مختصر کہانیاں
#توہی_عشق_توہی_جنون #ازصاحبہ_فردوس #قسط_12 وہ ا…

#توہی_عشق_توہی_جنون
#ازصاحبہ_فردوس
#قسط_12
وہ اس کی قربت سے پتھر کی بت بنی کھڑی تھی وجود میں کوئی ہل چل ہی نہیں ہورہی تھی بس ایک دل ہی تھاجوبہت تیزی سے دھڑک رہا تھا اور احساس دلارہاتھاکےدو جسم اس وقت ایک دوسرے کے بہت قریب ہے ارشمیل اس کے خوبصورت خد وخال کودیکھنے لگا تبھی اس جادوئی لمحہ کے زیِر اثر ارشمیل نے اس لبوں پر اپناہاتھ رکھا دیااور اسے محسوس کرنے لگا تھا کے اس کی اس حرکت سے عمائمہ نے نفرت سے اس کا ہاتھ جھٹک دیاتھا مگر ارشمیل نے اس کی پرواہ نہیں کیا تھااس پر تو عمائمہ کے حُسن کاجادو سر چڑھ کر بول رہاتھا تبھی اس نے عمائمہ کے ارد گرد اپنے بازوں کا حصارہ باندھ د یاتھااور اس کے جانے کی ہر راہ بند کردیا عمائمہ کی سانسوں کی رفتار اور تیز ہوگئی تھی دونوں کے دل دھڑکن ایک نئے بنتے ہوئے رشتے کی کہانی بیان کررہی تھی عمائمہ کو ایسا محسو س ہوا تھا کے وہ ابھی اس لمحہ میں بہے گئی تو پھر کبھی خود کو ارشمیل سے محبت کرنے سے روک نہیں پائے گی پھر کبھی وہ اس سے آزاد نہیں ہوپائے گی تبھی اس نے اس کی باہوں کے حصارے سے آزاد ہونے کے لیے احتجا ج کیا تھا ارشمیل کواس پر شائد ترس آچکاتھااس لیےاس نے اسے چھوڑ دیتے ہوئے بولا۔
"بہت حسین لگ رہی ہو”۔ اتناکہے کروہ جیسا آیاتھا ویسے ہی چلاگیا عمائمہ دم بخود سی کھڑے رہی
وہ ابھی بھی شاید ایسے ہی کھڑے رہتی مگر ملازم نے دروازے پردستک دےکراس کا دھیان بٹایا تھا انور کی آواز سن کر وہ ہوش کی دنیامیں لوٹ آئی اور نیچے چلی گئی پارٹی عروج پر تھی شہر کے نامی گرامی ہستی لوگ وقار یزدانی کے بیٹے اور ارشمیل یزدانی کے بھائی احد یزدانی کی خوشی میں شامل ہوئےتھےاس کی خوشی میں خوش تھےعمائمہ کی نظر عدینہ پر پڑی عدینہ نے خوبصورت لائٹ کلر کی ساڑی پہنی تھی ہلکی سی جیولری اور ہلکے میک آپ میں وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی وہ عدینہ کے پاس آئی اور اس کے ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامتے ہوئے گرم جوشی سے بولی ۔
"بہت بہت مبارک ہو اللہ تمہاری ساری دعائیں پوری کرے "۔اس کی بات سن کر عدینہ مسکراتے ہوئے اس کے گلے لگ گئی اور بولی ۔
"بس آپی آپ کے ساتھ کی اور آپکی دعا ؤں کی ضرورت ہے "۔اس کی بات سن کر عمائمہ بھی مسکرادی تبھی وہاں احد بھی چلا آیااورشرارت سے بولا۔
"بھابھی مجھے تو آپ نے مبارک باد دیا ہی نہیں "۔اس کی بات سن کر عمائمہ ہنستے ہوئےبولی۔ "ارے ہاں میں تو تمہیں مبارک باد دینا بھول ہی گئی تمہیں بھی بہت بہت مبار ک ہو میں چاہتی ہو تم دونوں ہمیشہ ایک ساتھ رہو اور خوش رہو "۔ اتنا کہے کر عمائمہ نے عدینہ کاہاتھ احد کے ہاتھ میں تھاما دیا احد نے عدینہ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کراسےگرجوشیسے دباتے ہوئے عمائمہ سےبولا۔
"انشااللہ ہم دونوں ایک دوسرے کاساتھ کبھی نہیں چھوڑے گے "۔احد کی بات سن کر عمائمہ مسکراتے ہوئے پلٹ گئی تبھی اس کی ٹکر کیف سے ہوئی کیف نے اسے دیکھا تو بس دل تھا م کر رہ گیا تھا وہ کیف کو دیکھ کر گھبراتے ہوئے بولی ۔
"آئے ایم سوری مجھے نہیں پتا تھا آپ میرے پیچھے کھڑے ہے "۔اس کی بات سن کر کیف اس کے خوبصورت سرآپے کو اپنی نظروں کے حصارے میں لیتے ہوئے بولا ۔
"آپ سوری مت کیجیے "۔اس کی بات سن کر وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھنے والی تھی کے کیف نے آواز دے کر کہا ۔
"سنُے عمائمہ کیا آپ میرے ساتھ ڈانس کرے گی "۔اس کی فرمائش سن کر عمائمہ دنگ رہ گئی تھی وہ پہلے ہی ارشمیل کی بات سن کر اس سے دوری بنا کررکھ رہی تھی تبھی تو اس کی یہ بات عمائمہ کو بہت عجیب لگی تھی اس لیے وہ سہولت سے انکار کرتے ہوئے بولی ۔
"نہیں مجھے ڈانس کرنا نہیں آتا ہے "۔اتنا کہے کر وہ وہاں سے چلی گئی تھی اس نے یہ بھی نہیں سنا تھاکے کیف اس سے کیا کہے رہا تھا وہ بس آگے بڑھتی جا رہی تھی ارشمیل کی نگاہیں اس ہی پر ٹکی ہوئی تھی اس نے مسکراتی ہوئی نظروں سے عمائمہ کو جاتے ہوئے دیکھا تھا آج اسے عمائمہ پر ٹو ٹ کر پیا ر آیا تھا دل بے قرار ہورہا تھااس سے اظہارِمحبت کرنے کے لیے مگر پھر اس نے اپنے
بے چین ہوتے دل کو سنبھال لیااور پارٹی انجوائے کرنے لگا پارٹی ختم ہونے کے بعد وہ کچھ دیر تک اپنے دوستوں کے ساتھ رہا تھاپھر جب وہ اپنے روم میں آیا تو دیکھا عمائمہ پہلے سے ہی روم میں موجود تھی بیڈ پر آرام فر ما رہی تھی وہ اسے یہاں دیکھ کر حیران نہیں ہوا تھاوہ دونوں نگین بیگم اور ان کی فیملی کے آنے کے بعد سے ایک ہی روم میں رہ رہے تھے کیونکہ ان کے روم کے بازوں کے گیسٹ روم میں کیف رہ کر ان دونوں پر کڑی نظر رکھ رہاتھا کیونکہ اسے ان دونوں کے رشتے پر شک تھا اور وہ الگ الگ روم میں رہ کر اس کے شک کو یقین میں تبدیل نہیں کرنا چا ہتے تھے اس لیے ایک رو م میں رہ رہے تھے وہ اپنے کپڑے تبدیل کر کے آیا اور صوفے پر جاکر دراز ہوگیا تھا۔
٭٭٭
عمائمہ نیند سے جاگی تواس پہلےاس کی نظر سیدھے صوفےپر لیٹے ارشمیل پر پڑی اس نے ارشمیل کو نظر بھر کر دیکھنے سے گریز کیا تھا وہ اپنی جگہ سے اٹھی فریش ہو کر نیچے چلی گئی نیچے ہرروز کی طرح محفل جمی ہوئی تھی شہلابیگم اپنی چھوٹی بہوں کی آو بھگت کرنے میں مصروف تھے اسے وہ اپنے ہاتھ سے سیب کاٹ کر زبردستی کھلا رہے تھے ۔
"عدینہ یہ لو بیٹا بس اتنا آخری پیس کھا لو "۔
"نہیں ممی مجھ سے اب نہیں کھایا جارہا ہے "۔عدینہ براسامنہ بناتے ہوئے بولی ۔
