باقی ہی کیا رہا ہےتجھے مانگنے کے بعد بس اک دعا می…

بس اک دعا میں چھوٹ گئے ہر دعا سے ہم
………
وقت کی گردشوں کا بھروسہ ہی کیا مطمئن ہو کے بیٹھیں نہ اہلِ چمن
ہم نے دیکھے ہیں ایسے بھی کچھ حادثے کھو گئے رہنما لٹ گئے راہ زن
……..
تھا وہ بھی زمانہ اے عامؔر ! بازو تھے ہمارے تیغ و سناں
اب تیغ و سناں کی صورت کو دیکھے سے پسینہ آتا ہے
………
شدہ شدہ وہی گلشن کے حکمران ہوئے
جو خار پی کے گلوں کا لہو جوان ہوئے
………
یہ کیا کہا جنوں ہے محبت کی انتہا
اے بے خبر چلے ہیں اسی انتہا سے ہم
……….
مری خطاؤں کا عذر سن کر، ترس تمہیں بھی ضرور آئے
مگر جسے تم خطا سمجھ لو ، یہ کیسے کہہ دوں خطا نہیں ہے
مولانا عامر عثمانی
………
مولانا امین الرحمٰن عامر عثمانی (1920 تا 1975) ایک بلند پایہ محقق و مفکر، صاحبِ طرز انشاء پرداز و ادیب اور خوش فکر شاعر تھے۔ لہجے کی شگفتگی، اسلوب کی ندرت اور اظہارِ رائے میں بے باکی آپ کی تحریروں کا خاصہ ہے۔ آپ کو شعر و سخن کا ذوق ورثے میں ملا تھا۔ شاعری میں اگر چہ وہ با ضابطہ طور پرکسی کے شاگرد نہیں تھے، تاہم شہنشاہِ غزل جگر مرادآبادی سے خصوصی تعلق تھا اور غزل گوئی میں انہی کا تتبع بھی فرماتے تھے۔
مولا نا عامر عثمانی دیو بند کے مایہ ناز فرزند علامہ شبیر عثمانی کے برادر زادے تھے۔ 1920 ء میں ہردوئی میں پیدا ہوئے جہاں آپ کے والد محترم بسلسلہ ملازمت مقیم تھے۔ 1938ء میں انھوں نے دارالعلوم دیوبند سے سندِ فراغت حاصل کی۔ 1949ء میں دیوبند سے "تجلی” نام کا ایک ماہانہ رسالہ جاری کیا جو آگے چل کر دین و اسلام کے عظیم خادم کی حیثیت سے مشہور ہوا۔ کل 55 سال اس جہانِ فانی میں گزار کر1975ء میں آپ نے مہاراشٹرا کے شہر پونا میں داعی اجل لبیک کہہ دیا۔


