اسے مارو مت۔۔۔ اسے مجھے بیچ دو۔ محض ایک روپے میں …
اسے مارو مت۔۔۔ اسے مجھے بیچ دو۔ 🔥 محض ایک روپے میں بکنے والی اس لڑکی کی اوقات بستی کی نظر میں ہیچ تھی، مگر …🔥
رام پور کے ہاٹ (دیہاتی بازار) میں اس دن دھول اور بے حسی کے سوا کچھ نہیں بک رہا تھا۔ گرمی اتنی تھی کہ زمین تڑخ رہی تھی، مگر انسانیت کی دراڑیں اس سے کہیں گہری تھیں۔ جب کملا کا ہاتھ فضا میں لہرایا اور ایک زوردار تھپڑ آشا کے گال پر گونجا، تو بازار میں ایک لمحے کو سناٹا چھا گیا۔ پیاز کی بوریوں پر گری ہوئی وہ نحیف سی بچی، جس کے گھٹنوں سے لہو رس رہا تھا، رونے کی ہمت بھی کھو چکی تھی۔
بھیڑ میں تماشائی بہت تھے، مگر انسان کوئی نہ تھا۔ چائے والا، چوڑیاں بیچنے والا، پنچایت کی دیوار تلے بیٹھے بوڑھے—سب ایسے دیکھ رہے تھے جیسے یہ کوئی روز کا تماشہ ہو۔
"اسے مارو مت۔۔۔ اسے مجھے بیچ دو۔”
رگھوویر سنگھ کی آواز کسی پرانے مندر کے گھنٹے کی مانند گونجی۔ وہ تنہا کسان، جس کی عمر کے چالیس سال کھیتوں کی مٹی اور خاموشی میں گزرے تھے، اپنی بیل گاڑی روک کر کھڑا تھا۔ اس کی آنکھوں میں وہ ٹھہراؤ تھا جو طوفان کے گزر جانے کے بعد سمندر میں ہوتا ہے۔
کملا نے حیرت سے قہقہہ لگایا۔ "رگھوویر! اپنے ہل چلاؤ۔ یہ میرے گھر کا معاملہ ہے۔ یہ منحوس لڑکی میرے ٹکڑوں پر پلتی ہے اور بدقسمتی لاتی ہے۔”
رگھوویر گاڑی سے نیچے اترا۔ اس کے جوتوں تلے خشک مٹی کچلی گئی۔ اس نے آشا کو دیکھا۔ پھٹا ہوا فراک، ننگے پاؤں، اور آنکھوں میں وہ خوف جو صرف ان بچوں کی آنکھوں میں ہوتا ہے جنہوں نے بچپن دیکھا ہی نہ ہو۔
"ایک روپیہ۔” رگھوویر نے اپنی جیب سے ایک پرانا سکہ نکالا اور سبزی کے کریٹ پر رکھ دیا۔ "یہ اس کی قیمت نہیں، تمہاری زبان بند کرنے کا تاوان ہے اور اس مجمعے کے لیے گواہی ہے۔”
پورے بازار پر سکتہ طاری ہو گیا۔ کملا کی آنکھوں میں لالچ اور خوف کی لہر دوڑی۔ اس نے آشا کو دھکا دے کر رگھوویر کی طرف کیا اور غرا کر بولی، "لے جا اسے! یہ منحوس سایہ آج سے تیرا ہوا۔ یاد رکھنا کسان، یہ جہاں جائے گی بربادی لائے گی۔”
رگھوویر نے کچھ نہ کہا۔ اس نے اپنے صاف گمچھے (رومال) سے آشا کی ٹھوڑی سے خون پونچھا۔ بچی سہمی، تو وہ رک گیا۔ "میں تمہاری مرضی کے بغیر تمہیں ہاتھ نہیں لگاؤں گا۔”
آشا نے پہلی بار سر اٹھا کر دیکھا۔ اس اجنبی کی آواز میں وہ کرختگی نہیں تھی جس کی اسے عادت تھی۔ اس نے کانپتے ہوئے اپنے ہاتھ کی دو انگلیاں رگھوویر کی ہتھیلی پر رکھ دیں۔ یہ اس کا کل اثاثہ تھا—ایک ادھورا اعتبار۔
بیل گاڑی جب کچے راستوں سے گزرتی ہوئی رگھوویر کے تنہا گھر پہنچی، تو شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔ گھر کیا تھا، مٹی کی دیواریں اور ٹین کی چھت، مگر وہاں ایک نیم کا درخت تھا جس کی شاخ سے ایک پرانا، ٹوٹا ہوا جھولا لٹک رہا تھا۔
رات کو جب آشا نے کمرے کا دروازہ اندر سے بند کیا، تو رگھوویر نے اسے چابی تھماتے ہوئے کہا تھا، "یہ تمہارا علاقہ ہے۔ یہاں تمہاری اجازت کے بغیر ہوا بھی داخل نہیں ہوگی۔”
اگلے چند دن گاؤں کی زبانوں پر قینچیاں چلتی رہیں۔ "اکیلے مرد نے جوان ہوتی لڑکی کو خریدا ہے، کوئی تو مقصد ہوگا،” عورتیں کنویں پر سرگوشیاں کرتیں۔ رگھوویر نے ان سب کو صرف ایک جملے سے خاموش کر دیا: "جب یہ بچی بازار میں پٹ رہی تھی، تب تمہاری ممتا کہاں سو رہی تھی؟”
