افسانے

معزز لوگ – فاطمہ احمد

جس سے محبت کی جائے اسے گنہگار نہیں کیا جاتا۔۔۔” میَں تمھیں چھو نہیں سکتا”، یہ کہہ کر کریم کمرے سے باہر چلا گیا اور مہر النساء کی آنکھوں سے آنسو ؤںکا سمندر بہنے لگا جو تھمنے میں ہی نہیں تھا۔
اس کے ذہن میں پرانے واقعات کی فلم چلنے لگی۔ وہ سب معزز لوگ اس کے ذہن میں آئے جو ساری عمر اس کی عزت کی دھجیاں اُڑاتے رہے۔ وہ مولوی جن کو وہ وضو کروایا کرتی تھی، جائے نماز بچھا کر دیا کرتی تھی،اور پھر کس طرح اسی مولوی نے اس کےنازک جسم کو لہو سے وضو کروا کربستر کی سفید چادر کو رنگین کر دیا تھا۔ اور وہ پھر بھی معزز کے معزز ہی رہے۔ طوائف تو مہر النساء تھی۔۔۔اور غیر معزز بھی صرف وہی تھی۔ اور وہ راحیل صاحب جو گورنمنٹ کے کسی محکمے میں بہت بڑے افسر تھے، ان کے آنے پر اس کی ماں اس کو سختی سے تلقین کیا کرتی تھی کہ لباس بہت باریک ہونا چاہئے کہ جسم کی ایک ایک پور کا نظارہ ہو سکے۔یہ راحیل صاحب کی خاص فرمائش ہوتی تھی کیونکہ وہ بہت معززجو تھے اور ان کی ہر بات ماننی پڑتی تھی اور غلیظ تو صرف مہرالنساء تھی۔ کیونکہ معزز لوگ جو چاہتے ہیں کر سکتے ہیں۔۔۔پھر بھی وہ معزز ہی رہتے ہیں۔کتنے سیاستدان اس کی نطروں کے سامنے گزرےجن کےسامنے ناچ ناچ کے اس نے اپنے نازک پیر زخمی کر لئے مگر کسی ایک کے بھی دامن پہ اس کی غلاظت کا ایک چھینٹا تک نہ گرا۔۔۔اور وہ رہے سدا کے معزز۔
مگر آج جب مینا بائی کے بیٹے نے جو اسی کوٹھے پر پلا بڑھا تھاکہ اس کے معزز باپ کا آج تک پتہ نہ چل سکا ، اس نے جب مہرالنساءکو چھونے سے انکار کیا تو۔۔۔پہلی بار مہرالنساء کو حلال اور حرام کا پتہ چلا۔ اس نے پہلی بار کسی کی آنکھوں میں انسانیت دیکھی جس نےاس کے دامن کو بگھو ڈالا۔اور اس نے اپنے پیروں سے گھنگھرو اتار کے کمرے کی کھڑکی سے باہر پھینک دیئےاور لال لپ سٹک جو اس کے دودھ جیسے گورے رنگ پر بہت بھلی لگ رہی تھی ، اپنے ہاتھوں سے رگڑ رگڑ کر اتار دی۔
آج اسے اپنے سے زیادہ ان معزز لوگوں سے گھن آ رہی تھی جن کے گھر بچپن سے حلال اور حرام کا درس دیا جاتا ہے لیکن ان کے اندر کا جانور کسی کو چیر پھاڑ سکتا ہے۔
ابھی وہ انھی سوچوں میں گم تھی کہ اس کی ماں خوشی خوشی کمرے میں یہ کہتی ہوئی داخل ہوئی کہ مبارک ہو سردار صاحب تمھیں لینے آ رہے ہیں ۔ آج سے تم ہمیشہ ان کے ساتھ ان کے فارم ہاؤس والی کوٹھی پہ رہو گی۔ انھوں سے وہ کوٹھی بھی تمھارے نام لگا دی ہے۔ اور ساتھ میں شاہانہ جیب خرچ بھی دیں گے اور استعمال کرنے کو پراڈو گاڑی دیں گے۔ بس کبھی کبھار مہینے میں ایک آدھ دن آیا کریں گے جس دن بیوی میکے گئی ہو گی۔۔۔ تیرے تو مزے ہو گئے مہرو۔۔۔اتنے معزز انسان نے تجھے پسند کیا۔ مہرو کھڑکی کی طرف منہ کئے روئے جارہی تھی ۔ اچانک جب اس نے ماں کو مڑ کے دیکھا تو اس کی ماں حیران و پریشان ہو گئی۔ کیونکہ مہرو کی آنکھوں میں گیلے جگنو جگمگا رہے تھے۔ مہرو ماں کے سینے سے لگ گئی اور پھوٹ پھوٹ کے روتے ہوئے کہنے لگی کہ ماں مجھے معزز لوگوں سے نفرت ہے۔ مجھے اس گندگی میں رہ کے بھی حلال و حرام کے معانی آتے ہیں ۔۔۔اور محبت تو کبھی کسی کو گنہگار نہیں کر سکتی ۔ یہ جو سب معزز لوگ یہاںرات کے اندھیروں میں چکر لگاتے ہیں یہ سب جھوٹےلوگ ہیں۔ ماں! تو میرا نکاح کریم سے کروا دے ، مجھے کسی بھی معزز جانور کے ساتھ نہیں رہنا ہے۔ مہرو کی آنکھوں میں اشکوں کی لڑی ، ہونٹوں پہ التماس تھی اور اس کا جسم ماں کے قدموں میں تھا!!!

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/