بیس برس گزر گئے ہیں، مگر کچھ راتیں وقت کے ساتھ پرا…


بیس برس گزر گئے ہیں، مگر کچھ راتیں وقت کے ساتھ پرانی نہیں ہوتیں۔

وہ ہمارے اندر کہیں ایسی جگہ ٹھہر جاتی ہیں جہاں کیلنڈر کی تاریخیں، موسموں کی تبدیلی اور عمر کے بڑھتے ہوئے سال بھی ان کا راستہ نہیں روک سکتے۔

میرے لیے وہ رات بھی ایسی ہی ایک رات ہے۔

اُن دنوں میں راولپنڈی میں ٹیکسی چلاتا تھا۔ روز کا معمول تھا؛ کبھی صدر سے مری روڈ، کبھی پیرودھائی سے کچہری، کبھی کسی ہسپتال کے باہر کھڑے مسافر اور کبھی کسی شادی ہال سے نکلنے والے تھکے ہارے لوگ۔

اُس زمانے میں موبائل ایپ سے ٹیکسی منگوانے کا رواج نہیں تھا۔ فون آتا، کسی جاننے والے یا ٹیکسی اسٹینڈ سے نمبر ملتا، اور پھر ڈرائیور دیے گئے پتے پر پہنچ جاتا۔

اُس رات بھی تقریباً ڈھائی بجے میرے موبائل کی گھنٹی بجی۔

"بھائی، ایک سواری ہے۔ پرانے شہر کی طرف جانا ہے۔ ایک بزرگ خاتون ہیں۔”

میں نے پتہ لکھا اور گاڑی لے کر نکل پڑا۔

دسمبر کی سرد رات تھی۔

سڑکوں پر دھند کی ہلکی چادر بچھی ہوئی تھی۔ دکانوں کے شٹر کب کے گر چکے تھے اور شہر کا شور جیسے کسی دور کے خواب میں جا سویا تھا۔

دیا گیا مکان ایک تنگ سی گلی کے آخری سرے پر تھا۔

میں نے گاڑی روکی تو سامنے تقریباً مکمل اندھیرا تھا۔

صرف نچلی منزل کی ایک کھڑکی سے زرد سی روشنی باہر آ رہی تھی۔

میں نے ہارن نہیں بجایا۔

پتہ نہیں کیوں اُس رات دل نے کہا کہ دروازے تک جانا چاہیے۔

عام طور پر ایسے وقت میں ڈرائیور ایک دو بار ہارن بجاتا، چند لمحے انتظار کرتا اور اگر کوئی باہر نہ آتا تو واپس چلا جاتا۔

لیکن میں بہت سے ایسے لوگ دیکھ چکا تھا جن کے لیے ٹیکسی محض سواری نہیں ہوتی تھی۔

کسی کا بیمار بچہ ہوتا تھا۔

کسی کی رات کی ڈیوٹی ختم ہوتی تھی۔

کسی بوڑھے ماں باپ کو آدھی رات ہسپتال پہنچانا ہوتا تھا۔

اور بعض اوقات کسی کے پاس جانے کو صرف ایک جگہ ہوتی تھی، مگر وہاں پہنچنے کے لیے کوئی اپنا نہیں ہوتا تھا۔

میں گاڑی سے اترا اور دروازے پر جا کر دستک دی۔

کچھ لمحے خاموشی رہی۔

پھر اندر سے ایک کمزور سی آواز آئی۔

"بس… ایک منٹ بیٹا۔”

اس آواز میں عمر بھی تھی اور تھکن بھی۔

میں خاموش کھڑا رہا۔

اندر سے کسی چیز کے فرش پر گھسٹنے کی آواز آئی۔

پھر کچھ دیر بعد دروازہ کھلا۔

میرے سامنے ایک دبلی پتلی سی بوڑھی عورت کھڑی تھی۔

عمر اُس کی اسّی برس سے کہیں زیادہ لگتی تھی۔

اس نے مدھم رنگ کا پھول دار جوڑا پہن رکھا تھا، اوپر اون کی سفید شال لپیٹی ہوئی تھی اور سر پر پرانے زمانے کی نفاست لیے ایک چھوٹی سی ٹوپی تھی۔

