منتخب غزلیں

رخ پہ گیسو جو بکھر جائیں گے ہم اندھیرے میں کدھر ج…

رخ پہ گیسو جو بکھر جائیں گے
ہم اندھیرے میں کدھر جائیں گے

اپنے شانے پہ نہ زلفیں چھوڑو
دل کے شیرازے بکھر جائیں گے

یار آیا نہ اگر وعدے پر
ہم تو بے موت کے مر جائیں گے

اپنے ہاتھوں سے پلا دے ساقی
رند اک گھونٹ میں تر جائیں گے

قافلے وقت کے رفتہ رفتہ
کسی منزل پہ ٹھہر جائیں گے

مسکرانے کی ضرورت کیا ہے
مرنے والے یوں ہی مر جائیں گے

ہو نہ مایوس خدا سے بسملؔ
یہ برے دن بھی گزر جائیں گے

بسملؔ عظیم آبادی

المرسل: فیصل خورشید


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/