منتخب نظمیں

"ابا جان، مجھے افسوس ہے کہ میں نے آپ کی خاموشی کو …

"ابا جان، مجھے افسوس ہے کہ میں نے آپ کی خاموشی کو لاپرواہی سمجھ لیا "میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔مجھے معاف کر دیجیے۔” <3

لاہور کے اُس پرانے ہسپتال کی عمارت میں داخل ہوتے ہوئے ہر شخص ایک ہی چیز محسوس کرتا تھا۔

خاموشی۔

ایسی خاموشی نہیں جو سکون دیتی ہے۔

ایسی خاموشی، جس کے پیچھے بہت سی چیخیں دفن ہوں۔

عمارت انگریزوں کے زمانے کی تھی۔ اونچی چھتیں، لمبے برآمدے، نمی سے اکھڑی ہوئی دیواریں اور لوہے کی وہ کھڑکیاں جن کے پٹ شام ہوتے ہی ایسے بند کیے جاتے جیسے باہر شہر نہیں، کوئی خطرناک جنگل ہو۔

ذہنی امراض کے شدید مریضوں کے لیے بنائے گئے اُس وارڈ کی شہرت اچھی نہیں تھی۔

نرسیں وہاں ڈیوٹی بدلنے سے پہلے دعائیں پڑھتی تھیں۔

نئے ڈاکٹر زیادہ سے زیادہ دو تین ماہ ٹکتے، پھر تبادلے کی درخواست دے دیتے۔

کچھ کہتے، "یہ کام ہمارے بس کا نہیں۔”

کچھ کہتے، "یہاں مریضوں سے زیادہ ان کی چیخیں تھکا دیتی ہیں۔”

اور کچھ بغیر کچھ کہے چلے جاتے۔

اُس وارڈ میں ایک ڈاکٹر تھا جو دوسروں کی طرح نہیں گیا۔

اُس کا نام ڈاکٹر زریاب نیر تھا۔

وہ شہر کے ایک معروف نجی ہسپتال میں اچھی تنخواہ پر کام کر سکتا تھا۔ اس کے پاس بیرونِ ملک جانے کے مواقع بھی آئے تھے۔

مگر وہ اسی سرکاری ہسپتال میں رہا۔

چار سال۔

پورے چار سال۔

اور ان چار برسوں میں اس نے ایک عجیب کام کیا۔

وہ مریضوں کے بیڈ کے پاس بہت کم جاتا تھا۔

وہ ان کے کمرے میں داخل نہیں ہوتا تھا۔

وہ دور بیٹھ کر ان کی فائلیں پڑھتا تھا۔

شروع میں عملہ اسے عجیب سمجھتا تھا۔

ایک دن نرس شمائلہ نے ہمت کرکے پوچھ ہی لیا:

"ڈاکٹر صاحب، آپ مریضوں سے ملتے کیوں نہیں؟”

زریاب نے فائل بند کی۔

"ہر مریض میرے سامنے آ کر اپنا مسئلہ نہیں بتا سکتا۔”

"پھر؟”

"کاغذ بہت کچھ بتاتے ہیں۔”

شمائلہ ہنس دی۔

"کاغذ چیختے نہیں۔”

زریاب نے اس کی طرف دیکھا۔

"اسی لیے شاید میں انہیں بہتر سن لیتا ہوں۔”

اُس وقت شمائلہ کو یہ بات سمجھ نہیں آئی تھی۔

مجھے بھی نہیں آتی۔

میں یہ سب اس لیے بتا رہا ہوں کہ میں اُن دنوں ڈاکٹر زریاب نیر کا معاون تھا۔

میرا نام حارث تھا۔

اور میں نے اپنی آنکھوں سے اُس آدمی کو بدلتے دیکھا تھا۔

اصل میں پہلے وہ ڈاکٹر نہیں تھا۔

وہ ایک ایسے باپ کا بیٹا تھا جس نے ساری عمر دوسروں کے دکھ بانٹے اور اپنی زندگی کے آخری برس اپنے گھر والوں سے دور خاموشی میں گزار دیے۔

