منتخب نظمیں

امی… اگر میں بڑا نہ ہو سکا تو؟” رات کے پچھلے پ…

💥 امی… اگر میں بڑا نہ ہو سکا تو؟” 🥹

رات کے پچھلے پہر ہسپتال کی راہداری میں عجیب سی خاموشی تھی۔

ایسی خاموشی جس میں آدمی کو اپنی سانس بھی کسی دوسرے کی آواز لگتی ہے۔

کھڑکی کے باہر لاہور کی سڑک پر کبھی کوئی گاڑی گزر جاتی، کبھی دور کسی موٹر سائیکل کا شور ابھرتا اور پھر رات کے پیٹ میں دفن ہو جاتا۔

کمرہ نمبر 307 میں چھ سالہ حمزہ سو رہا تھا۔

یا شاید سونے کی کوشش کر رہا تھا۔

اس کے سر پر بال باقی نہیں رہے تھے۔ چہرہ زرد پڑ چکا تھا، ہونٹوں کی سرخی ماند پڑ گئی تھی، اور ہاتھ اتنے نحیف ہو گئے تھے کہ اس کی ماں جب انہیں اپنی ہتھیلی میں لیتی تو یوں محسوس ہوتا جیسے کسی چڑیا کا بچہ پکڑ رکھا ہو۔

سدرہ صرف چھبیس برس کی تھی۔

اتنی کم عمر کہ لوگ اسے اکثر حمزہ کی بڑی بہن سمجھ لیتے تھے۔

مگر پچھلے کئی مہینوں نے اس کے چہرے پر ایسی عمر لکھ دی تھی جو کیلنڈر سے نہیں گنی جا سکتی تھی۔

ڈاکٹروں نے اب لفظوں کا استعمال کم کر دیا تھا۔

پہلے وہ کہتے تھے:

"علاج جاری رکھیں، امید رکھیں۔”

پھر:

"ہم پوری کوشش کر رہے ہیں۔”

اور اب زیادہ تر خاموش رہتے تھے۔

ماں ڈاکٹر کی خاموشی بھی پڑھ لیتی ہے۔

اس رات سدرہ حمزہ کے بستر کے پاس بیٹھی اس کے چہرے کو دیکھ رہی تھی۔

حمزہ نے اچانک آنکھیں کھول دیں۔

"امی…”

"ہاں بیٹا؟”

"آپ سوئی نہیں؟”

سدرہ مسکرائی۔

"ماں بھی کبھی سوتی ہے؟”

حمزہ نے کمزور سی ہنسی ہنسی۔

کچھ دیر چھت کو دیکھتا رہا، پھر بولا:

"امی، اگر میں ٹھیک ہو جاؤں نا… تو میں کیا بنوں گا؟”

سدرہ کا دل جیسے ایک لمحے کے لیے رک گیا۔

وہ جانتی تھی کہ یہ سوال صرف سوال نہیں تھا۔

اس نے حمزہ کے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔

"جو تم چاہو گے۔”

حمزہ نے ذرا سوچا۔

"فائر فائٹر۔”

"فائر فائٹر؟”

"ہاں۔”

اس کی آنکھوں میں پہلی بار روشنی سی آئی۔

"بڑا سا ٹرک ہو گا۔ لال والا۔ اس پر سائرن ہو گا۔ ووں ووں ووں!”

