مختصر کہانیاں

یارم (سمیرا حمید) قسط نمبر 34 ۔ وہ جان گیا کہ ڈین…

یارم (سمیرا حمید)
قسط نمبر 34
۔
وہ جان گیا کہ ڈین کو ویڈیو بھیجنے کا معرکہ مارنے والی پاکستان میں کس حیثیت کی مالک رہی ہے۔۔۔ امرحہ نے اپنا فون، اپنا بیگ چیک کیا کہ ضرور اس نے ان میں کوئی چپ لگادی ہوگی یا ویرا سے لگوادی ہوگی بعد میں ویرا جینلز لارنس، طرز کی صورت پر بمشکل اسےمعصومیت طاری کر کے کہہ دے گی۔
”مجھے کیا پتہ تھا وہ تمہاری نحوست کے بارے میں جان جائے گا۔“
وہ اور دادا اکثر ماضی کے بارے میں بات کرتے رہتے تھے۔وہ اپنے فون کو ایم ایس سی کرنے والے مارک کے پاس لے گئی "مرک ؟ اسے چیک کرو اس میں کوئی ایسا سسٹم تو فکس نہیں جس سے کوئی اور میری باتیں سن سکے۔“
”تم مذاق کر رہی ہو ؟“فون اس نے ہاتھ میں لیا اور سیدھا ان بکس میں پہنچا،کیونکہ اب یہ ایک یونیورسل عادت بن چکی ہے فون کسی کا بھی ہو جانا سیدھا ان بکس میں ہوتا ہے۔
”میرے پیغامات پڑھنا بند کرو ….میں سنجیدہ ہوں۔اس میں کوئی ایسی چپ لگی ہے نا کہ ہوئی میری ساری گفتگو سنتا رہے۔“
مارک سنجیدگی سے فون چیک کرتا رہا پھر سر اٹھا کر اسے دیکھا ۔
”ہاں تمہارا شک ٹھیک ہے ،اس میں ایک سسٹم فکس ہے۔“
”اوہ !“امرحہ کا گلابی سفید رنگ سیاہ پڑ گیا۔
”تم اس بٹن کو دباؤ گی تو ساری یونیورسٹی دھماکے سے اُڑ جائے گی اور اس بٹن کو دباؤ گی تو پورا مانچسٹر غائب ہو جائے گا….اور اس تیسرے بٹن کو دبانے سے تم خود غائب ہو جاؤ گی،تم لوگوں کو نظر آنا بند ہو جاؤ گی….میرا خیال ہے تم اس تیسرے بٹن کا استعمال کرو…“
فون اس کے آگے کر کے وہ اسے ایک ایک بٹن کے بارے میں سنجیدگی سے بتانے لگا….بے حد سنجیدگی سے…پھر فلک شگاف قہقہہ لگایا۔
”کیا تمہارے پیچھے اسکاٹ لینڈ یارڈ کی پولیس لگی ہے امرحہ؟“ہنسنے سے فارغ ہو کر اس نے پوچھا۔
سب ایک سے بڑکر ایک تھے اسکاٹ لینڈ یارڈ کی پولیس بہتر تھی کارل سے….اسے کارل ناپسند تھا جبکہ وہ تو اتنا پیارا تھا …..ہر فن مولا سا….سوچتا،کرتا اور ہو جاتا….آخر کتنے ہے دنیا میں ایسے لوگ….؟
جب کبھی وہ دیوار کے ساتھ کمر ٹکائے ،ایک ٹانگ کو کھڑا دوسری کو ترچھا دیوار پر جمائے دونوں ہاتھوں کو جیب میں رکھے کھڑا ہوتا تو اس کی آرتی اتارنے کو دل چاہتا ایک تو اس لیےکہ وہ آس پاس والوں کو ”مجھے رک کر،پلٹ کر دیکھو۔“پر مجبور کر دیتا دوسرااس لیے کہ ”یہ بھونچال یہاں کھڑا ہے “کاش تا قیامت یہاں ہی کھڑا رہے،یہیں کھڑے کھڑے اس کا مجسمہ بن جائے،پر اب یہ حرکت نہ کرے۔“
