنہا شخص تھا۔
زمین سے گھسیٹنے سے پورے جسم میں سرخ نشان پڑگئے تھے۔
یہ کونسی جگہ ہے اسنے اردگرد نظریں گھمائی ۔آنکھ کے نیچے اور کان کی لو کے پاس خون بہہ بہہ کر جم چکا تھا۔
کپڑے مکمل آلودہ اور جگہ جگہ سے پھٹ گئے تھے۔مکمل ہوش آنے کے بعد اسے پورے جسم میں جلن محسوس ہوئی آہستہ آہستہ رات والا واقعہ آنکھوں کے سامنے گھومنے لگا۔
کیسے وہ اندھیرے میں کسی ٹھوس چیز سے ٹکرایا تھا اور فرنٹ ڈور کھلتے ہی وہ لھڑک کے گرا تھا۔
اسکے بعد اسے کچھ یاد نہیں آرہا تھا
سورج کی گرم کرنیں اسے پسینے سے شرابور کررہی تھے۔
پانی۔۔۔اسے پانی کی شدید پیاس محسوس ہوئی وہ درخت کو تھامتا ہوا کھڑا ہوا۔
گاڑی می پانی موجود ہوگا۔
وہ جلد سے جلد اس جگہ سے نکلنا چاہتا تھا اس جگہ سے اسے خوف ہورہاتھا۔دور دور تک کیڑوں مکوڑوں کے علاوہ کوئی جاندار کا نام و نشان تک نہیں تھا۔وہ سڑک کی طرف بڑھا جہاں گاڑی ٹکرائی تھی۔
لیکن وہاں کوئی گاڑی نہیں تھی ۔اچانک کچھ یاد آنے پر اپنے جیب ٹٹولے مگر ۔
جیب کتروں نے بھوتی کوڑی بھی نہیں چھوڑی تھی۔موبائل واچ پرس سب لے اڑے تھے۔۔بخار ہلکا ہلکا اب بھی تھا۔کچھ دنوں میں وہ کتنا کمزور ہوگیا تھا۔چہرے کی رعنائی زردی میں بدل چکی تھی آنکھیں اندر تک دھس چکی تھی۔اور اوپر سے نیم جاں جسم پہ ندامت کا بوجھ۔۔۔
آنکھوں کی تھکن کچھ اور کہہ رہی تھی اور وجود کا جھکاؤ کوئی اور داستان بیان کررہا تھا۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم بڑھاتا سڑک کو عبور کرنےلگا۔
پیاس کی شدت سے اسکا حلق پتھر ہوچکا تھا سنسان راستے میں پانی ملنا نا ممکن تھا۔
اسنے بے اختیار اتنے عرصے بعد خدا کو پکارا۔
وہی خدا کو ،جس نے اسے ہر نعمت سے نوازا مگر غرور و گھمنڈ کی وجہ سے اسنے کبھی اسکا شکر نہیں کیا۔نہ ہی کبھی اسکی اطاعت کی بلکہ اسکے غضب کو ابھارنے والے کام ہمیشہ کرتا رہا ہے۔
لیکن وہ خدا پھر بھی اسے نوازتا رہا نوازتا رہا اور زیادہ نوازتا رہا۔کیونکہ وہ خدا ہے
بڑا فکریہ لمحہ ہے کبھی انسان نے اپنے وجود کے بارے میں سوچا ہے دنیا میں آنے کا مقصد کو پورا کرنے کی کبھی کوشش کی ہے۔
ارے کوشش تو دور ہمیں تو اشرف المخلوقات ہونے کا مقصد ہی نہیں معلوم ۔
دھوکے باز دنیاکی رنگینیوں میں ایسے کھوگئے ہے کہ آنکھیں اندھی ہوگئی ہے کان بہرے ہوگئے اور زبان گونگی ہوگئی ہے ۔نہ ہمیں دوسروں کے احساسات کی خبر ہے نہ برابر پڑوسی کے بارے میں معلوم ہے اور نہ کہ رشتے داروں کی خبر گیری کرتے ہیں ۔
کیا انسان ایسا ہوتا ہے تو پھر حیوان اور انسان میں کوئی فرق کیوں رکھا گیا ہے
کسی اللہ کے بندے نے اس پہ رحم کھاکر آگے کچی آبادی تک چھوڑدیا تھا۔
