منتخب غزلیں

وہ اکثر باتوں باتوں میں اغیار سے پوچھا کرتے ہیں ی…

وہ اکثر باتوں باتوں میں اغیار سے پوچھا کرتے ہیں
یہ سر بہ گریباں دیوانے کس شے کا تقاضا کرتے ہیں

اک دن تھا کہ ساحل پر بیٹھے طوفاں پہ تبسم کرتے تھے
اب مایوسی کے عالم میں ساحل کا تماشا کرتے ہیں

خطرہ ہے وفا کے لٹنے کا مجبورئ دل بھی لازم ہے
جینے کی تمنا کرتے ہیں مرنے کا تقاضا کرتے ہیں

معصوم ستمگر کی باتیں، مظلوم ادا کے افسانے
یوں رات بسر ہو جاتی ہے یوں دل کا مداوا کرتے ہیں

جب نادانی کا عالم تھا حاصل کی تمنا کرتے تھے
اب دل میں آگ لگاتے ہیں شعلوں کا تماشا کرتے ہیں

اپنے میں رہے تو رسوائی، اپنے سے گئے تو سودائی
ہم مدت سے دیوانگئ دنیا کا تماشا کرتے ہیں

(ظہیر کاشمیری)
المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی(بھٹکلی)

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/