” دیر آید ” وہ دن بھی تھے کہ کبھی سرسری سی باتوں …
” دیر آید ”
وہ دن بھی تھے کہ کبھی سرسری سی باتوں پر
تمہارے جاگتے، مہکے ہوئے بدن کی صدا
ہزاروں میل سے ایسے سنائی دیتی تھی
کہ جیسے یہ مرے اپنے بدن سے آئی ہو
یہ دن بھی ہیں مرے سینے سے لگ رہی ہو تم
تمہارا جسم مرے بازوؤں میں سمٹا ہے
مگر عجیب تماشا ہے، ایسا لگتا ہے
کسی نے بیچ میں دیوار سی اٹھائی ہو
تو کیا یہ سچ ہے؟ لہو کا نشہ اترنے پر
طلب شکار رفاقت میں کچھ نہیں ھوتا؟
قریب لاتی ہے ہم کو پکار جسموں کی
بدن کے پار، محبّت میں کچھ نہیں ہوتا؟
نہیں نہیں مرے پیارے اداس دوست! نہیں
تمہارا میرا تعلّق ہی کچھ عجیب سا ہے
نہ اِس پہ زور ہے میرا، نہ کچھ تمہارا ہے
یہ سارا کھیل ہی دیکھو تو کچھ نصیب کا ہے
ہمارا ساتھ ہے دریا کے دو کناروں سا
کہ جن کے بیچ سدا فاصلے نے رہنا ہے
کریں تو کیسے کریں یہ ادق معمّہ حل؟
سمے نے رکنا نہیں، پانیوں نے بہنا ہے
ملے تھے ہم تو بہت دیر ہو چکی تھی تب
کچھ اِتنی دیر کہ موسم گزر گئے اپنے
اور اب ہے یوں کہ کوئی راستہ نہیں ملتا
پمارے خواب کہیں ساتھ چل نہیں سکتے
(چراغ ایسی ہواؤں میں جل نہیں سکتے)
کچھ ایسے ڈھب سے بنا دائرہ مقدّر کا
کسی طرف سے بھی ہم تم نکل نہیں سکتے
کشش ہو کتنی بھی باہم مگر حقیقت میں
مدار اپنا ستارے بدل نہیں سکتے
(امجد اسلام امجدؔ)
المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی