منتخب نظمیں

سات سال کی عمر میں میں نے صحن کے بیچوں بیچ کھڑے ہ…

💍 سات سال کی عمر میں میں نے صحن کے بیچوں بیچ کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا:
"میں بڑی ہو کر اسی لڑکے سے شادی کروں گی!”

پندرہ سال بعد…
وہی لڑکا میرے سامنے بیٹھا تھا—ایک بڑی کمپنی کا CEO بن کر
اور اس نے مسکرا کر پوچھا:
"آپ یہاں نوکری کے لیے آئی ہیں… یا اپنی جگہ لینے؟” 💍

جائے پور کی وہ گلی آج بھی یاد ہے…
گرمی، مٹی، اور صحن میں بکھری ہوئی دھوپ۔

میں ننگے پاؤں کھڑی تھی، آنکھوں میں آنسو،
اور انگلی سیدھی اشارہ کر رہی تھی اس کی طرف—
آرَاو مہرا۔

وہی لڑکا جو دس سال بڑا تھا،
جس کے ماں باپ نہیں تھے،
جو اپنی نانی کے ساتھ نیلے گھر میں رہتا تھا۔

لوگوں کے لیے وہ ایک خاموش لڑکا تھا…
میرے لیے؟
پناہ تھا۔

جب میں سائیکل سے گرتی—وہ مرہم لگاتا۔
جب اسکول میں لڑکے چھیڑتے—وہ مجھے گھر چھوڑ کر آتا۔
جب ریاضی سمجھ نہ آتی—وہ نیم کے درخت کے نیچے بیٹھ کر سمجھاتا…
یہاں تک کہ نمبر مجھے ڈرانا چھوڑ دیتے۔

اس دن ماں نے مجھے ڈانٹا، گھسیٹ کر اندر لے گئی…
لیکن میں پھر باہر آئی۔

وہ دروازے کے پاس بیٹھا تھا، شرمندہ سا۔
میں اس کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئی۔

اس نے رومال سے میرے آنسو صاف کیے اور کہا:
"انایا… تم ابھی بہت چھوٹی ہو۔”

میں نے ضد سے کہا:
"میں چھوٹی نہیں ہوں!”

وہ ہنسا…
پھر آہستہ سے بولا:
"پھر ثابت کرو… پڑھو، مضبوط بنو…
اتنی کہ کوئی تمہاری خواہش پر ہنس نہ سکے۔”

میں نے پوچھا:
"پھر آپ مجھ سے شادی کریں گے؟”

وہ خاموش ہو گیا…
پھر نظریں چرا کر بولا:
"جب تم بڑی ہو جاؤ گی… بات کریں گے۔”

بس… وہی لمحہ میری زندگی کا مقصد بن گیا۔

پھر ایک دن…
اس کی نانی کا انتقال ہو گیا۔

اور اگلی صبح…
نیلا گھر بند تھا۔

کوئی الوداع نہیں۔
کوئی خط نہیں۔

بس ایک زنگ آلود تالا…
اور میرے بچپن کی یادیں اس کے اندر قید۔

سال گزر گئے۔

میں دہلی آ گئی۔
میں نے خود کو اُس وعدے کی طرح سنوارا جو میں نے کبھی کیا تھا۔

میں نے پڑھا… بہت پڑھا۔
میں نے خود کو مضبوط بنایا۔

لوگ شادی کی بات کرتے…
میں مسکرا دیتی۔

کیونکہ میرے دل میں اب بھی ایک نیم کے درخت کے نیچے بیٹھا لڑکا تھا۔

پھر ایک دن کال آئی۔
"Mehra Global Enterprises”

میرا دل ایک لمحے کو رک گیا۔

میں نے خود کو سمجھایا:
ہر مہرا… آرَاو نہیں ہوتا۔

انٹرویو کا دن۔

گڑگاؤں کی وہ عمارت…
شیشے، طاقت، اور خاموشی۔

میں اندر گئی…
تین لوگ بیٹھے تھے۔

سوال پہ سوال۔
اور میں… پہلی بار خود کو مضبوط محسوس کر رہی تھی۔

پھر دروازہ کھلا۔

سب کھڑے ہو گئے۔

وہ اندر آیا۔

ایک سوٹ میں… خاموش، باوقار، طاقتور۔

"گڈ مارننگ، سر۔”

سر۔
CEO۔

میں نے نظریں جھکا لیں…
سانس کو قابو میں رکھا۔

پھر اس کی آواز آئی:
"مس انایا شرما؟”

میرے ہاتھ کانپ گئے۔

میں نے سر اٹھایا۔

اور… وقت رک گیا۔

وہی آنکھیں۔
وہی چہرہ… بس وقت نے اسے اور گہرا کر دیا تھا۔

آرَاو مہرا۔

پندرہ سال بعد… میرے سامنے۔

اس کی نظریں میرے چہرے پر ٹھہر گئیں…
جیسے یادوں کی گرد ہٹا رہا ہو۔

ایک لمحہ…
مجھے لگا وہ پہچانا نہیں۔

پھر اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔

وہ کرسی پر ٹیک لگا کر بولا:

"بتائیے، انایا…”

پورا کمرہ سن رہا تھا۔

"آپ یہاں جاب کے لیے آئی ہیں…
یا آخرکار CEO کی بیوی والی سیٹ لینے؟”

اور اُس لمحے…
مجھے احساس ہوا…

کچھ وعدے وقت سے نہیں ہارتے۔
وہ بس… صحیح وقت کا انتظار کرتے ہیں۔ ❤️

افسانہ: وقت
©️ انتخاب سخن

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/