ہاتھ میں ایک مختصر سا بیگ تھا۔

اس نے مجھے غور سے دیکھا۔

"تم راشد ہو؟”

"جی۔”

"ٹیکسی والے؟”

"جی، آپ ہی نے بلائی تھی۔”

وہ ہلکا سا مسکرائی۔

"اچھا ہوا تم آ گئے۔”

میں نے بیگ اُس کے ہاتھ سے لے لیا۔

"آپ یہ اٹھانے کی زحمت نہ کریں۔”

"بیٹا، زحمت تو اب زندگی ہے۔”

وہ ہنسی۔

مگر وہ ایسی ہنسی تھی جسے سن کر آدمی خوش ہونے کے بجائے خاموش ہو جائے۔

میں نے بیگ گاڑی میں رکھا اور واپس آیا۔

"آہستہ چلیں۔”

اس نے اپنا ہاتھ میرے بازو پر رکھ دیا۔

ہم دونوں سیڑھیوں سے اترنے لگے۔

راستے میں اُس نے ایک بار پیچھے مڑ کر گھر کی طرف دیکھا۔

میں نے بھی بے اختیار اندر نظر دوڑائی۔

گھر عجیب خاموش تھا۔

صوفوں پر سفید چادریں پڑی تھیں۔

دیواریں تقریباً خالی تھیں۔

نہ کسی گھڑی کی ٹک ٹک، نہ میز پر اخبار، نہ باورچی خانے میں برتنوں کی کوئی آواز۔

ایک کونے میں گتے کا ایک صندوق رکھا تھا جس میں پرانی تصویریں، کچھ شیشے کے برتن اور چند ایسی چیزیں تھیں جنہیں انسان استعمال نہ بھی کرے تو پھینک نہیں پاتا۔

وہ عورت کچھ دیر دروازے پر کھڑی رہی۔

پھر آہستہ سے بولی:

"میں نے اس گھر کو کبھی اتنا خالی نہیں دیکھا تھا۔”

میں نے کچھ نہیں کہا۔

ایسے جملوں کا جواب نہیں ہوتا۔

صرف گاڑی کا دروازہ کھولا اور اسے بیٹھنے میں مدد دی۔

"بیٹا، بہت شکریہ۔”

"شکریہ کی کوئی بات نہیں۔”

میں نے گاڑی اسٹارٹ کی۔

"ویسے آپ کا نام؟”

"مہرالنساء۔”

نام سنتے ہی مجھے عجیب سا سکون ملا۔

نہ جانے کیوں مجھے لگا یہ عورت اپنے نام کی طرح ہی کسی پرانے زمانے سے نکلی ہوئی ہے۔

میں نے پوچھا:

"مہرالنساء بی بی، کہاں جانا ہے؟”

اس نے پرس سے ایک کاغذ نکالا اور میری طرف بڑھا دیا۔

شہر کے مضافات میں ایک نگہداشت مرکز کا پتہ تھا۔

میں نے گاڑی اُس سمت موڑ دی۔

تقریباً پانچ منٹ بعد پچھلی نشست سے اُس کی آواز آئی۔

"راشد بیٹا…”

"جی؟”

"ایک بات کہوں؟”

"جی ضرور۔”

"شہر سے ہوتے ہوئے چل سکتے ہو؟”

میں نے آئینے میں اُس کی طرف دیکھا۔

"شہر تو آ جائے گا، لیکن اُس طرف سے جانے میں وقت زیادہ لگے گا۔”

"مجھے معلوم ہے۔”

"پھر؟”

وہ چند لمحے خاموش رہی۔

"میں جلدی میں نہیں ہوں۔”

میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ اُس کے لہجے میں عجیب سا سکون تھا۔

