Man Dare Ishq Bashuma Hastam Episode 28 "تمھاری بر…
Man Dare Ishq Bashuma Hastam
Episode 28
"تمھاری برتھ آرہی ہے ہاو سیڈ اس بار تو تمھارے ماما بابا بھی نہیں ہوگے تمھاری سالگرہ سلیبریٹ کرنے ۔”
وہ اتنی سخت بات کہہ گیا تھا کہ نور کا دل ایک بار پھر تکلیف سے بھر گیا وہ کیوں اس کے ماما بابا کا ذکر کرتا ہے
"اچھا ہے نا آپ میری برتھ سلیبریٹ کرنا اور یہ جگہ بھی کتنی بڑی ہے ورنہ اگر ماما بابا کے ساتھ ہوتی تو وہ گھر میں صرف ایک چھوٹے سے کیک سے اور بس باہر کھانا کھلا دیتے چونکہ اب میں یہاں رہتی ہوں تو میں اپنی سارے وِشز پوری کروں گی یار آپ نے اگر ذکر چھوڑ دیا ہے تو مجھے زرا ایک پین اور پیڈ تو پکڑاے میں لسٹ لکھو اور آپ ایک اچھے ہزبنڈ کی طرح ساری باتیں سُنے گے ۔”
اسامہ نے بُرا سا منہ بنا لیا یہ لڑکی کھبی بدزن نہیں ہوگی اپنے گھر والوں سے
※※※※※※※※※※※※
"جلدی سے ناشتہ لا کیا ہاتھ پیر ٹوٹ گئے ہے تمھارے ۔”
وہ ابھی ہاتھ دھو کر پلنگ پہ بیٹھا اپنی بیوی کو آواز دیں رہا تھا جب وہ ابھی تک کھانا نہ لائی تو چلاتے ہوے بولا
"کیا ہوگیا ہے کیوں چلا رہا ہے صبح صبح کام پہ نہیں گیا تو ابھی تک ۔”
ایک عورت اس کے چلانے پر اپنے کمرے سے باہر وہ ابھی کپڑے سلائی کررہی تھی مگر جب یہ پاگلوں کی طرح گھر ہلا کر رکھ دیتا تو مجبوراً انھیں باہر آنا پڑتا کہ روز روز کے تماشے سے بچا جاے پہلے بھی گاوں کے لوگوں نے گھر آکر جینا حرام کردیا تھا یا تو یہاں شرافت سے رہا جاے یا پھر فورن تشریف لیے جانے میں زرا بھی دیر نہ کریں ورنہ وہ آغا جی کے پاس جائے گے فیصلے کے لیے وہ روز روز کے شور وپکار گالم گلوچ نہیں سُن سکتے تھے
"کام پہ تب جاوں گا جب تمھاری کام چور نوھ مجھے ناشتہ دیں کہا بھی تھا آپ سے مجھے دوسری شادی کرنے دیں مجال ہے کوئی زندگی میں کوئی سُکھ دیا ہو تو آرہی ہے کہ پھر تجھے تیری نانی یاد دلاؤ ۔”
"تو گیارہ سال کی بچی سے کیسے اُمید رکھ سکتا ہے وہ بچہ جمے گی منع بھی کیا تھا تجھے مگر تیری ضد اور رٹ کی خاطر مجھے اسے لانا پڑا اور ابھی تو صرف چند مہینے ہوے ہیں تو ابھی سے بیزار ہوگیا ۔”
"او چُپ کر اماں سویرے سویرے میرا سر کھانے لگ جاتی ہیں اور تو آگئی مہرانی صاحبہ نیند پوری کر لی جب میں نے کہا تھا میرے اُٹھنے سے پہلے ناشتہ موجود ہو تو کدھر دفعان ہوئی وی تھی ۔”
وہ اپنے چھوٹے سے ہاتھ میں ایک چاے کا کپ تھامے جبکہ دوسرے سے بامشکل پلیٹ جس پہ دو بریڈ کے پیس تھے وہ اس کے سامنے رکھے
"و وہ گیس ن نن نہیں تھی ۔”
وہ گھبراے ہوے لہجے میں بولی آنکھوں میں نمی بار بار آرہی تھی کہ آج بھی مار پڑے گی
"اس سھوکے بریڈ کا میں کیا کروں گا اس ناشتے کے لیے مجھے اتنے دیر بیٹھایا رکھا وہ غصے سے کہتا ہوا دونوں چیز پھینک چکا تھا اور گرم گرم چائے اس کے نھنھے پیروں پہ جاکر گری وہ چیخ پڑئ