وہ یہ سب نظارہ دیکھ کر خوش ہوگئی تھی وہ بھی ان کے بیچ جاکر بیٹھ گئی کیف جو احد سے باتیں کرنے میں بزی تھا اسے دیکھ کر کچھ دیر کے لیے رکھ گیاتھا پھر دوبارہ باتوں میں مصروف ہوگیا علینہ جواس کے پاس بیٹھی تھی وہ اسے دیکھ کر دور کھسک گئی تھی عمائمہ نےاس کی یہ حرکت بڑےغور سے نوٹ کیاتھا وہ دیکھ رہی تھی جب سے وہ ان کے گھر آئی تھی علینہ نے کبھی اسے خود ہوکر مخاتب کرنے کی کوشش نہیں کیا تھا اور اگر وہ اس سے بات کرنے کی کوشش کرتی تووہ اس سے سیدھے منہ بات نہیں کرتی تھی اس لیے عمائمہ بھی اس سے بات نہیں کرتی تھی وہ علینہ کونظرانداز کرتے ہوئے نگین بیگم سے باتیں کرنے لگی تھی وہ شہلابیگم سے زیادہ نگین بیگم سے فری تھی اسے ان کی کمپنی میں بوریت محسوس نہیں ہوتی تھی ارشمیل جب نیند سے جاگ کر فریش ہو کر نیچے آیا توسب کوایک جگہ بیٹھادیکھ کر بولا۔
"کیا آج ناشتہ نہیں ملنے والا”۔ارشمیل کی بات سن کر سب اسے دیکھنے لگے تھے پھرنگین بیگم بولے ۔
"ہم تو آپ کا ہی انتظار کررہ تھے کے کب آپ جاگتے ہے اور کب ہم ایک ساتھ مل کر ناشتہ کرتے ہے اب آپ اتنے جلدی آہی گے ہے تو چلے ناشتہ کرنے "۔ارشمیل نگین بیگم کی
مذاق کرنے کی عادت جانتاتھا اس لیے وہ بنا برا مانے مسکراتے ہوئے ڈائننگ ہال کےطرف بڑھ گیاتھااسکے پیچھے ہی سبھی گھر والے چل دئے تھے ناشتے کے دوران احد نے ارشمیل کو مخاتب کرتے ہوئے بولا۔
"بھائی اب آپ کا کیا اردہ ہے "۔احد کی بات سن کر ارشمیل ناسمجھی سےاس کے طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔
"کونسااردہ ؟”
"مطلب یہ کے تم اب ہماری بہو کو ہنی مون پر کہا لے کر جارہ ہو "۔نگین بیگم کی یہ بات سن کر عمائمہ کے ساتھ ساتھ کیف اور علینہ کے ناشتہ کرتے ہوئے ہاتھ رکھ گے تھے علینہ سے تو یہ بات بالکل بھی برداشت نہیں ہوئی تھی اس لیے تو وہ وہاں سے اٹھ کر چلی گئی تھی ارشمیل کے علاوہ کوئی بھی اس کے یوں اٹھ کر چلے جانے کی وجہ نہیں جانتاتھا ۔
"اب آپ ہی اپنی بہو سے کہے خالہ وہ ہی کئی جانے کے لیے تیار نہیں ہے میں تو کب سے اسے کہے رہا ہو "۔ارشمیل نے سارا الزام عمائمہ پر ڈال دیا وہ جو پہلے سے ہی غصہ تھی اس کی بات سن کر نفرت سے ارشمیل کو دیکھنے لگی تھی پھر کافی دیر تک عدینہ احد اور نگین بیگم نے عمائمہ کی کھنچائی کرتے رہ اور وہ اپنی جگہ پر پیچ وتاب کھاتے رہ گئی تھی ۔
وہ سب سے بچ کر جب لان میں آئی تو دیکھا ارشمیل اور علینہ کو ایک دوسرے کے بہت قریب کھڑے تھے علینہ ارشمیل کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کہے رہی تھی ۔
” تمہیں تو پتا تھا کے میں تم سے کتنی محبت کرتی ہو پھر تم نے کیوں اس لڑکی سے شادی کیا ہے "۔
علینہ عمائمہ سے اتنی نفرت کرتی تھی کے اس کا نام تک اپنی زبان سے لینا گوارہ نہیں کرتی تھی ۔
"مجھے معاف کر دو میں نے تمہارا دل دکھا یا ہے میں تمہیں ہر ٹ نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔”وہ آگے بھی بولنے والاتھا مگر علینہ نے اسے بیچ میں ہی روک دیا۔
” سب جانتے ہوئے بھی تم نےمجھے ہرٹ کیا "۔پتا نہیں کیوں عمائمہ سے ان دونوں کی باتیں بردشت نہیں ہوئی تھی اس لیے وہ وہاں سےچلی گئی تھی اس نے یہ بھی نہیں جاننا چاہاتھا کے ارشمیل علینہ سے اپنی صفائی میں کیاکہنے والا ہے یا اسے اپنی شادی کرنےکا کیا جواز دینے والا ہے ۔
” میں تمہارے جذبات کی دل سے قدر کرتا ہو مگر میں نے تم سے پہلے بھی کہا تھا کے میں تمہارے لیے ایسے جذبات نہیں رکھتا ہومیں صرف تمہیں ایک اچھادوست مانتا تھااورمانتا رمگر تم نے میری دوستی کا الگ ہی مطلب اخذ کرلیاتھا میں صرف عمائمہ سے محبت کرتا ہو تم ہوسکے تو مجھے معاف کردینا "۔اس کی بات سن کر علینہ کادل ٹوٹ چکاتھااسے بہت رونا آرہا تھا مگر وہ ارشمیل کے سامنے رونا نہیں چاہتی تھی اس لیے اس نے مسکراتے ہوئے ارشمیل سے کہا ۔
"میں نے پہلے بھی کئی دفعہ تمہاری آنکھوں میں عمائمہ کے لیے محبت دیکھا تھا میں تو بس تمہارے منہ سے سننا چاہتی تھی اب جوکے تم نے مجھے بتا ہی دیا تو میں مان لیتی ہو مگر تم وعدہ کرو کے تم ہمارے بیچ کی دوستی کو ختم نہیں کرو گے "۔علینہ کی بات سن کر ارشمیل نے مسکراتے ہوئے کہا تھا ۔
"ہاں میں ہمارے بیچ کی اس دوستی کو کیسے ختم کر سکتا ہو تم ہی تو میری ایک لوتی دوست بچی ہو "۔
پھر وہ دونوں کچھ دیرتک باتیں کرنے کے بعد لاؤنج میں مسکراتے ہوئے ایک ساتھ آئےتھے عمائمہ جو کب سے ہاتھ میں بے مطلب میگزین لے کر بیٹھی تھی انھیں آتادیکھ کر اس نے ارشمیل کواور اسے اپنی نگاہوں کے عتاب میں لیااور وہاں سے اٹھ کر اپنے رومیں چلی گئی تھی کئی دن تک اس پر اضطرابی کیفیت طاری رہی تھی اسے سمجھ نہیں آرہاتھا کے اسے کیا ہوا ہےجب بھی ارشمیل اس کے پاس آتا تھا تووہ اسے کوئی نا کوئی ایسا طنزیہ جملہ کہے دیتی تھی کے جس سے وہ شدید غصے میں آجاتا تھا ۔
٭٭٭
کئی سارے دن ایسے ہی گز ر چکے تھے عمائمہ کے دل کی نفرت ارشمیل کے لیے کم ہونے کانام نہیں لے رہی تھی وہ جب بھی اس کے قریب آتااور اس سے پیار محبت کی باتیں کرنے لگتا تھا وہ وہاں بھاگ جاتی تھی ارشمیل اس کے گریز کواس کی جھجک سمجھ رہاتھااسے نہیں خبر تھی کے وہ اندار ہی اندار کیا پلان بنا رہی ہے کیاسوچ رہی وہ جوپہلے اس کی ہر چیز پر نظر رکھتاتھاوہ کیاکر رہی ہے کیا نہیں کہاجارہی ہے کہا نہیں اس نے اب اس کی خبر رکھنا چھوڑ دیاتھا کیونکہ اسے ایسا
محسوس ہوتاتھاکے وہ ایسا کر کے اس پر اعتبار نہیں کررہاہے بلکے اس پرشک کررہاہے وہ ابھی ابھی آفس سے آیاتھا مگر اسے عمائمہ روم میں نظر نہیں آئی تو وہ سمجھا کے وہ عدینہ کے ساتھ ہوگی اس لیے اس نے اپنا کوٹ دور اچھال کر پھیک دیااور ٹائی کے نٹ ڈھلے کرکے بیڈ پر گر سا گیا وہ ابھی آنکھیں بند کیے لیٹا ہی تھا کے دروازے پر دستک ہوئی ارشمیل کو لگا کے ملازم آیا ہے اس کے لیےکافی لے کراس لیے اس نے ایسے ہی آنکھیں موندے ایجازت دیا تھااس کی ایجازت ملتے ہی علینہ روم میں آگئی تھی علینہ غور سے ارشمیل کے چہرے کے خوبصورت خد وخال دیکھنے لگی تھی کے تبھی ارشمیل کسی کی نظروں کی گہری تپش محسوس کرکے آنکھیں کھولنے پر مجبور ہوگیا تھا ارشمیل نے چونک کراپنے سامنے کھڑی علینہ کو دیکھااوراپنی جگہ اٹھ کر بیٹھتے ہوئے بولا ۔