جیسے وہ منزل کی طرف نہیں جا رہی تھی۔

جیسے منزل سے پہلے کچھ ادھورا چھوڑ آئی تھی۔

میں نے کہا:

"ٹھیک ہے۔ آپ جہاں کہیں گی، گاڑی وہاں سے جائے گی۔”

تب اُس نے کھڑکی سے باہر دیکھا اور بہت آہستہ کہا:

"میں صرف ایک بار اپنا شہر دیکھنا چاہتی ہوں۔”

میں نے راستہ بدل لیا۔

پہلی جگہ اُس نے ایک پرانی سرکاری عمارت کے سامنے گاڑی رکوانے کو کہا۔

اب وہاں ایک نجی ادارہ قائم تھا۔

عمارت کی بیرونی شکل بدل چکی تھی، مگر پرانی سیڑھیاں اب بھی موجود تھیں۔

مہرالنساء نے شیشے سے باہر دیکھتے ہوئے کہا:

"یہاں میں نے اپنی آدھی زندگی گزار دی تھی۔”

میں نے پوچھا:

"آپ یہاں کام کرتی تھیں؟”

"ہاں۔”

"کیا کرتی تھیں؟”

اُس کے چہرے پر ایک ہلکی سی روشنی ابھری۔

"گرلز کالج میں لائبریرین تھی۔”

"اچھا…”

"بتیس برس۔”

وہ جیسے کسی بہت دور کے موسم میں چلی گئی۔

"صبح جب کالج کھلتا تھا تو لڑکیوں کے قدموں کی آواز پورے برآمدے میں گونجتی تھی۔ کوئی کتاب لینے آتی، کوئی نوٹس کے لیے، اور کچھ صرف اس لیے کہ لائبریری میں تھوڑی دیر خاموشی مل جاتی تھی۔”

میں نے مسکرا کر پوچھا:

"آپ بہت سخت لائبریرین رہی ہوں گی۔”

"بالکل نہیں۔”

وہ پہلی بار کھل کر ہنسی۔

"میں صرف یہ کہتی تھی کہ کتاب واپس کرتے وقت اُس کے صفحے مت موڑنا۔ باقی محبتیں کرنے سے کسی کو نہیں روکا۔”

میں بھی ہنس پڑا۔

پھر وہ کچھ دیر خاموش رہی۔

"وہیں میری ملاقات شاہد سے ہوئی تھی۔”

"آپ کے شوہر؟”

اس نے سر ہلایا۔

"وہ کتابیں لینے آتے تھے۔”

"بہت پڑھنے کا شوق تھا؟”

"کتابوں کا کتنا شوق تھا، یہ تو نہیں معلوم۔”

وہ مسکرائی۔

"مگر مجھے دیکھنے کا شوق بہت تھا۔”

ہم دونوں ہنس دیے۔

پھر اچانک اُس کی ہنسی تھم گئی۔

"ایک دن کتاب واپس کرتے ہوئے کہنے لگے، ‘آپ ہر بار کتاب تو واپس لے لیتی ہیں، کبھی دل بھی واپس کیا کریں گی؟’”

وہ خاموش ہو گئی۔

میں نے آئینے میں دیکھا، اس کی آنکھیں نم تھیں۔

"شاہد صاحب کہاں ہیں؟”

اس نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کہا:

"جہاں سب جاتے ہیں، بس مجھ سے کچھ پہلے چلے گئے۔”

گاڑی کے اندر خاموشی اتر آئی۔

کچھ فاصلے کے بعد اُس نے دوبارہ کہا:

"آگے دائیں طرف موڑنا۔”

میں نے گاڑی موڑی۔

ایک پرانی گلی آ گئی۔

نئے زمانے کی تعمیرات کے درمیان ایک شکستہ سا برگد اب بھی کھڑا تھا۔

"یہاں ہمارا پہلا گھر تھا۔”