اس میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ اپنے گھر تک چھوڑنے کے لیے احتجاج کرسکے یا اپنے گھر اطلاع ہی دیدے۔اسے رنج و الم بھی اکیلے ہی جھیلنے تھے جب انا کی جیت اکیلے ہی سیلیبریٹ کی تھی تو غموں میں کیوں کسی کو شریک کیا جائے۔
راہ گیروں کے لیے رکھا کولر سے اسنے ہاتھ منہ دھوئے اور خوب پیٹ بھر کر پانی پیا۔
پانی کی ٹھنڈک ملتے ہی اسنے اللہ کو شکریہ ادا کیا ۔
جو چیز جدوجہد سے ملتی ہے اسکی قدر کی جاتی ہے اور جو بنا مانگے جھولی میں ڈال دی جاتی ہے وہ بھی خدا کی عطا ہوتی ہے تو پھر اسکا غلط استعمال کیوں کیا جاتا ہے ۔
اس وقت اسے نہ وہ بوائلڈ پانی یاد آیا نہ ہی گلاس پہ لگا میل نظر آیا۔
توانائی ملتے ہی وہ واپس چلنے لگا۔۔
شام قریب تھی جب اسے ایک مسجد کے گرد رش دکھا۔مسجد کے اندر کسی بزرگ کا مقبرہ بھی بنا ہوا تھا۔باہر لمبی لمبی سفید چاندنیاں سڑک کے کنارے بچائی گئی تھی۔وہاں لوگوں کو بٹھا کر لنگر کھلایا جارہا تھا۔
وہ اس رش سے ہٹ ذرا سستانے کی غرض سے کونے کی طرف بیٹھ گیا۔
مسجد کے اندر اسے جانے میں عجیب لگا کیوں کہ اسکے پورے کپڑے آلودہ پوچکے تھے۔ورنہ خدا کے گھر آنے جانے کی کوئی پابندئ عائد نہیں ہوتی۔
کسی اجنبی نے اسے مسافر سمجھ کر اسکے سامنے پلیٹ رکھی۔
بیٹا کھالو۔
قریب سے آواز آنے پر اسنے آنکھیں کھولی جو وہ موندھ چکا تھا۔مہرام نے ایک نگاہ اس پہ ڈالی اور پھر اپنے پاس رکھی چاولوں سے بھری پلیٹ پہ کی۔
اللہ کے گھر ہر کسی کو دیا جاتا ہے کوئی بھوکا پیٹ نہیں جاتا۔
وہ کھانے کا بھوکا نہیں تھا وہ تو اپنے خالی دامن کو بھرنا چاہتا تھا۔بخار کی وجہ سے اس سے کچھ بھی کھایا نہیں جارہا تھا۔
یوں ایک ہی سائیڈ بیٹھ بیٹھ کر وہ تھک چکا تھا ۔وہ وہی لیٹ گیا۔
تھکن کی وجہ نہ جانے کب اسے نیند آگئی۔
بیٹا کہاں سے آئے ہو کیا نام ہے۔
اسکی آنکھ کھلتے ہی کسی نے مخاطب کیا۔
اس سے کوئی جواب نہیں بنا۔
جی میں مہرام ۔۔۔
وہ اتنا ہی بول سکا یہاں تک اپنے نام کے ساتھ شاہ کا اضافہ بھی نہیں کرسکا۔
کوئی دیکھ کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ وہی مہرام شاہ ہے
یونی کا فخر،والدین کا غرور۔
وہ تو ایک غریب طبقے کا کمزور مرد لگ رہا تھا۔جس کی کمر پہ مہنگائی،غربت اور اہل و عیال کا نان و نفقہ کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔
بخار اب اتر چکا تھا ۔ہاں جسم میں ہلکا ہلکا درد اب بھی موجود تھا۔
کوئی سلسلہ نہیں جاوداں
تیرے ساتھ بھی تیرے بعد بھی
میں تو ہر طرح سے ہوں رائیگاں
تیرے ساتھ بھی تیرے بعد بھی
میرے ہم نفس تو چراغ تھا
تجھے کیا خبر میرے حال کی
کہ جی میں کیسے دھواں دھواں
تیرے ساتھ بھی تیرے بعد بھی
نہ تیرا وصال وصال تھا،
نہ تیری جدائی جدائی ہے
وہی حالت دل بدگماں تیرے
ساتھ بھی تیرے بعد بھی
میں یہ چاھتا ہوں عمر بھر رہے
تشنگی میرے عشق میں
کوئی جستجو رہے درمیاں
تیرے ساتھ بھی تیرے بعد بھی