"ارے تم کب آئی علینہ مجھے لگاکےانوار آیا ہے کافی لے کر "۔
"میں ہی دستک دے کر اندار آئی تھی مجھے لگا کے تم ابھی جاگ رہ ہوگے مگر جو اندار آکر دیکھاتو تم لیٹے ہوئے تھے اس لیےمیں نے تم کو جگانا مناسب نہیں سمجھا تھا "۔اس کی بات سن کر ارشمیل مسکراتے ہوئے بولا ۔
"نہیں وہ بس میں ایسے ہی لیٹا تھا تم بتاؤ کیسے میرے روم میں آنا ہوا "۔ارشمیل اسے اپنے روم
میں دیکھ کر چونک گیاتھا کیونکہ اس سے پہلے علینہ کبھی بھی اس کے روم میں نہیں آئی تھی ۔
"وہ دراصل مجھے کچھ ضروری چیزوں کی شاپنگ کرنا ہے عمائمہ جب باہر جارہی تھی تو میں نے اس سے کہا بھی کے مجھے ساتھ لے جائے مگر عمائمہ نے یہ کہے کرانکار کردیا کے اسے کچھ ضروری کام سے جانا ہے اور تم کو تو پتا ہے مجھے یہاں کے مال و شاپنگ سینٹر وغیرہ کے بارے میں پتا نہیں ہے "۔اس کی بات سن کر ارشمیل حیران ہوگیا کے عمائمہ کہا جا سکتی ہے وہ تو اپنے گھر بھی نہیں جاسکتی تھی پھر اب وہ کہا گئی ہوگی اور کیوں گئی ہے تبھی وہ اپنے جیب سے موبائیل نکال کر اسے کال کرنے لگا تھا مگر عمائمہ نے اس کا ایک بھی کال ریسیو نہیں کیا تھااسے اب عمائمہ کی فکر گھیرنے لگی تھی اس لیے تووہ اپناسر تھا م کر بیٹھ گیا تھااسے پریشان بیٹھادیکھ کر علینہ گھٹنوں کے بل اس کے قدموں میں بیٹھ گئی اور اس کے ہاتھ پر اپناہاتھ رکھتے ہوئے بولی ۔
"کیابات ہے ارشمیل تم اتنے پریشان کیوں ہوگے ہو "۔اس کی بات سن کر ارشمیل نے اپناسر اٹھا کر اسے دیکھااور بولا ۔
"نہیں بس ایسے ہی "۔اس ہی اثناء میں عمائمہ وہاں آگئی اس کی آنکھوں نے یہ منظر بہت اچھی طرح سے دیکھا تھامگر پھراس نے ایک سر سری نظر ان دونوں پر ڈالااور اندار آگئی ارشمیل اسے دیکھ کر اپنی جگہ پراٹھ کھڑا ہوگیااور بولا ۔
"کہاگئی تھی تم ؟”عمائمہ کوعلینہ کے سامنے اس کا ایسے سوال کرنابالکل بھی پسند نہیں آیاتھااس لیے وہ دھیرے سے بولی ۔
"مجھے اپناایک ضروری کام نپٹاناتھا "۔ارشمیل سمجھ گیاتھا کے وہ علینہ کے سامنے پوری بات بتانا نہیں چاہتی ہےاس لیے اس نے زیادہ کریدنامناسب نہیں سمجھاتھا ۔
"کیا تم ہمارے ساتھ شاپنگ پرچلناپسند کروگی "۔اب ارشمیل نےاسے اپنےساتھ شاپنگ پر چلنے کی آفردیاتھا جس کواس نے بہت سختی سے رد کردیاتھا ۔
"نہیں میں بہت تھک گئی ہو "۔ اس کاانکار سن کر ارشمیل کا دل چاہاکے وہ بھی نا جائے مگراس نے علینہ کے ساتھ جانے کے لیے ہامی بھر لیا تھااس لیے اسے مجبوراً اس کے ساتھ جانا ہی پڑاان دونوں کوایک ساتھ جاتا دیکھ کر عمائمہ کے دل کوکچھ ہونے لگاتھامگروہ اپنے دل کی کیفیت سمجھنے
سے قاصرتھی ۔
اسے اس بات کا دکھ ستارہاتھاکے زندگی کے اتنے طویل سفرکووہ کیسے کاٹے گی کیسے وہ آگے کی زندگی تنہاجیئے گی اس گھر میں جتنے بھی لوگ تھے سب کے سب اپنی اپنی زندگی جی رہ تھے کسی کی زندگی کسی کوبھی پرواہ نہیں کوئی کسی کے زندگی میں دخل نہیں دیتاتھا ناہی وہ اپنےدل کی باتیں عدینہ کوبتاسکتی تھی ان سب کے بیچ وہ خود کوبہت تنہامحسوس کرتی تھی اسے ایسالگتا کے ارشمیل نے زبردستی اسے اپنی زندگی میں شامل نہیں کیاہے بلکہ وہ خود اپنی مرضی سے زبردستی اس کے زندگی میں آئی ہے تنہائی کا احساس اسے دن رات ماررہاتھااس لیےاس نے اس بےنام سی تنہائی سے پیچھاچھڑانے کے لیےایک فیصلہ لیاتھاایسافیصلہ جوسب کی زندگی کو بدل سکتاتھا وہ ابھی اپنے فیصلے کے بارے میں سوچ رہی تھی کے وہ دونوں واپس آگے ان کے ہاتھ شاپنگ بیگ سے لدے ہوئے تھے دونوں کوایک ساتھ اندار آتادیکھ کر عمائمہ اپنی جگہ پر سے اٹھ گئی اور جبرا مسکراتے ہوئے بولی ۔
"آگے آپ لوگ "۔اس کی بات کوارشمیل نے اگنور کردیا تھا جبکے علینہ نے جواب دیاتھا ۔
"ہاں آگے ہے ہم نے دھیر ساری شاپنگ کیا ہےتمہارے لیے بھی بہت کچھ خریداہے "۔علینہ مسکراتے ہوئے بولی تھی علینہ کااس کے ساتھ کچھ دن سے کافی اچھابرتاؤ ہوچکاتھا جسے دیکھ کر وہ سوچتی رہتی تھی کے یہ بھی ارشمیل کی کوئی نئی چال ہے علینہ اورارشمیل ایک ساتھ بیٹھ گے اور اپنی شاپنگ کی باتیں کرنےلگے اس سے ان دونوں کاایک ساتھ رہنابرداشت نہیں ہوا تووہ وہاں سے اٹھ کرجانے لگی تھی کے تبھی ارشمیل بولا۔
"پلیز ہم دونوں کے لیے دو کپ کافی بھیج دینا”۔ارشمیل کی بات سن کروہ اثبات میں سرہلاتے ہوئےوہاں سے نکل گئی تھی اسےاس وقت ارشمیل پربہت غصہ آرہاوہ خودسے ہی بڑ بڑاتے ہوئے جارہی تھی ۔
"مجھے ملازمہ سمجھ رکھا ہے کیا میں کیوں اس کام کرؤ جسے ضرورت ہوگی وہ خود ہی کرے گا ہنہ "۔
وہ بڑبڑاتے ہوئےنیچے چلی آئی اورعدینہ کے روم میں جاکر بیٹھ گئی اس نے ناہی خود کافی بنایاتھا نا ہی کسی ملازم سے کہے کر بنوایا تھا وہ عدینہ کے روم میں بیٹھی کچھ سوچتے ہوئے اپنی نیل پالش کو گھورہی تھی تبھی عدینہ بولی ۔
"آپی کیا بات ہے آپ آج کل کچھ زیادہ ہی پریشان نظر آرہی ہے "۔عدینہ کی بت سن کر وہ
چونک گئی تھی تبھی نفی میں اپناسرہلاتے ہوئے بولی ۔
"نہیں توایسی کوئی بات نہیں تم کچھ زیادہ ہی دھیان دتی ہو مجھ پر "۔اس کی بات سن کر عدینہ مسکراتے ہوئے بولی ۔
"وہ اس لیے آپی کے آپ خود پردھیان نہیں دیتی ہےتو مجھے ہی آپ کی کئیر کرناپڑھتا ہے وہ تو اچھا ہوا آپ کی شادی مرتضی بھائی سے نہیں ہوئی ہےاگران سے ہوجاتی تو میں کیسے آپ کا دھیان رکھ پاتی تھی "۔غلطی سے عدینہ کے منہ سے مرتضی کا نا م نکل گیاتووہ خود ہی اپنی اس نادانی پر اپنے آپ کو ملامت کرنے لگی تھی کیونکہ سامنے بیٹھی عمائمہ کا چہرہ مرتضی کانام سن کر ہی دھوا دھوا ہو چکا تھا عمائمہ ایک جَست سے وہاں سے اٹھ کر چلی گئی تھی وہ اپنے روم دو بارہ آئی تواس کا روم علینہ اورارشمیل سے خالی تھا اس نے ابھی سکون کا سانس لیا تھا بھی نہیں تھا کے اسے اپنے پیچھے سے ارشمیل کی آواز نظر آئی تھی ۔
