منتخب غزلیں

کہیں اُجڑی اُجڑی سی منزِلیں، کہیں ٹُوٹے پُھوٹے سے …

کہیں اُجڑی اُجڑی سی منزِلیں، کہیں ٹُوٹے پُھوٹے سے بام و در
یہ وہی دِیار ہے دوستو! جہاں لوگ پِھرتے تھے رات بھر

میں بھٹکتا پِھرتا ہُوں دیر سے، یونہی شہر شہر، نگر نگر
کہاں کھو گیا مِرا قافلہ، کہاں رہ گئے مِرے ہمسفر

جنہیں زندگی کا شعُور تھا انھیں بے زری نے بِچھا دِیا
جو گراں تھے سینۂ چاک پر، وہی بن کے بیٹھے ہیں مُعتبر

مِری بے کسی کا نہ غم کرو، مگر اپنا فائدہ سوچ لو
تمہیں جس کی چھاؤں عزِیز ہے، میں اُسی درخت کا ہُوں ثمر

یہ بجا ہے آج اندھیرا ہے، ذرا رُت بَدلنے کی دیر ہے
جو خِزاں کے خوف سے خُشک ہے، وہی شاخ لائے گی برگ و بَر

ناصرؔ کاظمی

المرسل: فیصل خورشید


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/