منتخب غزلیں

تیرے بعد جانے یہ کیا ہواہرے آسماں کو ترس گئے………

تیرے بعد جانے یہ کیا ہواہرے آسماں کو ترس گئے……….. (حسن رضوی)

تیرے بعد یہ کیا ہوا ہرے آسماں کو ترس گئے
گھِرے ہم بھنور میں اس طرح کھلے بادباں کو ترس گئے

مرے شہر کے جو چراغ تھے ’انہیں آندھیوں نے بجھا دیا
چلی ایسی اب کے ہوائے دل کہ مکیں مکاں کو ترس گئے

یہ عجیب خوف و ہراس ہےکوئی دور ہے کوئی پاس ہے
وہ جو آشیاں کے تھے پاسباں وہی آشیاں کو ترس گئے

جنہیں پیار پر رہی دسترس وہی دور ہم سے ہیں اس برس
اے بہار تیری بہار میں درِ دوستاں کو ترس گئے

تھے جو کل تلک مرے آشناسبھی یار نکلے وہ بے وفا
سدا خوش رہیں مرے خوش نوا بھلے ہم زباں کو ترس گئے

وہ جو جان سےبھی عزیز تھے وہی لوگ میرے رقیب تھے
بھلا کیسے اپنے نصیب تھے کہ کہاں کہاں کو ترس گئے

نہ وہ راگ ہے نہ وہ راگنی نہ وہ چاند ہے نہ وہ چاندنی
میری خواہشوں کےجو تیر تھے وہ کڑی کماں کو ترس گئے

نہ ہی تذکرہ یہاں ہیر کا نہ ذکر مصرعہء میر کا
حسن ایسے کتنے ہی بے نوا شبِ داستاں کو ترس گئے


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/