مختصر کہانیاں

#توہی_عشق_توہی_جنون| #ازصاحبہ_فردوس #قسط11 عمائ…

#توہی_عشق_توہی_جنون|
#ازصاحبہ_فردوس
#قسط11
عمائمہ خود بھی اپنے اس اقدام سے بھوچکا کررہ گئی تھی اسے نہیں پتا تھا کے اس کا ہاتھ اٹھ جائے گا اسے تو یہ بھی پتا نہیں تھا کے وہ اب کیا کرے گااس ہی کے ساتھ وہ خوف زدہ نظروں سے ارشمیل کے طرف دیکھ رہی تھی جو بپھرا ہوشیر لگ رہا تھا اس کی آنکھوں سے چنگاریاں پھوٹ رہی تھی عمائمہ کو لگا وہ اس کی آنکھوں کی حدّت سے جل کر خاکستر ہوجائےگی اس لیےتو اس نے نظریں چرالیا تھا تبھی ارشمیل نے اسے چھوڑ دیا اور وہاں سے چلا گیا اسے جاتا دیکھ کر عمائمہ کے دل کو سکون آیا تو وہی وہ پریشان بھی ہوگئی کے ارشمیل یزدانی اس سے تھپڑ کابدلہ لیے بغیر کیو ں واپس چلا گیا اسے یہ سوچ کر ہی خوف محسوس ہورہاتھا کے وہ اپنا بدلہ لینے کے لیے کیا کرے گا وہ رات یہی سوچتے سوچتے اور دروازے پر پہرا دیتے ہوئے گزری تھی ۔
٭٭٭
ان دونوں کی شادی کوایک ہفتہ گزر چکاتھااس رات سے ارشمیل نے نا ہی اس کا چہرہ دیکھا تھا نا ہی اپناچہرہ دیکھایا تھا وہ کب آفس جاتا کب آفس سے آتا عمائمہ کو یہ بھی خبر نہیں رہتی تھی وہ تو بس دن سے دن بھرڈرامے اور موویز دیکھنے میں لگی رہتی تھی عدینہ اسے بار بار کہتی کے روم
سے باہر نکلاکرے مگر وہ ہر بارہاں کہے کر ٹال دیتی تھی مگر آج اس کادل کسی بھی چیز میں نہیں لگ رہا تھااس کا جی چاہ رہاتھا وہ اس گھر سے کہی دور چلی جائے جہاں پرارشمیل اسے ڈھونڈ نا سکے
وہ باہر جانے کے اردے سے اپنے حُجرہَ سےنکلی تھی کے تبھی ہال میں عدینہ اس سے ٹکرا گئی عدینہ اسے دیکھ کر خوش اخلاقی سے بولی ۔
"آپی کیا بات ہے آپ آج کیسے اپنے حُجرےَ سے باہر نکل گئی ہے "۔اس کی بات سن کر عمائمہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
"وہ بس ایسے ہی میرا من چاہ رہاتھا کھولی فضامیں سانس لینے کا "۔
"اچھاکیا آپ خود ہی باہر آگئی ورنہ میں ابھی آپ کے روم میں آنے والی تھی آپ کو باہر نکالنے کے لیے "۔
"یہ تمہارا چہرے کی رنگت اتنی زرد کیوں پڑ رہی ہے تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہےنا ؟”عمائمہ کے سوال کرنے پر عدینہ نے کہا۔
"پتا نہیں آپی مجھے کیا ہوا ہے دو چار دن سے طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ہے احد نے کہا ہے کے وہ آفس سے آنےکے بعد مجھے ہاسپٹل لے جائے گے "۔اس کی بات سن کر عمائمہ بھی پریشان ہو
گئی تھی تبھی اس نے عدینہ کا ہاتھ تھاما اور اسے صوفے پر بیٹھاتے ہوئے بولی ۔
"اگر تمہاری طبیعت زیادہ خراب لگ رہی ہے تو میں تمہیں لے کر چلتی ہو "۔ عدینہ نے اس کی سہولت کے لیے انکار کرتے ہوئے بولا۔
"نہیں آپی میں احد کے ساتھ چلی جاؤگی آپ جائے میں ابھی بالکل ٹھیک ہو "۔اس نے بار بار عدینہ کو چلنے کا کہاتھامگروہ نہیں مانی تو پھر عمائمہ نے ارشمیل کی کار لے کر گھر سے نکل گئی اس کی کار اپنے گھر کے سامنے آکررکھی تھی آج بہت دن بعد وہ ا پنے گھر آئی تھی گیٹ پراسے چوکیدار نظر آیاتو وہ ٹھٹھک گئی تھی وہ تو سمجھ رہی تھی کےاس کے گھر چھوڑتے ہی ارشمیل نے چوکیدار کو بھی فارغ کردیاہوگا مگرایسا نہیں تھااس نے چوکیدار کو نہیں نکالا تھایہ دیکھ کراس کے دل کو تسلی ملی تھی اسے اتنے دنوں بعد دیکھ کر چوکیدار نے سلام کیااور اس کے لیے گیٹ کھول دیا جس سے وہ اندار آگئی وہ لان میں کھڑےکھڑے ہی اپنے گھر کا دیدار کررہی تھی کیونکہ لاونج کے دروازے کو لاک لگا ہوا تھااور اس کے پاس ایکسٹرا کی بھی نہیں تھی جس سے وہ لاک کھول سکتی تھی اسے بہت ملال تھا کے وہ اپنے گھر میں آکر بھی اندار نہیں جاسکتی تھی وہ لان میں ٹہلنے لگی تھی اسے اپنےگھر کے خوبصورت سے لان کی حالت دیکھ کر بہت دکھ ہورہاتھااس گھر کا لان کتنا خوبصورت تھا مگر آج اس کی کیا حالت ہورہی تھی پورالان دھول مٹی سے اٹا پڑا تھا چاروں طرف سوکھے پتے بکھرے
پڑے خوبصورت سے پودے بھی مرجھا گے تھے یہ سب دیکھ کراسے روناساآگیاوہ اور عدینہ جب گھر میں رہتے تھے تب گھر کتنا خوبصورت تھا اوراب کیا حالت ہوچکی تھی وہ جہاں کھڑی تھی وہی اپنے گھٹنوں پر سر رکھے بیٹھ گئی کتناوقت گزرا تھاکتنے گھنٹے ہوچکے تھے اسے پتا ہی نہیں چلا تھا وہ اپنے موبائیل کی بیپ پر چونک گئی اس نے اپناسر اٹھایااور اعتراف میں دیکھنے لگی اس وقت رات کے گہرے سائےچاروں طرف اتر آئے تھے اس نے ارشمیل کانمبردیکھ کر موبائیل اپنے کان سے لگایاتھا۔
