آج مشہور و معروف شاعر،نقاد اور ادیب سید سجاد باقرؔ…

October 04, 1928
نام سید سجاد باقر رضوی، ڈاکٹر اور تخلص باقر تھا۔۴؍اکتوبر۱۹۲۸ء کو گاؤں چمانواں، تحصیل پھول پور، ضلع اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے۔میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات یوپی بورڈ سے پرائیوٹ امیدوار کی حیثیت سے پاس کیے۔اکتوبر۱۹۴۷ء میں ہجرت کرکے پاکستان آگئے۔۱۹۴۹ء میں سندھ مسلم لا کالج سے ایل ایل بی ، اور کراچی یونیورسٹی سے بی اے (آنرز) کیا۔ ۱۹۵۸ء میں سجاد باقر نے کراچی یونیورسٹی سے ’’طنز ومزاح کے نظریاتی مباحث اور کلاسیکی اردو شاعری ۱۹۵۷ء تک‘‘ پر مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ شاعری کا ذوق فطری تھا۔ شاعر کے علاوہ وہ نقاد اور انگریزی و اردو ادب کے ایک اچھے استاد تھے۔ ۱۳؍اگست۱۹۹۲ء کو دمے کے مرض میں لاہور میں انتقال کرگئے۔ ’’تیشۂ لفظ‘‘ اور ’’جوئے معانی‘‘ کے نام سے ان کے شعری مجموعے چھپ گئے ہیں
،،،،،،،،،،،،،،،،،
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقدرِ حوصلہ کوئی کہیں، کوئی کہیں تک ہے!
سفر میں راہ و منزل کا تعین بھی یہیں تک ہے
نہ ہو انکار تو اثبات کا پہلو ہی کیوں نکلے
مرے اصرار میں طاقت فقط تیری نہیں تک ہے
اُدھر وہ بات خوشبو کی طرح اڑتی تھی گلیوں میں
اِدھر میں یہ سمجھتا تھا کہ میرے ہم نشیں تک ہے
نہیں کوتاہ دستی کا گلہ اتنا غنیمت سے
پہنچ ہاتھوں کی اپنے، اپنے جیب و آستیں تک ہے
سیاہی دل کی پھوٹے گی تو پھر نس نس سے پھوٹے گی
غلامو ! یہ نہ سمجھو داغِ رسوائی جبیں تک ہے
پھر آگے مرحلے طے ہو رہیں گے ہمتِ دل سے
جہاں تک روشنی ہے، خوف تاریکی وہیں تک ہے
الٰہی بارش ابرِ کرم ہو فضل دونی ہو ! !
کہ باقر کی تو آمد بس اسی دل کی زمیں تک ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جرم اظہار تمنا آنکھ کے سر آ گیا
چور جو دل میں چھپا تھا آج باہر آ گیا
میرے لفظوں میں حرارت میرے لہجے میں مٹھاس
جو کچھ ان آنکھوں میں تھا میرے لبوں پر آ گیا
جن کی تعبیروں میں تھی اک عمر کی وارفتگی
پھر نگاہوں میں انہیں خوابوں کا منظر آ گیا
شہر کے آباد سناٹوں کی وحشت دیکھ کر
دل کو جانے کیا ہوا میں شام سے گھر آ گیا
پہلے چادر کی ہوس میں پاؤں پھیلاۓ بہت
اب یہ دکھ ہے پاؤں کیوں چادر سے باہر آ گیا
ہم دوانوں کے لیے تھیں وسعتیں ہی وسعتیں
ختم جب صحرا ہوا آگے سمندر آ گیا
تم نے باقرؔ دل کا دروازہ کھلا رکھ تھا کیوں
جس کو آنا تھا وہ آخر درد بن کر آ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گلیاں جھانکیں سڑکیں چھانیں دل کی وحشت کم نہ ہوئی
آنکھ سے کتنا لاوا ابلا تن کی حدت کم نہ ہوئی
ڈھب سے پیار کیا ہے ہم نے اس کے نام پہ چپ نہ ہوئے
شہر کے عزت داروں میں کچھ اپنی عزت کم نہ ہوئی
من دھن سب قربان کیا اب سر کا سودا باقی ہے
ہم تو بکے تھے اونے پونے پیار کی قیمت کم نہ ہوئی
جن نے اجاڑی دل کی کھیتی ان کی زمینیں ختم ہوئیں
ہم تو رئیس تھے شہر وفا کے اپنی ریاست کم نہ ہوئی
اب بھی اتنا تر و تازہ ہے جیسے اول دن کا ہو
واہ رے اپنی کاوش ناخن زخم کی لذت کم نہ ہوئی
باقرؔ کو تم خوب سمجھ لو رنجش ہے یہ دکھاوے کی
یوں تم سے بے زار پھرے ہے دل سے چاہت کم نہ ہوئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کیوں چپ چپ ہو باقرؔ تم کبھی مشہور تھے
دوستوں یاروں میں اپنی خوش بیانی کے لیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نظم
رات
آندھیاں آسمانوں کا نوحہ زمیں کو سناتی ہیں
اپنی گلو گیر آواز میں کہہ رہی ہیں،
درختوں کی چنگھاڑ
نیچی چھتوں پر یہ رقص آسمانی بگولوں کا
اونچی چھتوں کے تلے کھیلے جاتے ڈرامہ کا منظر ہے
یہ اس ظلم کا استعارہ ہے
جو شہ رگ سے ہابیل کی گرم و تازہ لہو بن کے ابلا ہے
آندھیوں میں تھا اک شور کرب و بلا
اور میں نے سنا کربلا ۔۔۔۔ کربلا
بند آنکھوں میں وحشت زدہ خواب اترا
صبح اخبار کی سرخیاں بن گیا


