منتخب غزلیں

دلِ دردمند کی داستاں نہ کہوں جو تم سے تو کیا کروں …

دلِ دردمند کی داستاں نہ کہوں جو تم سے تو کیا کروں ( امیؔر مینائی)

دلِ دردمند کی داستاں نہ کہوں جو تم سے تو کیا کروں
تمہیں غمزدوں کے ہو قدرداں نہ کہوں جو تم سے تو کیا کروں

تمہیں بیکسوں کے شفیق ہو ، تمہیں بے بسوں کے رفیق ہو
جو گزرتی دل پہ ہے جانِ جاں نہ کہوں جو تم سے تو کیا کروں

مرے حال پر بھی کرم کر، جو کروں میں عرض وہ سن تو لو
تمہیں باپ ماں سے ہو مہرباں نہ کہوں جو تم سے تو کیا کروں

ہوئی جس تڑپ میں مری بسر، جو گزر گئی مری جان پر
شہِ انس و جاں مہِ دو جہاں نہ کہوں جو تم سے تو کیا کروں

تمہیں داد گر ہو یتیم کے، تمہیں چارہ گر ہو سقیم کے
ہمہ تن ہوں درد میں ناتواں نہ کہوں جو تم سے تو کیا کروں

مجھے دردبدر یہ پھرائے گا نہ کبھی یہ راہ پر آئے گا
مجھے پیس ڈالے گا آسماں نہ کہوں جو تم سے تو کیا کروں

مرا ہمدم ایک تھا دل مرا اسے بھی غموں نے گھلا دیا
نہیں ملتا اس کا بھی اب نشاں نہ کہوں جو تم سے تو کیا کروں

دمِ نزع ایسی ہے بیکسی نہیں ساتھ دیتے حواس بھی
مجھے چھوڑے جاتا ہے کارواں نہ کہوں جو تم سے تو کیا کروں

جو لحد میں مجھ سے سوال ہو تمہیں آکے اس کا جواب دو
یہ بہت ہی سخت ہے امتحاں نہ کہوں جو تم سے تو کیا کروں

نہ زمیں سنے نہ فلک سنے نہ بشر سنے نہ ملک سنے
نہیں سنتا کوئی مری فغاں نہ کہوں جو تم سے تو کیا کروں

کوئی دلنواز یہاں نہیں مجھے تابِ ضبطِ فغاں نہیں
مرے دل میں ہے جو غمِ بتاں نہ کہوں جو تم سے تو کیا کروں

جو امیؔر دیکھیں نبی ادھر تو کہوں یہ ہاتھوں کو جوڑ کر
کہ تڑپ کو دل کی میں نیم جاں نہ کہوں جو تم سے تو کیا کروں


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/