اقبال سے منسوب اشعار – جو علامہ اقبال کے نہیں تند…

تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی تجھ کو اونچا اڑانے کے لئے
اس شعر کے متعلق بعض اوقات اقبال کے حوالے غلط فہمی ہوجاتی ہے یہ اصل میں صادق حسین صادق کا ہے۔ انہوں نے پتہ نہیں کیوں بعد میں شاعری کو خیر باد کہہ دیا تھا
تم حیا و شریعت کے تقاضوں کی بات کرتے ہو
ہم نے ننگے جسموں کو ملبوس حیا دیکھا ہے
دیکھے ہیں ہم نے احرام میں لپٹے کئی ابلیس
ہم نے کئی بار مہ خانے میں خدا دیکھا ہے
(جتنی تکلیف ان اشعار نے پہنچائی ہے، اسکا اندازہ اقبال کے چاہنے والے بخوبی لگا سکتے ہیں۔)
عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی
یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟
سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی
حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟
روئیں وہ جو منکر ہیں شہادتِ حسین کے
ہم زندہ وجاوید کا ماتم نہیں کرتے
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیا ل آپ اپنے حالت کے بدلنے کا
تیری اس دنیا میں یہ منظر کیوں ہے؟
کہیں زخم تو کہیں پیٹھ پہ خنجر کیوں ہے؟
سنا ہے کہ تو ہر ذرے میں ہے رہتا
پھر زمین پر کہیں مسجد کہیں مندر کیوں ہے؟
جب رہنے والے اس دنیا کے ہیں تیرے ہی بندے
تو پھر کوئی کسی کا دوست کسی کا دشمن کیوں ہے؟
تو ہی لکھتا ہے سب لوگوں کا مقدر یارب!
تو پھر کوئی بدنصیب کوئی مقدر کا سکندر کیوں ہے؟
حسن کردار سے نور مجسم ہو جا
کہ ابلیس بھی تجھے دیکھے تو مسلماں ہو جائے
تیرے سجدے کہیں تُجھے کافر نہ کر دیں اقبال
تُو جھُکتا کہیں اور ہے، سوچتا ہے کہیں اور
مولانا محمد علی جوہر کے دو اشعار اقبال سے منسوب ہیں:
توحید تو یہ ھے کہ خدا حشر میں کہہ دے
یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے ھے۔
اور:
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ھے
اسلام زندہ ھوتا ہےہر کربلا کے بعد۔
ابوالمجاہد زاہد کا یہ شعر اقبال سے منسوب ہے:
ایک ہو جائیں تو بن سکتے ہیں خورشید مبیں
ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا کام بنے۔
اقبال سہیل کا یہ شعرعلامہ اقبال سے منسوب ہے:
جوانو یہ صدائیں آرہی ہیں آبشاروں سے
چٹانیں چور ہو جائیں جو ہو عزم سفر پیدا۔
مسجد خدا کا گھر ہے کوئی پینے کی جگہ نہیں
کافر کے دل میں چلے جا وہاں خدا نہیں
پوچھتے کیا ہو مذہبِ اقبال
یہ گنہگار بو ترابی ہے
یہ شعربھی اقبال سے منسوب کیا جاتا ہے لیکن ان کا ہرگز نہیں۔



