منتخب غزلیں
مِیر تقی مِیرؔ مفت آبروئے زاہدِ علّامہ لے گیا اِ…

مِیر تقی مِیرؔ
مفت آبروئے زاہدِ علّامہ لے گیا
اِک مُغبچہ، اُتار کے عمّامہ لے گیا
داغِ فراق و حسرتِ وصل، آرزوئے شوق !
میں ساتھ، زیرِ خاک بھی ہنگامہ لے گیا
پُہنچا نہ پُہنچا، آہ گیا، سو گیا غریب
وہ مرغِ نامہ بر، جو مِرا نامہ لے گیا
اُس راہزن کے ڈھنگوں سے دَیوے خُدا پناہ
اِک مرتبہ جو، مِیرؔ جی کا جامہ لے گیا
مِیر تقی میرؔ


