” ماں تے آخر ماں ہوندی اے ”
چند ماہ پہلے ویٹرنری ڈاکٹر بننے والے میرے بیٹے حسین کے تجزیاتی مطالعے کی غرض سے خرگوشوں کی ایک جوڑی ہماری مہمان بنی ۔۔۔ دڑبے میں ہم نے ان کے لئے روئی اور کپڑوں سے نرم گرم بستر بنایا ہوا تھا ۔۔۔ گزشتہ ہفتے میں نے جب ان کو دڑبے سے باہر نکالا تو مادہ خرگوش میں خلافِ معمول ایک بے چینی دیکھی۔۔۔ وہ گاجریں اور پالک کھاتے کھاتے اچانک اپنے بال نوچنے لگتی۔۔ پھر دڑبے میں چلی جاتی ۔۔۔پھر باہر آتی ۔۔تھوڑا بہت کھاتی اور بال نوچتی۔۔۔ میں سمجھی کہ اسے الرجی ہو رہی ہے اور وہ کھجلی کی وجہ سے اپنے بال نوچ رہی ہے۔۔ اسی اثنا میں میرا بیٹا حسین یونیورسٹی سے گھر لوٹا تو میں نے اسے سارا ماجرا کہہ سنایا اور تاکید کی کہ اپنے اساتذہ سے مشورہ کر کے اس بیچاری کو فوری دوا دو ۔۔۔ وہ بڑی تکلیف میں یے ۔۔ جب وہ اسے دیکھنے باہر صحن میں گیا تو خوشی سے دوڑتا ہوا واپس آیا اور کہنے لگا : امی امی ! مادہ خرگوش نے بچے دئیے ہیں۔۔سب آ کے دیکھیں ۔۔ ہم سب نئے مہمانوں کے استقبال کے لئے دڑبے کی طرف دوڑے ۔۔۔ وہاں جا کر جو منظر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔۔۔شاید میں اسے لفظوں میں بیان نہ کر پاؤں۔۔
میں نے دیکھا کہ اس سردی میں ماں نے اپنے وجود سے اپنے بال نوچ نوچ کر اپنے نوزائیدہ بچوں کو محفوظ اور گرم رکھنے کے لیے اپنے نوچے ہوئے بالوں کی فر میں لپیٹ دیا ہے ۔۔۔۔ کیونکہ ابھی اس کے بچوں کے جسم پہ بال نہیں آئے تھے ۔۔۔ سردی کے موسم میں انھیں ٹھنڈ لگنے کے اندیشے نے ماں کو مجبور کر دیا تھا کہ وہ اپنے بدن کے بال نوچ نوچ کر اپنے بچوں کو گرمائش پہنچانے کا بندوبست کرے ، خود چاہے وہ بے بال ہو جائے ۔۔۔۔ تب سے اب تک میں یہ سوچ رہی ہوں کہ یہ جانور ہے ۔۔۔ بے زبان جانور ۔۔۔ مگر اس لمحے مجھے لگا کہ یہ جانور نہیں ۔۔ صرف ماں ہے ۔۔۔ مامتا کے احساس سے سرشار ماں ۔۔۔ اپنے بچوں کی خاطر سب کچھ سہہ جانے اور قربان کر دینے والی ماں۔۔۔
میری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور میں کئی گستاخ بے مروت اولادوں کی تڑپتی بلکتی ماؤں کو یاد کر کے اپنے بیٹے سے ایک ہی جملہ کہہ پائی
کہ بیٹا اپنی نسل کو یہ تصویر دکھانا اور یہ بتانا کہ ۔۔۔۔۔
”ماں تے آخر ماں ہوندی اے ”
جو متفق ہیں وہ اس احساس کو امانت سمجھ کر مستحقین تک ضرور پہنچا دیں ۔۔۔
شاید کہ اتر جائے کسی دل میں مری بات
ماں کی مامتا اس ماں سے یہ قربانیاں خوشی خوشی دلواتی ہے ۔۔۔۔ اس واقعے کو لکھنے اور شئیر کرنے کا مقصد اولادوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ وہ ان قربانیوں کی قدر کریں کیونکہ جو قربانیاں ماں باپ دیتے ہیں وہ اولاد کبھی نہیں دے سکتی ، بالخصوص ماں ، جس کی تکلیف کا تذکرہ قرآن مجید میں دو بار کر کے اللہ تعالیٰ نے بھی اس کی مامتا کی قربانی کا احساس دلایا ہے ، تو آج کی اولادیں ان تکلیفوں اور قربانیوں کا احساس اپنے دل میں پیدا کریں اور ماؤں کی زندگی میں ہی ان کی قدر اور خوب خدمت کریں۔
کیونکہ ماں کا کوئی نعم البدل نہیں
اور جب یہ چلی جاتی ہیں تو گھر ہی نہیں زندگی بھی ویران ہو جاتی ہے
گھر کے مہکے ہوئے آنگن میں اگر ماں نہ رہے
گھر نہیں ہوتا وہ ویران کھنڈر ہوتا ہے
نرید فاطمہ
ماں تجھے سلام
از طرف ۔۔۔۔ ماں
تحریر : پروفیسر نرید فاطمہ

Source
Comments
One response to “” ماں تے آخر ماں ہوندی اے ” چند ماہ پہلے ویٹرنری ڈاکٹر بننے والے میرے بیٹے حسین…”
Beshak