گلزارؔ (سمپورن سنگھ کالرا ) کا یومِ پیدائش Aug 18,…

Aug 18, 1936
گلزار نے ۱۸۔ اگست ۱۹۳۴کو دینہ (جہلم، پنجاب۔ پاکستان)میں ایک ممتاز سکھ خاندان مکھن سنگھ کالرا اور سر جان کور کے گھر جنم لیا۔ بر صغیر سے جب ظالم و سفاک، موذی و مکار برطانوی استعمار کی نوے سال پر محیط شب تاریک کا خاتمہ ہو ا تو گلزار اپنے خاندان کے ہمراہ امرتسر پہنچا اس کے بعد مستقل طور پر ممبئی میں سکونت اختیار کر لی۔ ابتدائی تعلیم مکمل کر نے کے بعد گلزار نے کچھ عرصہ ایک گیراج میں موٹر مکینک کی حیثیت سے کا م کیا۔ ادب اور فنون لطیفہ سے والہانہ محبت اور قلبی وابستگی رکھنے والے اس حساس تخلیق کار نے۱۹۵۶ میں فلمی نغمہ نگار کی حیثیت سے بمل رائے کی فلم ’’بندنی‘‘ سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ اس فلم میں مو سیقار سجن دیو بر من کی مو سیقی اور گلزار کے پر سوز گیتوں نے شائقین فلم کے دل موہ لیے۔ اس کا گیت ’’مورا گورا رنگ لے لے‘‘ جسے نا مور مغنیہ لتا منگیشکر نے گایا بہت مقبول ہوا۔ یہ مقبول نغمہ نوتن پر فلمایا گیا۔ یہیں سے گلزار کی مستقبل کی کامرانیوں کا آغاز ہوتا ہے۔ ۱۹۶۸ میں گلزار نے فلم ’’آشیر واد‘‘ کے مکالمے اور نغمے لکھے۔ اگلے برس فلم ’’خاموشی‘‘ میں اس کے گیتوں کی دھو م مچ گئی۔ اس کا گیت ’’ہم نے دیکھی ہے ان آنکھوں کی مہکتی خوشبو‘‘اپنے عہد کا مقبول ترین گیت تھا جو زبان زد عام تھا۔ گلزار کے متعدد فلمی گیت آج بھی مقبول ہیں ان میں ’’مسافر ہوں یارو‘‘ جو کشور کمار نے گایا، فلم آندھی کا نغمہ ’’تیرے بن زندگی سے کوئی شکوہ نہیں‘‘اسے لتا منگیشکر اور کشور کمار نے گایا، آشا بھوسلے کے گائے ہوئے گیت’’ گھر جائے گی‘‘ (خوشبو) اور ’’میرا کچھ سامان‘‘ (اجازت) لتا منگیشکر کا گایا ہوا گیت’’ تجھ سے ناراض نہیں زندگی حیران ہوں میں۔ تیرے معصوم سوالوں سے پریشان ہوں میں‘‘(معصوم) کی باز گشت آج بھی سنائی دیتی ہے۔ سلیل چودھری کے ساتھ فلم ’’آنند‘‘ کے نغموں پر گلزار کو ایوارڈ ملا۔ مدن مو ہن کے ساتھ فلم ’’موسم‘‘کے لیے بھی نغمات لکھے۔ ۱ ۱۹۷ میں فلم ’’گڈی‘‘ میں بھی گلزار کی فنی مہارت کا جادو سرچڑھ کر بولا۔ بیسویں صدی عیسوی کی ساتویں اور آٹھویں دہائی میں گلزار نے فلم ڈائریکٹر، ڈرامہ نویس، نغمہ نگار، سکرپٹ رائٹر، شاعر، نثر نگار، مصنف اور زیرک تخلیق کار کی حیثیت سے اپنے تخلیقی وجود کا اثبات کیا اور پوری دنیا سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ اس کی کئی فلموں کو بے حد پذیرائی ملی ان میں ’’ آندھی‘‘ اور ’’موسم‘‘کو سدا بہار سمجھا جاتا ہے۔ جب گلزار نے موسیقی کے شعبے میں اپنے فن کا جادو جگایا تو اس وقت فنون لطیفہ کے افق پر اپنے عہد کے با کمال فن کاروں کی جو کہکشاں جلوہ فگن تھی اس کے تابندہ ستاروں میں آر ڈی برمن، سلیل چودھری، وشال بھردواج، اے آر رحمٰن، راہل دیو برمن، سجن دیو بر من، شنکر جے کشن، ہیمنت کمار، لکشمی کانت پیارے لال، مدن مو ہن اور راجیش روشن کے نام قابل ذکر ہیں۔ گلزار نے فلم سٹار راکھی سے شادی کی اور اس کی زندگی میں مسلسل نکھار آتا چلا گیا۔ فکری اعتبار سے گلزار کا جھکاؤ بائیں بازو کی جانب رہا۔ اردو ادب کی ترقی پسند تحریک سے گلزار نے جو اثرات قبول کیے وہ اس کے اسلوب میں نمایاں ہیں۔ اس نے اپنی شاعری میں استحصالی عناصر کے مکر کا پردہ فاش کرنے میں کبھی تامل نہیں کیا۔ زندگی کے بارے میں گلزار نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ چشم کشا صداقتوں سے لبریز ہیں۔ معاشرتی زندگی میں سیلِ زماں کے تھپیڑوں اور آلامِ روزگار کے مہیب بگولوں کو موضوع بنا کر گلزار نے جہد و عمل کی تلقین کی ہے۔ بادی النظر میں یہ شاعری عام آدمی کی زندگی اور ادب کے فکر پرور خیالات کے درمیاں ایک پُل کا کردار ادا کرنے کی سعی ہے۔


