منتخب غزلیں

مرزا دبیرؔ مرزا دبیرؔ صفِ اول کے مرثیہ نگار تھےلی…

مرزا دبیرؔ
مرزا دبیرؔ صفِ اول کے مرثیہ نگار تھےلیکن ان کے قلمی آثار میں مرثیہ کے علاوہ دوسرے اصنافِ سخن کے بھی نمونے ملتے ہیں جن میں صنفِ غزل بھی شامل ہے ۔ دبیرؔ کے سوانح نگار اس بات پر متفق ہیں کہ ابتدائ دورمیں دبیرؔ نے کثرت سے غزلیں کہی تھیں مگر کچھ عرصہ کے بعد انہوں نےغزل گوئ ترک کردی اوراپنی غزلوں کو شہرت بھی نہ دی ۔ یہ غزلیں ان کے ایامِ شباب کی یادگار ہیں ۔
کاظم علی خان نے اپنے مضمون ‘ مرزا دبیرؔکے بعض نادر قلمی آثار’ مشمولہ آجکل سپٹمبر 1976ء میں دبیرؔ کی ایک غیرمطبوعہ غزل پیش کی تھی ۔

تل نمایاں ہے نہیں عارضِ جاناں کے تلے
ہے ستارا کہیں روشن مہ تاباں کے تلے
کیا ہی بے چین ہوۓ نالۂ بلبل سن کر
ٹہرے ایک دم جوکسی نخلِ گلستاں کے تلے
چاک سینہ کو مرے دیکھ کے ناصح بولا
لاکھوں ہی داغ ہیں یاں تیرے گریباں کے تلے
ہم تو چھٹنے کے نہیں ہم دموں اس دام سے آہ
اب تو دل جا ہے پہنسا زلفِ پریشاں کے تلے
ہاتھ چھاتی پہ مری رکھ کے یہ حکما نے کہا
دل نہیں آگ ہے یاں سینۂ سوزاں کے تلے
اس کو مت برق سمجھ یہ جوفلک پر ہےچمک
مرزا دبیرؔ
……….
بشکریہ وسیم سیّد


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/