"تم جہاں بھی ہوجلدی گھر پہنچوں یہاں سب تمہارا ویٹ کررہ ہے "۔اس کی دھاڑتی ہوئی آواز کان میں پہنچی تووہ اپنی جگہ سےاٹھ کھڑی ہوئی اور جلدی کارڈرائیو کرکے وہ گھر آگئی اس نے جیسے ہی لاؤنج میں قدم رکھاتھا تو دیکھالاؤنج میں ایک الگ ہی طرح کی رونق برپا تھی ایک آدھڑ عمر خاتون اور ان کے ساتھ ایک ہنڈسم سا لڑکااورایک خوبصورت لڑکی تھی وہ لڑکی ارشمیل کے بہت ہی قریب بیٹھی تھی اور اس سے مسلسل باتیں کیے جارہی تھی سبھی گھر والے ہنسی مذاق کررہ تھے ان میں احد عدینہ وقار صاحب اور شہلابیگم اور بھی شامل تھےوہ اتنے سارے لوگوں کو دیکھ کر گھبراگئی تھی اس لیے تووہ واپس مڑ نے والی تھی کے تبھی اچانک سے کسی نے اس کا ہاتھ تھام کراسے کھنچاتھا وہ کھنچنےوالے کودیکھ نہیں پائی تھی مگر سمجھ ضرور گئی تھی کے کس نے اسے اتنے ذور سے کھنچاتھا ارشمیل اسے ایک کونے میں لے آیاتھااور اس کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھتے
ہوئے دھیمے سے لہجہ میں دھاڑا تھا۔
"گھرمیں مہمان آئے ہے اور تم ہو کے سیروتفری کرنے نکل گئی تھی "۔وہ ارشمیل کا ہاتھ اپنے منہ سے ہٹاتےہوئے بولی ۔
"مجھے نہیں پتاتھا کے تمہارے گھر مہمان آئے ہےاگر پتا ہوتا تو میں کبھی ناواپس آتی "۔
"بکواس بند کرؤ اور چلوں تم سےتو میں بعد میں نپٹوں گا "۔ اتناکہےکرارشمیل اسے زبردستی گھسٹتے ہوئے لےجانےلگاتھاکےعمائمہ بولی ۔
"میراہاتھ چھوڑومیں تمہارے ساتھ آرہی ہو "۔اس کی بات سن کرارشمیل نےاس کاہاتھ چھوڑ دیاوہ خود کو کمپوز کرکے سب کے بیچ آئی اور سلام کرنےلگی ۔
"اسلام علیکم "۔اس نے سب کوایک ساتھ سلام کیا تھااس کے سلام کرنے پر کیف اسے ٹھٹھک کے دیکھنے لگاتھاارشمیل نے کیف کاعمائمہ کودیکھ کر ٹھٹھک جانا بہت اچھے طرح سےنوٹ کیا تھا مگروہ موقع کی نزاکت کودیکھ کر چپ رہاتھانگین بیگم نے عمائمہ کودیکھ کربہت ہی خوش اسلوبی سے اس کے سلام کاجواب دیاتھا ۔
"وعلیکم سلام شہلاکیایہ تمہاری بڑی بہوں ہے ؟”اب وہ حیرت سے شہلابیگم سے سوال کرنے
لگےتھے شہلابیگم نے مسکرا کر کہا۔
"ہاں یہ عمائمہ ہے عدینہ کی بڑی بہن اور ارشمیل کی وائف "۔ان کی بات سن کر جہاں نگین بیگم خوش ہوگی تھی وہی کیف اور علینہ کے چہرے کی مسکراہٹ معدوم پڑچکی تھی ۔
"ماشااللہ شہلاتمہیں توبڑی بہوبھی بہت خوبصورت ملی ہے تبھی تو میں کہوں کے ارشمیل کی وائف سامنے آنے میں اتناوقت کیوں لگارہی ہے”۔ان کی بات سن کر سبھی مسکرانے لگے تھے سوائےان دونوں کے وہ ایسے ہی سب کے بیچ کھڑی تھی تبھی وقارصاحب بولے ۔
"عمائمہ آپ کھڑی کیوں ہے آپ بیٹھے نابیٹا "۔ان کی بات سن کر عمائمہ اپنے لیے جگہ تلاشنے لگی کیونکہ پوری جگہ فل ہوچکی تھی اور اس کے لیے کئی پر بھی جگہ باقی نہیں تھی تبھی اس کی پریشانی بھاپتے ہوئے نگین بیگم نے اس سے کہا ۔
"عمائمہ بیٹا آپ یہاں آجاؤ میرے پاس "۔ا ن کی بات سن کر عمائمہ نپے تلے قدم اٹھاتے ہوئے ان کے پاس جاکر بیٹھ گئی وہ نگین بیگم اورکیف کے بیچ میں بیٹھی ہوئی تھی نگین بیگم نے اس کے چہرے کوپیار سے تکتے ہوئے بولا۔
"عمائمہ میں ارشمیل کی خالہ ہو اور آج سے آپ کی بھی "۔ان کی بات سن کر عمائمہ کے چہرے پر مسکراہٹ ابھر آئی تھی تبھی کیف نے اسے اپنے طرف متوجہ کیاتھا ۔
"ہائے بیوٹی فل گرل میں محمد کیف ہو ارشمیل کا فرسٹ کزن "۔سیف نےاپنا ہاتھ اس کے طرف بڑھا تے ہوئے اپنا تعاروف کروایا تھا عمائمہ نے سیف کابڑھاہواہاتھ تھام لیااور مسکراتے ہوئےبولی ۔
"نائس ٹومیٹ یو مسٹر کیف "۔سب کو اپنااپناتعاروف کرواتادیکھ کر علینہ کوبھی ہو ش آیا تھا اس لیے اس نے بھی ارشمیل کے پاس سے اٹھنے کی زحمت کرتے ہوئے بولی ۔
"ہائے میں علینہ ہو کیف کی سسٹراورارشمیل کی کزن "۔علینہ نے بڑے ہی لٹھ مار سے انداز میں اپناتعاروف کرواتے ہوئے اپنے جگہ پر بیٹھ چکی تھی ایک بار پھر باتوں کاسلسلہ جاری ہو چکا تھا کیف اور عمائمہ کو مسلسل ایک دوسرے سے باتیں کرتادیکھ کرپتانہیں ارشمیل کے دل کو کچھ ہونے لگا تھاوہ شاید عمائمہ کواپنے علاوہ کسی اور کے ساتھ نہیں دیکھ سکتا تھااس لیے تواسے اتنابرا محسوس ہورہاتھاکیف سے باتوں کے دوران ہی عمائمہ کو پتاچلاتھا کے وہ لوگ انگلینڈرہتے ہےوہاں پر کیف کا لیدر کااچھا خاصہ بزنیس ہے علینہ فیشن ڈیزائنر بن رہی ہےاور نگین بیگم ہاؤس وائف ہےاور وہ لوگ ارشمیل اور اس کی شادی کی خبر سن کر ان سے ملنے کے لیےائےتھے کافی دیر تک باتوں کا دورا چلتارہاتھا کئی دیر بعد انھیں کھانے پینے کا ہوش آیاتو وہ سب کھاناکھانے گے کھانے پر بہت سارا احتمام کیا گیاتھا جس میں چکن کری، چکن رول ،چکن بریانی ،اور ایپل پائے
