منتخب نظمیں

جامِ مے توبہ شکن، توبہ مری جام شکن سامنے ڈھیر ہیں …

جامِ مے توبہ شکن، توبہ مری جام شکن
سامنے ڈھیر ہیں ٹوٹے ہوئے پیمانوں کے

مکمل غزل
کُل مرقعے ہیں ترے چاکِ گریبانوں کے
شکل معشوق کی، انداز ہیں دیوانوں کے

کعبہ و دیر میں ہوتی ہے پرستش کس کی
مے پرستو! یہ کوئی نام ہیں مے خانوں کے

جامِ مے توبہ شکن، توبہ مری جام شکن
سامنے ڈھیر ہیں ٹوٹے ہوئے پیمانوں کے

پرِ پرواز بنے خود شررِ شمع کبھی
شررِ شمع بنے پر کبھی پروانوں کے​

ذکر کیا اہلِ جنوں کا کہ جب آئی ہے بہار
وہ تو وہ، رنگ بدل دیتے ہیں زندانوں کے​

وسعتِ ذات میں گم، وحدت و کثرت ہے ریاضؔ
جو بیاباں ہیں، وہ ذرّے ہیں بیابانوں کے

(ریاضؔ خیر آبادی)​

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/