ابھی کچھ دیر قبل دوستوں کی محفل میں کسی دوست نے را…
ابھی کچھ دیر قبل دوستوں کی محفل میں کسی دوست نے راحت بھائی کی لکھی نعت کے یہ چند اشعار آڈیو کلِپ کی شکل میں پوسٹ کی تھی جسے سننے کے بعد مجھ سے رہا نہیں گیا، اس لیے بغور سن کر آپ احباب کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں، عشقِ رسولؐ میں ڈوب کر کہے گئے یہ اشعار مجھے بے حد پسند آئے، دعا ہے کہ نعت کے ان خوبصورت اشعار کو اللہ راحت بھائی کی بخشش کا ذریعہ بنائے
——————————————————————————
میرے پیمبر کا نام ہے جو مری زباں پر چمک رہا ہے
گلے سے کرنیں نکل رہی ہیں لبوں سے زمزم چھلک رہا ہے
میں رات کے آخری پہر میں جب آپ کی نعت لکھ رہا تھا
لگا کہ الفاظ جی اٹھے ہیں، لگا کہ کاغذ دھڑک رہا ہے
سب اپنی اپنی زباں میں اپنے رسولؐ کا ذکر کر رہے ہیں
فلک پہ تارے چمک رہے ہیں شجر پہ پتا کھڑک رہا ہے
زمین محروم ہی رہی. ہے پمیشہ پابوسئ نبیؐ سے
جہاں قدم آپ نے رکھے ہیں وہاں وہاں تو فلک رہا ہے
(راحت اندوری)
المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی
——————————————————————————
The name of my prophet is shining on my tongue
Rays are coming out of the throat, Zamzam is overflowing from the lips.
When I was writing your Naat in the last afternoon of the night
Felt like the words were alive, felt like the paper was beating
Everyone is mentioning their Messenger in their own languages.
The stars are shining on the sky, the leaf is shining on the tree
The earth remained deprived. This is always from the Prophet (PBUH).
Wherever you have taken steps, there is a sky.
(Rahat Indori)
Marsal :-: Abul Hasan Ali Nadvi