"ہاے سلیم یہ کیا کیا تو نے ۔”
ماں نے سر تھام لیا وہ اُٹھتے ہوے اس کا بال پکڑ چکا تھا اور تھپڑوں کے بارش کرنے لگا
"دماغ خراب کردیا اس نے جب سے ہماری زندگی میں آئی ایک پل چین سے نہیں رہا او کم سے کم اولاد نہیں دیں سکتی تو ڈھنگ کا طعام دیں دیا کر مگر نہیں نا کوئی کام آج تک تو نے کام کا کیا ہو ۔”
وہ اس کو مار مار کر حشر کر چکا تھا اور ماں اس کا بازو پکڑے روکنے میں ہلکان ہوگئی تھی
"چھوڑ دیں ماردیں گا اسے تو سلیم رُک جا !۔”
وہ اب اس کا گلا دبوچ رہا تھا اور بیچاری نھنھی سے غزل کو موت اپنے قریب نظر آرہی تھی اچھا تھا وہ مر ہی جائے کم سے کم اس ذلت بھرئ زندگی سے جان چھٹتی جو لمحہ لمحہ ماررہی تھی اس کی حالت ویسی تھی جیسے کسی ریشم کے ڈوپٹے کو کسی کانٹوں سے بھری جگہ پہ لگا کر بےدردی سے کھینچنے سے جو اس ڈوپٹے کا حال ہوتا ہے ویسی ہی غزل کا ہر روز ہوا کرتا تھا جب اس کی آنکھوں سے آنسو ابل ابل کر نکلنے لگا جب سلیم کو لگا اگلے پل ہی اس کی جان نکل جائے گی اسے چھوڑتا ہوا وہ نیچے زمین کے بل پھینکا اور وہ بےجان گڑیا بن پانی مچلی کی طرح تڑپ رہی تھی اور کھانس رہی تاکہ اس کی سانیسں بہال ہوئے
"ہاے یہ کیا تو نے ۔”
ماں تڑپ کر اسے اُٹھانے لگی جس کی حالت غیر ہوتی جارہی تھی
"سمجھا دیں اسے اماں اگر مجھے اس طرح کا ناشتہ ملا تو اس کو زندہ قبر میں پھینک دوں گا اور تو سُن کے واپس آو تو میرے کپڑے تیار ہوے ملے ورنہ چلنے کے قابل نہیں چھوڑا گا ۔”
وہ غرا کر کہتا لکڑی کے دروازہ کو کھولتا ہوا اتنے زور سے بند کر گیا تھا کے لکڑی کا ایک کونا ٹوٹ کر نیچے گر گیا اور وہ دروازے کی طرف دیکھ کر اسے دیکھنے لگی جو اب لمبے لمبے سانس لے رہی تھی
"منع بھی کیا تھا تجھے جلدی اُٹھ جایا کر سلیمڈر کام نہیں کررہا تھا تو لکڑیاں جلا لیتی آج تجھے یہ مار دیتا !۔”
وہ اسے اُٹھاتے ہوے زور سے بولی اور وہ بیچاری کیسے لکڑیاں جلاتی اسے تو اماں نے یہ سب سکھایا ہی نہیں تھا اسے تو پڑھ کر آفسر بنا تھا یہ کیا لکھ دیا اس کے نصیب میں اس کا دل بُری طرح سسک رہا تھا وہ اپنے سوجے ہوے منہ کو چھوتے ہوے سوچنے لگی
※※※※※※※※※※
"آپ کی اسامہ سے بات ہوئی تھی ؟۔”
دین ثمرن کو سلا کر اب ان کے کمرے میں موجود تھا وہ ان سے تفصیل بات نہیں کر پایا تھا ایک تو ثمرن کی حالت غیر ہورہی تھی دوسرا وہ حویلی کے ایک ایک فرد کو کال کر کے پاگل ہورہا تھا مورے نے پریشانی سے اپنے بیٹے کو دیکھا جس کا خود بھی بُرا حال ہوگیا تھا آخر کو ایک بہت بڑا ظلم ہوا تھا اور ان کا ذی حساس بیٹھا کیسے برداشت کرسکتا تھا وہ ایک بچی کا معاملہ بھی تو نہ تھا وہ ثمرن کی بہن کا معاملہ تھا جس کا مستقبل تباہ کردیا گیا تھا انھوں نے سر اثبات میں ہلایا