اس نے کمزور ہاتھ سے سائرن کی نقل اتارنے کی کوشش کی۔

سدرہ ہنس دی۔

ہنستے ہنستے اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔

حمزہ نے فوراً پوچھا:

"امی، آپ رو رہی ہیں؟”

"نہیں تو۔”

"آپ جھوٹ بول رہی ہیں۔”

سدرہ نے منہ دوسری طرف کر لیا۔

حمزہ کچھ دیر اسے دیکھتا رہا۔

پھر بولا:

"امی… اگر میں بڑا نہ ہو سکا تو؟”

کمرے کی گھڑی چلتی رہی۔

ٹک…

ٹک…

ٹک…

سدرہ نے اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا۔

"تم بڑے ہو جاؤ گے۔”

حمزہ مسکرایا۔

"پکا؟”

"بالکل پکا۔”

مگر ماں کے دل میں پہلی بار یہ سوال پیدا ہوا کہ اگر زندگی نے اسے بڑا ہونے کا وقت ہی نہ دیا تو؟

اگلی صبح سدرہ ہسپتال سے نکلی۔

اس کے پاس کوئی منصوبہ نہیں تھا۔

بس ایک خواہش تھی۔

وہ سیدھی ریسکیو 1122 کے قریبی مرکز پہنچ گئی۔

ڈیوٹی پر موجود اہلکار نے حیرت سے اسے دیکھا۔

"جی؟”

سدرہ نے چند لمحے لب کھولے مگر آواز نہ نکلی۔

پھر بولی:

"میرے بیٹے کو… فائر فائٹر بننا ہے۔”

اہلکار نے مسکرا کر کہا:

"اچھا، اللہ اسے کامیاب کرے۔”

سدرہ کی آنکھیں بھر آئیں۔

"وہ… شاید بڑا نہ ہو سکے۔”

مسکراہٹ فوراً غائب ہو گئی۔

سدرہ نے ساری بات بتا دی۔

چھ سالہ حمزہ۔

خون کا سرطان۔

ہسپتال۔

اور فائر فائٹر بننے کی آخری خواہش۔

وہ اہلکار کچھ دیر خاموش رہا۔

پھر اندر گیا اور اپنے انچارج کو بلا لایا۔

کچھ ہی دیر بعد سدرہ کے سامنے ایک ادھیڑ عمر شخص بیٹھا تھا۔

نام تھا کامران۔

وہ کئی برس سے ریسکیو سروس سے وابستہ تھا۔

سدرہ نے نظریں جھکا کر کہا:

"اگر ممکن ہو تو… بس اسے ایک بار فائر بریگیڈ کی گاڑی میں بٹھا دیں۔”

کامران نے فوراً جواب نہیں دیا۔

اس نے میز پر پڑی فائل بند کی۔

"صرف گاڑی میں بٹھانا؟”

سدرہ نے سر اٹھایا۔

"جی۔”

کامران نے کرسی سے ٹیک لگائی۔

"نہیں۔”

سدرہ کا چہرہ بجھ گیا۔

پھر کامران نے کہا:

"اگر حمزہ فائر فائٹر بننا چاہتا ہے تو اسے صرف گاڑی میں نہیں بٹھائیں گے۔”

وہ مسکرایا۔

"ہم اسے پورا دن فائر فائٹر بنائیں گے۔”

تین دن بعد صبح سات بجے ہسپتال کے باہر سائرن کی آواز گونجی۔

ووں…

ووں…

ووں…

حمزہ نے آنکھیں کھولیں۔

"امی!”

سدرہ نے پردہ ہٹایا۔

نیچے ایک بڑی ریسکیو گاڑی کھڑی تھی۔

کچھ اہلکار باہر کھڑے تھے۔

اور ان میں سے ایک کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا یونیفارم تھا۔

حمزہ کی آنکھیں پھیل گئیں۔

"یہ… میرے لیے؟”

"ہاں۔”

"امی!”