"میں نے کب سے تمہیں کافی لینے کے لیے بھیجا تھا مگرتم تو غائب ہی ہوگئی تھی "۔ارشمیل کی بات سن کر وہ غصے سے پلٹی تھی اور بولی ۔
"میں تمہاری ملازم نہیں ہو تم انٹر کام پر بھی تو بول سکتے تھے نا کافی کا مگر نہیں تمہیں تو صرف میں ہی نظر آتی ہو تکلیف دینے کے لیے "۔اس کی بات سن کر ارشمیل مسکراتے ہوئے اس کے
نزدیک آیاتھااور اس کی سامنے آئی ہوئی لٹ کو پیچھے کرتے ہو ئے بولا ۔
"میں تمہیں زحمت نہیں دوگا تو کسے دو گا "۔عمائمہ نے اس کا ہاتھ جھٹک دیااوربولی ۔
"اسے ہی دیتے ناجو تمہارے ساتھ کافی پینا چاہ رہی تھی "۔اس کی یہ باس کر ارشمیل کی مسکراہٹ قہقہے میں بدل گئی تھی اس نے اپنی نظروں میں عمائمہ کے حسین سرآپے کو لیتے ہوئے بولا ۔
” تو پھر یہ سب کا کروانے کے لیے مجھے علینہ سےدوسری شادی کرنا ہو گا "۔اس کی یہ بات آگ میں تیل کا کام کر گئی تھی وہ تڑخ کربولی ۔
"شوق سے کرو علینہ سے شادی ویسے بھی تم نے مجھ سے زبردستی شادی کیےتھے "۔اتنا کہے کروہ جانے لگی تھی کے ارشمیل نے اس کا ہاتھ پکڑ لیااوراسے کھنچ کر اپنے طرف کیا اور اس کی کمر کے گرد اپنے بازوں کا حصار باندھتے ہوئے بولا ۔
"بہت دن ہوگے ہے ہم نے جم کر فائٹ نہیں کیے چلو آج کرتے ہے "۔ اس کی بات سن کر عمائمہ غصے سےبولی ۔
"مجھے تم سے نا بات کرنے کا شوق ہے نا جھگڑنے کا "۔
"اچھا تو پھر اب کونسے نئے شوق پال لیے ہے میری وائف نے”۔ اس کی بات سن کر عمائمہ ایک جَست سے اس کے بازوں ک حصارہ توڑتے ہوئے بولی ۔
"نئے نئے شوق تو تم پالتےہو مسٹر ارشمیل یزدامیں نہیں "۔اس کی اتنی کڑوی باتیں سن کرہرروز کی طر ح ارشمیل سرد آئیں بھرتارہ گیاتھا ۔
٭٭٭
شام کا وقت تھا پورے گھر میں ایک بے نام سی خاموشی چھائی ہوئی تھی پتانہیں سب اسے بتائے بغیر کہاچلے گے تھے وہ جب نیند سے جاگی تھی تب اسے پورا یزدانی ہاؤس خالی دیکھاتھاجس سے
وہ تشویش میں پڑھ گئی تھی تبھی وہ سامنے سے آتے ہوئے انوار کو مخاتب کیا۔
"سنو سب لو کہاگے ہے "۔
"میڈم گھر کے تمام افراد کسی پارٹی میں گے ہے "۔ملازم نے بڑے ہی مہذب طریقے سے کہااور اپناسر جھکا کر چل دیا تھا وہ یہ سن کر وہ حیران ہوگی تھی کے کسی نے اسے جگا کر بتا تو دور یہ تک نہیں پوچھاتھا کے وہ پارٹی میں چل رہی ہے یا نہیں وہ جیسے اپنے روم سے آئی تھی ویسے ہی چلی گئی تھی اسے بہت دکھ ہو رہا تھا کے اس گھر میں کوئی اسےاہمیت نہیں دیتا ہے وہ اپنے دل کا بوجھ اپنے
آنسوں کے ذریعے کم کررہی تھی تبھی اس کے روم کے دروازے پر دستک ہوئی اس نے سمجھ کے کوئی ملازم ہے اس لیے اس نے ایجازت دے دیا اس کی ایجازت پاتے ہی کیف روم میں آگیا تھا وہ اسے روتا دیکھ کر کھنکارتے ہوئے بولا ۔
"آہم کیا میں جان سکتا ہو کے آپ کیوں رورہی ہے "۔کیف کی آواز سن کر وہ اپنی سن ہوگئی تھی اسے نہیں پتا تھا کے اس کے روم میں کیف موجود ہے وہ اپنے آنسوں صاف کرتے ہوئے اپنی جگہ پر آتھ کھڑی ہوئی تھی اور بولی تھی ۔
"نہیں وہ بس ایسے ہی رو رہی تھی "۔ اس کی بات سن کر کیف اس سے دو قدم کا فاصلہ مٹاتے ہوئے آیااور اسکے سرآپے پر اوپر سے لے کر نیچے تک نظریں دڑاتے ہوئے بولا ۔
"ایسے ہی کوئی ہمیشہ نہیں روتا کوئی کو ئی بات ضرور ہے "۔اسے کیف کاایسا دیکھنا بالکل بھی پسند نہیں آیا تھااس کی یہ نظریں پورے وجود میں سنسناہٹ پیدا کر گئی تھی اسے اس کی چھٹی حس سائن دئے رہی تھی کے بہت کچھ غلط ہونے والا ہے تبھی وہ دھیرے سے مگر سختی سے بولی تھی ۔
"نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے "۔
"ایسی کوئی بات نہیں ہے تو آپ کی ان خوبصورت آنکھوں میں آنسوں کیوں ہے "۔اپنی بات کہے کر کیف نے اس کا ہاتھ تھا م لیا تھا جس سے وہ اپنی جگہ بھونچکا کررہ گئی تھی تبھی وہ کرنٹ کھا
کراس سے دور ہونے کی کوشش کررہی تھی مگر کیف نے ایسا ہونے نہیں دیا تھاکیفنے ایک جست سے اسےاس کے بازوںسے تھام لیا تھا اس کی اس خرکت کو عمائمہ برداشت نہیں کر پائی تھی تبھی تو اس کا ہاتھ اٹھ گیا تھاکیف اس کا تھپڑ کھا کر شاید سدمے میں چلا گیا تھااس لیے تو کچھ پل کے لیے ساکت ہو گیا تھا اس کی آنکھیں لہو ہورہی تھی عمائمہ نے اس ہی موقع کافائدہ اٹھا کر اسے دھکا دیا تھا وہ وہاں سے نکل جانا چاہتی تھی مگراس کا پیر بری طرح میز سے ٹکرا گیا جس سے اس کے پیر میں شدید درد کی لہر ابھری تھی مگر وہ اپنے پیر کی بھی پرواہ کیے بغیر وہاں سے بھاگنے کے لیے آگے بڑی تھی کے اتنے دیر میں کیف نے روم کادروازہ اندار سے لاک کردیاتھا یہ دیکھ کر اس کے کب کے روکے آنسوں بہے نے تھے اسے اس وقت اللہ کے ساتھ ساتھ ارشمیل بہت یاد آرہاتھا وہ دل میں ہی ارشمیل سے بولی تھی ۔
"پلیز ارشمیل آجاؤ "۔
"محبت کرنے لگا ہو تم سے مگر تم ہوکے تمہاری اکڑ ہی ختم ہونے کانام نہیں لےرہی ہے "۔
کیف کی بات سن کر عمائمہ نے اپنے آنسوں بے دردی سے رگڑتے ہوئے بولی ۔ "اسے محبت نہیں کہتے ہے اسے تو حوس پرستی کہتے ہے اور میں کیسے کسی غیر کوخود کو ناپاک کرنےدو تمہیں یہ کہتے ہوئے تھوڑی سی بھی شرم نہیں آئی یہ سب سوچنے سے پہلے کم از کم اتنا ہی دھیان میں رکھ لیتے کے میں تمہاری بھابھی ہو "۔
"نہیں ہو تم میری بھابھی تم میرےلیے صرف عمائمہ ہو تمہیں پتا ہے میں نے جب سے تمہیں دیکھاتھاتب سے تم میرےاس دل میں سماگئی ہو تب سے میں تم سےدیوانو ں کی طرح چاہنے لگا ہو مگر تم ہوکے کچھ بھی سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں ہو”۔کیف دھیرے دھیرے اس کے طرف قدم بڑھاتے ہوئے بولا تھا وہ اپنے طرف اس کے بڑھتے ہوئے قدم دیکھ کر بولی ۔
"پلیز کیف ایسا مت کرؤ "۔
"نہیں عمائمہ میں اب اس دل کو اور نہیں سمجھا سکتا ہو "۔اتنا کہے کر اس نے عمائمہ کو اپنےبازوں میں دبوچ لیا تھا اپنے بچاؤں کے لیے عمائمہ کے منہ سے ایک آخری بارارشمیل کے نام کی دلخراش کرنے والی چیخ نکلی تھی ۔