تھا کھانے کے بعد وہ سب لوگ اور کچھ دیر تک بیٹھے رہے تھے عمائمہ کو تو جیسے کیف کے روپ میں ایک بہت اچھادوست مل گیاتھااس لیے اس کا وہاں سے اٹھنے کوجی نہیں چاہ رہاتھا مگر تبھی ارشمیل نے اس سے دبے ہوئے غصے میں کہا ۔
"عمائمہ مجھے نیند آرہی ہے پلیز چلوں "۔وہ ارشمیل کی بات سن کر حیرت زدہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی تھی جیسے اس نے کوئی انوکھی بات کہے دیا ہو اسے اپنے طرف حیرت سے تکتا پاکرارشمیل کو غصہ تو بہت آیاتھامگر وہ دھیمے لہجے میں بولاتھا ۔
"عمائمہ چلوں بھی "۔وہ کب ارشمیل کے اتنے نرم لہجے کی عادی تھی اس لیے تواس کے گرگیٹ کی طرح بدلتے ہوئے روپ کودیکھ کر سوچنے لگی کے یہ شخص کبھی نہیں سدھرےگا ناچارہ وہ اپنی جگہ سے اٹھ گئی تھی انھیں ایک ساتھ جاتادیکھ کر کیف اور علینہ کی نظریں ان کااخری تک پیچھاکرتی رہی تھی ۔
٭٭٭
ارشمیل نے اسے روم میں لایااور اندار سے ڈور لاک کرتے ہوئے اس کے پاس آیااور بولا۔
"بہت شوق ہے تمہیں غیر مردو ں کا ہاتھ تھامنے کاان کے قریب بیٹھنے کاان سے فضول کی باتیں کرنے کا ہے نا "۔ارشمیل کی باتیں اسے اس کی سوچ کا فطور لگی تھی اس لیے تو وہ دبے ہوئے
غصے میں بولی تھی ۔
"کتنی گھٹیاں سوچ ہے تمہاری مسڑ ارشمیل یزدانی مجھے تو تمہاری دقیانوسی سوچ پر ہی شرم آتی ہےاگر میں کیف سے باتیں کررہی تھی تو تم بھی تو علینہ کے اتنے قریب بیٹھ کراس کے کان میں پتا نہیں کیاسرگوشیاں کررہ تھےتم کرو تو ٹھیک اور میں کرو تو وہ غلط ہے”۔
"اچھا تو جیلس ہو رہی ہو "۔
"میں نہیں تم جیلس ہو رہ ہو کیونکہ یہ ٹاپک بھی تم نے ہی نکالا تھا”َ۔وہ کہاارشمیل کے سامنے گھٹنے ٹیکنے والی تھی۔
"آج آخری بار سمجھارہاہو آئندہ کیف کے ساتھ نظر مت آنااگر تم نظرآئی تواس کے بعد کے انجام کے لیے تیاررہنا "۔وہ اسے اب دھمکانے لگاتھا مگر عمائمہ نے اس کی دھمکی کا کوئی نوٹس نہیں لیاتھا ۔
” ٹھیک ہے دیکھ لوگی تمہیں کے تم اب اور کس حد تک گر سکتے ہو "۔
"ابھی تو میں کسی بھی حد تک نہیں گرا تھا مگر اب لگتا ہے گرنا پڑھےگااس رات والا بدلہ بھی تو لینا ہے "۔وہ ناسمجھی سے ارشمیل کے طرف دیکھنے لگی تھی جیسےاس کی بات کا مفہوم سمجھ ہی نا پائی
ہو تبھی ارشمیل اس کے پاس آیااور اس کا ہاتھ تھام کراسے اپنے سامنے بیٹھاتے ہوئے بولا۔
"تم آج اپنے گھر گئی تھی نا”۔اس کی بات سن کر عمائمہ حیران ہوگی کےاسے کیسے پتا چلا کے وہ اپنے گھر گئی تھی اس نے تو کسی کو بھی نہیں بتایاتھا یہاں تک کے عدینہ کو بھی نہیں ۔
"تم سوچ رہی ہوگی کے مجھے کیسے خبر ہوئی تو میری جان میں تمہارے پل پل کی خبررکھتا ہو کے تم کیاکررہی ہوکیا کھارہی ہوکب سورہی کب جاگ رہی ہو اور کہا آجا رہی ہو "۔اس کی بات سن کر عماعمہ کو حیرت تو ضرور ہوئی تھی مگروہ اپنی حیرت پر قابو پاتے ہوئے بولی ۔
"ا۔۔اچھی بات ہے کے تمہیں میری اتنی فکر ہے "۔اس نےارشمیل کےانداز میں جوا ب دیاتھا۔
"ہاں تو میں بات کررہا تھا اپنے بدلے کی تو جان میں نے تم سے اس رات کابدلہ لینے کے لیے تمہاراگھر سیل کردیا ہے "۔ارشمیل اتنے آرام سے بولا جیسے کوئی بڑی بات نا ہوہاں شاید یہ اس کے لیے کوئی بڑی بات نہیں تھی مگر عمائمہ کے لیے یہ بہت بڑی بات تھی اس لیے تواس کی آنکھوں میں ڈھیر سارے آنسوں آگے تھے ۔
” ک۔۔۔کیا تم سچ کہے رہ ہو "۔
"ہاں میں جھو ٹ کیوں بولوں گا اگر یقین نہیں آتا تو تم خود ہی یہ پیپز دیکھ لو "۔عمائمہ نے جلدی
سے اس کے ہاتھ سے وہ ڈاکیومینٹ جھپٹ لیے تھے اور پڑھنے لگی وہ جیسے جیسے پڑھتے جارہی تھی اس کے آنکھوں میں سے آنسوں اور بھی زیادہ شدت سے بہتے جا رہ تھے اس نے سچ میں اس کے خوابوں کا گھر بیچ دیا تھا ارشمیل نے اس سے اس کے بچپن کی واحد نشانی کو بہت دور کردیاتھا ارشمیل اپنی فتح کاجشن مناتےمسکرانے لگا پھر وہاں سے اٹھ گیاکر اپنے کام کرنے لگا وہ شایداب سونے کی تیا ری کررہاتھا تبھی عمائمہ نے اس کا ہاتھ پکڑلیااس کے ہاتھ کا لمس اپنے ہاتھ پر پاکر ارشمیل ایک انجانے سےجذبے کے تحت پلٹا تھا اور اب اسے دیکھنے لگا تھا جو ڈبڈباتی ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔
