جمال احسانی کی غزلیں بکھر گیا ہے جو موتی پرونے وا…


جمال احسانی کی غزلیں

بکھر گیا ہے جو موتی پرونے والا تھا
وہ ہورہا ہے یہاں جو نہ ہونے والا تھا
اور اب یہ چاہتا ہوں کوئی غم بٹائے مرا
میں اپنی مٹی کبھی آپ ڈھونے والا تھا
ترے نہ آنے سے دل بھی نہیں دکھا شاید
وگرنہ کیا میں سرشام سونے والا تھا
ملا نہ تھا پہ بچھڑنے کا غم نہ تھا مجھ کو
جلا نہیں تھا مگر راکھ ہونے والا تھا
ہزار طرح کے تھے رنج پچھلے موسم میں
پر اتنا تھا کہ کوئی ساتھ رونے والا تھا
۔۔۔
بیچ جنگل میں پہنچ کے کتنی حیرانی ہوئی
اک صدا آئی اچانک جانی پہچانی ہوئی
پھر وہی چھت پر اکیلے ہم وہی ٹھنڈی ہوا
کتنے اندیشے بڑھے جب رات طوفانی ہوئی
ہوگئی دور ان گنت ویراں گزرگاہوں کی کوفت
ایک بستی سے گزرنے میں وہ آسانی ہوئی
اس نے بارش میں بھی کھڑکی کھول کے دیکھا نہیں
بھیگنے والوں کو کل کیا کیا پریشانی ہوئی
گرد رہ کر بیٹھتے ہی دیکھتا کیا ہوں جمال
جانی پہچانی ہوئی ہر شکل انجانی ہوئی
۔۔۔
تیری یاد اور تیرے دھیان میں گزری ہے
ساری زندگی ایک مکان میں گزری ہے
اس تاریک فضا میں میری ساری عمر
دیا جلانے کے امکان میں گزری ہے
اپنے لیے جو شام بچا کر رکھی تھی
وہ تجھ سے عہد و پیمان میں گزری ہے
تجھ سے اکتا جانے کی اک ساعت بھی
تیرے عشق ہی کے دوران میں گزری ہے
دیواروں کا شوق جہاں تھا سب کو جمال
عمر مری اس خاندان میں گزری ہے
۔۔۔
جب کبھی خواب کی امید بندھا کرتی ہے
نیند آنکھوں میں پریشان پھرا کرتی ہے
یاد رکھنا ہی محبت میں نہیں ہے سب کچھ
بھول جانا بھی بڑی بات ہوا کرتی ہے
دیکھ بے چارگئ کوئے محبت کوئی دم
سائے کے واسطے دیوار دعا کرتی ہے
صورت دل بڑے شہروں میں رہ یک طرفہ
جانے والوں کو بہت یاد کیا کرتی ہے
دو اجالوں کو ملاتی ہوئی اک راہ گزر
بے چراغی کے بڑے رنج سہا کرتی ہے
۔۔۔
جو بیل میرے قد سے ہے اوپر لگی ہوئی
افسوس ہر بساط سے باہر لگی ہوئی
اس کی تپش نے اور بھی سلگا رکھا ہے کچھ
جو آگ ہے مکان سے باہر لگی ہوئی
سنتے ہیں اس نے ڈھونڈ لیا اور کوئی گھر
اب تک جو آنکھ تھی ترے در پر لگی ہوئی
پہچان کی نہیں ہے یہ عرفان کی ہے بات
تختی کوئی نہیں مرے گھر پر لگی ہوئی
اب کے بہار آنے کے امکان ہیں کہ ہے
ہر پیرہن پہ چشم رفو گر لگی ہوئی
اس بار طول کھینچ گئی جنگ اگر تو کیا
اس بار شرط بھی تو ہے بڑھ کر لگی ہوئی
منحوس ایک شکل ہے جس سے نہیں فرار
پرچھائیں کی طرح سے برابر لگی ہوئی
تیرے ہی چار سمت نہیں ہے حصار جبر
پابندئ جمال ہے سب پر لگی ہوئی
۔۔۔
جو تو گیا تھا تو تیرا خیال رہ جاتا
ہمارا کوئی تو پرسان حال رہ جاتا
برا تھا یا وہ بھلا لمحۂ محبت تھا
وہیں پہ سلسلۂ ماہ و سال رہ جاتا
بچھڑتے وقت ڈھلکتا نہ گر ان آنکھوں سے
اس ایک اشک کا کیا کیا ملال رہ جاتا
تمام آئنہ خانے کی لاج رہ جاتی
کوئی بھی عکس اگر بے مثال رہ جاتا
گر امتحان جنوں میں نہ کرتے قیس کی نقل
جمال سب سے ضروری سوال رہ جاتا
۔۔۔
چراغ سامنے والے مکان میں بھی نہ تھا
یہ سانحہ مرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا
جو پہلے روز سے دو آنگنوں میں تھا حائل
وہ فاصلہ تو زمین آسمان میں بھی نہ تھا
یہ غم نہیں ہے کہ ہم دونوں ایک ہو نہ سکے
یہ رنج ہے کہ کوئی درمیان میں بھی نہ تھا
ہوا نہ جانے کہاں لے گئی وہ تیر کہ جو
نشانے پر بھی نہ تھا اور کمان میں بھی نہ تھا
جمال پہلی شناسائی کا وہ اک لمحہ
اسے بھی یاد نہ تھا میرے دھیان میں بھی نہ تھا
۔۔۔
چشم حیراں کو تماشائے دگر پر رکھا
اور اس دل کو تری خیر خبر پر رکھا
عین ممکن ہے چراغوں کو وہ خاطر میں نہ لائے
گھر کا گھر ہم نے اٹھا راہ گزر پر رکھا
بوجھ سے جھکنے لگی شاخ تو جاکر ہم نے
آشیانے کو کسی اور شجر پر رکھا
چمن دہر میں اس طرح بسر کی ہم نے
ساےۂ گل کا بھی احسان نہ سر پر رکھا
اس کی آواز پہ باہر نکل آیا ہوں جمال
سارا اسباب سفر رہ گیا گھر پر رکھا
۔۔۔
دل میں یاد رفتگاں آباد ہے
ورنہ یہ دل بھی کہاں آباد ہے
ایک میں آباد ہوں اس شہر میں
اور اک میرا مکاں آباد ہے
کس کے یہ نقش قدم ہیں خاک پر
کون ایسے میں یہاں آباد ہے
باب عمر رائگاں کی لوح پر
حرف احساس زیاں آباد ہے
میرے ہونے سے نہ ہونا ہے مرا
آگ جلنے سے دھواں آباد ہے
رونق دل کا ہے عالم دیدنی
خانۂ آوارگاں آباد ہے
اک دریچہ اس گلی میں آج تک
بے چراغ و بے نشاں آباد ہے
۔۔۔
دل کی طرف دماغ سے وہ آنے والا ہے
یہ بھی مکان ہاتھ سے اب جانے والا ہے
اک لہر اس کی آنکھ میں ہے حوصلہ شکن
اک رنگ اس کے چہرے پہ بہکانے والا ہے
یہ کون آنے جانے لگا اس گلی میں اب
یہ کون میری داستاں دہرانے والا ہے
دنیا پسند آنے لگی دل کو اب بہت
سمجھو کہ اب یہ باغ بھی مرجھانے والا ہے
جو ساعت حسیں تھی وہ روکے نہیں رکی
یہ لمحہ بھی جمال گزر جانے والا ہے
۔۔۔
دھرتی پر سب درد کے مارے کس کے ہیں
آسمان پر چاند ستارے کس کے ہیں
سنتے ہیں وہ شخص تو گھر ہی بدل گیا
پھر یہ دل آویز اشارے کس کے ہیں
کس صحرا کی دھول ہے سب کی آنکھوں میں
بے موج و بے رود کنارے کس کے ہیں
اب کیا سوچنا ایسی ویسی باتوں پہ
ان ہاتھوں نے بال سنوارے کس کے ہیں
کون ہے اس رم جھم کے پیچھے چھپا ہوا
یہ آنسو سارے کے سارے کس کے ہیں
کسی پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر دیکھو
آنکھوں سے اوجھل نظارے کس کے ہیں
….
ایک فقیر چلا جاتا ہے پکی سڑک پر گاؤں کی
آگے راہ کا سناٹا ہے پیچھے گونج کھڑاؤں کی