"ارشمیل۔۔۔۔۔”
جاری ہے
#ازصاحبہ_فردوس
#قسط_12
وہ اس کی قربت سے پتھر کی بت بنی کھڑی تھی وجود میں کوئی ہل چل ہی نہیں ہورہی تھی بس ایک دل ہی تھاجوبہت تیزی سے دھڑک رہا تھا اور احساس دلارہاتھاکےدو جسم اس وقت ایک دوسرے کے بہت قریب ہے ارشمیل اس کے خوبصورت خد وخال کودیکھنے لگا تبھی اس جادوئی لمحہ کے زیِر اثر ارشمیل نے اس لبوں پر اپناہاتھ رکھا دیااور اسے محسوس کرنے لگا تھا کے اس کی اس حرکت سے عمائمہ نے نفرت سے اس کا ہاتھ جھٹک دیاتھا مگر ارشمیل نے اس کی پرواہ نہیں کیا تھااس پر تو عمائمہ کے حُسن کاجادو سر چڑھ کر بول رہاتھا تبھی اس نے عمائمہ کے ارد گرد اپنے بازوں کا حصارہ باندھ د یاتھااور اس کے جانے کی ہر راہ بند کردیا عمائمہ کی سانسوں کی رفتار اور تیز ہوگئی تھی دونوں کے دل دھڑکن ایک نئے بنتے ہوئے رشتے کی کہانی بیان کررہی تھی عمائمہ کو ایسا محسو س ہوا تھا کے وہ ابھی اس لمحہ میں بہے گئی تو پھر کبھی خود کو ارشمیل سے محبت کرنے سے روک نہیں پائے گی پھر کبھی وہ اس سے آزاد نہیں ہوپائے گی تبھی اس نے اس کی باہوں کے حصارے سے آزاد ہونے کے لیے احتجا ج کیا تھا ارشمیل کواس پر شائد ترس آچکاتھااس لیےاس نے اسے چھوڑ دیتے ہوئے بولا۔
"بہت حسین لگ رہی ہو”۔ اتناکہے کروہ جیسا آیاتھا ویسے ہی چلاگیا عمائمہ دم بخود سی کھڑے رہی
وہ ابھی بھی شاید ایسے ہی کھڑے رہتی مگر ملازم نے دروازے پردستک دےکراس کا دھیان بٹایا تھا انور کی آواز سن کر وہ ہوش کی دنیامیں لوٹ آئی اور نیچے چلی گئی پارٹی عروج پر تھی شہر کے نامی گرامی ہستی لوگ وقار یزدانی کے بیٹے اور ارشمیل یزدانی کے بھائی احد یزدانی کی خوشی میں شامل ہوئےتھےاس کی خوشی میں خوش تھےعمائمہ کی نظر عدینہ پر پڑی عدینہ نے خوبصورت لائٹ کلر کی ساڑی پہنی تھی ہلکی سی جیولری اور ہلکے میک آپ میں وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی وہ عدینہ کے پاس آئی اور اس کے ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامتے ہوئے گرم جوشی سے بولی ۔
"بہت بہت مبارک ہو اللہ تمہاری ساری دعائیں پوری کرے "۔اس کی بات سن کر عدینہ مسکراتے ہوئے اس کے گلے لگ گئی اور بولی ۔
"بس آپی آپ کے ساتھ کی اور آپکی دعا ؤں کی ضرورت ہے "۔اس کی بات سن کر عمائمہ بھی مسکرادی تبھی وہاں احد بھی چلا آیااورشرارت سے بولا۔
"بھابھی مجھے تو آپ نے مبارک باد دیا ہی نہیں "۔اس کی بات سن کر عمائمہ ہنستے ہوئےبولی۔ "ارے ہاں میں تو تمہیں مبارک باد دینا بھول ہی گئی تمہیں بھی بہت بہت مبار ک ہو میں چاہتی ہو تم دونوں ہمیشہ ایک ساتھ رہو اور خوش رہو "۔ اتنا کہے کر عمائمہ نے عدینہ کاہاتھ احد کے ہاتھ میں تھاما دیا احد نے عدینہ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کراسےگرجوشیسے دباتے ہوئے عمائمہ سےبولا۔
"انشااللہ ہم دونوں ایک دوسرے کاساتھ کبھی نہیں چھوڑے گے "۔احد کی بات سن کر عمائمہ مسکراتے ہوئے پلٹ گئی تبھی اس کی ٹکر کیف سے ہوئی کیف نے اسے دیکھا تو بس دل تھا م کر رہ گیا تھا وہ کیف کو دیکھ کر گھبراتے ہوئے بولی ۔
"آئے ایم سوری مجھے نہیں پتا تھا آپ میرے پیچھے کھڑے ہے "۔اس کی بات سن کر کیف اس کے خوبصورت سرآپے کو اپنی نظروں کے حصارے میں لیتے ہوئے بولا ۔
"آپ سوری مت کیجیے "۔اس کی بات سن کر وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھنے والی تھی کے کیف نے آواز دے کر کہا ۔
"سنُے عمائمہ کیا آپ میرے ساتھ ڈانس کرے گی "۔اس کی فرمائش سن کر عمائمہ دنگ رہ گئی تھی وہ پہلے ہی ارشمیل کی بات سن کر اس سے دوری بنا کررکھ رہی تھی تبھی تو اس کی یہ بات عمائمہ کو بہت عجیب لگی تھی اس لیے وہ سہولت سے انکار کرتے ہوئے بولی ۔
"نہیں مجھے ڈانس کرنا نہیں آتا ہے "۔اتنا کہے کر وہ وہاں سے چلی گئی تھی اس نے یہ بھی نہیں سنا تھاکے کیف اس سے کیا کہے رہا تھا وہ بس آگے بڑھتی جا رہی تھی ارشمیل کی نگاہیں اس ہی پر ٹکی ہوئی تھی اس نے مسکراتی ہوئی نظروں سے عمائمہ کو جاتے ہوئے دیکھا تھا آج اسے عمائمہ پر ٹو ٹ کر پیا ر آیا تھا دل بے قرار ہورہا تھااس سے اظہارِمحبت کرنے کے لیے مگر پھر اس نے اپنے
بے چین ہوتے دل کو سنبھال لیااور پارٹی انجوائے کرنے لگا پارٹی ختم ہونے کے بعد وہ کچھ دیر تک اپنے دوستوں کے ساتھ رہا تھاپھر جب وہ اپنے روم میں آیا تو دیکھا عمائمہ پہلے سے ہی روم میں موجود تھی بیڈ پر آرام فر ما رہی تھی وہ اسے یہاں دیکھ کر حیران نہیں ہوا تھاوہ دونوں نگین بیگم اور ان کی فیملی کے آنے کے بعد سے ایک ہی روم میں رہ رہے تھے کیونکہ ان کے روم کے بازوں کے گیسٹ روم میں کیف رہ کر ان دونوں پر کڑی نظر رکھ رہاتھا کیونکہ اسے ان دونوں کے رشتے پر شک تھا اور وہ الگ الگ روم میں رہ کر اس کے شک کو یقین میں تبدیل نہیں کرنا چا ہتے تھے اس لیے ایک رو م میں رہ رہے تھے وہ اپنے کپڑے تبدیل کر کے آیا اور صوفے پر جاکر دراز ہوگیا تھا۔
٭٭٭
عمائمہ نیند سے جاگی تواس پہلےاس کی نظر سیدھے صوفےپر لیٹے ارشمیل پر پڑی اس نے ارشمیل کو نظر بھر کر دیکھنے سے گریز کیا تھا وہ اپنی جگہ سے اٹھی فریش ہو کر نیچے چلی گئی نیچے ہرروز کی طرح محفل جمی ہوئی تھی شہلابیگم اپنی چھوٹی بہوں کی آو بھگت کرنے میں مصروف تھے اسے وہ اپنے ہاتھ سے سیب کاٹ کر زبردستی کھلا رہے تھے ۔
"عدینہ یہ لو بیٹا بس اتنا آخری پیس کھا لو "۔
"نہیں ممی مجھ سے اب نہیں کھایا جارہا ہے "۔عدینہ براسامنہ بناتے ہوئے بولی ۔
