( غیــر مطبــوعــہ ) ایک نظم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم …

ایک نظم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم کس موسم کا بادل ہولڑکی!
تم کس رت کی بارش ہو
تم کس ساون کی رم جھم ہو
تم کس رُت کا سپنا ہو
تم کس پیڑ کی چھایا ہو
تم جو اچانکــــــ
کھڑکی پر دستک دیتی ہواور پردوں کو آہستہ سرکاتی ہو
شیشوں سے اندر آ جاتی ہو
اور اچانک ۔۔۔۔۔۔
جھلمل کرتا اپنا پیراہن لہراتی ہو
اور بے وقت جگا جاتی ہو
لیکن وقت؟
وقت جسے تم باندھ کے پلکوں میں لے جاتی ہو
وقت تمھارے ساتھ آیا اور ساتھ گیا
ہم تو کسی ساکت عالم میں سانسیں لیتے ہیں
کیسا نرم ہَوا کا جھونکا ہو تم لڑکی !
جو شاخوں کی آنکھیں چوم کے بے داری کا سبز سندیسہ دیتا ہے !
تم کیسی برکھا ہو
اک میٹھی سی دُھن میں جسم بھگو جاتی ہو
اور مسافر ہو جاتی ہو
تم کیسی ورشا ہو
جس کی بوند اس تشنہ تن کی تہہ میں جا کر
دور کہیں اندر ” کُن ” کے اُس چشمے سے جا ملتی ہے
جس سے جیون جَوت جَــگی ہے
تم یہ اچانک آتی ہو یا نظم اترتی ہے
رنگ اور خوش بُو یک تن ہوتے جاتے/ بہتے جاتے ہیں
تم کس رت کی بھیگی شال ہو ؟ لڑکی!
پیاس کے اس جیون صحرا میں اپنے پر پھیلاتی ہو
اور لبوں سے ٹپکے
ہر اک شبد کا رس
تم کیا جانو اس کی رسنا
ہم شاعر ہیں ہم سے پوچھو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئینوں سی ان آنکھوں میں ٹھہری ٹھہری حیرت کیسی لگتی ہے
ایک مہیب سکوت کے صحرا کی شب کا
جس میں جلتا ایک الاو
یا پھر بیچ سمُندر بہتی
چاندی کی اک ناو
ایسا روپ سبھاو
تم گہری ہو
اتنی گہری
تم پاتال سے بھی گہری ہو
کتنے رازوں کی غمّــاز تمہاری آنکھیں
میرے اور تمھارے بیچ جو خاموشی کی تحریریں ہیں’ پڑھ لیتی ہیں
ان آنکھوں میں بہتا ایک سفینہ
موجوں سے ٹکراتا
جانے کون کنارے جا کر لگتا ہوگا
لڑکی !
یہ جو ماتھے پراک چاند دمکتا ہے نا تیرے
اس کی دوسری جانب میں ہوں
ایک اماوس
ایک اندھیرا
ایک سکوت
( اشــرفؔ یُوسُـــفـی )

