منتخب غزلیں

یہ کیسی آگ ابھی اے شمع تیرے دل میں باقی ہے کوئی پ…

یہ کیسی آگ ابھی اے شمع تیرے دل میں باقی ہے
کوئی پروانہ جل مرنے کو کیا محفل میں باقی ہے

ہزاروں اٹھ گئے دنیا سے اپنی جان دے دے کر
مگر اک بھیڑ پھر بھی کوچۂ قاتل میں باقی ہے

ہوئے وہ مطمئن کیوں صرف میرے دم نکلنے پر
ابھی تو ایک دنیائے تمنا دل میں باقی ہے

ہوا تھا غرق بحرِ عشق اس انداز سے کوئی
کہ نقشہ ڈوبنے کا دیدۂ‌ ساحل میں باقی ہے

قضا سے کوئی یہ کہہ دے کہ مشتاقِ شہادت ہوں
ابھی اک مرنے والا کوچۂ قاتل میں باقی ہے

کہاں فرصت ہجومِ رنج و غم سے ہم جو یہ جانچیں
کہ نکلی کیا تمنا کیا تمنا دل میں باقی ہے

ابھی سے اپنا دل تھامے ہوئے کیوں لوگ بیٹھے ہیں
ابھی تو حشر اٹھنے کو تری محفل میں باقی ہے

وہاں تھے جمع جتنے مرنے والے مر گئے وہ سب
قضا لے دے کے بس اب کوچۂ قاتل میں باقی ہے

ابھی سے تو نے قاتل میان میں تلوار کیوں رکھ لی
ابھی تو جان تھوڑی سی تن بسملؔ میں باقی ہے

بسملؔ الہ آبادی

المرسل: فیصل خورشید


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/