زریاب کے والد استاد تھے۔

بڑے نرم مزاج۔

محلے کے بچوں کو مفت پڑھاتے، غریب طلبہ کی فیس اپنی جیب سے دیتے، اور ہر جمعہ مسجد کے باہر بیٹھے کسی نہ کسی ضرورتمند کا خرچ اٹھا آتے۔

مگر گھر کے اندر وہ بہت کم بولتے تھے۔

زریاب کو ہمیشہ لگتا رہا کہ ابا جان نے کبھی اسے اپنا نہیں سمجھا۔

ایک رات، برسوں پہلے، دونوں میں جھگڑا ہوا۔

معمولی سا۔

ایسا جھگڑا جو اکثر باپ اور بیٹے کے درمیان ہو جاتا ہے اور اگلی صبح انسان بھول بھی جاتا ہے۔

مگر اُسی رات زریاب کے والد کو دل کا شدید دورہ پڑا۔

وہ اسپتال پہنچنے سے پہلے چل بسے۔

زریاب برسوں یہی سوچتا رہا کہ شاید اُس کی آخری بات نے باپ کا دل توڑا تھا۔

شاید وہ جاتے جاتے ناراض تھے۔

شاید آخری لمحے میں اُن کے دل میں اپنے بیٹے کے لیے محبت سے زیادہ شکایت تھی۔

کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جن کا جواب نہ ملے تو وہ آدمی کے اندر گھر بنا لیتے ہیں۔

زریاب کے اندر بھی ایک ایسا ہی گھر تھا۔

خاموش۔

بند۔

اور ہر کمرے میں ایک ہی آواز گونجتی تھی:

**”کاش میں اُس رات اپنے ابا سے معافی مانگ لیتا۔”**

ہسپتال کے وارڈ میں آنے کے بعد اُس کی حالت کچھ بہتر ہوئی تھی۔

شاید اس لیے کہ یہاں ہر روز اسے ایسے لوگ ملتے تھے جن کے اندر بھی کوئی بند دروازہ تھا۔

کسی نے باپ کو قتل کردیا تھا۔

کسی نے برسوں سے ماں کا چہرہ نہیں دیکھا تھا۔

کسی کو اپنی بیوی یاد نہیں تھی۔

کسی کو یہ یاد تھا کہ دنیا نے اسے دھوکا دیا ہے۔

اور کسی کو یہ یقین تھا کہ پوری دنیا اس کے خلاف سازش کر رہی ہے۔

زریاب ان سب کی فائلیں پڑھتا۔

ایک ایک صفحہ۔

ایک ایک تاریخ۔

ایک ایک شکایت۔

پھر وہ فائل بند کرتا اور کچھ دیر آنکھیں موند کر خاموش بیٹھا رہتا۔

میں نے ایک بار پوچھا:

"آپ یہ سب پڑھ کر کرتے کیا ہیں؟”

اُس نے جواب دیا:

"کچھ نہیں۔”

"کچھ نہیں؟”

"اپنے اندر دیکھتا ہوں۔”

مجھے لگا وہ مذاق کر رہا ہے۔

مگر وہ سنجیدہ تھا۔

اُس رات پہلی بار اُس نے مجھے ایک بات بتائی۔

"حارث، آدمی دوسروں کی بیماری دیکھتے دیکھتے ایک غلطی کرتا ہے۔”

"کون سی؟”

"وہ سمجھتا ہے بیماری صرف سامنے والے میں ہے۔”

میں خاموش رہا۔

"حالانکہ بعض اوقات سامنے والا آدمی صرف اُس جگہ انگلی رکھ دیتا ہے جو پہلے ہی ہمارے اندر زخمی ہوتی ہے۔”

میں نے پوچھا:

"تو آپ کیا کرتے ہیں؟”

اُس نے میز پر پڑی ایک فائل کی طرف دیکھا۔

"میں اُس زخم کو تلاش کرتا ہوں۔”

