افسانے

یہ میرا پسندیدہ اقتباس ہے مرزا ادیب لکھتے ہیں۔ ابا جی مجھے مارتے تھے تو امی ب…

یہ میرا پسندیدہ اقتباس ہے

مرزا ادیب لکھتے ہیں۔

ابا جی مجھے مارتے تھے تو امی بچا لیتی تھیں۔ ایک دن میں نے سوچا کہ اگر امی پٹائی کریں گی تو ابا جی کیا کریں گے؟

یہ دیکھنے کے لئے میں نے امی کا کہا نا مانا۔ انہوں نے کہا بازار سے دہی لا دو میں نہ لایا،

انہوں نے سالن کم دیا میں نے زیادہ پر اصرار کیا، انہوں نے کہا پیڑھی کے اوپر بیٹھ کر روٹی کھاؤ میں زمین پر دری بچھا کر بیٹھ گیا۔

کپڑے میلے کر لیئے۔ میرا لہجہ بھی گستاخانہ تھا۔
مجھے پوری توقع تھی کہ امی ضرور ماریں گی مگر انہوں نے مجھے سینے سے لگا کر کہا

“ کیوں دلاور پتر ماں صدقے توبیمار تو نہیں“۔ اس وقت میرے آنسو تھے کہ رکتے ہی نہیں تھے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭?????????

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/