منتخب غزلیں

کیسے سکون پاؤں تجھے دیکھنے کے بعد اب کیا غزل سناؤ…

کیسے سکون پاؤں تجھے دیکھنے کے بعد
اب کیا غزل سناؤں تجھے دیکھنے کے بعد
…..
( میر عابد علی ) سعیدؔ شہیدی کا یوم ولادت
14؍جولائی 1914
15؍مئی 2000ء کو اس دنیائے فانی سے رخصت ہوگیا۔
منتخب کلام
اس طرح یاد آنے سے کیا فائدہ
مفت احساں جتانے سے کیا فائدہ
جس جگہ دل ہی جھکتا نہیں آپ کا
اس جگہ سر جھکانے سے کیا فائدہ
ختم کچھ دم میں ہو جائے گی روشنی
شمع کی لو بڑھانے سے کیا فائدہ
اپنے دشمن سے واقف تو ہیں ہم مگر
نام اس کا بتانے سے کیا فائدہ
کھل کے ہنسئے تباہی پہ میری حضور
زیر لب مسکرانے سے کیا فائدہ
اپنے دل سے میں کرتا ہوں اکثر سوال
ان کی محفل میں جانے سے کیا فائدہ
اور ابھریں گے نقش قدم آپ کے
میری تربت مٹانے سے کیا فائدہ
نیچی نظریں اٹھاتے تو اک بات تھی
جام آگے بڑھانے سے کیا فائدہ
جن کو آتا تھا وہ تو نہ آئے سعیدؔ
موسم گل کے آنے سے کیا فائدہ
…….
مے گُلِ رنگ ہے اور جام ہے کیا عرض کروں
کتنی رنگیں یہ مری شام ہے کیا عرض کروں
کل تہِ دام مجھے دیکھ کے خوش ہوتا تھا
آج صیّاد تہِ دام ہے کیا عرض کروں
بجلیاں میرے نشیمن کو جلادیتی ہیں
میری محنت کا یہ انعام ہے کیا عرض کروں
جانے کب سے تری نظروں سے ملی ہیں نظریں
کب سے گردش میں مرا جام ہے کیا عرض کروں
جو مرے نام سے بیزار تھے ﷲ ﷲ!
اُن کے لب پر بھی مرا نام ہے کیا عرض کروں
لوگ کہتے ہیں مجھے ظلم وستم کا مارا
کس کی گردن پہ یہ الزام ہے کیا عرض کروں
رُخِ پُرنُور پہ بِکھرے ہُوئے گیسو کا سماں
امتزاجِ سحر و شام ہے کیا عرض کروں
عرض کرنی ہے سعیدؔ اُن سے تمنّا دِل کی
یہ بھی اِک حسرتِ ناکام ہے کیا عرض کروں
……..
کیسے سکون پاؤں تجھے دیکھنے کے بعد
اب کیا غزل سناؤں تجھے دیکھنے کے بعد
آواز دے رہی ہے میری زندگی مجھے
جاؤں میں یا نہ جاؤں تجھے دیکھنے کے بعد
کعبہ کا احترام بھی میری نظر میں ہے
سر کس طرف جھکاؤں تجھے دیکھنے کے بعد
تیری نگاہِ مست نے مخمور کردیا
کیا میکدہ کو جاؤں تجھے دیکھنے کے بعد
نظروں میں تابِ دید ہی باقی نہیں رہی
کس سے نظر ملاؤں تجھے دیکھنے کے بعد
…………………….


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/