"پلیز تم میرے ساتھ جو بھی کرنا چاہتے ہو وہ کرو مگر میرے ڈیڈ کی ایک آخری نشانی کو بخش دو میں تمہارے سامنے ہاتھ جوڑتی ہو "۔ وہ اب اسکےاگے ہاتھ جوڑتے ہوئے بولی ارشمیل کواس کی حالت پر رحم آرہاتھا مگر وہ سختی سے اپنا منہ موڑتے ہوئے بولا۔
"سوری اب کچھ نہیں ہوسکتا بہت دیر ہوچکی ہے "۔
"پلیز ایسا مت کر و "۔
"سوری ڈئیر مسز تم نے گڑگڑا کر معافی مانگنے میں بہت دیر کردیاہےاب کچھ نہیں ہوسکتا اور تمہیں تو پتا ہے ایک بار جوفیصلہ میں نے کرلیامیں اس ہی پر قائم رہتا ہو "۔اس کی بات سن کر
عمائمہ نے اپنے ہاتھ میں تھاما ہوا اس کا ہاتھ بہت زور سے جھٹک دیااور زورسے دروازہ بند کرتے ہوئے روم سے باہر نکل گئی وہ لاونج میں آئی تو پورا لاؤنج خالی ہوچکا تھا جس سے وہ سمجھ گئی کے سبھی گھر والے سونے جاچکے ہے وہ اپنے اندار کی وحشت کم کرنے کی خاطروہ لان میں آگئی لا ن کی کھولی فضا میں اس نے تھوڑااچھا محسوس کیاتو وہ وہی بینچ پر جاکر ٹک گئی ا رشمیل بالکنی میں کھڑا ہوکر اسے دیکھنے لگااسے پتاتھاکے وہ اب رات بھر نہیں سوئے گی اس لیے وہ بھی اس کے ساتھ رات بھر جاگنے کے اردے سے وہی کھڑارہاتبھی اس کی نظر عمائمہ کے پیچھے جاتے ہوئے کیف پر پڑی تو وہ غصےسے لال ہوکررہ گیاتھاوہ عمائمہ کوکیف سے اس لیے دور رکھناچاہتاتھاکے اسے پتا تھاکیف کی نیت لڑکیوں کے معملے میں بہت خراب ہےانگلینڈ میں وہ دونوں نے ایک ساتھ ایک ہی یونیورسٹی میں پڑھاتھا کیف وہاں کی بہت ساری گرل فرینڈ تھی اور وہ ان میں سے کئی ساری لڑکیوں کے ساتھ لیو ان ریلیشن میں رہ چکا تھا اور اب اس کی عمائمہ کو دیکھ کر نیت خراب ہونا کوئی بڑی بات نہیں تھی ارشمیل کا جی چاہا وہ کیف کا جا کر گلا دبادے مگر وہ ایسا کرنہیں سکتا تھااس لیے وہ خود پر قابو پاتے ہو ئے وہی کھڑا رہااور دیکھتا رہا تھا۔
اب کیف عمائمہ کے بینچ کےقریب جا کر کھڑا ہوچکا تھااور عمائمہ سے وہاں بیٹھنے کی ایجازت لے رہا تھا ۔
"کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہو "۔کیف کی آواز سن کر عمائمہ ٹھٹھک گئی تھی اس نے اپنے آنسوں کو جلدی سے پیچھے ڈھکیلتے ہوئے بولی ۔
"ہاں بیٹھے نا "۔اس کی بات سن کر کیف مسکراتے ہوئے بیٹھ گیا اور دھیمے لہجے میں بولا،
"کیا میں آپ کے رونے کی وجہ جان سکتا ہو "۔اس کی بات سن کر عمائمہ کے رونے میں اور روانی آگئی تھی مگر اس نے اپنے آنسوں صاف کرتے ہوئے بولی ۔
"ہرچیز کی وجہ نہیں ہوتی ہے کبھی کبھی بلاوجہ ہی رونے کو دل چاہتا تھا "۔اس کی بات کیف کے سمجھ سے پرے تھی مگر پھر بھی کیف نے اسے سمجھانے کی خاطربولا۔
"ہا ں مجھے پتا ہے ہر چیز وجہ کی محتاج نہیں ہوتی ہے مگر یہ جوہمارے آنسوں ہے ناوہ بے وجہ بے سبب نہیں نکلتے جب انسان کے اندار کی گھٹن زیادہ بڑھ جاتی ہےاور وہ خود کو اکیلا سمجھنے لگتا ہے تو ہی یہ آنسوں باہر نکلتے ہے "۔وہ کیف کی باتیں سن کر حیران ہوگئی اسے نہیں خبر تھی کے جو شخص باہر سے بہت ہی لا پرواہ نظرآتا ہے وہ اتنی آسانی سے اس کا درد بھی سمجھ جائے گا ۔
"ہاں صحیح کیا آپ نے یہ ایک آنسوں ہی تو ہوتے ہےہمارے پاس جس کے ذریعے ہم اپنے دل کے اندار کا غبار کم کر سکتے ہے اگر یہ آنسوں نہیں ہوتے تو ہم انسان کبھی خوش ہی نہیں رہ سکتے تھے کیونکہ ان ہی کے سہارے ہم اپنادکھ تھوڑا کم کر سکتےہے "۔کیف کی ہمدری پاکر اس کا دل
چاہ رہا تھا وہ اپنے دل کا سارا حال اسے بتادے اسے کسی غیری سوچ میں ڈوبا دیکھ کر کیف بولا۔
"آپ اگر مجھ سے کچھ شیئر کرناچاہتی ہے تو بے جھجک کہے دیجیے "۔کیف کی بات سن کروہ گھبرا گئی اور اپناسر نفی میں ہلاتے ہوئے بولی ۔
"نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے وہ بس دل چاہ رہاتھااس لیے رو دیا”۔
"Sorry to say لیکن آپ کی اور ارشمیل کی ابھی ابھی شادی ہوئی ہے آپ کوتو بہت خوش رہناچاہئے تھاارشمیل جیسا ہزبینڈ پاکر دنیاکی ہر لڑکی خوش رہ سکتی ہے پھر آپ کے چہرے سے وہ خوشی کیوں نہیں جھلکتی ہے کیاآپ اس شادی سے خوش نہیں ہے یا ارشمیل سےآپ کے جھگڑے چل رہ ہے "۔اسےصحیح اندزہ لگاتادیکھ کر وہ دوبارہ گھبراگئی تبھی بولی ۔
"نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہے "۔اس کے سفید جھوٹ پر کیف اس کے چہرے کو دیکھنے لگا تھا جو اب زبردستی مسکرانے کی کوشش کررہی تھی پھر کافی رات گے تک وہ دونوں باتیں کرتے رہ تھے وہ کیف کو دوست سمجھ کراس سے اپنادرد دل بیان کرتی رہی اور کیف نے بھی بخوبی اس کاساتھ دیاتھاوہ دونوں اب بھی نہیں اٹھتے اگر ارشمیل وہاں نہیں آتاارشمیل کھنکارتے ہوئے بولا ۔
