منتخب غزلیں
( غیــر مطبــوعــہ ) بہت حَسیں تهی کبهی یہ دنیا ‘ مِرے مطابق مگر رہا اب نہ اُس …

( غیــر مطبــوعــہ )
بہت حَسیں تهی کبهی یہ دنیا ‘ مِرے مطابق
مگر رہا اب نہ اُس کا چہرہ ‘ مِرے مطابق
میں اِس لئے اک درخت سے بات کر رہی ہوں
رہے گا چپ یا جواب دے گا ‘ مِرے مطابق
ترے لکهے کو غلط نہیں کہہ رہی میں’ لیکن
سوال یہ ہے کہ کیوں نہ لکّها مِرے مطابق
یہاں پہ سب میرے خانوادہ سے آشنا ہیں
مِرا تعارف نہ ہو سکے گا ‘ مِرے مطابق
ﺗﺮﮮ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﺭُﻭﺩﺍﺩ ﺳُﻦ ﭼﮑﯽ ﮨﻮﮞ
ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺍِﺱ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍ’ مِرے مطابق
نکال دے ﺗُﻮ ہی میری آنکهوں کی سُــوئیاں ۔۔۔۔ اب
نہ آئے گا کوئی شاہ زادہ ‘ مِرے مطابق
میں گنگناتی فقط ترا نام ، اِس کی لَے پر
مگر یہ کم بخت دل نہ دهڑکا’ مِرے مطابق
( ںیــــلـمؔ ملَکــــــــــ )