اُس کے بعد یہ اُس کا معمول بن گیا۔

وہ ہر صبح وارڈ میں آتا۔

نماز کے بعد کچھ دیر اپنی ڈائری لکھتا۔

پھر مریضوں کی فائلیں کھولتا۔

ایک دن اس کے سامنے ایک مریض کی فائل تھی۔

نام: **سلمان اقبال**۔

عمر: سینتیس برس۔

تشخیص، کئی سالہ پیچیدہ ذہنی بیماری، غصے کے شدید دورے، تشدد کا سابقہ، بار بار خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش۔

سلمان اپنے کمرے کی دیوار پر مکے مارا کرتا تھا۔

کبھی گھنٹوں دروازہ پیٹتا رہتا۔

کبھی ایک ہی جملہ دہراتا:

"امی نے مجھے چھوڑا نہیں تھا… میں نے انہیں چھوڑا تھا۔”

کوئی نہیں سمجھتا تھا وہ کیا کہنا چاہتا ہے۔

زریاب نے اس کی فائل کئی دن پڑھی۔

ایک شام میں نے دیکھا، فائل کھلی تھی اور زریاب کی آنکھیں بند تھیں۔

اس کے لب ہل رہے تھے۔

میں نے غور سے سنا۔

وہ آہستہ آہستہ کہہ رہا تھا:

"مجھے افسوس ہے۔”

پھر کچھ دیر خاموشی۔

"میں تم سے محبت کرتا ہوں۔”

پھر:

"مجھے معاف کر دو۔”

اور آخر میں:

"شکریہ۔”

میں نے حیرت سے اسے دیکھا۔

"ڈاکٹر صاحب…”

اُس نے آنکھیں نہ کھولیں۔

"جی؟”

"آپ کس سے بات کر رہے ہیں؟”

اُس نے بہت دیر بعد جواب دیا:

"اپنے آپ سے۔”

"لیکن فائل تو سلمان کی ہے۔”

وہ مسکرایا۔

"ہاں۔”

"پھر سلمان سے کیوں نہیں کہتے؟”

اب اس نے آنکھیں کھول دیں۔

"شاید مسئلہ یہی ہے، حارث۔ ہم دوسروں سے وہ سب کہنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں جو پہلے ہمیں اپنے آپ سے کہنا چاہیے۔”

میں نے کچھ نہ کہا۔

اُس دن کے بعد مجھے اس کی عادت عجیب نہیں لگی۔

وہ ہر فائل کے بعد یہی چار جملے دہراتا۔

**”میں تم سے محبت کرتا ہوں۔
مجھے افسوس ہے۔
مجھے معاف کر دو۔
شکریہ۔”**

وہ کسی خاص مریض کے لیے نہیں ہوتے تھے۔

وہ اُن حصوں کے لیے تھے جو انسان اپنے اندر دفن کر دیتا ہے۔

اپنا خوف۔

اپنا غصہ۔

اپنی شرمندگی۔

اپنی محرومی۔

اپنے بچپن کا وہ بچہ جسے کسی نے کبھی گلے نہیں لگایا۔

وہ خود کو یہی چار جملے سناتا رہتا۔

کئی ہفتوں بعد ایک عجیب بات ہوئی۔

سلمان نے پہلی مرتبہ دیوار پر مکے مارنا بند کر دیا۔

ایک دن اس نے نرس سے چائے مانگی۔

اگلے ہفتے اُس نے پہلی مرتبہ پورا کھانا کھایا۔

پھر ایک صبح وہ وارڈ کے صحن میں خاموش بیٹھا دھوپ دیکھتا ملا۔

عملہ حیران تھا۔

کسی نے کہا:

"دوا اثر دکھا رہی ہے۔”

کسی نے کہا:

"شاید علاج کا مرحلہ بدل گیا ہے۔”

زریاب نے کچھ نہیں کہا۔

وہ صرف دور سے سلمان کو دیکھتا رہا۔

لیکن یہ صرف سلمان کی بات نہیں تھی۔

ایک مریض جو برسوں سے مسلسل شور کرتا تھا، اُس نے کتاب مانگی۔

ایک عورت جو کسی کو قریب نہیں آنے دیتی تھی، اُس نے پہلی بار اپنی بیٹی کا نام لیا۔

ایک نوجوان جسے مہینوں سے ہر وقت نگرانی میں رکھنا پڑتا تھا، ایک دن خود سے نرس کے پاس چلا آیا۔