مائیکل انجیلو اس کا مجسمہ بناتا تو اسے ایک اور زندگی خدا سے مستعار لینی پڑتی صرف اتنی سی بات سوچنے کے لیے کہ وہ ایک خوب صورت انسان کا مجسمہ بنائے یا خوبصورت شیطان کا ….یا…..یا….یا۔بس زندگی تمام ہو جاتی اس کی۔
وہ بے حد گورا تھا،گلابی گورا،نیلی آنکھیں ،پتلی ناک،گھنی بھنویں ،لمبی گردن اور ذرا سا لمبوتر چہرہ…..قد ویرا سے ذرا کم عالیان سے ذرا زیادہ….کبھی کبھی مونچھیں رکھ لیتا تو ایسے لگتا جیسے کسی قدیم سلطنت کا جنگجو سلطان ہے جو شیروں کو دائیں بائیں بٹھا کر طعام کیا کرتا تھا ….اور ان ہی کی طرح دھاڑ ا کرتا تھا۔
ہاں وہ اتنا خوبصورت ضرور تھا کہ اگر گاؤں کی مٹیاریں پانی کی گھڑے اپنی لچکیلی کمر پر ٹکائے پگڈنڈی پر چلتے کارل کے پاس سے گزارتیں تو ضرور کہتیں۔
”وے تو کینا سوہنا اے….کج خدا دا خوف کر…..ویے تو اینا سوہنا کیوں اے ؟“
کارل مسکرا دیتا ہے اور شانے اچکا دیتا ہے….اور مٹیاروں کے سبھی گھڑے ….ہاہاہا…Dhuzzz…..Dhuzzz……Dhuzz
رات کو امرحہ سادھنا کے کمرے میں آئی وہ آریان کے لیے چند تحائف پیک کر رہی تھی۔
”عالیان گھر کیوں نہیں آتا؟“امرحہ نے پوچھ ہی لیا۔
”پہلے ویک اینڈ پر آجاتا تھا پھر اس کی ماما نے منع کر دیا۔“
منع کیوں کر دیا؟ امریحہ سادھنہ کی مدد کرنے لگی۔میں نہیں جانتی رات گئے کبھی کبار آ جاتا ہے۔
کب میں نے اسے کبھی آتے نہیں دیکھا
ایک دو بار سے زیادہ نہیں آیا رات گئے آتا ہے کچھ دیر ٹھہر کر چلا جاتا ہے زیادہ وہ کھڑکی کے راستے آنا پسند کرتا ہے اسی لئے لیڈی مہر کے کمرے کی کھڑکی اندر سے بند نہیں ہوتی اسی مہینے اسکی سالگرہ آنے والی ہے اے گا کیک لے کر
اسی مہینے؟؟تمہیں پکا معلوم ہے اسی مہینے نہ؟
ہاں سادھنہ مسکرانے لگی
اچھا۔۔۔۔یعنی پھر وہ چنا منا کیک لے کر کھڑکی کے راستے اے گا امریحہ یک دم خوش ہو گئی
لیکن اس بار اسے بچا ہوا کیک نہیں ملے گا چلو کوئی بات نہیں حالات برے ہو چکے تھے تو اچھے بھی ہو جائیں گے آخر ایک دن سب ٹھیک ہو ہی جائے گا امید کے پودے کو پانی دیتے رہنا چاہیے اور اسے اتنا تناور کر دینا چاہیے کے مایوسی کا جنگل دور دور تک اگنے نہ پاے ویسے بھی سائ کہتا تھا
اختتام پر سب نہ سہی لیکن بہت کچھ ٹھیک ہو جاتا ہے
امریحہ کہتی ہے اختتام پر سب برا ہوگا تو کچھ اچھا بھی تو ہو گا بلکے ضرور اچھا ہی ہوگا سب
اور میرا یہ کہنا ہے کے اختتام کو بھول جائے
زندگی ہر پل صرف شوروات کا نام ہے اسے تن دہی سے جاری و ساری رکھیں۔
