منتخب غزلیں

داغِ دل ہم کو یاد آنے لگے لوگ اپنے دئیے جلانے لگے کچھ نہ پا کر بھی مطمئن ہیں ہم…

داغِ دل ہم کو یاد آنے لگے
لوگ اپنے دئیے جلانے لگے

کچھ نہ پا کر بھی مطمئن ہیں ہم
عشق میں ہاتھ کیا خزانے لگے

یہی رستہ ہے اب یہی منزل
اب یہیں دل کسی بہانے لگے

خودفریبی سی خودفریبی ہے
پاس کے ڈھول بھی سہانے لگے

اب تو ہوتا ہے ہر قدم پہ گماں
ہم یہ کیسا قدم اٹھانے لگے

اس بدلتے ہوئے زمانے میں
تیرے قصے بھی کچھ پرانے لگے

رخ بدلنے لگا فسانے کا
لوگ محفل سے اٹھ کے جانے لگے

ایک پل میں وہاں سے ہم اٹھے
بیٹھنے میں جہاں زمانے لگے

اپنی قسمت سے ہے مفر کس کو
تیر پر اُڑ کے بھی نشانے لگے

ہم تک آئے نہ آئے موسمِ گُل
کچھ پرندے تو چہچہانے لگے

شام کا وقت ہو گیا باقی
بستیوں سے شرار آنے لگے

شاعر: باقی صدیقی

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/