"آہم ڈئیر مسزلگتا ہے آج رات آپ کا سونے کااردہ نہیں "۔ارشمیل کودیکھ کر عمائمہ چونک
گئی تھی اسے نہیں پتاتھاکے ارشمیل رات کے چار بجے تک جاگتا رہا ہےارشمیل کی بات سن کر بھی وہ اپنی جگہ سے نہیں اٹھی تو ارشمیل نے دو بارہ کہا ۔
"کیف تمہیں تو عادت ہے دیر رات تک جاگنے کی مگر میری وائف زیادہ جاگنے سے بیمار ہو جاتی ہے سو پلیز مائنڈ مت کرنا "۔ارشمیل نے صاف طور پر کیف کو طنز کیا تھا کیف بھی اچھی طرح سےسمجھ گیاتھا کے وہ کیا کہنا چاہ رہاہے مگر عمائمہ نہیں سمجھ پائی تھی اس لیے توان دونوں کو گھورنے لگی تھی عمائمہ کو ایسے ہی ٹکا دیکھ کر ارشمیل اس کے پاس آیااور اس کا ہاتھ تھام کر زبردستی اسے کھنچتے ہوئے لے گیا وہ ارشمیل کا غصہ دیکھ کر حیران ہورہی تھی ارشمیل اسے اپنے ساتھ گھسٹتے ہوئے بولا۔
"میں آخری بار کہے رہا ہوکیف سےدوررہوں اگر تمہیں سمجھناہے تو سمجھو ں نہیں سمجھنا ہے تو تمہاری مرضی "۔اتنا کہے کر وہ چلاگیاتھااور وہ اس کی باتیں سمجھنے میں الجھی رہی ۔
٭٭٭
گھر کے سبھی لوگ علینہ ،شہلابیگم، نگین بیگم ،اور کیف یہ سب آوٹینگ کے لیے باہر گئے تھے وقار صاحب ارشمیل کے ساتھ آفس گئے تھے اوراحدعدینہ ہاسپٹل گئے تھے وہ گھر میں ملازموں کے ساتھ اکیلی تھی اسے بھی سب نے چلنے کے لیے کہاتھا مگر وہ نہیں گئی تھی وہ
ابھی لان میں ٹہل رہی تھی لان کی خوبصورتی سے لطف انداز ہورہی تھی تبھی دور سے اس کی نظر اس زہریلے پھول پر پڑی تھی اسے وہ پھول دیکھ کریاد آگیاتھاکےمالی بابانے کہاتھاوہ پھو ل زہریلاہے تبھی اس کا جی چاہاوہ پھول توڑ ےاور اسے گھول کرارشمیل کو پلا دے تاکہ اس سے وہ مر جائے مگراس نے اپنے خیال کو پس پُشت دھکیلا او ر وہی کھڑی رہی تبھی پیچھے سے ارشمیل آیااور اس کے کان میں سر گوشی کرتے ہوئے بولا۔
"کس کے خیالوں میں کھوئی ہومرتضی کے یا کیف کے "۔ارشمیل کی بات سن کر وہ نفرت سے پیچھے پلٹی تھی اس نے ایسے ارشمیل کو ایسے گھورا جیسے وہ ابھی اسے کھا جائے گی ارشمیل کواس کی ایسی نظرو ں کی کہا عادت تھی تبھی تو وہ اس کے چہرے پر آئے ہوئے بالوں کو پیچھے کرتے سر گو شی کرنے لگا ۔
” ایسا نا مجھے تم دیکھوں سینے سے لگا لوگا تم کو میں چرا لو گا تم سے دل میں بسا لوگا "۔ارشمیل نے موقع دیکھ کرہی شاید یہ گا نا چنا تھا جس سے وہ گھبر ا کر پیچھے ہٹی تھی تبھی ارشمیل دھیرے دھیرے اس کے قریب جانےلگاتھا وہ پیچھے ہوتے ہوتے یہ بھی نہیں دیکھ سکی تھی کے اس کے پیچھے کیچڑ کا ڈھیر ہے جس میں اس کا پیر بھی پھنس سکتا ہے تبھی ارشمیل نے اسے بچانے کے لیے اسے اپنے طرف کھنچاتھاجس سے وہ اس کے سینے سے جالگی تھی مانوس سی خوشبو اس کے وجود سے ٹکرائی
تھی جس سے وہ اور بھی زیادہ گھبرا گئی تھی تبھی اس نے ارشمیل سے الگ ہونا چاہا تھاکے اس کے کھولےبال ارشمیل کے شرٹ کے بٹن میں جاکر الجھ گئے جس سے اسے شدید درد کا احساس ہوا تھااور اس کے آنسوں ارشمیل کے ہاتھ پر گرے تھے اپنے ہاتھ پراس کےگرے آنسوں دیکھ کر وہ روتی ہوئی عمائمہ کی طرف دیکھنے لگا تھا اس کی گھنی خم دار پلکیں جو آنسوں کو اپنے اندار چھپانے کی کوشش کررہ تھی ستونی ناک جو سرخ ہورہی تھی سرخ لب جورونے کی وجہ سے کپکپا رہ تھے اسےآج فرست سے دیکھنے کے بعد ارشمیل کو ایسا محسوس ہوا تھا کے وہ دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی ہے آج پہلی بار ارشمیل کے دل نے اعتراف کیا تھا کے وہ اس سے محبت کرتا تھا محبت نہیں بلکہ عشق کرتا ہے آج سے نہیں شاید تب سے جب سے وہ دوبارہ اس کی زندگی میں آئی تھی تب سے تبھی تو وہ اسے ہر ایرے غیرے شخص کے ساتھ دیکھ کر تلملا جاتا تھا تبھی تو اس نے یہ شرت رکھا تھا کے وہ اپنی زندگی اس کے نام کر دے اپنی زندگی کے سارے اختیارات اسے سونپ دے تاکہ وہ دوبارہ اس سے دور نا ہوسکےاس لیے تو پہلی بار مرتضی اور اسےایک ساتھ دیکھ کر دل میں بہت شدید درد کی لہر ابھری تھی دل بے چین ہورہا تھا اپنے اندار ابھرتے ہوئے جذبات کو کم کر نے کے لیے ہی تو وہ اس پر تشددو کرتاتھا تاکے اپنے دل کو سمجھا سکے کے وہ اس سے نفرت کرتا ہےمگر پھر بھی اس کا دل نہیں مانا تھا تو اس نے نکاح کرنے کا فیصلہ کیا تھا نکاح کے بعد بھی وہ مرتضی سے نکاح پر نکاح کرنے جیسا بڑا گناہ کرنے جارہی تھی