میں نے رفتار کم کر دی۔

وہ بہت دیر تک باہر دیکھتی رہی۔

"شادی کے بعد پہلی عید یہاں گزاری تھی۔ گھر میں ایک چارپائی تھی، ایک چولہا اور دو پلیٹیں۔”

وہ مسکرائی۔

"لیکن ہمیں لگتا تھا کہ دنیا میں ہم سے زیادہ خوش کوئی نہیں۔”

میں نے پوچھا:

"اولاد؟”

اس بار اُس نے فوراً جواب نہیں دیا۔

وہ برگد کو دیکھتی رہی۔

پھر بولی:

"ایک بیٹی تھی۔”

میں خاموش رہا۔

"پیدائش کے صرف آٹھ دن بعد چلی گئی۔”

میں نے اسٹیئرنگ پر اپنی گرفت مضبوط کر لی۔

"نام کیا رکھا تھا؟”

وہ پہلی بار سیدھی ہو کر بیٹھی۔

"نایاب۔”

ایک لمحے کے لیے اُس کا چہرہ بدل گیا۔

جیسے اتنے برس بعد بھی وہ نام اس کے اندر کہیں زندہ ہو۔

"نایاب اس لیے کہ ہماری زندگی میں اس سے خوبصورت چیز کبھی نہیں آئی تھی۔”

میں نے سر جھکا لیا۔

وہ خود ہی بولتی رہی۔

"اُس کے بعد ہمارے گھر میں ایک کمرہ ہمیشہ خالی رہا۔”

پھر اُس نے دھیرے سے کہا:

"شاہد کہتے تھے، نایاب نہیں گئی۔ وہ بس دوسرے گھر میں اللہ کی امانت بن کر رہ گئی ہے۔”

اُس جملے کے بعد میں نے کچھ نہیں کہا۔

کچھ دیر تک گاڑی صرف سڑک پر چلتی رہی۔

پھر مہرالنساء نے کہا:

"آگے ایک جگہ تھی جہاں ہم جمعہ کی شام جایا کرتے تھے۔ اب شاید وہاں کچھ اور بن گیا ہو۔”

ہم وہاں پہنچے تو ایک بڑا سا فرنیچر شوروم تھا۔

وہ دیر تک اسے دیکھتی رہی۔

"یہاں کبھی ہمارا ڈانس ہال تھا۔”

میں نے حیرت سے اسے دیکھا۔

وہ مسکرائی۔

"ہماری جوانی میں اسے ڈانس ہال کہتے تھے۔ تم لوگ اسے شاید شادی ہال کہو۔”

"شاہد صاحب کے ساتھ آتی تھیں؟”

"ہاں۔”

"وہ اچھا ناچ لیتے تھے؟”

"نہیں۔”

وہ ہنس پڑی۔

"بہت بری طرح ناچتے تھے۔”

میں بھی ہنس دیا۔

"پھر آپ ساتھ کیوں آتی تھیں؟”

مہرالنساء نے میری طرف دیکھا۔

"کیونکہ محبت میں آدمی یہ نہیں دیکھتا کہ سامنے والا کیسے ناچ رہا ہے۔ وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ وہ کس کے ساتھ ہے۔”

میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ اُس رات میں ایک بوڑھی عورت کو نہیں، ایک پوری کتاب کو سفر کروا رہا ہوں۔

ہم آگے بڑھتے گئے۔

وہ کبھی کسی مسجد کے سامنے گاڑی آہستہ کرواتی، کبھی کسی پرانے مکان کے باہر۔

کبھی کسی نکڑ پر چند لمحے خاموش بیٹھتی۔

کبھی کسی عمارت کو دیکھ کر ہلکا سا مسکرا دیتی۔

کبھی اس کی آنکھوں میں نمی آ جاتی۔

ہر جگہ کوئی نہ کوئی قصہ تھا۔

اس شہر کے ہر موڑ پر اُس کی زندگی کا کوئی صفحہ پڑا تھا۔

رات گزرتی گئی۔

آسمان کے کنارے پر سیاہی کم ہونے لگی۔

فجر سے کچھ پہلے دھند میں سے صبح کی پہلی سفیدی ابھری۔

مہرالنساء نے آہستہ سے کہا:

"راشد بیٹا۔”

"جی؟”

"اب تھک گئی ہوں۔”

میں نے فوراً گاڑی اُس مرکز کی طرف موڑ دی۔

"اب چلو۔”

اُس کے بعد کافی دیر ہم دونوں خاموش رہے۔

کبھی کبھی خاموشی بھی دو لوگوں کے درمیان گفتگو کرتی ہے۔

آخرکار ہم اُس عمارت کے سامنے پہنچے۔

چھوٹی سی عمارت تھی۔

دروازے کے اوپر لکھا تھا:

**دارالآرام**

گاڑی رکی تو دو ملازم فوراً باہر آ گئے۔

ظاہر تھا وہ اُس کا انتظار کر رہے تھے۔

ایک نے وہیل چیئر کھولی۔

دوسرا گاڑی کے قریب آیا۔

میں نے ڈگی کھولی اور مہرالنساء کا چھوٹا سا بیگ نکال لیا۔

اُس وقت اُس نے مجھے دیکھا۔

"کتنے پیسے ہوئے؟”

"کچھ نہیں۔”

وہ چونکی۔

"ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟”

"آج آپ میری مہمان ہیں۔”

"نہیں بیٹا۔”

اُس نے پرس کھولا۔

"تمہیں گھر جا کر جواب دینا ہوگا۔ کمائی بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔”

میں مسکرا دیا۔

"آج جو کمایا ہے، وہ کافی ہے۔”

وہ میری طرف دیکھتی رہی۔

"کیا کمایا ہے؟”

میں نے جواب نہیں دیا۔

کیسے بتاتا کہ اُس رات چند گھنٹوں کے بدلے مجھے جو ملا تھا، اُسے روپے میں ناپنے کی میری اوقات ہی نہیں تھی۔

ملازم نے وہیل چیئر آگے کر دی۔

مہرالنساء اس پر بیٹھ گئی۔

پھر اچانک اُس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔

"راشد۔”

"جی؟”

"تم نے میری ایک بہت بڑی خواہش پوری کی ہے۔”

"میں نے تو بس گاڑی چلائی ہے۔”

"نہیں۔”

اُس نے آہستہ سے سر ہلایا۔

"تم نے مجھے میرا شہر واپس دے دیا ہے۔”

میرا گلا خشک ہو گیا۔

میں کچھ بول نہ سکا۔

وہیل چیئر آہستہ آہستہ دروازے کی طرف بڑھنے لگی۔

میں وہیں کھڑا رہا۔

دروازے تک پہنچ کر اُس نے ایک بار پلٹ کر مجھے دیکھا۔

"اور ہاں…”

"جی؟”

وہ مسکرائی۔

"اپنی ماں کا خیال رکھا کرو۔”

میں نے نظریں جھکا لیں۔

میری ماں کو دنیا سے گئے تین سال ہو چکے تھے۔

شاید وہ میرے چہرے پر کچھ پڑھ چکی تھی۔

شاید بعض ماؤں کی نظر عمر سے نہیں جاتی۔

وہ اندر چلی گئی۔

دروازہ بند ہوگیا۔

بس ایک ہلکی سی آواز ہوئی۔

**ٹھک۔**

میں کافی دیر وہیں کھڑا رہا۔

پھر واپس گاڑی میں آ کر بیٹھ گیا۔

انجن اسٹارٹ کیا۔

مگر گاڑی آگے نہ بڑھائی۔

صبح ہو چکی تھی۔

شہر جاگنے لگا تھا۔

چائے کے ہوٹلوں پر دیگچیاں چڑھ رہی تھیں۔

اخبارات بانٹنے والے لڑکے موٹر سائیکلوں پر نکل آئے تھے۔

مساجد سے فجر کی اذان کی آخری آوازیں گلیوں میں تیر رہی تھیں۔

مگر مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے پورا شہر سو رہا ہے اور صرف ایک شخص ابھی ابھی کسی بہت لمبے خواب سے جاگا ہے۔