وہ یہ سب نظارہ دیکھ کر خوش ہوگئی تھی وہ بھی ان کے بیچ جاکر بیٹھ گئی کیف جو احد سے باتیں کرنے میں بزی تھا اسے دیکھ کر کچھ دیر کے لیے رکھ گیاتھا پھر دوبارہ باتوں میں مصروف ہوگیا علینہ جواس کے پاس بیٹھی تھی وہ اسے دیکھ کر دور کھسک گئی تھی عمائمہ نےاس کی یہ حرکت بڑےغور سے نوٹ کیاتھا وہ دیکھ رہی تھی جب سے وہ ان کے گھر آئی تھی علینہ نے کبھی اسے خود ہوکر مخاتب کرنے کی کوشش نہیں کیا تھا اور اگر وہ اس سے بات کرنے کی کوشش کرتی تووہ اس سے سیدھے منہ بات نہیں کرتی تھی اس لیے عمائمہ بھی اس سے بات نہیں کرتی تھی وہ علینہ کونظرانداز کرتے ہوئے نگین بیگم سے باتیں کرنے لگی تھی وہ شہلابیگم سے زیادہ نگین بیگم سے فری تھی اسے ان کی کمپنی میں بوریت محسوس نہیں ہوتی تھی ارشمیل جب نیند سے جاگ کر فریش ہو کر نیچے آیا توسب کوایک جگہ بیٹھادیکھ کر بولا۔
"کیا آج ناشتہ نہیں ملنے والا”۔ارشمیل کی بات سن کر سب اسے دیکھنے لگے تھے پھرنگین بیگم بولے ۔
"ہم تو آپ کا ہی انتظار کررہ تھے کے کب آپ جاگتے ہے اور کب ہم ایک ساتھ مل کر ناشتہ کرتے ہے اب آپ اتنے جلدی آہی گے ہے تو چلے ناشتہ کرنے "۔ارشمیل نگین بیگم کی
مذاق کرنے کی عادت جانتاتھا اس لیے وہ بنا برا مانے مسکراتے ہوئے ڈائننگ ہال کےطرف بڑھ گیاتھااسکے پیچھے ہی سبھی گھر والے چل دئے تھے ناشتے کے دوران احد نے ارشمیل کو مخاتب کرتے ہوئے بولا۔
"بھائی اب آپ کا کیا اردہ ہے "۔احد کی بات سن کر ارشمیل ناسمجھی سےاس کے طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔
"کونسااردہ ؟”
"مطلب یہ کے تم اب ہماری بہو کو ہنی مون پر کہا لے کر جارہ ہو "۔نگین بیگم کی یہ بات سن کر عمائمہ کے ساتھ ساتھ کیف اور علینہ کے ناشتہ کرتے ہوئے ہاتھ رکھ گے تھے علینہ سے تو یہ بات بالکل بھی برداشت نہیں ہوئی تھی اس لیے تو وہ وہاں سے اٹھ کر چلی گئی تھی ارشمیل کے علاوہ کوئی بھی اس کے یوں اٹھ کر چلے جانے کی وجہ نہیں جانتاتھا ۔
"اب آپ ہی اپنی بہو سے کہے خالہ وہ ہی کئی جانے کے لیے تیار نہیں ہے میں تو کب سے اسے کہے رہا ہو "۔ارشمیل نے سارا الزام عمائمہ پر ڈال دیا وہ جو پہلے سے ہی غصہ تھی اس کی بات سن کر نفرت سے ارشمیل کو دیکھنے لگی تھی پھر کافی دیر تک عدینہ احد اور نگین بیگم نے عمائمہ کی کھنچائی کرتے رہ اور وہ اپنی جگہ پر پیچ وتاب کھاتے رہ گئی تھی ۔
وہ سب سے بچ کر جب لان میں آئی تو دیکھا ارشمیل اور علینہ کو ایک دوسرے کے بہت قریب کھڑے تھے علینہ ارشمیل کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کہے رہی تھی ۔
” تمہیں تو پتا تھا کے میں تم سے کتنی محبت کرتی ہو پھر تم نے کیوں اس لڑکی سے شادی کیا ہے "۔
علینہ عمائمہ سے اتنی نفرت کرتی تھی کے اس کا نام تک اپنی زبان سے لینا گوارہ نہیں کرتی تھی ۔
"مجھے معاف کر دو میں نے تمہارا دل دکھا یا ہے میں تمہیں ہر ٹ نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔”وہ آگے بھی بولنے والاتھا مگر علینہ نے اسے بیچ میں ہی روک دیا۔
” سب جانتے ہوئے بھی تم نےمجھے ہرٹ کیا "۔پتا نہیں کیوں عمائمہ سے ان دونوں کی باتیں بردشت نہیں ہوئی تھی اس لیے وہ وہاں سےچلی گئی تھی اس نے یہ بھی نہیں جاننا چاہاتھا کے ارشمیل علینہ سے اپنی صفائی میں کیاکہنے والا ہے یا اسے اپنی شادی کرنےکا کیا جواز دینے والا ہے ۔
” میں تمہارے جذبات کی دل سے قدر کرتا ہو مگر میں نے تم سے پہلے بھی کہا تھا کے میں تمہارے لیے ایسے جذبات نہیں رکھتا ہومیں صرف تمہیں ایک اچھادوست مانتا تھااورمانتا رمگر تم نے میری دوستی کا الگ ہی مطلب اخذ کرلیاتھا میں صرف عمائمہ سے محبت کرتا ہو تم ہوسکے تو مجھے معاف کردینا "۔اس کی بات سن کر علینہ کادل ٹوٹ چکاتھااسے بہت رونا آرہا تھا مگر وہ ارشمیل کے سامنے رونا نہیں چاہتی تھی اس لیے اس نے مسکراتے ہوئے ارشمیل سے کہا ۔
"میں نے پہلے بھی کئی دفعہ تمہاری آنکھوں میں عمائمہ کے لیے محبت دیکھا تھا میں تو بس تمہارے منہ سے سننا چاہتی تھی اب جوکے تم نے مجھے بتا ہی دیا تو میں مان لیتی ہو مگر تم وعدہ کرو کے تم ہمارے بیچ کی دوستی کو ختم نہیں کرو گے "۔علینہ کی بات سن کر ارشمیل نے مسکراتے ہوئے کہا تھا ۔
"ہاں میں ہمارے بیچ کی اس دوستی کو کیسے ختم کر سکتا ہو تم ہی تو میری ایک لوتی دوست بچی ہو "۔
پھر وہ دونوں کچھ دیرتک باتیں کرنے کے بعد لاؤنج میں مسکراتے ہوئے ایک ساتھ آئےتھے عمائمہ جو کب سے ہاتھ میں بے مطلب میگزین لے کر بیٹھی تھی انھیں آتادیکھ کر اس نے ارشمیل کواور اسے اپنی نگاہوں کے عتاب میں لیااور وہاں سے اٹھ کر اپنے رومیں چلی گئی تھی کئی دن تک اس پر اضطرابی کیفیت طاری رہی تھی اسے سمجھ نہیں آرہاتھا کے اسے کیا ہوا ہےجب بھی ارشمیل اس کے پاس آتا تھا تووہ اسے کوئی نا کوئی ایسا طنزیہ جملہ کہے دیتی تھی کے جس سے وہ شدید غصے میں آجاتا تھا ۔
٭٭٭
کئی سارے دن ایسے ہی گز ر چکے تھے عمائمہ کے دل کی نفرت ارشمیل کے لیے کم ہونے کانام نہیں لے رہی تھی وہ جب بھی اس کے قریب آتااور اس سے پیار محبت کی باتیں کرنے لگتا تھا وہ وہاں بھاگ جاتی تھی ارشمیل اس کے گریز کواس کی جھجک سمجھ رہاتھااسے نہیں خبر تھی کے وہ اندار ہی اندار کیا پلان بنا رہی ہے کیاسوچ رہی وہ جوپہلے اس کی ہر چیز پر نظر رکھتاتھاوہ کیاکر رہی ہے کیا نہیں کہاجارہی ہے کہا نہیں اس نے اب اس کی خبر رکھنا چھوڑ دیاتھا کیونکہ اسے ایسا
محسوس ہوتاتھاکے وہ ایسا کر کے اس پر اعتبار نہیں کررہاہے بلکے اس پرشک کررہاہے وہ ابھی ابھی آفس سے آیاتھا مگر اسے عمائمہ روم میں نظر نہیں آئی تو وہ سمجھا کے وہ عدینہ کے ساتھ ہوگی اس لیے اس نے اپنا کوٹ دور اچھال کر پھیک دیااور ٹائی کے نٹ ڈھلے کرکے بیڈ پر گر سا گیا وہ ابھی آنکھیں بند کیے لیٹا ہی تھا کے دروازے پر دستک ہوئی ارشمیل کو لگا کے ملازم آیا ہے اس کے لیےکافی لے کراس لیے اس نے ایسے ہی آنکھیں موندے ایجازت دیا تھااس کی ایجازت ملتے ہی علینہ روم میں آگئی تھی علینہ غور سے ارشمیل کے چہرے کے خوبصورت خد وخال دیکھنے لگی تھی کے تبھی ارشمیل کسی کی نظروں کی گہری تپش محسوس کرکے آنکھیں کھولنے پر مجبور ہوگیا تھا ارشمیل نے چونک کراپنے سامنے کھڑی علینہ کو دیکھااوراپنی جگہ اٹھ کر بیٹھتے ہوئے بولا ۔