اس لیے اس نے مرتضی کو حقیقت بتادیااور اس کے اچھے مستقبل کے لیے اسے لندن بھیج دیاوہ چاہتا تواپنے پیسے رتبے کے دم پر مرتضی کو مروا بھی سکتا تھا مگر اس نے صرف عمائمہ کے وجہ سے اسے بخش دیاتھااور اسے ان کے بیچ سے نکال دیا تھا تاکہ وہ دونوں خوشی سے آگے کی زندگی گزار سکے مگر اس سےدوبارہ نکاح کے بعد دل میں خیال جاگا تھا کے وہ کیسے اپنے پہلے شوہر کے ہوتے ہوئے دوسرے شخص سے نکاح پر نکاح کرنے جیساگناہ کررہی تھی اس ہی خیال کے تحت اس نے اسے بارش میں بھیگنے کے لیے چھوڑ دیا تھا مگر کچھ دیر بعد اسے اپنے اس ا قدام پر شرمندگی محسوس ہوئی تواس نےاسےدوبارہ اٹھا کراپنے روم میں لایا تھا ولیمہ کے دوسرے دن بھی وہ اس سے اپنےکیے کی معافی مانگنے والا تھا اسے منانے والا تھا مگر اس نے اسے تھپڑ ہی جڑ دیا تھا وہ چاہتاتو وہ اس تھپڑ کا حساب برابر کرسکتا تھا مگر اس نے ایسا نہیں کیا تھااس نے عمائمہ کو احساس دلا نے کے لیے اس سے دوری برت لیا تھا مگراسے تو کسی چیز کا احساس ہی نہیں تھا وہ شرمندہ ہونے کے بجائے الٹااسے ہی الزام دیتی رہتی اور کل رات بھی وہ سیف سے جس طرح باتیں کرتی رہی تھی اس سے فری ہونے کی کوشش کر رہی تھی اس ہی وجہ سے اس نے عمائمہ سے جھوٹ کہا تھاکے اس نےاس کا گھر بیچ دیاہے تاکے وہ اس سے شکواہ کرے کے اس نے ایسا کیوں کیا ہے اسے منانے کی تھوڑی کوشش مگروہ اسے منانے کی بجائے وہاں سے چلی آئی تھی اور اپنادرد دل سیف جیسے شخص سے بیان کرنے لگی جوشاید اس کے قابل نہیں تھااور ابھی بھی وہ اس کے
گھر میں اکیلے ہونے خیال سے آیا تھا مگر ان محترمہ کو شاید اس کا واپس آنا بالکل بھی پسند نہیں آیاتھااس لیے تو وہ اسے دیکھ کر برا سامنہ بنانے لگی تھی اور بھی اس کی قربت کی وجہ سے آنسوں بہارہی تھی ارشمیل نےاپنے رومال سے اس کے آنسوں صاف کیااور پھر دھیرے سے اس کے بال اپنے شرٹ کے بٹن سے الگ کیے وہ جلدی سے ارشمیل سے دور ہٹی اور آگے بڑ گئی موسم ابر آلودہ ہورہاتھا کافی تیز تیز ہوائیں چل رہی تھی چاروں طرف بادل چھائے ہوئے تھے اس ہی وجہ سے موسم تھوڑا سرد ہورہاتھا ارشمیل نے عمائمہ کو غور سے دیکھا اس نے لیمن کلر کا سلک کا ٹاپ پہنا تھا اور اس پر ٹائٹ جینز پہنی تھی اور اپنے ارد گرد شاید سردی کی وجہ سے شال لپٹا تھا اس حلیہ میں بھی وہ سیدھے دل میں اترتی ہوئی محسوس ہوئی تھی اب وہ اس پھول کے قریب کھڑی ہوچکی تھی شاید دل ہی دل میں خود سے جنگ کررہی تھی کے وہ پھول توڑے یانا توڑے تبھی ارشمیل اس کے پاس آیااور اس کی آسانی کے لیے بولا۔
"کیا تمہیں یہ پھول چاہئے "۔عمائمہ تو یہی چا ہتی تھی کے وہ خود ہوکر اسے آفر دے اس لیے اس نے مسکراتےہوئے ہاں میں سرہلادیا تبھی ارشمیل نے ہاتھ بڑا کر وہ پھول توڑ دیااوراسےپیش کرنے لگا تھا کے اسے چھنک آئی ایک کے بعدایک کئی ساری چھنکے اسے آئی تھی کچھ ہی دیرمیں
چھنک چھنک کراس کا بہت برا حال ہو چکا تھا پوراجسم جل رہا تھا چہرہ سر خ ہوچکاارشمیل کا حال
دیکھ کر عمائمہ کو بہت ہنسی آرہی تھی اس لیے اس نے اپنی ہنسی چھپانے کے لیے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ دیاتھا مگر ارشمیل کی نظروں سے اس کی ہنسی چھپ نہیں پائی تھی ارشمیل سمجھ چکا تھا کے یہ سب عمائمہ نے جان بو جھ کرکیاہے اس لیے تو وہ اپنے ہاتھ میں پکڑے خوبصورت پھول کودور اچھالتے ہوئے اس کے پاس آیا تھا مگر عمائمہ دو قد م پیچھے ہوگئی تھی ارشمیل دور سے ہی دھاڑتے ہوئے بولا تھا ۔
"یہ سب تم نے جان بوجھ کرکیا نا”۔
"میں کیوں کروگی تمہارا گھر ہے تمہیں خبر ہوناچاہئے کے تمہارے گھرمیں کونسی چیزیں زہریلی ہے اور کونسی نہیں "َ۔ اس کی بات کا مفہوم جان کرارشمیل اپنے جگہ تڑپتے رہ گیاتھا۔
"اس پودے سے زیادہ تو تم زہریلی ہو عمائمہ حیدر "۔اتناکہے کروہ چلاگیاتھاتو عمائمہ کواسے دکھ دیکر بہت افسوس ہوا تھا مگر پھراس نے سوچا کے وہ کیو ں شرمندہ ہورہی ہے شرمندہ توارشمیل کوہونا چاہئے کےاس نے ہر موڑ پر اتنا برا جو کیا تھا اس کے ساتھ پھر وہ اس کے پیچھے پیچھے روم میں چلی گئی تھی وہ روم آئی تودیکھاارشمیل بیڈ پر لیٹا تھا اس کی حالت بہت خراب ہورہی تھی اس کا جسم ہلکا ہلکا کانپ رہا تھا عمائمہ سے اس کی حالت دیکھی نہیں گئی تواس نے جلدی سے ان کے فیملی ڈاکٹر کو کال کرکے بلا لیا ڈاکٹر نے آکراس کا معائنہ کیا تھااوراسے دوائی انجکشن دے کر چلاگیا