"کیا بات ہوئی آپ کی اس سے مورے مجھے پلیز ایک ایک بات تفصیل سے بتائیں گا یہ معاملہ بہت سنگین ہے ثمرن بالغ ہے اسے سمجھ بوجھ تھی پھر بھی اس کی حالت آپ نے دیکھی کیا سے کیا کردیا اور وہ چھوٹی سی بچی کا کیا حشر کردیا ہوگا انھوں نے دیکھ امی اگر وہ میرے یا مجھ جیسے بندے کے دستریں میں ہوتی تو وہ محفوظ ہوتی مگر اب میں نہیں جانتا آغا جان نے کس کے حوالے کیا اسے اسامہ کے یا ارباز کے اسامہ پہ مجھے شک نہیں پڑتا کیونکہ اسامہ ایسا ہے وہ کسی کی دباو میں آنے والا نہیں ہے اور وہ تو خود لڑکیوں سے بھاگتا ہے مگر مجھے ارباز پہ شک ہورہا ہے ارباز بیشک ایک جولی اور اچھا لڑکا ہے مگر ہے تو پٹھانوں والا جوش یاد ہے آپ کو کام والے بھی ہاتھ اُٹھا لیا تھا کیونکہ اس کا پلے سٹیشن خراب ہوگیا تھا اور پھر خانم نے کیا کیا تھا اس کا بہرحال اگر خانم موجود کے تو مجھے اتنا یقین ہے کہ وہ ایسا سب ہونے نہ دیتی اوّل تو شادی پہ وہ ہنگامہ کھڑا کردیتی اس کا مطلب ہے کہ آغا جان نے ارباز کو کہی اور بھیج دیا ہے وہ حویلی میں ہرگز نہیں ہوسکتی ۔”
وہ بولتے ہوے اس کو جواب بھی مل گیا تھا ہاں اگر آغا جی نے ایسا کیا ہے تو وہ نوری کو ہرگز حویلی نہیں لے کر آئے ہوگے
"بیٹا مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہی اسامہ سے بات ہوئی تھی تو خاصا پریشان لگ رہا تھا کہا تو کچھ نہیں تھا حال چال پوچھا تھا پہلے تو گھنٹا لگا کر میرےپاس سے جاتا مگر آج اس نے چند باتیں کر کے بعد میں بات کرنے کا وعدہ کر کے بند کردیا ۔”
"اس وقت کہاں تھا وہ ۔۔”
"میرے خیال ہے اِدھر ہی ہو شاہد یونی سٹارٹ ہونے والی تھی ۔”
صلاح الدین نے اپنے لب دبا لیے اور سر ہلایا
"اسامہ سے ملاقات کرنے سے پہلے میرا حویلی جانا ضروری ہے مادر بزرگ کو بتانا ہے کہ ان کی بھائی انا کو سیتل کرنے کی خاطر کس حد تک چلے گئے ہیں ثمرن نے بتایا یہ ہادی کی موت کا بدلہ ہرگز نہیں لے رہے اس دن کا واقعہ اس نے مجھے بتادیا کہ وہ کیسے ان کے سامنے پیش ہوگئی کہ وہ اسے مار ڈالے وہ ثمرن سے ہار نہیں مانا چاہتیے اور انھوں نے ثمرن کی کمزوری کو اپنے قید میں لیا اور وہ ہے نور صبح اور انھیں پتا تھا اس سے ثمرن ان کے پاس آئے گی پیر پکر کر معافی مانگی اور ان کے سارے ظلم ایک بار پھر سہنے کئ لیے تیار ہوجائیں گی اور میں یہ ہرگز نہیں کروں گا میری نرمی کا انھوں نے خوب فائدہ اُٹھایا مگر اب نہیں یہ بات ثمرن کی بہن کی آگئے ہے اور میں ایک بھائی کا فرض پورا کروں گا ۔”
اس کی آنکھیں سرُخ ہورہی تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا ایک ایک کو شوٹ کر ڈالے مورے نے اس کے سر پہ پیار کیا