"ارے تم کب آئی علینہ مجھے لگاکےانوار آیا ہے کافی لے کر "۔
"میں ہی دستک دے کر اندار آئی تھی مجھے لگا کے تم ابھی جاگ رہ ہوگے مگر جو اندار آکر دیکھاتو تم لیٹے ہوئے تھے اس لیےمیں نے تم کو جگانا مناسب نہیں سمجھا تھا "۔اس کی بات سن کر ارشمیل مسکراتے ہوئے بولا ۔
"نہیں وہ بس میں ایسے ہی لیٹا تھا تم بتاؤ کیسے میرے روم میں آنا ہوا "۔ارشمیل اسے اپنے روم
میں دیکھ کر چونک گیاتھا کیونکہ اس سے پہلے علینہ کبھی بھی اس کے روم میں نہیں آئی تھی ۔
"وہ دراصل مجھے کچھ ضروری چیزوں کی شاپنگ کرنا ہے عمائمہ جب باہر جارہی تھی تو میں نے اس سے کہا بھی کے مجھے ساتھ لے جائے مگر عمائمہ نے یہ کہے کرانکار کردیا کے اسے کچھ ضروری کام سے جانا ہے اور تم کو تو پتا ہے مجھے یہاں کے مال و شاپنگ سینٹر وغیرہ کے بارے میں پتا نہیں ہے "۔اس کی بات سن کر ارشمیل حیران ہوگیا کے عمائمہ کہا جا سکتی ہے وہ تو اپنے گھر بھی نہیں جاسکتی تھی پھر اب وہ کہا گئی ہوگی اور کیوں گئی ہے تبھی وہ اپنے جیب سے موبائیل نکال کر اسے کال کرنے لگا تھا مگر عمائمہ نے اس کا ایک بھی کال ریسیو نہیں کیا تھااسے اب عمائمہ کی فکر گھیرنے لگی تھی اس لیے تووہ اپناسر تھا م کر بیٹھ گیا تھااسے پریشان بیٹھادیکھ کر علینہ گھٹنوں کے بل اس کے قدموں میں بیٹھ گئی اور اس کے ہاتھ پر اپناہاتھ رکھتے ہوئے بولی ۔
"کیابات ہے ارشمیل تم اتنے پریشان کیوں ہوگے ہو "۔اس کی بات سن کر ارشمیل نے اپناسر اٹھا کر اسے دیکھااور بولا ۔
"نہیں بس ایسے ہی "۔اس ہی اثناء میں عمائمہ وہاں آگئی اس کی آنکھوں نے یہ منظر بہت اچھی طرح سے دیکھا تھامگر پھراس نے ایک سر سری نظر ان دونوں پر ڈالااور اندار آگئی ارشمیل اسے دیکھ کر اپنی جگہ پراٹھ کھڑا ہوگیااور بولا ۔
"کہاگئی تھی تم ؟”عمائمہ کوعلینہ کے سامنے اس کا ایسے سوال کرنابالکل بھی پسند نہیں آیاتھااس لیے وہ دھیرے سے بولی ۔
"مجھے اپناایک ضروری کام نپٹاناتھا "۔ارشمیل سمجھ گیاتھا کے وہ علینہ کے سامنے پوری بات بتانا نہیں چاہتی ہےاس لیے اس نے زیادہ کریدنامناسب نہیں سمجھاتھا ۔
"کیا تم ہمارے ساتھ شاپنگ پرچلناپسند کروگی "۔اب ارشمیل نےاسے اپنےساتھ شاپنگ پر چلنے کی آفردیاتھا جس کواس نے بہت سختی سے رد کردیاتھا ۔
"نہیں میں بہت تھک گئی ہو "۔ اس کاانکار سن کر ارشمیل کا دل چاہاکے وہ بھی نا جائے مگراس نے علینہ کے ساتھ جانے کے لیے ہامی بھر لیا تھااس لیے اسے مجبوراً اس کے ساتھ جانا ہی پڑاان دونوں کوایک ساتھ جاتا دیکھ کر عمائمہ کے دل کوکچھ ہونے لگاتھامگروہ اپنے دل کی کیفیت سمجھنے
سے قاصرتھی ۔
اسے اس بات کا دکھ ستارہاتھاکے زندگی کے اتنے طویل سفرکووہ کیسے کاٹے گی کیسے وہ آگے کی زندگی تنہاجیئے گی اس گھر میں جتنے بھی لوگ تھے سب کے سب اپنی اپنی زندگی جی رہ تھے کسی کی زندگی کسی کوبھی پرواہ نہیں کوئی کسی کے زندگی میں دخل نہیں دیتاتھا ناہی وہ اپنےدل کی باتیں عدینہ کوبتاسکتی تھی ان سب کے بیچ وہ خود کوبہت تنہامحسوس کرتی تھی اسے ایسالگتا کے ارشمیل نے زبردستی اسے اپنی زندگی میں شامل نہیں کیاہے بلکہ وہ خود اپنی مرضی سے زبردستی اس کے زندگی میں آئی ہے تنہائی کا احساس اسے دن رات ماررہاتھااس لیےاس نے اس بےنام سی تنہائی سے پیچھاچھڑانے کے لیےایک فیصلہ لیاتھاایسافیصلہ جوسب کی زندگی کو بدل سکتاتھا وہ ابھی اپنے فیصلے کے بارے میں سوچ رہی تھی کے وہ دونوں واپس آگے ان کے ہاتھ شاپنگ بیگ سے لدے ہوئے تھے دونوں کوایک ساتھ اندار آتادیکھ کر عمائمہ اپنی جگہ پر سے اٹھ گئی اور جبرا مسکراتے ہوئے بولی ۔
"آگے آپ لوگ "۔اس کی بات کوارشمیل نے اگنور کردیا تھا جبکے علینہ نے جواب دیاتھا ۔
"ہاں آگے ہے ہم نے دھیر ساری شاپنگ کیا ہےتمہارے لیے بھی بہت کچھ خریداہے "۔علینہ مسکراتے ہوئے بولی تھی علینہ کااس کے ساتھ کچھ دن سے کافی اچھابرتاؤ ہوچکاتھا جسے دیکھ کر وہ سوچتی رہتی تھی کے یہ بھی ارشمیل کی کوئی نئی چال ہے علینہ اورارشمیل ایک ساتھ بیٹھ گے اور اپنی شاپنگ کی باتیں کرنےلگے اس سے ان دونوں کاایک ساتھ رہنابرداشت نہیں ہوا تووہ وہاں سے اٹھ کرجانے لگی تھی کے تبھی ارشمیل بولا۔
"پلیز ہم دونوں کے لیے دو کپ کافی بھیج دینا”۔ارشمیل کی بات سن کروہ اثبات میں سرہلاتے ہوئےوہاں سے نکل گئی تھی اسےاس وقت ارشمیل پربہت غصہ آرہاوہ خودسے ہی بڑ بڑاتے ہوئے جارہی تھی ۔
"مجھے ملازمہ سمجھ رکھا ہے کیا میں کیوں اس کام کرؤ جسے ضرورت ہوگی وہ خود ہی کرے گا ہنہ "۔
وہ بڑبڑاتے ہوئےنیچے چلی آئی اورعدینہ کے روم میں جاکر بیٹھ گئی اس نے ناہی خود کافی بنایاتھا نا ہی کسی ملازم سے کہے کر بنوایا تھا وہ عدینہ کے روم میں بیٹھی کچھ سوچتے ہوئے اپنی نیل پالش کو گھورہی تھی تبھی عدینہ بولی ۔
"آپی کیا بات ہے آپ آج کل کچھ زیادہ ہی پریشان نظر آرہی ہے "۔عدینہ کی بت سن کر وہ
چونک گئی تھی تبھی نفی میں اپناسرہلاتے ہوئے بولی ۔
"نہیں توایسی کوئی بات نہیں تم کچھ زیادہ ہی دھیان دتی ہو مجھ پر "۔اس کی بات سن کر عدینہ مسکراتے ہوئے بولی ۔
"وہ اس لیے آپی کے آپ خود پردھیان نہیں دیتی ہےتو مجھے ہی آپ کی کئیر کرناپڑھتا ہے وہ تو اچھا ہوا آپ کی شادی مرتضی بھائی سے نہیں ہوئی ہےاگران سے ہوجاتی تو میں کیسے آپ کا دھیان رکھ پاتی تھی "۔غلطی سے عدینہ کے منہ سے مرتضی کا نا م نکل گیاتووہ خود ہی اپنی اس نادانی پر اپنے آپ کو ملامت کرنے لگی تھی کیونکہ سامنے بیٹھی عمائمہ کا چہرہ مرتضی کانام سن کر ہی دھوا دھوا ہو چکا تھا عمائمہ ایک جَست سے وہاں سے اٹھ کر چلی گئی تھی وہ اپنے روم دو بارہ آئی تواس کا روم علینہ اورارشمیل سے خالی تھا اس نے ابھی سکون کا سانس لیا تھا بھی نہیں تھا کے اسے اپنے پیچھے سے ارشمیل کی آواز نظر آئی تھی ۔