آنکھوں آنکھوں ہریالی کے خواب دکھائی دینےلگے
ہم ایسے کئی جاگنے والے نیند ہوئے صحراؤں کی

اپنے عکس کو چھونے کی خواہش میں پرندہ ڈوب گیا
پھر کبھی لوٹ کر آئی نہیں دریا پر گھڑی دعاؤں کی

ڈار سے بچھڑا ہوا کبوتر، شاخ سے ٹوٹا ہوا گلاب
آدھا دھوپ کا سرمایہ ہے، آدھی دولت چھاؤں کی

اُس رَستے پر پیچھے سے اتنی آوازیں آئیں جمال
ایک جگہ تو گھوم کے رہ گئی ایڑی سیدھے پاؤں کی



Comments

5 responses to “جمال احسانی کی غزلیں بکھر گیا ہے جو موتی پرونے وا…”

  1. ایک فقیر چلا جاتا ہے پکّی سڑک پر گاؤں کی
    آگے راہ کا سناٹا ہے پیچھے گونج کھڑاؤں کی
    اُس رستے پر پیچھے سے اتنی آوازیں آئیں جمال
    ایک جگہ توگھوم کےرہ گئی ایڑی سیدھے پاؤں کی
    ۔۔۔۔۔(شاعر جمال احسانی)۔۔۔۔۔۔۔

  2. کماااال انتخاب
    شاندار ہمیشہ کی طرح

  3. واہ کیا عمدہ انتخاب ہے… ????????????

  4. پورا دیون پوسٹ کردیا اپ کا کیا خیال ہے ہمنے ایم اے اردو کا امتحان دینا ہے؟
    علامہ اقبال آپ کو یاد ہی نہیں ا

جواب دیں