اعجاز جودھ پوری 18اپریل 1921ء __ 5 فروری 1998ء آج …
اعجاز جودھ پوری
18اپریل 1921ء __ 5 فروری 1998ء
آج میرپورخاص کے مقتدر شاعر اعجازجودھ پوری کا 99 واں یوم ولادت ہے۔
منتخب اشعار :
ہم کہ پستی میں بھی خنداں ہیں گلوں کی صورت
تم فرازوں پہ بھی روتے ہو سحابوں کی طرح
شکوہ بلب جو لوگ ہیں یہ ان سے پوچھیے
آداب _ عاشقی میں گلہ ہے روا کہاں
نزع کے عالم میں جب رک کر نفس آنے لگا
زندگی کی بے بسی پر خود ترس آنے لگا
جی چاہے جب بھی آئیے اور اپنے واسطے
ہر دم غریب خانہ کا در باز جانیے
اس بڑے کار_ زمانہ سے نبٹنے کے لیے
لوگ لے لے کر حیات _ مختصر آتے رہے
ان کا احسان _ عیادت بھی تو بیمار پہ ہے
بوجھ اور بوجھ بھی گرتی ہوئی دیوار پہ ہے
مطربہ دیکھ کہیں وہ میری شہ رگ تو نہیں
تیری انگشت _حسیں ساز کے جس تار پہ ہے
عدم سے عدم تک سفر ہی سفر ہے
نہیں کوئی اعجاز ~ اپنا ٹھکانا
گنوا کے عمر اے اعجاز~ سوچتا ہوں میں
طلسم _ خواب ہے یا زندگی فسانہ ہے
بالاتفاق جب کہ ہے دل خانہ ء خدا
پھر یہ تمام شورش _ دیروحرم ہے کیا
اثرانداز رنگ_ صحبت_ یاراں نہیں ہوتا
کنول بن کر بہم رہتا ہوں ترداماں نہیں ہوتا
صرف ہو بہر_ دیگراں ہے یہی حاصل_ حیات
وقف برائے خود جو ہو وہ کوئی زندگی نہیں
حیات گزرے تو اعجاز ~ اس سلیقے سے
کبھی کسی کو بھی گنجائش_ گلہ نہ ملے
دھیرے دھیرے مدھم ہو کر گل ہونا تو شرط نہیں
بعض تو اک دم بجھ جاتے ہیں دیپک جلتے جلتے بھی
کون خود بینی کو آیا تھا مقابل اس کے
رخ پہ آئینے کے چھائی ہوئی حیرانی ہے
ان سے مل کر یہ حقیقت کھلی افسانوں کی
ہیں فرشتے بھی یہاں شکل میں انسانوں کی
گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے رہے ہیں لوگ
رنگوں کی اس دھنک سے بہلتا رہا ہوں میں
فلسفہ کیا ہے تن و روح کی یک جائی کا
میں عناصر میں ہوں یا مجھ میں عناصر ماخوذ
تہذیب و ارتقا کے اجالوں کے باوجود
ہے تیرگی_ جہل تمدن کے آس پاس
روتا ہوں اس طریق سے اعجاز ~ رات دن
نم آنسوؤں سے نام کو ہوتی نہیں پلک
جو نکل جاتے ہیں اے اعجاز ~ گلشن چھوڑ کر
وہ ہوائے گل ستاں تک کو ترس جاتے ہیں گل
بچھڑ کے رہ گئے احباب محفلیں اجڑیں
سحر کی اب ہیں نشستیں نہ شام کے جلسے
اعجاز ~ راہ_ زیست میں کانٹے تھے گل کے ساتھ
گزرے جدھر سے پھونک کے رکھا قدم قدم
درندگی کبھی ملتی تھی جنگلوں میں مگر
بفیض_ عصر_ نو ملتی ہے آج شہروں میں
اک طرفہ تماشا ہے تخیل کا سفر بھی
اڑتا ہے فرازوں پہ بھی رکھتا نہیں پر بھی
شمیم و رنگ و رعنائی لطافت سب بہم کر کے
انھیں گل کہہ دیا طولانی _ مضموں کو کم کر کے
حسب_ سابق وہی دستور _جہاں ہے کہ جو تھا
سانس لینا بھی غریبوں پہ گراں ہے کہ جو تھا
چار تنکے چن کے کی تھی آشیاں سازی مگر
ایک جھونکے سے ہوا کے خانماں برباد ہوں
یہ عدم کا ہے سفر تنہا نکلنے کے لیے
ساتھ کس کے کوئی آمادہ ہے چلنے کے لیے
نذر _نسیاں ہوئیں سب گزرے دنوں کی یادیں
کوئی ساماں نہیں اب دل کے بہلنے کے لیے
وقت جاری ہے فنا کی منزل_کل کی طرف
عمر بڑھتی لمحمہ لمحمہ ہے تنزل کی طرف
فنا کے سائے پیڑوں سے پرے بہیں
تنے ہیں کھوکھلے پتے ہرے ہیں
بسی پوری طرح دنیا نہ اب تک
ہزاروں لوگ اب بھی بےگھرے ہیں
وہ لوگ ہیں باقی نہ وہ اب ان کے محاسن
وہ سیرت و کردار نہ اطوار وتیرے
سمندر میں یہ ٹھاٹھیں مارتا میلوں بھرا پانی
بہا سکتا ہے تنکے کو ڈبو سکتا نہیں ہرگز
کرکے عجب وہ تیز روی سے سفر گیا
جھپکی پلک تو حد _ نظر سے گزر گیا
شاعری سحر سہی لفظ و معانی کا مگر
تیری آواز کے جادو کو کہاں پہنچے گی
ساتھ اعجاز~ کے کچھ وقت گزاریں آو
پھر نشستیں یہ کہاں مرد_خوش اوقات کے بعد
…………………………..