پاکستان میں انصاف مر نہیں گیا، اسے امیروں کے ہاتھوں روز ذبح کیا جاتا ہے۔ یہ وہ …

یہ وہ ملک ہے جہاں غریب کا بچہ تھانے کے باہر انصاف مانگتے مانگتے بوڑھا ہو جاتا ہے، مگر طاقتور کا بچہ عدالت سے مسکراتا ہوا نکل آتا ہے۔
شاہزیب قتل کیس نے اس ملک کے ضمیر کو جھنجھوڑا تھا۔ ایک نوجوان، ایک بیٹا، ایک گھر کی روشنی، سرِعام قتل ہوا۔ عوام نے سوچا تھا شاید اب قانون جاگے گا، شاید اب طاقتور بھی سزا پائے گا۔ مگر برسوں بعد وہی نظام ہمیں بتاتا ہے کہ اس ملک میں خون کی قیمت بھی لگ سکتی ہے، اور قاتل بھی واپس معاشرے میں آسکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق شاہ رخ جتوئی کو 2022 میں سپریم کورٹ سے بریت کے بعد رہا کیا گیا۔
پھر ایان علی کا کیس سامنے آیا۔ لاکھوں ڈالرز کے ساتھ گرفتاری، عدالتیں، پیشیاں، خبریں، شور، مگر انجام؟ وہی پرانا سوال: طاقتور، مشہور اور بااثر لوگوں کے لیے قانون اتنا کمزور کیوں ہو جاتا ہے؟ عام آدمی چند ہزار روپے کے الزام میں ذلیل ہوتا ہے، مگر بڑے ناموں کے کیس سالوں تک دھند میں گم ہو جاتے ہیں۔
کارساز حادثہ ایک اور زخم تھا۔ ایک باپ اور بیٹی سڑک پر کچلے گئے۔ گھر اجڑ گیا، زندگیاں ختم ہو گئیں، مگر پھر وہی کہانی: صلح، ضمانت، قانونی راستے، اور عوام کے دل میں یہ احساس کہ غریب کی لاش بھی طاقتور کے لیے صرف ایک فائل بن جاتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق Natasha Danish کو حادثے کے مقدمے میں صلح کے بعد ضمانت ملی اور بعد میں عدالت نے کیس میں بری کیا، جبکہ منشیات سے متعلق الگ معاملہ بھی رپورٹ ہوا۔
مصطفیٰ عامر کیس نے تو انسانیت کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایک نوجوان، جس کی پوری زندگی آگے پڑی تھی، ایک ایسی کہانی کا شکار بنا جسے پڑھ کر روح کانپ جاتی ہے۔ ارمغان قریشی کے خلاف قتل، غیر قانونی کال سینٹر، فراڈ، ڈیٹا چوری اور دیگر سنگین الزامات رپورٹ ہوئے۔ اسی کیس میں عدالتوں، ضمانتوں اور قانونی کارروائیوں نے پھر عوام کو یہی سوچنے پر مجبور کیا کہ کیا طاقتور ملزم کے لیے نظام کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں؟
اور اب انمول عرف پنکی کا مبینہ منشیات نیٹ ورک۔ رپورٹس کے مطابق اسے کراچی میں ایک منظم نارکوٹکس نیٹ ورک چلانے کے الزامات پر گرفتار کیا گیا، جس کے مبینہ روابط کراچی، لاہور، اسلام آباد اور دیگر شہروں تک بتائے گئے۔ یہ صرف ایک عورت یا ایک گینگ کا کیس نہیں؛ یہ اس معاشرے کا نوحہ ہے جہاں دولت مند طبقے کی محفلوں سے نکلنے والا نشہ غریب گھروں کے بچوں کی رگوں میں زہر بن کر اترتا ہے۔
یہ سب کیسز الگ الگ نہیں ہیں۔
یہ ایک ہی نظام کے مختلف چہرے ہیں۔
ایک طرف مقتولوں کی مائیں ہیں، جو قبروں پر بیٹھ کر اپنے بچوں سے باتیں کرتی ہیں۔
ایک طرف وہ باپ ہیں، جن کے ہاتھوں سے جوان بیٹوں کے جنازے اٹھتے ہیں۔
ایک طرف وہ غریب خاندان ہیں، جن کی زندگی ایک حادثے، ایک گولی، ایک گاڑی، یا ایک نشے کی لت سے ختم ہو جاتی ہے۔
اور دوسری طرف؟
مہنگے وکیل، بڑی گاڑیاں، سیاسی تعلقات، طاقتور خاندان، صلح نامے، ضمانتیں، اور قانون کی وہ کمزور دیوار جسے پیسہ دھکا دے کر گرا دیتا ہے۔
پاکستان کا المیہ یہ نہیں کہ یہاں قانون موجود نہیں۔
المیہ یہ ہے کہ قانون موجود ہے، مگر صرف کمزور کے لیے۔
یہاں جیلیں غریبوں کے لیے ہیں۔
ضمانتیں طاقتوروں کے لیے ہیں۔
تفتیش کمزور کے لیے ہے۔
رعایت امیر کے لیے ہے۔
اور انصاف؟ انصاف شاید صرف کتابوں، نعروں اور عدالتوں کی عمارتوں پر لکھا رہ گیا ہے۔
جب تک اس ملک میں قاتل کی جیب مقتول کے خون سے بھاری رہے گی، جب تک منشیات فروش کا نیٹ ورک نوجوان نسل سے زیادہ محفوظ رہے گا، جب تک گاڑی کے نیچے کچلے جانے والے غریب کی لاش چند کاغذوں میں دفن ہوتی رہے گی، تب تک یہ قوم چیختی رہے گی:
زور کے سامنے کمزور، اور کمزور پہ زور۔
عادلِ شہر! تیرے عدل کے معیار پہ تھو۔
منتخب
Source