تھا دوائیوں کے زیِرے اثر وہ نیم بے ہوش تھا عمائمہ نے اس کے سر خ چہرے کو دیکھا پھر ڈاکٹر نے جو کریم دیاتھااسے لگانے لگی عمائمہ نے ارشمیل کو صرف اوپر اوپر کریم لگا یا تھا حالانکہ ارشمیل کا پورا جسم ہی جل رہاتھااور سرخ ہورہا وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور جانے لگی تھی کے ارشمیل نے اس کا ہاتھ تھام لیا وہ ایک جست سے پلٹی تھی اسے تو لگ رہاتھا کے ارشمیل بے ہوش پڑا ہے مگر وہ تو جاگ رہاتھا ارشمیل نے اس کےہاتھ کو جھٹکادیاجس سے وہ اس کے اوپرگرتے گرتے بچی تھی اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے ارشمیل کے طرف سوالیہ نظروں سے دیکھاتھا ارشمیل نے اس کی سوال کرتی ہوئی نظروں کو بھاپ لیاتھاتبھی تو بول تھا ۔
"درد دیا ہے تو اس کا مداوا بھی تو تمہیں ہی کرنا ہوگا "۔وہ اس کی بات کا مطلب سمجھ نہیں پائی تھی اس لیے پوچھ بیٹھی ۔
"کیسا مداوا اور کیوں کروں میں مداوا تم نے مجھے اتنے درد دیے ہے تو کیا تم نے کبھی اس کی بھر پائی کرنے کی کوشش کیا ہے "۔ اس کا سوال ارشمیل کو جائز لگا تھا تبھی تو وہ اسے بولا ۔
” صحیح کہا تم نے میں نے تمہیں درد دے کر کبھی بھرپائی کر نے کی کوشش نہیں کیا اس لیے آج کرناچاہتا ہو بتاؤ مجھے میں ایسا کیا کرو جس سے تمارے سارے درد ایک چٹکی میں دور ہو جائے "۔اس کی بات سن کر عمائمہ اپنا ہا تھ چھڑا یااور اپنی شال برابر کرتے ہوئے بو لی ۔
"میرے لیے تمہاری ا یسی کیفیت ہی کافی ہے "۔ اس کی بات سن کر ارشمیل کو کوئی فرق نہیں پڑا تھاتبھی اس نے دوبارہ اس کا ہا تھ تھام کراسے اپنے طرف کھنچا تھا ۔
"تمہارا بدلہ تو اب پورا ہوگیا لیکن میرے زخم ابھی تازے ہےاس لیے ان پر مرحم بھی تمہیں ہی لگا نا ہوگااب یہ کریم پکڑوں اور میری پیٹ کو لگاؤ”۔اس کی بات سن کر عمائمہ اپنی جگہ اچھل ہی تو پڑی تھی اس نے اس وقت ایسے ری ایکٹ کیا تھا جیسے ارشمیل نے کوئی انوکھی بات کہے دیا ہو اس کو بدکتا دیکھ کر ارشمیل تھوڑے غصے سے بولا ۔
"مانا کے ہمارے بیچ ویسے تعلق بہیں ہے جو عام طور پر ہزبینڈ وائف کے ہوتے ہے اور نا ہی میں بنانا چاہتا ہو مگر ابھی میرے پورے جسم میں جلن ہورہی ہے وہ بھی تمہارے وجہ سے اس لیے تم سیدھے طرح سے میری پیٹ پر یہ کریم لگا دو ورنہ تم نہیں مانی تو مجھے زبردستی بھی کرنا آتی ہے "۔اس کی بات سن کر عمائمہ اپنے جگہ ڈر گئی تھی کے کئی وہ اس کی بات ناماننے پر اس کے ساتھ زبردستی نا کر بیٹھے اس لیے وہ خود پر ضبط کرتےہوئے بولی ۔
"ٹھیک ہے میں کررہی ہو "۔اس کی بات سن کرارشمیل نے اپناشرٹ نکال دیا تھاوہ ارشمیل کو شرٹ لیس دیکھنے کی غلطی نہیں کرنا چاہتی تھی مگر اب وہ غلطی ہو چکی اس کی نظر ارشمیل کے
سیکس پیکس پر پڑھ چکی تھی اس نے جلدی سے ارشمیل پر سے نظر ہٹا یا تھااور اس کی پیٹ پر کریم لگانے لگی پانچ منٹ کا کام اس نے دو منٹ میں انجام دیا تھاارشمیل اس کا خود سے گریز دیکھ چکا تھا اس لیےاس نے عمائمہ کو وہاں سےجانے دیااس کے جاتے ہی ایک بھر پور مسکراہٹ ارشمیل کے چہرے کااحاطہ کر گئی تھی وہ زیِر لب بڑ بڑا یا تھا ۔
"ڈئیرمسز کیا پھول لانے والے کو ہی خبر نہیں ہوگی کے وہ پھول زہریلے ہے یانہیں وہ پھول تو ضرور زہریلے تھے مگر تم نہیں ہواس بات کا مجھے پتا چل چکا ہے "۔ اسے پتا تھا کے وہ پھول زہریلے ہے عمائمہ انھیں اتنے پیار سے تک رہی تھی توا سے لگا کے وہ خود جاکروہ پھو ل توڑ لے گی اس لیے اس نے خود کی جان کو جوخم میں ڈال کر اس کے لیے وہ پھول توڑے تھے مگر جب اسے پتاچلا تھا کے عمائمہ نےاسے جان بوجھ کر یہ سب کرنے کو کہاتھاتب اسے بہت برا لگا تھاشام میں جب سب کو پتا چلا تو سبھی لوگ دوڑے دوڑے چلے آئے تھے سب نےاس سے پوچھا تھا کے یہ سب کیسے ہواتواس نے بہانہ بنا کر ٹال تھادیاعمائمہ کا نام نہیں لیا تھا ۔
٭٭٭
ارشمیل کی طبیت ٹھیک ہونے میں دو دن کاوقت لگاتھاان دونوں میں اس کی جلن بھی کم ہوچکی تھی اور سوجن بھی اس لیے تووہ بھی سب کے درمیان آکر بیٹھا تھا تبھی نگین بیگم نے ایک
