اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ افسانے

سن 1885 کا بمبئی کا عدالتی کمرہ۔ ایک 22 سالہ نوجوان خاتون نے جج کا فیصلہ سنا یا…


سن 1885 کا بمبئی کا عدالتی کمرہ۔ ایک 22 سالہ نوجوان خاتون نے جج کا فیصلہ سنا یا تو ایک اجنبی مرد کے پاس رہنے جاؤ، یا پھر قید۔ اُس نے قید خانہ چُنا۔
اُس کا نام تھا روخما بائی۔ اُس کی یہ بغاوت ہندوستان کے قوانین بدل دے گی۔

بے اختیار بچپن
صرف 11 سال کی تھی جب اُس کی شادی 19 سالہ دادا جی بھیکا جی سے کر دی گئی، ایک اجنبی سے۔ روایت کے مطابق وہ بلوغت تک اپنی ماں کے گھر رہی۔ لیکن جب اُس کے سوتیلے باپ کا انتقال ہوا، تو اُس کی ماں نے ایک ترقی پسند ڈاکٹر سے شادی کر لی جو تعلیم پر یقین رکھتا تھا۔ پہلی بار روخما بائی کے پاس اختیار تھااور اُس نے علم چُنا۔
اُس نے انگریزی، ریاضی اور سائنس پڑھی۔ بیس سال کی عمر تک وہ بمبئی کی سب سے تعلیم یافتہ خواتین میں سے ایک تھی، اور اُس بچپن میں تھوپی گئی شادی کو کبھی قبول نہ کرنے پر آہنی عزم۔

عدالتی جنگ
1884 میں دادا جی نے "ازدواجی حقوق” کا مقدمہ دائر کیا۔ روخما بائی کا جواب انقلابی تھا: "میں یہ شادی تسلیم نہیں کرتی۔ میں ایک بچہ تھی۔ میری رضامندی کبھی نہیں لی گئی۔”
اُس کے یہ الفاظ نوآبادیاتی ہندوستان میں scandal کا سبب بنے۔ بچپن کی شادیوں کو مذہب، ثقافت اور قانون کا تحفظ حاصل تھا۔ ایک عورت کا اُسے مسترد کرنا ناقابلِ فہم تھا۔
یہ مقدمہ سارے ملک میں بحث کا مرکز بن گیا۔ اخبارات ہر تفصیل شائع کرتے۔ مصلحین اُس کے حوصلے کی تعریف کرتے، قدامت پسند اُسے خطرہ قرار دیتے۔
روخما بائی نے قلم سے جواب دیا۔ "ایک ہندو خاتون” کے نام سے لکھتے ہوئے اُس نے بچپن کی شادیوں کی ظالمانہ حقیقت اور اُن مردوں کے منافقانہ رویے بے نقاب کیے جو اپنی بیٹیوں کو تعلیم دیتے تھے مگر اس رسم کی حمایت بھی کرتے تھے۔

قید کو ترجیح
1887 میں جسٹس پنہائی نے اُس کے خلاف فیصلہ سنا دادا جی کے پاس رہیں یا چھ ماہ قید۔ روخما بائی کھڑی ہوئی اور اعلان کیا کہ وہ قید خانہ جانا پسند کری گی۔
یہ حیرت انگیز جرات تھی۔ ایک نوجوان ہندوستانی خاتون اپنے شوہر، عدالتوں اور صدیوں کی روایت کو للکار رہی تھی۔ مخالفت شدید تھی، لیکن مصلحین اُس کی حمایت میں اکٹھے ہوئے۔ برطانوی حکومت، بین الاقوامی دباؤ کے تحت، مداخلت کر گئی۔ دادا جی نے مقدمہ واپس لے لیا۔ روخما بائی آزاد تھی۔

قانونی تبدیلی کا آغاز
اُس کے مقدمے نے ایک دردناک سچائی کو بے نقاب کیا: ہندوستان میں رضامندی کی قانونی عمر محض 10 سال تھی۔ 1891 میں "رضامندی کی عمر ایکٹ” نے اُسے 12 سال کر دیا۔ اب بھی بہت کم، مگر یہ بچوں کے تحفظ کی جانب پہلا قدم تھا۔ روخما بائی کے انکار نے اس مسئلے کو قانون کی شکل دے دی۔

نئی راہ
اُس نے یہیں پر نہیں رُکی۔ دوسروں کی خدمت کے عزم کے ساتھ، اُس نے طب کی تعلیم حاصل کی۔ ہندوستانی اسکولوں نے مسترد کر دیا، تو لندن اسکول آف میڈیسن فار ویمن نے قبول کر لیا، جہاں مصلحین اور حقوقِ نسواں کی علمبرداروں نے اُس کی تعلیم کا خرچ اُٹھایا۔
1895 میں وہ ڈاکٹر روخما بائی بن کر ہندوستان واپس آئیں، ملک کی پہلی خواتین فزیشن میں سے ایک۔ دہائیوں تک اُنہوں نے خواتین اور بچوں کا علاج کیا، خواتین پریکٹیشنرز کو تربیت دی، اور اصلاح پر لکھا۔ اُنہوں نے کبھی شادی نہیں کی، کہتی تھیں: "مجھے شادی کافی ہو چکی، شکریہ۔”

ورثہ
روخما بائی کا 1955 میں 91 سال کی عمر میں انتقال ہوا۔ اُنہوں نے آزادی، خواتین کی ووٹ کا حق، اور وہ اصلاحات دیکھیں جنہیں اُنہوں نے آگ لگائی تھی۔
اُن کی کہانی حیرت انگیز ہے
· 11 سال میں بے اختیار بیاہ دی گئی۔
· 22 سال میں، تابعداری سے قید کو ترجیح دی۔
· 32 سال میں، ہندوستان بھر کی خواتین کی خدمت کرنے والی ڈاکٹر بنیں۔
· ایک مصنفہ، مصلحہ، اور قانونی راہ کھولنے والی جو روایات کو توڑ کر رہ گئیں۔
جج نے دو راستے دئے: قید یا تابعداری۔ اُنہوں نے قید چُنا، پھر تعلیم چُنی، پھر طب چُنا، پھر زندگی بھر کی خدمت۔ اپنے آپ کو چن کر، اُنہوں نے لاکھوں لڑکیوں کو بھی یہی اختیار دیا۔
ڈاکٹر روخما بائی (
1864–1955) بچپن کی دلہن، قانونی راہبر، فزیشن، اور وہ عورت جس نے ناانصافی کی طرف دیکھا اور کہا "میں نہیں۔ کبھی نہیں۔”

محقق اور مترجم: حُسین



Source