منتخب غزلیں
شفیق خلشؔ ۔ چھوٹی تنظیمِ محبّت کو اِدارہ کرکے دِل …

شفیق خلشؔ
۔
چھوٹی تنظیمِ محبّت کو اِدارہ کرکے
دِل رہے ذات پہ کچھ کم نہ اِجارہ کرکے
۔
چھوٹی تنظیمِ محبّت کو اِدارہ کرکے
دِل رہے ذات پہ کچھ کم نہ اِجارہ کرکے
کردِیا نقش سرِ دِیدہ و دِل حاجت نے
پِھر سے اِک صُورتِ زیبا کو نظارہ کرکے
بعد از مرگِ محبّت یہ تسلّی کیسی؟
جینا کب دِل کو میسّرہو دوبارہ کرکے
کُھل کے کہنے کے سِوا، کیا رہے چارہ باقی!
کوشِشِیں خاک ہُوں ظاہر جو اِشارہ کرکے
دردِ فُرقت جو قیامت سے ذرا کم ہوتا
دیکھ لیتے نہ کہیں سے کوئی چارہ کرکے
مجھ پہ اِک آخذہ صُورت وہ خیالی سی خلشؔ
مستقل کردی تصوّر نے نظارہ کرکے
شفیق خلشؔ


