اب اس سے کیا غرض یہ حرم ہے کہ دیر ہے بیٹھے ہیں ہم …

بیٹھے ہیں ہم تو سایۂ دیوار دیکھ کر
….
روش صدیقی کا یوم وفات
23 January 1971
(پیدائش: 10 جولائی، 1909ء- وفات: 23 جنوری، 1971ء)
…..
نام شاہد عزیز صدیقی، تخلص روش۔ ۱۰؍جولائی ۱۹۱۱ء کو جوالا پور، ضلع سہارن پور میں پیدا ہوئے۔۲۲؍جنوری ۱۹۷۱ء کو روش صدیقی ایک مشاعرے میں کلام سناتے ہوئے دل کا شدید دورہ پڑا۔ علی الصبح ۲۳؍جنوری ۱۹۷۱ء کو اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔
……
منتخب اشعار
ہزار رخ ترے ملنے کے ہیں نہ ملنے میں
کسے فراق کہوں اور کسے وصال کہوں
—
اب اس سے کیا غرض یہ حرم ہے کہ دیر ہے
بیٹھے ہیں ہم تو سایۂ دیوار دیکھ کر
—
اردو جسے کہتے ہیں تہذیب کا چشمہ ہے
وہ شخص مہذب ہے جس کو یہ زباں آئی
—
پاسِ وحشت ہے تو یاد رُخِ لیلیٰ بھی نہ کر
عشق کو قیدیٔ زنجیرِ تمنا بھی نہ کر
—
دل گوارا نہیں کرتا ہے شکستِ امید
ہر تغافل پہ نوازش کا گماں ہوتا ہے
—
عشق خود اپنی جگہ مظہر انوارِ خدا
عقل اس سوچ میں گم کس کو خدا کہتے ہیں
—
لڑکھڑانا بھی ہے تکمیلِ سفر کی تمہید
ہم کو منزل کا نشاں لغزشِ پیہم سے ملا
—
درد آلودۂ درماں تھا روشؔ
درد کو درد بنایا ہم نے
—
وہ شخص اپنی جگہ ہے مرقع تہذیب
یہ اور بات ہے کہ قاتل اسی کا نام بھی ہے
—
بتانِ شہر کو یہ اعتراف ہو کہ نہ ہو
زبان عشق کی سب گفتگو سمجھتے ہیں
—
وہ کہاں درد جو دل میں ترے محدود رہا
درد وہ ہے جو دل کون و مکاں تک پہنچے
—
خونِ دل صرف کر رہا ہوں روشؔ
خوب سے نقشِ خوب تر کے لیے
—
ہزار حسن دل آرائے دو جہاں ہوتا
نصیبِ عشق نہ ہوتا تو رائیگاں ہوتا
—
جو راہ اہلِ خرد کے لیے ہے لا محدود
جنونِ عشق میں وہ چند گام ہوتی ہے
—
نقابِ شب میں چھپ کر کس کی یاد آئی سمجھتے ہیں
اشارے ہم ترے اے شمعِ تنہائی سمجھتے ہیں
—
شکست رنگِ تمنا کو عرض حال کہوں
سکوتِ لب کو تقاضائے صد سوال کہوں
—
وہ نکہتِ گیسو پھر اے ہم نفساں آئی
اب دم میں دم آیا ہے اب جان میں جاں آئی
—
وحدتِ صورت و معنی کو سمجھ اے واعظ
حسنِ یزداں کا تصور رُخِ آدم سے ملا
—
روشؔ رازِ محبت آج بھی ہے راز لا ینحل
غلط ثابت ہوئے سارے جواب آہستہ آہستہ
—
لے گیا عشق کسی شاہد نادیدہ تک
مدتوں ذوقِ پرستش نے تراشے تھے صنم
—
رنگ اس محفلِ تمکیں میں جمایا نہ گیا
خامشی سے بھی مرا حال سنایا نہ گیا
—
حیرتِ شوق ہی بن جائے نہ غماز روشؔ
تو اس انداز سے ناداں اسے دیکھا بھی نہ کر