کچھ مریضوں کی دوائیں کم کی گئیں۔

کچھ کو وارڈ کے نسبتاً کھلے حصے میں منتقل کیا گیا۔

کچھ ایسے تھے جنہیں برسوں سے کوئی خاص امید نہیں سمجھا جاتا تھا، مگر اب ان کی حالت میں اتنی بہتری آ گئی کہ خاندان والوں سے ملاقات کی اجازت ملنے لگی۔

ہسپتال کا ماحول بھی بدلنے لگا۔

نرسیں ہر روز چھٹی کے لیے بے تاب نہیں رہتی تھیں۔

عملے کے استعفے کم ہو گئے۔

وارڈ میں خوف پہلے جیسا نہیں رہا تھا۔

ایک دن نرس شمائلہ نے ہنستے ہوئے کہا:

"ڈاکٹر صاحب، آپ نے آخر کیا جادو کیا ہے؟”

زریاب نے اپنی ڈائری بند کی۔

"میں نے جادو نہیں کیا۔”

"پھر؟”

"میں نے اپنے حصے کی صفائی شروع کی ہے۔”

"اپنے حصے کی؟”

وہ مسکرایا۔

"ہاں۔”

مجھے اُس وقت بھی یہ بات پوری طرح سمجھ نہیں آئی تھی۔

پھر ایک رات کچھ ایسا ہوا جس نے میری اپنی سمجھ بدل دی۔

ہسپتال میں ایک مریض کی حالت اچانک خراب ہوگئی۔

وہ چیخ رہا تھا۔

دروازہ پیٹ رہا تھا۔

چار لوگ اسے قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔

شمائلہ رو پڑی۔

ایک نرس نے کہا:

"بس بہت ہوگیا۔ میں یہاں مزید کام نہیں کرسکتی۔”

ڈاکٹر زریاب آیا۔

اس نے کسی کو ڈانٹا نہیں۔

کسی کو قصوروار نہیں ٹھہرایا۔

بس چند لمحے دروازے کے باہر کھڑا رہا۔

پھر اس نے اپنی آنکھیں بند کیں۔

اور آہستہ سے بولا:

"مجھے افسوس ہے۔”

میں نے اسے حیرت سے دیکھا۔

وہ پھر بولا:

"میں تم سے محبت کرتا ہوں۔”

پھر:

"مجھے معاف کر دو۔”

اور آخر میں:

"شکریہ۔”

مریض کچھ دیر چیختا رہا۔

پھر اس کی آواز تھوڑی مدھم ہوئی۔

پھر اور مدھم۔

آخرکار کمرے میں خاموشی اتر آئی۔

زریاب نے دروازہ نہیں کھولا۔

وہ صرف کھڑا رہا۔

کچھ دیر بعد نرس نے حیرت سے کہا:

"سو گیا ہے؟”

زریاب نے سر ہلایا۔

پھر وہ میری طرف آیا۔

میں نے فوراً پوچھا:

"یہ آپ نے کیا کیا؟”

وہ کچھ دیر خاموش رہا۔

"کچھ بھی نہیں۔”

"پھر وہ کیسے پرسکون ہوگیا؟”

اُس نے جواب دینے کے بجائے مجھ سے سوال کیا:

"حارث، تم نے کبھی اپنے اندر کی کسی بات سے معافی مانگی ہے؟”

میں نے نظریں جھکا لیں۔

میرے اندر بھی بہت کچھ تھا۔

بچپن میں ابا سے بدتمیزی کی ایک یاد۔

اپنی ماں کی بیماری میں دیر سے اسپتال پہنچنے کا افسوس۔

ایک دوست جس کا آخری فون میں نے مصروف ہونے کی وجہ سے نہیں اٹھایا تھا۔

اور کچھ ایسے فیصلے جن کے بارے میں میں آج تک خود کو معاف نہیں کرسکا تھا۔

زریاب نے کہا:

"ہم دوسروں کو معاف کرنا چاہتے ہیں، مگر اپنے اندر کے کسی پرانے کمرے کا دروازہ نہیں کھولتے۔”

میں نے پوچھا:

"تو کیا یہ چار جملے بولنے سے سب ٹھیک ہو جاتا ہے؟”

اُس نے فوراً کہا:

"نہیں۔”

میں چونک گیا۔

"پھر؟”

"یہ جملے کوئی جادوئی نسخہ نہیں۔ بیماری کا علاج بیماری کے مطابق ہوتا ہے۔ دوا جہاں ضروری ہو، دوا۔ ماہرِ نفسیات جہاں ضروری ہو، ماہرِ نفسیات۔ خاندان جہاں ضروری ہو، خاندان۔”

وہ رک گیا۔

"یہ صرف اتنا سکھاتے ہیں کہ علاج کرتے کرتے انسان اپنے دل کو پتھر نہ بنا لے۔”

یہ بات میرے ذہن میں کہیں اتر گئی۔

مہینے گزر گئے۔

ایک دن زریاب کو اپنے والد کی فائل ملی۔

اصل میں وہ کوئی فائل نہیں تھی۔

اُس کی اپنی ڈائری تھی۔

وہ برسوں سے اُس رات کے بارے میں کچھ نہیں لکھتا تھا۔

اُس دن اس نے پہلی بار ایک پورا صفحہ بھرا۔

میں نے نہیں پڑھا۔

صرف آخری سطر دیکھی:

"ابا جان، مجھے افسوس ہے کہ میں نے آپ کی خاموشی کو بےمحبتی سمجھ لیا۔”

اگلی سطر:

"میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔”

پھر:

"مجھے معاف کر دیجیے۔”

اور آخر میں:

"شکریہ، کہ آپ نے مجھے وہ سکھایا جو آپ الفاظ میں نہیں سکھا سکے۔”

اُس رات زریاب بہت دیر تک ہسپتال کی چھت پر بیٹھا رہا۔

صبح جب نیچے آیا تو پہلی بار اُس کے چہرے پر وہ سکون تھا جو میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

وہ ہنس رہا تھا۔

ایسے نہیں جیسے کوئی کامیابی پر ہنستا ہے۔

ایسے جیسے کسی نے برسوں سے کندھوں پر رکھا ہوا بوجھ آخرکار زمین پر رکھ دیا ہو۔

کچھ ہفتوں بعد مجھے معلوم ہوا کہ وہ رات کو اب اپنے والد کی پرانی الماری نہیں کھولتا تھا۔

وہ گھر جا کر اپنی ماں کے پاس بیٹھتا تھا۔

خاموشی سے۔

بس بیٹھتا تھا۔

ایک دن میں نے پوچھا:

"ڈاکٹر صاحب، آخر آپ نے اپنے آپ کو کیسے ٹھیک کیا؟”

وہ مسکرایا۔

"میں نے خود کو ٹھیک نہیں کیا۔”

"پھر؟”

"میں نے خود سے لڑنا چھوڑ دیا۔”

وہ کھڑکی کے پاس جا کر کھڑا ہوگیا۔

"ہم میں سے اکثر اپنی پوری زندگی اپنے ہی اندر ایک عدالت لگائے بیٹھے رہتے ہیں۔”

میں سن رہا تھا۔

"ہم جج بھی خود ہوتے ہیں، ملزم بھی خود، گواہ بھی خود، سزا بھی خود دیتے ہیں۔”

پھر اس نے میری طرف دیکھا۔

"کبھی کبھی شفا صرف اتنی ہوتی ہے کہ آدمی عدالت برخاست کر دے۔”

اُس نے میز پر پڑی اپنی ڈائری اٹھائی۔

"پھر وہ چار جملے؟”

میں نے پوچھا۔

اس نے ڈائری کھولی۔

"یہ؟”

"ہاں۔”

وہ مسکرایا۔

"میں نے شروع میں یہ چار جملے دوسروں کے لیے کہے تھے۔”