"خدا تمھیں کامیاب کریں دین میرا تو خود اس بچی کے لیے ہول اُٹھ رہے ہیں نجانے ثمرن کی کیا حالت ہورہی ہوگی تم جاو بیٹا اس کو دیکھ کر آو فکر نہ کر میرا چندا اللہ سب بہتر کریں گا بندے کو وہ اتنی آزمائش دیتا ہے جتنا وہ سہہ سکے ۔”دین ماں کی باتوں سے تھوڑا پُرسکون ہوگیا اور ان کا ہاتھ چوم کر بولا
"آپ کو بھی پریشان کردیا مگر کیا کرتا کس کے پاس جاکر اپنے دل کا حال بیان کرتا ۔”
"پہلے تو کھبی نہیں کی اب کیسے خیال آگیا ۔”
وہ ماحول کے تناو کو کم کرتے ہوے بولی وہ چھینپ گیا اسے پتا تھا ان کا اشارہ ثمرن کی طرف تھا
"ایسی تو بات نہیں ہے مورے آپ سے کھبی کوئی بات چھپائی ہے ۔”
"ہاں ہاں پتا ہے اب جاو اپنی موشم کے پاس ویسے غضب خدا کا دین بھلا کوئی اپنی بیوی کا نام چوہیا رکھتا ہے ۔”
مورے کو خود فارسی آتی تھی اس لیے اس کے موشم کہنے پر بولی وہ ہنس پڑا
"وہ میری جیرئ ہے مورے سارا سال اس نے مجھے اسی کی طرح تنگ گیا تھا اور وہ دن مورے وہ بہت مختلف تھی اب دیکھے تو لگتا ہے وہ ہے ہی نہیں اور مجھے اس کے لیے تکلیف ہوتی ہے ۔”
وہ گہرا سانس لیتا ان کے سر پہ پیار کرتا اُٹھ پڑا
•••••••••••••••
وہ مورے کی ہدایت پہ نماز پڑھنے چلا گیا وہ کھبی روزانہ پڑتا تھا یا کھبی ایک دن نہیں پڑھا کرتا یا تو اپنے اوپر احسان کرتے ہوے ایک دو پڑھ لیا کرتا تھا
مورے اس کو سمجھاتی تھی کہ نماز میں ہی سکون ہے اور وہ اس بات کو مانتا بھی تھا کے واقعی رب کی بارگاہ میں اپنا سر جھکنا کتنا سکون بخش تھا پر جب اس پر سُستی چھا جاتی تو وہ بہت سے دن اس سکون سے محروم رہتا اب جب اس نے نماز مکمل کی تو صرف اپنی ماں ،ارباز ،بڑی امی کے لیے دعا کرتا اُٹھ گیا اور باہر آیا جو اب فلم کے بجائے کوئی ڈورے مون دیکھ رہی تھی جہاں جیان صاحب اپنی بے سُری آواز میں "میں ہوں جیان ،میں ہوں بڑا طاقت ور ۔”گا رہا تھا
اس نے صوفے کی طرف دیکھا جہاں وہ سب کی طرح اس کی سریلی آواز سُن کر بے ہوش ہوگئی تھی یعنی کہ وہ اب سو چکی تھی اسامہ نے ریموٹ اُٹھا کر نوبیتا کی روندی شکل کو بند کیا اور ریموٹ سائڈ ٹیبل پہ رکھ کر مڑنے لگا کہ رُک گیا وہ ایسے بنا کمبل کے صوفے پہ سوئے گی نہیں وہ اسے ایسے نہیں چھوڑ سکتا گھر میں ملازم بھی ہوتے بیشک قابل اعتبار ہو مگر وہ کوئی رسک نہیں لے سکتا تھا چل کر اس طرف آیا اور اسے بڑی ہی احتیاط سے اُٹھایا وہ ہلکہ سا کسمائی اور کچھ بڑبڑائی تھی
"امی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ۔”
اس بات پہ اسامہ رُک گیا وہ اب اسے دیکھنے لگا جو اتنا کہہ کر پھر خاموش ہوگئی تھی وہ الجھ گیا اس ویمپ نے اپنے اوپر ماسک پہنا ہوا ہے ورنہ در حقیقت وہ ڈرتی بھی ہے اور اپنے ماں باپ کو یاد بھی کرتی ہے اس کے دل کو کچھ ہوا تھا شرمندگی نے اسامہ کو اپنے لپیٹ میں لیا تھا اسے نور کو یہ سب نہیں کہنا چاہیے