میں نے اُس دن کوئی اور سواری نہیں اٹھائی۔

بے مقصد سڑکوں پر گھومتا رہا۔

بار بار میرے ذہن میں ایک ہی سوال آتا رہا:

اگر اُس رات میں ہارن بجا کر واپس چلا جاتا تو؟

اگر میں کہتا کہ اتنی رات کو کوئی مسافر دروازہ نہیں کھول رہا؟

اگر میں اُس کی بات نہ مانتا اور شہر گھومنے سے انکار کر دیتا؟

اگر میں صرف میٹر دیکھتا، وقت دیکھتا اور منزل تک پہنچنے کی جلدی کرتا؟

تو شاید اُس عورت کی زندگی کا آخری سفر صرف ایک گاڑی اور ایک عمارت کے درمیان چند منٹوں کا ہوتا۔

مگر اُس رات اُس نے دو گھنٹے میں پوری زندگی دوبارہ جی لی تھی۔

اپنا پہلا گھر۔

اپنی شادی۔

اپنی بیٹی کا نام۔

اپنی سہیلیاں۔

اپنی ملازمت۔

اپنی جوانی۔

اپنی محبت۔

اور وہ سب لوگ جنہیں وقت نے ایک ایک کر کے اُس سے چھین لیا تھا۔

اُس دن مجھے پہلی بار ایک بات سمجھ آئی۔

ہم اپنی زندگی کے بڑے کاموں کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ کوئی بڑا دن آئے گا، کوئی ایسا موقع ملے گا جب ہم کسی انسان کی زندگی بدل دیں گے، کوئی ایسا کام کریں گے جس پر ہمیں خود بھی فخر ہوگا۔

لیکن زندگی اکثر ہمیں بڑے کام کرنے کا موقع نہیں دیتی۔

وہ صرف چھوٹے چھوٹے لمحے دیتی ہے۔

ایک دروازہ۔

ایک دستک۔

ایک بازو جسے سہارا درکار ہو۔

ایک آنکھ جس میں یاد بسی ہو۔

ایک شخص جو کہہ رہا ہو:

"ذرا راستہ بدل لو… میں جلدی میں نہیں ہوں۔”

اور کبھی کبھی انہی چھوٹے لمحوں میں انسان اپنی پوری زندگی کا سب سے بڑا کام کر گزرتا ہے۔

بیس برس بعد بھی جب میں رات کے پچھلے پہر کسی سنسان گلی سے گزرتا ہوں اور کسی پرانی عمارت کی ایک کھڑکی میں روشنی جلتی دیکھتا ہوں تو میں ایک لمحے کے لیے رفتار کم کر دیتا ہوں۔

مجھے معلوم نہیں کیوں۔

شاید مجھے ہمیشہ ڈر رہتا ہے کہ کہیں اندر کوئی مہرالنساء بیٹھی نہ ہو۔

کوئی ایسی عورت، جس کے پاس دنیا میں جانے کے لیے بہت کم وقت بچا ہو، مگر پیچھے رہ جانے والی یادوں کے لیے ایک پوری رات بھی کم پڑ جائے۔

اور شاید ہر شہر میں ایک ایسی گلی ہوتی ہے جہاں کسی نہ کسی مہرالنساء کی زندگی اب بھی خاموشی سے کھڑی ہوتی ہے۔

صرف کسی راشد کی منتظر۔

جو ہارن بجا کر نہ گزر جائے۔

جو میٹر بند کر دے۔

جو کہے:

"آپ جہاں جانا چاہیں، چلتے ہیں۔ آج ہمیں جلدی نہیں ہے۔”

افسانہ: آخری سفر
انتخاب سخن

~ Faizaan ~

#urdu #urduliterature #oldage #lifelessons