میرے نقش پا تجھے دیکھ کر
یہ جو چل رہے ہیں انہیں بتا
یہ میرا سراغ میرا نشاں تیرے
ساتھ بھی تیرے بعد بھی
۔۔۔۔۔
نہ جانے اس جگہ میں کیا تھا کہ اسکا کئی دن سے نہ اترنےوالا بخار غائب ہوچکا تھا۔
وہ اب بھی یہاں مزید بیٹھنا چاہتا تھا۔
بزرگ کی نرم پھوار جیسی باتوں نے اسے انجانی قوت بخشی تھی۔
اس نے رات کا کھانا بھی ان کے ساتھ تناول کرلیا تھا۔انھوں نے اسے کپڑے دے کر مسجد میں نماز ادا کرنے کی دعوت دی۔
جو مہرام نے بغیر چو چرا کے قبول کرلی ۔اتنے عرصے بعد وہ خدا کے در حاضر ہوا۔
وہ دربار جہاں عشق کی خیرات تقسیم کی جاتی ہے جہاں خالی جھولیاں مرادوں سے بھر دی جاتی ہے۔
ایک یہ دربار ہے خدا کا۔
ایک دربار بشر قلب میں موجود ہے۔
جسے بیدار کی ضرورت ہوتی ہے جہاں ایمانیت کے چراغوں سے دربار روشن کیا جاتا ہے پھر نیکیوں کی محفل سجائی جاتی ۔اور گناہوں کی نحوست سے چراغوں کی لو کو بجھنے سے بچایا جاتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لوگ اکٹھتے رات کا کھان تناول کررہے تھے جب جہانزیب صاحب نے بتانا مناسب سمجھا۔زیان کی شادی ہم نے محرما سے طے کردی ہے۔
جہانزیب صاحب نے اپنے چھوٹے بھائی اورحویلی میں موجود تمام افراد کو اطلاع دی۔
منہ کی جانب بڑھتا ہوا زیان کا ہاتھ ساکت رہ گیا۔
صبا نے اپنے بھائی کو دیکھا۔
شازیب صاحب کےچہرے پہ انوکھی چمک ابھری ۔زندگی کی سب سے بڑی خوشی اننکی جھولی میں ڈال دی گئی تھی۔
زیان نے اک نظر اپنی والدہ کو دیکھا۔۔رجاہ کا معصوم چہرہ اسکے سامنے لہرایا۔۔
محرما چونکہ اتنے ساتھ کھانا نہیں کھارہی تھی اس لیے اتنے بڑی خبر سے بے خبر تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا جہانزیب صاحب آپ ایسے کیسے فیصلہ کرسکتے ہیں ۔مسز جہانزیب انہیں پوچھنے لگی بلا کسی سے مشورہ لیے یہاں تک کہ زیان سے بغیر پوچھے اسکی زندگی کا فیصلہ کردیا تھا۔
زیان کی نسبت طے ہوشکی ہے آپ یہ اچھی طرح جانتے ہے پھر بھی آپ نے اپنی بھتیجی سے رشتہ طے کردیا۔وہ کرسی پہ بیٹھے انکی بات سماعت کررہے تھے۔
میں سب جانتا ہوں۔
تم عورتیں اس معاملے میں دور رہے تو ہی بہتر ہے اور رہی زیان کی نسبت کی تو ہم یہ بات باہر نکالے بغیر سادگی سے نکاح پڑھوالینگے ۔یہ بات حویلی سے باہر کوئی نہیں نکالے گا۔وہ۔انہیں تنبہ کررہے تھے
زیان سے میں خود بات کرلونگا ۔مجھے پورا بھروسہ ہے اس پر وہ میرا حکم کی ضرور تعمیل کرے گا۔
جہانزیب نے حتمی فیصلہ سنا دیا ۔
مسز جہانزیب کو اس معاملے میں ضرور کوئی گڑبر محسوس ہوئی۔
اچانک فیصلے کی پیچھے ضرور کوئی مقصد ہوگا۔
صبا کی شادی کے ساتھ ہم زیان کا نکاح پڑھوادینگے۔کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوگی۔وہ اپنی بات کو دوبارہ دہرا کر کمرے سے نکل گئے۔
..۔۔۔۔۔