"اور اب؟”

"اب سمجھ آیا کہ میں ہر بار اپنے ہی کسی زخمی حصے سے بات کر رہا تھا۔”

میں خاموش کھڑا رہا۔

زریاب نے آہستہ آہستہ کہا:

"میں تم سے محبت کرتا ہوں۔”

پھر:

"مجھے افسوس ہے۔”

پھر:

"مجھے معاف کر دو۔”

اور آخر میں:

"شکریہ۔”

اس نے ڈائری بند کردی۔

"حارث، دنیا کو بہتر کرنے کا خیال بہت بڑا ہے۔ اتنا بڑا کہ اکثر انسان شروع ہی نہیں کر پاتا۔”

وہ کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے بولا:

"لیکن اپنے اندر ایک چھوٹی سی جگہ کو بہتر کرنا… یہ آدمی آج سے شروع کر سکتا ہے۔”

اُس دن ہسپتال سے نکلتے ہوئے میں نے پہلی بار وارڈ کی طرف پلٹ کر دیکھا۔

وہی پرانی عمارت۔

وہی لمبا برآمدہ۔

وہی لوہے کی کھڑکیاں۔

مگر مجھے کچھ بدلتا ہوا محسوس ہوا۔

عمارت نہیں بدلی تھی۔

لوگ نہیں بدلے تھے۔

شاید صرف میری نظر بدل گئی تھی۔

اور برسوں بعد جب میری زندگی میں بھی کچھ رشتے ٹوٹے، کچھ لوگ مجھ سے دور ہوئے، کچھ غلطیاں میرے ساتھ سوئیں اور صبح میرے سرہانے بیٹھی رہیں تو مجھے ڈاکٹر زریاب کے الفاظ یاد آئے۔

میں نے پہلی بار اپنے اندر ایک ایسے کمرے کا دروازہ کھولا جسے برسوں سے بند رکھا تھا۔

وہاں کوئی دوسرا نہیں تھا۔

صرف میں تھا۔

میرا بچپن۔

میرے خوف۔

میری غلطیاں۔

میرے مرحوم والد۔

میری ماں کی وہ آنکھیں جن میں بعض سوال اب بھی باقی تھے۔

اور میری اپنی ایک آواز، جو شاید برسوں سے مجھ سے یہ سننا چاہتی تھی:

**”میں تم سے محبت کرتا ہوں۔
مجھے افسوس ہے۔
مجھے معاف کر دو۔
شکریہ۔”**

تب مجھے سمجھ آیا کہ کبھی کبھی ہم جس انسان کو عمر بھر بدلنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، وہ باہر کھڑا دوسرا شخص نہیں ہوتا۔

وہ ہم خود ہوتے ہیں۔

اور بعض زخم ایسے ہوتے ہیں جن پر دنیا کی کوئی انگلی نہیں رکھتی۔

وہ صرف انتظار کرتے ہیں کہ ایک دن ہم خود اپنے اندر ہاتھ رکھیں، انہیں پہچانیں اور کہیں:

**”میں تمہیں چھوڑ کر کہیں نہیں جا رہا۔”**

شاید شفا وہ دن نہیں جب درد ختم ہو جائے۔

شاید شفا وہ دن ہے جب انسان درد کو دشمن سمجھنا چھوڑ دے۔

اور شاید انسان کی سب سے بڑی اصلاح یہ نہیں کہ وہ دنیا کو بدل دے۔

بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے اندر اتنی محبت پیدا کر لے کہ دنیا کی سختی اُس کے دل میں گھر نہ بنا سکے۔

اسی لیے ڈاکٹر زریاب کہا کرتا تھا:

"دنیا میں جو کچھ بدلنے سے انکار کرتا ہے، پہلے اُس سے جنگ نہ کرو۔
پہلے اپنے اندر اُس جگہ چراغ جلاؤ جہاں سے تم اسے دیکھ رہے ہو۔
ممکن ہے اندھیرا وہاں ہو۔”

افسانہ: وہ زخم جو میرا تھا

#psychology #nafsiyati #lifelessons

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/