منتخب غزلیں
آج اردو کے ایک معروف ادیب‘ شاعر‘ نقاد اورماہر تعلی…

آج اردو کے ایک معروف ادیب‘ شاعر‘ نقاد اورماہر تعلیم ڈاکٹر محمد دین تاثیر کی برسی ہے ۔۔
ڈاکٹر تاثیر28فروری 1902ءکو قصبہ اجنالہ امرتسر میں پیدا ہوئے۔ ایم اے تک تعلیم لاہور سے حاصل کی اور پھر کیمبرج سے انگریزی میں پی ایچ ڈی کیا‘ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی تھے۔ ڈاکٹر تاثیر ایک طویل عرصے تک درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔ وفات کے وقت وہ اسلامیہ کالج لاہور کے پرنسپل تھے۔
وہ ایک اچھے غزل گو تھے۔ ان کے چند مشہورا شعار ملاحظہ کیجیے:
داور حشر! مرا نامہ اعمال نہ دیکھ
اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں
……..٭٭٭……..
دل نے آنکھوں سے کہی آنکھوں نے دل سے کہہ دی
بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے
……..٭٭٭……..
حضور یار بھی آنسو نکل ہی آتے ہیں
کچھ اختلاف کے پہلو نکل ہی آتے ہیں
ڈاکٹر تاثیر اردو میں آزاد نظم کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ان کی شاعری کا مجموعہ آتش کدہ اور نثری مجموعے مقالات تاثیر اور نثر تاثیر کے نام سے شائع ہوچکے ہیں۔
ڈاکٹر محمد دین تاثیر 30 نومبر 1950ءکو وفات پاگئے۔ فیض احمد فیض آپ کے ہم زلف اور پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر آپ کے صاحبزادے تھے
……
محمد دین تاثیر
غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں
کوئی مانے یا نہ مانے مرے نام آتے ہیں
عافیت کوش مسافر جنہیں منزل سمجھیں
عشق کی راہ میں ایسے بھی مقام آتے ہیں
اب مرے عشق پہ تہمت ہے ہوس کاری کی
مسکراتے ہوئے اب وہ لب بام آتے ہیں
اب نئے رنگ کے صیاد ہیں اس گلشن میں
صید کے ساتھ جو بڑھ کے تہ بام آتے ہیں
داور حشر مرا نامۂ اعمال نہ دیکھ
اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں
جن کو خلوت میں بھی تاثیرؔ نہ دیکھا تھا کبھی
محفل غیر میں اب وہ سر عام آتے ہیں
ڈاکٹر تاثیر28فروری 1902ءکو قصبہ اجنالہ امرتسر میں پیدا ہوئے۔ ایم اے تک تعلیم لاہور سے حاصل کی اور پھر کیمبرج سے انگریزی میں پی ایچ ڈی کیا‘ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی تھے۔ ڈاکٹر تاثیر ایک طویل عرصے تک درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔ وفات کے وقت وہ اسلامیہ کالج لاہور کے پرنسپل تھے۔
وہ ایک اچھے غزل گو تھے۔ ان کے چند مشہورا شعار ملاحظہ کیجیے:
داور حشر! مرا نامہ اعمال نہ دیکھ
اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں
……..٭٭٭……..
دل نے آنکھوں سے کہی آنکھوں نے دل سے کہہ دی
بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے
……..٭٭٭……..
حضور یار بھی آنسو نکل ہی آتے ہیں
کچھ اختلاف کے پہلو نکل ہی آتے ہیں
ڈاکٹر تاثیر اردو میں آزاد نظم کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ان کی شاعری کا مجموعہ آتش کدہ اور نثری مجموعے مقالات تاثیر اور نثر تاثیر کے نام سے شائع ہوچکے ہیں۔
ڈاکٹر محمد دین تاثیر 30 نومبر 1950ءکو وفات پاگئے۔ فیض احمد فیض آپ کے ہم زلف اور پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر آپ کے صاحبزادے تھے
……
محمد دین تاثیر
غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں
کوئی مانے یا نہ مانے مرے نام آتے ہیں
عافیت کوش مسافر جنہیں منزل سمجھیں
عشق کی راہ میں ایسے بھی مقام آتے ہیں
اب مرے عشق پہ تہمت ہے ہوس کاری کی
مسکراتے ہوئے اب وہ لب بام آتے ہیں
اب نئے رنگ کے صیاد ہیں اس گلشن میں
صید کے ساتھ جو بڑھ کے تہ بام آتے ہیں
داور حشر مرا نامۂ اعمال نہ دیکھ
اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں
جن کو خلوت میں بھی تاثیرؔ نہ دیکھا تھا کبھی
محفل غیر میں اب وہ سر عام آتے ہیں