اس نے اپنی کمزور ٹانگیں بستر سے نیچے لٹکائیں۔

اس دن پہلی بار اسے بستر سے نکلنے کی جلدی تھی۔

اسے نیلے رنگ کا یونیفارم پہنایا گیا۔

جوتے کچھ بڑے تھے، مگر کسی نے پروا نہیں کی۔

سر پر ہیلمٹ رکھا گیا۔

ہیلمٹ اس کے لیے بہت بڑا تھا۔

ایک ریسکیو اہلکار نے اس کے اندر کپڑا رکھ کر اسے درست کیا۔

حمزہ نے آئینے میں خود کو دیکھا۔

پھر سنجیدگی سے بولا:

"امی… اب میں اصلی لگ رہا ہوں؟”

سدرہ نے ہونٹ بھینچ لیے۔

"بالکل اصلی۔”

حمزہ نے ہیلمٹ سیدھا کیا۔

"چلو پھر۔ کسی کو بچانا ہے۔”

اس دن حمزہ کے لیے لاہور کی سڑکیں بدل گئی تھیں۔

وہ گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھا تھا اور ہر چند منٹ بعد کھڑکی سے باہر دیکھتا۔

پھر سائرن بجتا۔

اور حمزہ کا چہرہ روشن ہو جاتا۔

ایک کال پر وہ ٹیم کے ساتھ نکلا۔

دوسری کال پر اسے گاڑی کے اگلے حصے میں بٹھایا گیا۔

اسے بتایا گیا کہ فائر فائٹر کیسے حفاظتی لباس پہنتے ہیں، آگ کے قریب کیسے جاتے ہیں، لوگوں کو کیسے نکالتے ہیں۔

اس نے پانی کی موٹی دھار دیکھی تو بے اختیار چلایا:

"یہ تو بہت طاقتور ہے!”

ایک اہلکار نے ہنس کر کہا:

"بیٹا، آگ سے زیادہ طاقتور صرف وہ آدمی ہوتا ہے جو کسی اور کو بچانے کے لیے آگ میں داخل ہو۔”

حمزہ کچھ دیر سوچتا رہا۔

پھر بولا:

"تو میں بھی داخل ہوں گا۔”

سب ہنس پڑے۔

سدرہ خاموش کھڑی اسے دیکھتی رہی۔

کئی مہینوں بعد اس نے اپنے بیٹے کے چہرے پر بیماری نہیں دیکھی تھی۔

وہاں صرف ایک چھ سالہ لڑکا تھا۔

جس کے پاس ہیلمٹ تھا۔

ایک یونیفارم تھا۔

اور دنیا بھر کے خواب تھے۔

دوپہر کو ٹیم نے اسے کھانا کھلایا۔

حمزہ نے آدھی روٹی کھائی، پھر ایک اہلکار کی طرف دیکھ کر بولا:

"آپ لوگ روز اتنا ہی کام کرتے ہیں؟”

"تقریباً۔”

"تو آپ کو ڈر نہیں لگتا؟”

اہلکار نے کچھ دیر سوچ کر کہا:

"لگتا ہے۔”

حمزہ چونکا۔

"پھر جاتے کیوں ہیں؟”

اس شخص نے مسکرا کر کہا:

"کیونکہ کبھی کبھی ڈر سے بڑا کسی کی جان بچانے کا خیال ہوتا ہے۔”

حمزہ نے سر ہلایا۔

"اچھا۔”

پھر بہت سنجیدگی سے بولا:

"میں بھی بڑا ہو کر ایسا ہی کروں گا۔”

کسی نے جواب نہیں دیا۔

کیونکہ اس لمحے سب کو معلوم تھا کہ شاید حمزہ کو بڑا ہونے کا موقع نہ ملے۔

اس دن کی تصویریں ہسپتال میں لگ گئیں۔

حمزہ کی ایک تصویر میں وہ فائر فائٹر کے ہیلمٹ میں مسکرا رہا تھا۔

دوسری میں وہ ریسکیو گاڑی کی سیڑھی پکڑے کھڑا تھا۔

تیسری میں اس نے دونوں ہاتھوں سے پانی کی نلی تھام رکھی تھی۔

ڈاکٹر نے تصاویر دیکھیں تو سدرہ سے کہا:

"آج تو یہ واقعی بہت خوش تھا۔”

سدرہ نے آہستہ سے جواب دیا:

"ڈاکٹر صاحب، آج اسے درد یاد ہی نہیں رہا۔”

اور شاید یہی وجہ تھی کہ حمزہ نے اگلے کئی ہفتے سب کو حیران کیا۔

جس بچے کے بارے میں ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ وقت بہت کم ہے، وہ دن گزارتا گیا۔

ایک ہفتہ۔

پھر دوسرا۔

پھر تیسرا۔

سدرہ ہر صبح اٹھ کر شکر ادا کرتی۔

ہر رات سونے سے پہلے ڈرتی۔

مگر حمزہ ہر دن ایک نئی بات کرتا۔

کبھی کہتا:

"امی، جب میں بڑا ہو جاؤں گا تو ہمارا گھر دو منزلہ ہو گا۔”

کبھی:

"امی، میں آپ کو اپنی فائر بریگیڈ میں بٹھاؤں گا۔”

اور ایک دن بولا:

"امی، آپ میرے ساتھ شادی کریں گی؟”

سدرہ چونک گئی۔

"بیٹا، ماں سے کون شادی کرتا ہے؟”

حمزہ نے کچھ دیر سوچا۔

"اچھا… پھر آپ میرے ساتھ ہی رہنا۔”

سدرہ نے اسے سینے سے لگا لیا۔

"یہ وعدہ ہے۔”

تین ماہ گزر گئے۔

ایک رات حمزہ کی حالت اچانک بگڑ گئی۔

مانیٹر کی آواز بدل گئی۔

نرس نے ڈاکٹر کو بلایا۔

پھر گھر والوں کو اطلاع دی گئی۔

رات کے پچھلے پہر سدرہ حمزہ کے سرہانے بیٹھی تھی۔

حمزہ کی آنکھیں بند تھیں۔

سانس بہت ہلکی ہو چکی تھی۔

نرس نے اچانک کچھ سوچا۔

اسے وہ دن یاد آیا جب چھوٹا سا حمزہ فائر فائٹر بنا تھا۔

اس نے فوراً ریسکیو اسٹیشن فون کیا۔

"کیا آپ لوگ… حمزہ کے لیے آ سکتے ہیں؟”

دوسری طرف چند لمحوں کی خاموشی رہی۔

پھر جواب آیا:

"ہم آ رہے ہیں۔”

"مگر رات بہت ہو گئی ہے۔”

"ہمیں معلوم ہے۔”

"اس کی حالت—”

"ہمیں معلوم ہے۔”

پھر آواز آئی:

"اسے بتانا… اس کی ٹیم آ رہی ہے۔”

کچھ ہی دیر بعد ہسپتال کے باہر سائرن کی آواز گونجی۔

ووں…

ووں…

ووں…

رات کے سکوت کو چیرتی ہوئی۔

ہسپتال کے عملے نے کھڑکی کے پردے ہٹا دیے۔

نیچے ریسکیو کی گاڑی کھڑی تھی۔

اس میں سے کئی فائر فائٹر اترے۔

وہ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے حمزہ کے کمرے تک پہنچے۔

کمرے کا دروازہ کھلا۔

کامران اندر داخل ہوا۔

اس نے اپنا ہیلمٹ اتارا۔

پھر حمزہ کے بستر کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔

"السلام علیکم، فائر فائٹر صاحب۔”

حمزہ نے بمشکل آنکھیں کھولیں۔

اس نے کامران کو دیکھا۔

پھر باقی لوگوں کو۔

اس کے ہونٹوں پر بہت ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔

"آپ… لوگ آ گئے؟”

کامران نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

"تم نے بلایا تھا نا۔”

حمزہ نے آنکھیں بند کیں۔

کچھ دیر بعد دوبارہ کھولیں۔

اس نے کامران کی وردی دیکھی۔

پھر اپنے سر کے پاس پڑا وہی چھوٹا سا ہیلمٹ دیکھا جو اس دن اسے دیا گیا تھا۔

بڑی مشکل سے بولا:

"چیف…”

"ہاں بیٹا؟”

"میں… واقعی فائر فائٹر ہوں؟”

کمرے میں موجود ہر شخص کی نظریں جھک گئیں۔

کامران نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔

"ہاں حمزہ۔”

اس کی آواز بھرا گئی۔

"تم واقعی فائر فائٹر ہو۔”

حمزہ نے کچھ لمحے اسے دیکھا۔

پھر پوچھا:

"پکا؟”

کامران کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔

"پکا۔”

حمزہ کے چہرے پر سکون اتر آیا۔

جیسے کسی نے برسوں سے بند دروازہ کھول دیا ہو۔

اس نے آنکھیں بند کر لیں۔

سدرہ نے جھک کر اس کے ماتھے کو چوما۔

"سو جاؤ بیٹا۔”

حمزہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔

بس ہونٹوں پر وہی ہلکی سی مسکراہٹ باقی رہی۔

صبح فجر کے قریب اس کی سانسیں تھم گئیں۔

سورج نکلا تو لاہور حسبِ معمول جاگ رہا تھا۔

سڑکوں پر ٹریفک تھی۔

دکانیں کھل رہی تھیں۔

لوگ اپنے اپنے کاموں کو جا رہے تھے۔

دنیا کو خبر بھی نہ ہوئی کہ ایک چھوٹا سا فائر فائٹر اپنی آخری ڈیوٹی مکمل کر چکا تھا۔

ہسپتال کے باہر وہی ریسکیو گاڑی کھڑی تھی۔

اس کے شیشے پر رات کی نمی ابھی تک جمی ہوئی تھی۔

اور اندر، پچھلی نشست پر ایک چھوٹا سا ہیلمٹ رکھا تھا۔

وہ ہیلمٹ جو حمزہ کے سر کے لیے بہت بڑا تھا۔

مگر اس کے خواب کے لیے شاید بہت چھوٹا۔

سدرہ نے جاتے ہوئے اسے اپنے ہاتھ میں اٹھایا۔

کچھ قدم چل کر رک گئی۔

اس نے ہیلمٹ کو سینے سے لگایا اور آنکھیں بند کر لیں۔

اسے حمزہ کی آواز سنائی دی:

"امی، میں بڑا ہو کر آپ کو بھی بچاؤں گا۔”

سدرہ نے آنکھیں کھولیں۔

اس دن اسے پہلی بار سمجھ آیا کہ بعض بچے عمر میں چھوٹے ہوتے ہیں، مگر اپنے پیچھے اتنی بڑی یاد چھوڑ جاتے ہیں کہ پوری زندگی بھی اسے سمیٹنے کے لیے کم پڑ جاتی ہے۔

اور بعض خواہشیں پوری ہونے کے لیے عمر نہیں مانگتیں۔

صرف کوئی ایک انسان چاہیے ہوتا ہے جو کہہ دے:

"ہاں بیٹا، تم واقعی وہی ہو جو بننا چاہتے تھے۔”

کیونکہ کبھی کبھی انسان موت سے نہیں ہارتا۔

وہ تب ہارتا ہے جب اس کا آخری خواب بھی اس کے ساتھ دفن ہو جائے۔

حمزہ خوش قسمت تھا۔

اس کا خواب اس کے ساتھ نہیں مرا۔

وہ آج بھی ایک چھوٹے سے ہیلمٹ میں، ایک ماں کی یاد میں، اور ان لوگوں کے دلوں میں زندہ تھا جنہوں نے اسے زندگی کے آخری دنوں میں یہ یقین دلایا تھا کہ

وہ صرف بیمار بچہ نہیں تھا۔

وہ فائر فائٹر تھا۔

اور بعض اوقات یہی یقین کسی انسان کو دنیا سے رخصت ہونے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

افسانہ: فائر فائٹر
ماخوذ

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/