اگلے دن یونی میں وہ کلاس لے کر نکلی ہی تھی کے دادی نے بہت وقت نکال کر اسے شرف بات چیت بخشا وہ بھی انکی پسند کے جواب دیتی رہی
نہیں ناچنے گانے والی جگہوں پی نہیں جاتی ہاں کلب نہیں جاتی دادی حلال گوشت ہی کھاتی ہوں دادی سہولت سے مل جاتا ہے جی دو لوگ جاتے ہیں مجھے یونی چھوڑنے پھر جاب پر گھر لے کر بھی آتے ہیں اکیلی نہیں جاتی دادی بلکل اکیلی نہیں نکلی گھر سے
تم پاکستان آ رہی ہو ؟
پاکستان۔۔۔اسکا سانس اٹکنے لگا تو اصل بات یہ تھی
کب ختم ہو رہی ہے تمہاری پڑھائی؟
کیوں کیا کرنا ہے؟
تمہاری شادی اور کیا؟
کیاکہ رہی ہیں دادی؟ اس نے چلا کر پوچھا
شادی ۔۔۔۔شادی دادی اس سے زیادہ چلا
آپ بول کیوں نہیں رہی دادی مجھے آپکی آواز نہیں آ رہی
بول تو رہی ہوں حماد دیکھو اسکی تصویر تو آ رہی ہے اسے میری آواز کیوں نہیں جا رہی
ہماری آواز آ رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں تمہیں نظر آ رہا ہوں
دادی بولیں نہ کہاں گئی میرا لیکچر ہے اچھا میں جا رہی ہوں
وہ سکائپ سے لاگ اوف ہو گئی اور لفظ شادی اسکے کانوں میں سائیں سائیں کرنے لگا تمہارا رنگ پیلا پڑ رہا ہے امریحہ قریب سے گزرتی جمیکا نے رائے زنی کی ۔۔۔۔۔
in the memory of the katy cat
یہ جو بورڈ تھا امریحہ کی کلاس فیلو لورین کی پشت پر زنجیر سے جھول رہا تھا رات اسکی بلی کا انتقال ہو چکا تھا اور آج وہ سوگ منا رہی تھی اسنے کالی شرٹ اور سکڑٹ پہن رکھی تھی اور بال برش نہیں کے تھے منہ بھی نہیں دھویا تھا رو رو کر اسکی آنکھیں سرخ ہو چکی تھی اور اس نے رات سے کچھ نہیں کھایا تھا یہ بھی نظر آ رہا تھا امریحہ اس کے پاس گئی اسکی بلی کا افسوس کرنے زندگی میں پہلی بار وہ کسی جانور کے مرنے کا افسوس کر رہی تھی اور کافی مشکل سے ہنسی روک کر رہی تھی
کیسے مری بیچاری بلی؟
ایسے نہ کہو وہ بیچاری نہیں تھی بہت بہادر تھی پرنسز۔ ۔۔
اوہ پرنسز کیٹی کیسے مر گئی لورین؟
غم کی شدت سے پھر لورین بے قابو ہو گئی آنکھیں ٹشو میں چھپا لی اور ایک ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا کے اسکی موت کے بارے میں نہ پوچھا جائے اسے بہت تکلیف ہوتی ہے امریحہ آنکھیں پٹ پتا کر اسے دیکھتی رہی بلی کی یاد میں دونوں ہاتھ گود میں رکھ لئے اب سچ یہ تھا امریحہ کو دور کے عزیزوں کی وفات پر رونا نہیں آیا تھا اب لورین کا ساتھ دینے کے لئے کیسے رو لیتی اور لورین کی جان پڑ آخر کیا مصیبت ٹوٹ پڑی کے ایک بلی کے لئے ایسے جان ہلکان کر رہی تھی باقی سب سنجیدگی سے کٹی پرنسز کا ا فسوس کر کے جاتے رہے ایک امریحہ ہی اس بیچاری لورین کا دکھ نہیں سمجھ پا رہی تھی کچھ لاگ لورین جیسے حساس تھے کے بلی کے لئے آنسو بھا رہے تھے اور کچھ کارل جیسے انسانوں کو ہی آٹھ آٹھ آنسو دلا رھے تھے
