منتخب نظمیں

ہم لوگ آؤ اُس یاد کو سِینے سے لگا کر سو جائیں آؤ …

ہم لوگ

آؤ اُس یاد کو سِینے سے لگا کر سو جائیں
آؤ سوچیں کہ بس اک ہم ہی نہیں تِیرہ نصِیب
اپنے ایسے کئی آشفتہ جِگر اَور بھی ہیں

ایک بے نام تھکن ، ایک پْر اسرار کَسک
دل پہ وُہ بوجھ کہ بْھولے سے بھی پْوچھے جو کوئی
آنکھ سے جلتی ہوئی رُوح کا لاوا بہہ جاۓ

چارہ سازی کے ہر انداز کا گہرا نِشتر
غم گُساری کی روایات میں اُلجھے ہُوۓ زخم
درد مندی کی خراشیں جو مٹاۓ نہ مِٹیں

اپنے ایسے کئی آشفتہ جِگر اَور بھی ہیں
لیکن اَے وقت وُہ صاحب نَظَراں کیسے ہیں
کوئی اُس دیس کا مِل جائے تو اِتنا پُوچھیں
آج کل اپنے مسِیحا نَفَساں کیسے ہیں
آندھیاں تو یہ سُنا ہے کہ اُدھر بھی آئیں
کونپلیں کیسی ہیں، شِیشوں کے مکاں کیسے ہیں؟

مصطفیٰ زیدی

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/