منتخب غزلیں

ملے بھی دوست تو اس طرزِ بے دلی سے ملے کہ جیسے اجن…

ملے بھی دوست تو اس طرزِ بے دلی سے ملے
کہ جیسے اجنبی کوئی اک اجنبی سے ملے

قدم قدم پہ خلوصِ وفا کا ذکر کیا–!!!
عدو ملے بھی تو کس حسنِ سادگی سے ملے

ستم کرو بھی تو اندازِ منصفی سے کرو
کوئی سلیقہ تو عنوانِ دوستی سے ملے

تری تلاش میں نکلے تھے تیرے دیوانے
ہر ایک موڑ پہ خود اپنی زندگی سے ملے

وہ لوگ اپنی ہی زنجیرِ پا کے قیدی ہیں
جنہیں نشانِ سفر بھی تری گلی سے ملے

چلو، کہ ترکِ تعلق کی بات ختم ہوئی
نہ تم خوشی سے ملے ہو نہ ہم خوشی سے ملے

(غلام جیلانی اصغر)
المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی(بھٹکلی)

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/