دھماکہ خیز خبر سنا کر سب کو خوش کردیاتھا کے عدینہ ماں بننے والی ہے یہ خبرسن کر سبھی کو بہت خوشی ہوئی تھی مگر سب سے زیادہ خوش تو عمائمہ لگ رہی تھی اس چہرے سے ایک پل کے لیےبھی مسکراہٹ غائب ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی تبھی توارشمیل کی نظریں اس کے چہرے پر جاکر ٹہر چکی تھی ارشمیل کےساتھ ساتھ کیف کی بھی نظریں اس پر ہی تھی وہ بھی عمائمہ کو ان ہی نظروں سے دیکھ رہا تھا جن نظروں سے ارشمیل اسے دیکھ رہا تھا عمائمہ نے خالہ بننے کی خوشی میں سب کامنہ میٹھا کیا تھا سوائے ارشمیل کا چھوڑ کر یہ بات کسی نے نوٹ کیاتھا یا نہیں کیاتھا مگر سیف نے ضرور کیا تھا یہ دیکھ کر تواسے بہت خو شی ہوئی تھی اس ہی خوشی کے ماحول میں نگین خالہ نے ارشمیل کو گھیر لیا تھااور اسے چھڑتے ہوئے بولے ۔
"ارشمیل اب تو تم بڑے پاپا کے عہدے پر فائز ہونے جارہے ہو بھئی یہ تو بہت غلط ہوا ہے قاعدےسے تو تمہاراایک بچہ ہونا چاہئے تھا مگر تم جو ہرچیز میں تاخیر کرتے ہوناایسانا ہو کے اس ریس میں بھی تم بہت پیچھے رہ جاؤ "۔ان کی بات سن کر جہاں سبھی ہنسنے لگے تھے وہاں ارشمیل عمائمہ کو دیکھنےلگا تھاعمائمہ کا تواس وقت شرم سے ڈوب مرجانے کادل چاہ رہا تھا ارشمیل نے ہنوز عمائمہ پر نظریں جماتے ہوئے بولا تھا ۔
"جی خالہ آپ جب اگلی بار آئے گی نا تو آپ کو یہ بھی خوشخبری مل جائے گی "۔ارشمیل کی یہ
بات عمائمہ کو بالکل بھی پسند نہیں آئی تھی تبھی تو وہ اپنے دانت پیستے ہوئے وہاں سے چلی گئی تھی
احد کے اور عدینہ کے ماں باپ بننے کی خوشی میں گھر میں بہت بڑی پارٹی رکھی گئی تھی پورے گھر کو بہت ہی خوبصورتی سے وائٹ روز سے سجایا گیا تھا وائٹ کلر کے پھول کاانتخاب عمائمہ نے کیا تھا تا کے ہر کوئی فریش فیل کر سکے وہ ملازموں کو ہدایت دے رہی تھی تبھی شہلابیگم پیچھے سے آئے اور اسے مخاتب کرتے ہوئے بولے ۔
” عمائمہ مانا کے تم کو خالہ بننے کی بہت خوشی ہورہی ہے مگراب تم بھی جاکر تیار ہو جاؤ دیکھوں کتنا وقت گزر چکا ہے اب تو مہمان بھی آنے والے ہوگے "۔ان کی بات سن کر عمائمہ نے گھڑی میں وقت دیکھا تو وہ رات کے آٹھ بجارہی تھی تبھی عمائمہ کو بھی تیار ہونے کا ہوش آیا تو وہ وہاں سے جانے لگی تھی کے شہلابیگم نےاسے روکتے ہوئےکہا۔
"میں نے تمہارے روم میں بلیک کلر کی ساڑی رکھوا دیا ہے تم اسے ہی پہننا "ان کی بات سن کر عمائمہ نے اثبات میں سر ہلادیا اپنےاور ارشمیل کے مشتریکہ روم میں چلی آئی اسےارشمیل سے روم خالی نظر آیا تواس نے سکھ کا سانس لیا تھا کیونکہ وہ پچھلے دو دن سے دیکھ رہی تھی کےارشمیل کااسے دیکھنے کاانداز ہی بدل گیا تھا وہ پہلے جب بھی دیکھتا تھا تواس کی آنکھوں میں نفرت کی چنگاریاں نظر آتی تھی مگر اب تو اسے دیکھ کر ارشمیل کی آنکھوں ایک الگ ہی طرح
کی رونک اتر آتی تھی اس کی آنکھیں محبت کی الگ ہی دانسان سنا رہی تھی اس لیے وہ دودن سے اس سے دور بھاگ رہی تھی اس سے گریز کررہی تھی وہ بلیک ساڑی میں بلا کی خوبصورت لگ رہی تھی اس نے جیولری کے نام پر صرف ساڑی کے کلر کے مناسبت سے بلیک کلر کے چھوٹے ٹاپس کاانتخاب کیا تھا اور ہاتھ میں اس ہی کلر کا خوبصورت سا بریسلٹ پہنا تھا اپنے خوبصورت بالوں کا جوڑا بنا یا تھاوہ اپنے میک آپ کو فائنل ٹچ دے کر نیچے ہی جارہی تھی کے اس کے بلاوز کا پیچھے سے ہک کھو ل گیا جسے دیکھ کر وہ دوبارہ پریشان ہوگئی تھی ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو وہ بڑے مشکل سے لگا پائی تھی اور وہ اب دوبارہ کھو ل چکا تھاوہ آئینے کے سامنے کھڑی ہک لگانے کی کوشش کررہی تھی تبھی ارشمیل پیچھے سے آیا اور اس کا ہک بند کرنے لگاوہ آئینے میں ابھرتے ہوئے اس کے خوبصورت عکس کو نظر انداز نہیں کر پائی تھی وہ آج پہلی بار اپنے شوہر کو غور سے دیکھنے کی جسارت کررہی تھی اس نے بھی آج خاص کرکے بلیک کلر کا انتخا ب کیا تھا جواس کی سفید رنگت پر بہت جچ رہا تھا بے شک وہ ایک بھر پور مردانہ وجاہت کا مالک تھا اس کی بھوری آنکھیں خوبصورت ناک نقشہ سرخ لب جو اب اسے دیکھ کر مسکرا رہ تھے عمائمہ نے اسے خود کے طرف متوجہ پاکر اپنے نظریں جھکادیا تھا اور وہاں سے جانے لگی تھی کے اس کا خوبصورت آنچل ہوا کے زور سے ارشمیل کے منہ پر اڑ کر آنے لگا تھااس نے اپنا آنچل سنبھا لنے کی کوشش کی تھی مگر وہ سنبھال نہیں پائی تھی اس لیے اس کا آنچل نیچے ڈھلکنے سے پہلے ہی ارشمیل نے
سنبھال لیااوراسے برابر کرتے ہوئے اس کے کندھے پر ٹکادیا اس سے وہ عمائمہ کے بہت قریب آگیا تھا تبھی لاؤنج میں کیف نے خوبصورت سا سونگ بجا دیا تھا ۔
مرہمی سا چاند ہے تو
دل جلا سا میں اندھیرا
ایک دوجے کے لیے ہے
نیند میری خواب تیرا

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/