منتخب نظمیں

“اُسے بانجھ کہہ کر بیچ دیا گیا تھا مگر پہاڑوں میں …

“اُسے بانجھ کہہ کر بیچ دیا گیا تھا💔 مگر پہاڑوں میں ایک اجنبی نے اُس کی پیشانی چھو کر کہا— ‘تم ٹوٹی ہوئی نہیں ہو… تمہیں جھوٹ بتایا گیا ہے۔’” 😓

اِشانی نے اُس دن بھی آنسو نہیں بہائے تھے۔ جب اُس کی ماں نے سب کے سامنے اُسے “بانجھ” کہا،
جب اُس کے باپ نے قرض کے بدلے اُس کی قیمت لگائی، جب گاؤں کے وید نے ایک جملہ کہہ کر اُس کی پوری زندگی کا فیصلہ سنا دیا— “کچھ زمینیں کبھی زرخیز نہیں ہوتیں…”

اُس دن بھی نہیں روئی۔ کیونکہ بعض فیصلے انسان کو رُلاتے نہیں، اندر سے خالی کر دیتے ہیں۔

پہاڑوں کا سفر خاموش تھا۔ دیوراج آگے چل رہا تھا، مگر اُس کی رفتار میں ایک غیر محسوس سی نرمی تھی، جیسے وہ جان بوجھ کر آہستہ چل رہا ہو تاکہ پیچھے آنے والی لڑکی تھک نہ جائے۔ یہ چھوٹی سی بات تھی، مگر اِشانی نے محسوس کی، کیونکہ اُس کی زندگی میں کسی نے کبھی اُس کے لیے قدم نہیں روکے تھے۔

جھونپڑی سادہ تھی— ایک چارپائی، ایک چولہا، ایک بند صندوق، اور دیوار پر ٹنگا ہوا ایک پرانا سرخ دوپٹہ، جو کسی گزرے ہوئے رشتے کی خاموش گواہی دے رہا تھا۔ “یہ گھر ہے… اگر تم اسے گھر بنانا چاہو تو،” دیوراج نے صرف اتنا کہا۔ اِشانی نے سر ہلا دیا۔
اُسے گھر بنانے کی نہیں، بس زندہ رہنے کی عادت تھی۔

پہلی رات دیوراج زمین پر سویا، اُسے چارپائی دی، گرم دودھ دیا اور ایک جملہ کہا— “یہاں کوئی تمہیں مجبور نہیں کرے گا۔”
یہ جملہ اُس کے لیے اجنبی تھا، کیونکہ وہ ہمیشہ مجبوری میں جیتی آئی تھی۔

دن گزرنے لگے، وہ صبح اُٹھ کر کام کرتی مگر اب کوئی اُس کے کام میں نقص نہیں نکالتا تھا، وہ کھانا بناتی مگر اب کوئی اُس کے ہاتھوں کا ذائقہ نہیں تولتا تھا، وہ خاموش رہتی اور پہلی بار یہ خاموشی جرم نہیں تھی۔

دیوراج کم بولتا تھا، مگر جب بھی بولتا، اُس کے لفظ حکم نہیں ہوتے تھے، سچ ہوتے تھے۔
ایک دن اِشانی کی ہتھیلی چھل گئی، وہ چھپانے لگی مگر اُس نے دیکھ لیا۔ خاموشی سے پانی گرم کیا، مرہم لگایا، پٹی باندھی، پھر بس اتنا پوچھا، “درد ہو رہا ہے؟” اِشانی نے سر ہلایا۔ وہ بولا، “ہونا بھی چاہیے… جو چیز زندہ ہوتی ہے، وہی درد محسوس کرتی ہے۔”
اُس لمحے اِشانی کو پہلی بار لگا کہ شاید وہ ابھی مکمل طور پر مری نہیں ہے۔

تیسری رات طوفان آیا، اور اُس کے ساتھ ایک خط۔
ماں کا خط۔
“اس آدمی پر بھروسہ مت کرنا… یہ تمہارے پہلے شوہر کی موت کا راز جانتا ہے…”
اِشانی کے ہاتھ کانپ گئے۔ اُس نے دیوراج کی طرف دیکھا، اور پہلی بار اُس کے چہرے پر بے چینی دیکھی۔ وہ آہستہ سے صندوق کے پاس گیا، اسے کھولا، اور ایک سچ باہر آ گیا جو سالوں سے دفن تھا۔
“تم بانجھ نہیں تھیں…”

یہ سن کر اِشانی کے اندر جیسے سب کچھ رک گیا۔
دیوراج نے آہستہ آواز میں کہا، “تمہارا شوہر بانجھ تھا… اور وید نے پیسوں کے بدلے سارا الزام تم پر ڈال دیا۔”

کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جہاں انسان ٹوٹتا نہیں، بکھر جاتا ہے، اور یہ وہی لمحہ تھا۔ اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، سالوں کی خاموشی، تضحیک اور اُس جھوٹ کے جو اُس نے اپنی پہچان سمجھ لیا تھا۔

“تو میں کون تھی…؟” اُس نے بمشکل پوچھا۔ دیوراج نے جواب دیا، “وہ… جسے لوگوں نے اپنی آسانی کے لیے قربان کر دیا تھا۔”
اُس رات اِشانی بہت روئی، اور دیوراج نے اُسے رونے دیا، کیونکہ کچھ زخم مرہم سے نہیں، آنسوؤں سے صاف ہوتے ہیں۔

چند دن بعد گاؤں سے خبر آئی کہ وید مر گیا ہے، اور مرنے سے پہلے سچ بتا گیا ہے۔ گاؤں میں ہلچل مچ گئی، لوگ شرمندہ تھے، مگر شرمندگی ہمیشہ دیر سے آتی ہے۔

اُس کی ماں پہاڑ پر آئی، آنکھوں میں آنسو اور آواز میں پچھتاوا لیے، “واپس آ جاؤ…” اِشانی نے اُسے دیکھا، وہی عورت جس نے اُسے بیچا تھا، مگر اِشانی اب وہ نہیں رہی تھی۔

اُس نے آہستہ مگر مضبوط لہجے میں کہا، “میں واپس نہیں جا سکتی… کیونکہ میں اب وہ نہیں رہی جسے تم نے بیچ دیا تھا۔”
پھر اُس نے دیوراج کی طرف دیکھا، وہ خاموش کھڑا تھا، نہ اُسے روک رہا تھا نہ بلا رہا تھا، بس انتظار کر رہا تھا۔ یہی فرق تھا، یہی وہ احترام تھا جسے شاید محبت کہتے ہیں۔

اِشانی نے ایک قدم اُس کی طرف بڑھایا، پہلی بار اپنی مرضی سے۔ پہاڑوں پر سورج نکل رہا تھا، روشنی آہستہ آہستہ وادی میں پھیل رہی تھی، اور اُس روشنی میں اِشانی کو پہلی بار سمجھ آیا کہ وہ کبھی بانجھ نہیں تھی، وہ ٹوٹی ہوئی نہیں تھی، وہ صرف غلط لوگوں کے درمیان رہ گئی تھی۔

اور جب انسان کو صحیح جگہ مل جائے، تو وہ صرف جیتا نہیں… دوبارہ جنم لیتا ہے۔ ✨

©️ ~Intikhaab-E-Sukhan~

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/