ایک ہی زمین میں چھے شاعروں کی غزلیں …. سدرشن فاک…

….
سدرشن فاکر
عشق میں غیرت جذبات نے رونے نہ دیا
ورنہ کیا بات تھی کس بات نے رونے نہ دیا
آپ کہتے تھے کہ رونے سے نہ بدلیں گے نصیب
عمر بھر آپ کی اس بات نے رونے نہ دیا
رونے والوں سے کہو ان کا بھی رونا رو لیں
جن کو مجبورئ حالات نے رونے نہ دیا
ان سے مل کر ہمیں رونا تھا بہت رونا تھا
تنگئ وقت ملاقات نے رونے نہ دیا
ایک دو روز کا صدمہ ہو تو رو لیں فاکرؔ
ہم کو ہر روز کے صدمات نے رونے نہ دیا
۔۔۔۔۔۔
خواجہ حیدر علی اتش
یار کو میں نے مجھے یار نے سونے نہ دیا
رات بھر طالعِ بیدار نے سونے نہ دیا
خاک پر سنگِ درِ یار نے سونے نہ دیا
دھوپ میں سایۂ دیوار نے سونے نہ دیا
شام سے وصل کی شب آنکھ نہ جھپکی تا صبح
شادئ دولتِ دیدار نے سونے نہ دیا
ایک شب بلبلِ بے تاب کے جاگے نہ نصیب
پہلوئے گُل میں کبھی خار نے سونے نہ دیا
جب لگی آنکھ ، کراہا یہ کہ بد خواب کیا
نیند بھر کر دلِ بیمار نے سونے نہ دیا
دردِ سرِ شام سے اس زلف کے سودے میں رہا
صبح تک مجھ کو شبِ تار نے سونے نہ دیا
رات بھر کیں دلِ بے تاب نے باتیں مجھ سے
رنج و محنت کے گرفتار نے سونے نہ دیا
سیلِ گریہ سے مرے نیند اڑی مردم کی
فکرِ بام و در و دیوار نے سونے نہ دیا
باغِ عالم میں رہیں خواب کی مشتاق آنکھیں
گرمیِ آتشِ گلزار نے سونے نہ دیا
سچ ہے غم خواریِ بیمار عذابِ جاں ہے
تا دمِ مرگ دلِ زار نے سونے نہ دیا
تکیہ تک پہلو میں اس گُل نے نہ رکھا آتش
غیر کو ساتھ کبھی یار نے سونے نہ دیا
…..
احمد علی برقی اعظمی
غم و آلام کی بارات نے سونے نہ دیا
مستقل گردشِ حالات نے سونے نہ دیا
گھرگیا موجِ حوادث میں سفینہ میرا
ناگہاں یورشِ برسات نے سونے نہ دیا
جس سے آنا تھا اُسے ہے یہ وہی راہگذر
اُس کے قدموں کے نشانات نے سونے نہ دیا
قصرِ دل نذرِ فسادات ہوا ہے جب سے
مُجھ کو گُذرے ہوئے لمحات نے سونے نہ دیا
ہیں سوالات کئی جن کا نہیں کوئی جواب
بار بار ایسے سوالات نے سونے نہ دیا
پھر مری گُمشدہ میراث ملے گی کہ نہیں
اِنھیں فرسودہ خیالات نے سونے نہ دیا
صبحِ اُمید کب آئے گی نہیں کچھ معلوم
رات بھر مجھ کو اِسی بات نے سونے نہ دیا
دل سے ہوتے ہی نہیں محویہ یادوں کے نقوش
گرمیِ شدّتِ جذبات نے سونے نہ دیا
مجھ پہ جو گزری ہے گزرے نہ کسی پر برقیؔ
خدشۂ ترکِ ملاقات نے سونے نہ دیا
….
مصطفٰی خان شیفتہ
گور میں یادِ قدِ یار نے سونے نہ دیا
فتنۂ حشر کو رفتار نے سونے نہ دیا
واہ اے طالعِ خفتہ کہ شبِ عیش میں بھی
وہم بے خوابیِ اغیار نے سونے نہ دیا
وا رہیں صورتِ آغوش، سحر تک آنکھیں
شوقِ ہم خوبیِ دلدار نے سونے نہ دیا
یاس سے آنکھ بھی جھپکی تو توقع سے کھلی
صبح تک وعدۂ دیدار نے سونے نہ دیا
طالعِ خفتہ کی تعریف کہاں تک کیجے
پاؤں کو بھی خلشِ خار نے سونے نہ دیا
دردِ دل سے جو کہا نیند نہ آئی؟ تو کہا
مجھ کو کب نرگسِ بیمار نے سونے نہ دیا
شبِ ہجراں نے کہا قصۂ گیسوئے دراز
شیفتہ تو بھی دلِ زار نے سونے نہ دیا
…..
بہادر شاہ ظفر
رات بھر مجھ کو غمِ یار نے سونے نہ دیا
صبح کو خوفِ شبِ تار نے سونے نہ دیا
شمع کی طرح مجھے رات کٹی سولی پر
چین سے یادِ قدِ یار نے سونے نہ دیا
اے دل آزار تو سویا کیا آرام سے رات
مجھے پل بھر بھی دلِ زار نے سونے نہ دیا
میں وہ مجنوں ہوں کہ زنداں میں نگہبانوں کو
میری زنجیر کی جھنکار نے سونے نہ دیا
……..
سلیم احمد
عمر بھر کاوش اظہار نے سونے نہ دیا
حرف نا گفتہ کے آزار نے سونے نہ دیا
دشت کی وسعت بے قید میں کیا نیند آتی
گھر کی قیدِ در و دیوار نے سونے نہ دیا
تھک کے سو رہنے کو رستے میں ٹھکانے تھے بہت
ہوس سایۂ دیوار نے سونے نہ دیا
کبھی اقرار کی لذت نے جگائے رکھا
کبھی اندیشۂ انکار نے سونے نہ دیا
ہو گئی صبح بدلتے رہے پہلو شب بھر
ایک کروٹ پہ دلِ زار نے سونے نہ دیا
….
اوما شنکر چترونشی بازل
دل کی جو آگ تھی کم اس کو بھی ہونے نہ دیا
ہم تو روتے تھے مگر آپ نے رونے نہ دیا
شمع کیوں پردۂ فانوس میں چھپ جاتی ہے
اس نے پروانے کو قربان بھی ہونے نہ دیا
یاد دلبر میں کبھی اے دل مضطر تو نے
ہم کو چپ چاپ کہیں بیٹھ کے رونے نہ دیا
آشیاں کا تو کوئی ذکر ہے کیا اے صیاد
جمع تنکوں کو کبھی برق نے ہونے نہ دیا
آستیں آنکھوں پر اس شوخ نے رکھ دی بازلؔ
……
سید کاشف رضا
پہلوئے غیر میں دکھ درد سمونے نہ دیا
دامن وصل میں اک ہجر نے رونے نہ دیا
رنج یہ ہے کہ مرا درد سے مہکا ہوا تیر
اس وفا سوز نے پہلو میں کھبونے نہ دیا
عشق وہ شعلۂ سفاک ہے جس نے مجھ پر
آگ جاری رکھی اور راکھ بھی ہونے نہ دیا
تجھ کو تا ہجر رہا تھا مری وحشت سے گریز
اسی وحشت نے تری یاد کو کھونے نہ دیا
شرم آتی ہے بہت ایسی سبک دوشی پر
عشق کا بوجھ بھی اس زیست نے ڈھونے نہ دیا