امریحہ جاب سے واپس آ رہی تھی وہ بس میں بیٹھی تھی رات کا وقت تھا بس تقریباً خالی ہی تھی
ہائے ڈی کوئین کارل کی آواز اسکی نشت کی دوسری طرف کی رو کی نشست سے آئ اس نے ہڈ پہن رکھا تھا اور ہوڈ کیپ سے سر کو پیشانی تک چھپا رکھا تھا امریحہ اپنے چہرے پڑ بےزاری لے آئ جو دادی اسے دیکھ کر اپنے چہرے پڑ لے آتی تھی اب وہ سمجھی دادی کا قصور نہیں تھا نجس لوگوں کو دیکھ کر ایسے ہی منہ بن جایا کرتے ہیں۔آج کی رات خوف ناک خواب دیکھ کر گزرنے والی تھی رات کے اس وقت اسے جو دیکھ لیا تھا وہ اور عالیان سائیکل کا استعمال زیادہ کرتے تھے خدا جانے آج وہ بس میں کیوں سوار تھا
تم مجھے بہت بری طرح سے نظر انداز کر رہی ہو آخر کو ہم یونی فیلو ہیں پھر میرے تم پڑ کتنے احسانات بھی ہیں خاص کر وہ اگر میں ہارٹ راک میں وہ ڈیسک نہ چلاتا تو سوچو عالیان جیسا بور انسان تمہارا سر کھا رہا ہوتا اور تم مجھ جیسے سپر ہیرو سپر فاسٹ بندے سے مہروم ہو جاتی
کتنی بدقسمت ہو گی وہ لڑکی جسکا یہ ہیرو ہو گا یعنی شوہر بے چاری نے ایسے مذاک میں کوئی بات کھ ڈی اور کارل نے اسکا بدلا لینے کے لئے اسے چھت سے الٹا لٹکا دیا یا فریج میں بند کر دیا ورنہ لانڈری مشین میں ٹھونس کر گھما دیا اور نہیں تو گریب کا ایک ادھ کان ہی کاٹ لیا امریحہ سوچتی رہی اور کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی
آج صرف تمہارے لئے میں بس میں سوار ہوا ہوں امریحہ نے ذرا سی گردن موڑ کر اسکی طرف دیکھا مسکراہٹ اسکی آنکھوں میں چمک رہی تھی
امریحہ کو خوف سا آیا یہ یہاں۔ کیا کر رہا ہے بس کے کراے میں میں اپنے پونڈ ضائع نہیں کرتا وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور اس کی نشیست کے پاس آ گیا
جو دو پاؤنڈ تم نے مجھے دئے تھے ان میں کچھ اور ملا کر میں یہ لے آیا ہوں اس نے وہ ہاتھ جو ہڈ کی پاکٹ میں تھا نکالا اور چھن سے ایک ہتھکڑی نکل کر سامنے آی پلک جھپکنے کی دیر تھی کارل نے اس کے ہاتھ جو اگلی نشیست کی پشت کے گول راڈ پڑ رکھا تھا میں ہتھکڑی دال کر راڈ کے ساتھ لاک کر دیا
یہ امریحہ دنگ رہ گئی اس نے ہتھکڑی کو جھٹکا دیا
کارل کیا بدتمیزی ہے یہ؟؟
58

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/