مگر اصل کہانی اس رات شروع ہوئی جب آسمان سے بوندیں گرنے لگی تھیں۔ آشا اب رگھوویر کے ساتھ کھیتوں میں ہاتھ بٹانے لگی تھی، مگر وہ اب بھی اسے "مالک” ہی سمجھتی تھی۔
ایک رات، جب بارش کی خوشبو مٹی سے لپٹ رہی تھی، آشا نے دیکھا کہ رگھوویر اپنے بستر کے نیچے سے ایک پرانا لکڑی کا صندوق نکال کر بیٹھا ہے۔ اس کے ہاتھ لرز رہے تھے۔ آشا تجسس کے عالم میں دبے پاؤں اس کے پیچھے جا کھڑی ہوئی۔
صندوق میں تین چیزیں تھیں: ایک زنگ آلود تمغہ، ایک خط، اور ایک پرانی دھندلی تصویر۔
تصویر ایک خوبصورت عورت کی تھی جس کی گود میں ایک نوزائیدہ بچہ تھا، اور اس کے گلے میں ایک خاص قسم کی مالا (شادی کی مالا) تھی۔
آشا کی سانس رک گئی۔ اس نے تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کانپتی آواز میں پوچھا: "یہ۔۔۔ یہ تو میری ماں ہے۔”
رگھوویر ساکت رہ گیا۔ اس نے مڑ کر آشا کو دیکھا، اس کی آنکھوں میں برسوں کا کرب آنسو بن کر تیرنے لگا۔
"اور اس کے گلے میں یہ مالا۔۔۔” آشا کی آواز سسکیاں بن گئی۔ "یہ تو بالکل ویسی ہی ہے جیسی آپ کی الماری میں ایک چھوٹے سے مخمل کے کپڑے میں لپٹی رہتی ہے۔ میری ماں آپ کی نشانی کیوں پہنے ہوئے تھی؟”
رگھوویر نے ایک لمبی آہ بھری، جیسے سینے سے کوئی پہاڑ ہٹایا ہو۔ اس نے وہ خط آشا کی طرف بڑھایا جو بارہ سال پرانا تھا اور جگہ جگہ سے آنسوؤں کے دھبوں کی وجہ سے گل چکا تھا۔
"آشا۔۔۔ تمہاری ماں کملا کی سوتن نہیں تھی، اور نہ ہی تمہارا باپ وہ شخص تھا جو بھاگ گیا۔ تمہاری ماں ‘سرسوتی’ میری منگیتر تھی۔ ہم نے ساتھ جینے کے وعدے کیے تھے، مگر جب میں سرحد پر جنگ لڑنے گیا، تو گاؤں کے طاقتور لوگوں نے اور اس کملا کے خاندان نے سازش کر کے اسے یہاں سے نکال دیا اور ایک ایسے شخص سے منسوب کر دیا جو پہلے سے شادی شدہ تھا اور شرابی تھا۔”
رگھوویر کی آواز رندھ گئی۔ "میں جب واپس آیا، تو سب کچھ اجڑ چکا تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ وہ مر گئی ہے۔ میں بارہ سال اس تصویر اور اس ادھورے خط کے ساتھ جیتا رہا، جس میں اس نے لکھا تھا کہ ‘اگر میری بیٹی کبھی تم تک پہنچے، تو اسے بچا لینا’۔”
آشا کی آنکھوں سے آنسو بہہ کر اس خط پر گرے۔ "تو آپ نے مجھے خریدا نہیں تھا؟”
رگھوویر نے آشا کے سر پر ہاتھ رکھا—اس بار آشا نہیں سہمی۔ "میں نے تمہیں نہیں خریدا، بیٹی۔ میں نے اپنا وہ قرض اتارا ہے جو تمہاری ماں کی محبت کا مجھ پر ادھورا تھا ہا۔ میں تمہیں لینے ہاٹ نہیں گیا تھا، میں تو وہاں اپنی روح کی تلاش میں تھا، جو اس دن تمہاری شکل میں مٹی میں پڑی تڑپ رہی تھی۔”
آشا نے تصویر کو سینے سے لگا لیا۔ وہ جھولا جو نیم کے درخت پر ٹوٹا ہوا تھا، اب اسے ویران نہیں لگ رہا تھا۔ وہ اب ایک یتیم یا خریدی ہوئی لڑکی نہیں تھی؛ وہ ایک ایسی محبت کی امانت تھی جسے وقت کی آندھیاں مٹانے میں ناکام رہی تھیں۔
باہر بارش تھم چکی تھی، مگر رگھوویر کے آنگن میں پہلی بار زندگی کی کونپلیں پھوٹ رہی تھیں۔ اس رات رام پور کے اس چھوٹے سے گھر میں، ایک کسان نے اپنی زمین نہیں، بلکہ اپنا ‘مستقبل’ دوبارہ آباد کر لیا تھا۔
~Intikhaab-E-Sukhan~
—