"میں نے کب سے تمہیں کافی لینے کے لیے بھیجا تھا مگرتم تو غائب ہی ہوگئی تھی "۔ارشمیل کی بات سن کر وہ غصے سے پلٹی تھی اور بولی ۔
"میں تمہاری ملازم نہیں ہو تم انٹر کام پر بھی تو بول سکتے تھے نا کافی کا مگر نہیں تمہیں تو صرف میں ہی نظر آتی ہو تکلیف دینے کے لیے "۔اس کی بات سن کر ارشمیل مسکراتے ہوئے اس کے
نزدیک آیاتھااور اس کی سامنے آئی ہوئی لٹ کو پیچھے کرتے ہو ئے بولا ۔
"میں تمہیں زحمت نہیں دوگا تو کسے دو گا "۔عمائمہ نے اس کا ہاتھ جھٹک دیااوربولی ۔
"اسے ہی دیتے ناجو تمہارے ساتھ کافی پینا چاہ رہی تھی "۔اس کی یہ باس کر ارشمیل کی مسکراہٹ قہقہے میں بدل گئی تھی اس نے اپنی نظروں میں عمائمہ کے حسین سرآپے کو لیتے ہوئے بولا ۔
” تو پھر یہ سب کا کروانے کے لیے مجھے علینہ سےدوسری شادی کرنا ہو گا "۔اس کی یہ بات آگ میں تیل کا کام کر گئی تھی وہ تڑخ کربولی ۔
"شوق سے کرو علینہ سے شادی ویسے بھی تم نے مجھ سے زبردستی شادی کیےتھے "۔اتنا کہے کروہ جانے لگی تھی کے ارشمیل نے اس کا ہاتھ پکڑ لیااوراسے کھنچ کر اپنے طرف کیا اور اس کی کمر کے گرد اپنے بازوں کا حصار باندھتے ہوئے بولا ۔
"بہت دن ہوگے ہے ہم نے جم کر فائٹ نہیں کیے چلو آج کرتے ہے "۔ اس کی بات سن کر عمائمہ غصے سےبولی ۔
"مجھے تم سے نا بات کرنے کا شوق ہے نا جھگڑنے کا "۔
"اچھا تو پھر اب کونسے نئے شوق پال لیے ہے میری وائف نے”۔ اس کی بات سن کر عمائمہ ایک جَست سے اس کے بازوں ک حصارہ توڑتے ہوئے بولی ۔
"نئے نئے شوق تو تم پالتےہو مسٹر ارشمیل یزدامیں نہیں "۔اس کی اتنی کڑوی باتیں سن کرہرروز کی طر ح ارشمیل سرد آئیں بھرتارہ گیاتھا ۔
٭٭٭
شام کا وقت تھا پورے گھر میں ایک بے نام سی خاموشی چھائی ہوئی تھی پتانہیں سب اسے بتائے بغیر کہاچلے گے تھے وہ جب نیند سے جاگی تھی تب اسے پورا یزدانی ہاؤس خالی دیکھاتھاجس سے
وہ تشویش میں پڑھ گئی تھی تبھی وہ سامنے سے آتے ہوئے انوار کو مخاتب کیا۔
"سنو سب لو کہاگے ہے "۔
"میڈم گھر کے تمام افراد کسی پارٹی میں گے ہے "۔ملازم نے بڑے ہی مہذب طریقے سے کہااور اپناسر جھکا کر چل دیا تھا وہ یہ سن کر وہ حیران ہوگی تھی کے کسی نے اسے جگا کر بتا تو دور یہ تک نہیں پوچھاتھا کے وہ پارٹی میں چل رہی ہے یا نہیں وہ جیسے اپنے روم سے آئی تھی ویسے ہی چلی گئی تھی اسے بہت دکھ ہو رہا تھا کے اس گھر میں کوئی اسےاہمیت نہیں دیتا ہے وہ اپنے دل کا بوجھ اپنے
آنسوں کے ذریعے کم کررہی تھی تبھی اس کے روم کے دروازے پر دستک ہوئی اس نے سمجھ کے کوئی ملازم ہے اس لیے اس نے ایجازت دے دیا اس کی ایجازت پاتے ہی کیف روم میں آگیا تھا وہ اسے روتا دیکھ کر کھنکارتے ہوئے بولا ۔
"آہم کیا میں جان سکتا ہو کے آپ کیوں رورہی ہے "۔کیف کی آواز سن کر وہ اپنی سن ہوگئی تھی اسے نہیں پتا تھا کے اس کے روم میں کیف موجود ہے وہ اپنے آنسوں صاف کرتے ہوئے اپنی جگہ پر آتھ کھڑی ہوئی تھی اور بولی تھی ۔
"نہیں وہ بس ایسے ہی رو رہی تھی "۔ اس کی بات سن کر کیف اس سے دو قدم کا فاصلہ مٹاتے ہوئے آیااور اسکے سرآپے پر اوپر سے لے کر نیچے تک نظریں دڑاتے ہوئے بولا ۔
"ایسے ہی کوئی ہمیشہ نہیں روتا کوئی کو ئی بات ضرور ہے "۔اسے کیف کاایسا دیکھنا بالکل بھی پسند نہیں آیا تھااس کی یہ نظریں پورے وجود میں سنسناہٹ پیدا کر گئی تھی اسے اس کی چھٹی حس سائن دئے رہی تھی کے بہت کچھ غلط ہونے والا ہے تبھی وہ دھیرے سے مگر سختی سے بولی تھی ۔
"نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے "۔
"ایسی کوئی بات نہیں ہے تو آپ کی ان خوبصورت آنکھوں میں آنسوں کیوں ہے "۔اپنی بات کہے کر کیف نے اس کا ہاتھ تھا م لیا تھا جس سے وہ اپنی جگہ بھونچکا کررہ گئی تھی تبھی وہ کرنٹ کھا
کراس سے دور ہونے کی کوشش کررہی تھی مگر کیف نے ایسا ہونے نہیں دیا تھاکیفنے ایک جست سے اسےاس کے بازوںسے تھام لیا تھا اس کی اس خرکت کو عمائمہ برداشت نہیں کر پائی تھی تبھی تو اس کا ہاتھ اٹھ گیا تھاکیف اس کا تھپڑ کھا کر شاید سدمے میں چلا گیا تھااس لیے تو کچھ پل کے لیے ساکت ہو گیا تھا اس کی آنکھیں لہو ہورہی تھی عمائمہ نے اس ہی موقع کافائدہ اٹھا کر اسے دھکا دیا تھا وہ وہاں سے نکل جانا چاہتی تھی مگراس کا پیر بری طرح میز سے ٹکرا گیا جس سے اس کے پیر میں شدید درد کی لہر ابھری تھی مگر وہ اپنے پیر کی بھی پرواہ کیے بغیر وہاں سے بھاگنے کے لیے آگے بڑی تھی کے اتنے دیر میں کیف نے روم کادروازہ اندار سے لاک کردیاتھا یہ دیکھ کر اس کے کب کے روکے آنسوں بہے نے تھے اسے اس وقت اللہ کے ساتھ ساتھ ارشمیل بہت یاد آرہاتھا وہ دل میں ہی ارشمیل سے بولی تھی ۔
"پلیز ارشمیل آجاؤ "۔
"محبت کرنے لگا ہو تم سے مگر تم ہوکے تمہاری اکڑ ہی ختم ہونے کانام نہیں لےرہی ہے "۔
کیف کی بات سن کر عمائمہ نے اپنے آنسوں بے دردی سے رگڑتے ہوئے بولی ۔ "اسے محبت نہیں کہتے ہے اسے تو حوس پرستی کہتے ہے اور میں کیسے کسی غیر کوخود کو ناپاک کرنےدو تمہیں یہ کہتے ہوئے تھوڑی سی بھی شرم نہیں آئی یہ سب سوچنے سے پہلے کم از کم اتنا ہی دھیان میں رکھ لیتے کے میں تمہاری بھابھی ہو "۔
"نہیں ہو تم میری بھابھی تم میرےلیے صرف عمائمہ ہو تمہیں پتا ہے میں نے جب سے تمہیں دیکھاتھاتب سے تم میرےاس دل میں سماگئی ہو تب سے میں تم سےدیوانو ں کی طرح چاہنے لگا ہو مگر تم ہوکے کچھ بھی سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں ہو”۔کیف دھیرے دھیرے اس کے طرف قدم بڑھاتے ہوئے بولا تھا وہ اپنے طرف اس کے بڑھتے ہوئے قدم دیکھ کر بولی ۔
"پلیز کیف ایسا مت کرؤ "۔
"نہیں عمائمہ میں اب اس دل کو اور نہیں سمجھا سکتا ہو "۔اتنا کہے کر اس نے عمائمہ کو اپنےبازوں میں دبوچ لیا تھا اپنے بچاؤں کے لیے عمائمہ کے منہ سے ایک آخری بارارشمیل کے نام کی دلخراش کرنے والی چیخ نکلی تھی ۔
"ارشمیل۔۔۔۔۔”
جاری ہے


