منتخب غزلیں
( غیــر مطبــوعــہ ) اُس کی خاموشی دایمی نکلی میر…

( غیــر مطبــوعــہ )
اُس کی خاموشی دایمی نکلی
میری آواز سَر سری نکلی
میں نہ کہتا تھا ‘ وقت قیمتی ہے
دیکھو ۔۔۔ اندھے سے بھی گھڑی نکلی
اِس طرف مسخرے نے دُکھ چھیڑا
اُس طرف لوگوں کی ہنسی نکلی
اُس کی چیخوں پہ کیا سوال اُٹھے
اور کمرے سے چھپکلی نکلی
میرے دشمن نے راز فاش کیے
دوستوں سے بھی دشمنی نکلی
اک قدم دوسرے کا زینہ بنا
پہلی کاوِش سے دوسری نکلی
میں نے اندھوں سے راستہ پوچھا
تیرگی سے بھی روشنی نکلی
جو بساتا تھا دوسروں کے گھر
اُس کے گھر سے بھی بے گھری نکلی
ذہن سے حادثے گزارے گئے
تب کہیں دل سے شاعِری نکلی
( اجـــملؔ فــریـد )

