Man Dare Ishq Bashuma Hastam Smareen Shah Episode …
Man Dare Ishq Bashuma Hastam
Smareen Shah
Episode 29 part 1
تھا وہ اُٹھا کر ارباز کے کمرے کے بجائے اسے اپنے کمرے میں لے گیا تھا کہی وہ واقعی ڈر کر گھبڑا کر نہ سوتی ہو وہ اسے اب بستر پہ لٹا چکا تھا اور اس پر کمبل ڈالنے لگا اور اس کے منہ پہ آئے بالوں کو ٹھیک کر کے چلتا ہوا سیدھا دروازہ بند کرنے لگا اور لیپ ٹاپ ڈیسک سے اُٹھا کر صوفے کی طرف آگیا اور آن کر کے اپنے کام پہ مصروف ہوگیا مگر مسلسل اس کی نظر نور کے سوئے ہوے وجود پہ پڑ رہی تھی اس کی آنکھوں میں
نور کے لیے کچھ نہیں تھا سوائے ہمدردی کے اس نے جو کچھ کیا ہے بہت غلط کیا وہ بُرا ہے جو اس کے ساتھ روکھے رویہ سے پیش آرہا ہے مگر وہ بھی کیا کرتا آخر اپنی فطرت کو کیسے تبدیل کرتا اور یہ دل پہ ایسے شگاف پڑ چکے تھے جنھیں ٹھیک کرنا بے حد دشوار تھا
مگر ناممکن نہیں تھا اس کے اسی دل سمیت اسے اگر جوئی قبول کریں اور اس سے ایسی ہی محبت کریں جس طرح وہ ہے تو کیوں نہیں تبدیل ہوسکتا جس رنگ میں رنگے گے وہ رنگ جائے گا بس محبت کے بول کے بجائے فقط صرف نگاہ ہی کافی دل پگھلانے میں ، اسامہ نے اب اس پر نظریں ہٹا لی تھی اور جیب سے سگریٹ نکال کر ایک بار پھر اپنے ڈیپریشن کو دھوے میں اُڑانے کی بھرپور کوشش کرنے لگا
※※※※※※※※※※※※※※
"پوچھ سکتی ہوں میرے کمرے میں آنے کی جرات بھی کیسی کی تم نے ۔”
وہ کوئی کتاب پڑھنے میں مصروف تھی جب ان کے کمرے کے دروازے دستک پر انھوں نے بولا
"اندر آجاو !۔”
تو حرا کو کمرے میں داخل ہوتا دیکھ کر ان کے ماتھے پہ شکن آگئیں اور پھر جب بولی تو لہجہ میں کرختگی نہیں مگر سرد مہری تھی حرا پہلے سے گھبڑائی ہوئی تھی مزید ان کے لہجے نے اس کے اوسان خطا کردیں
"بڑی خانم !۔”
"اپنے اس ناپاک زبان سے میرا نام بھی مت لو ۔”
وہ سر جھٹک کر کڑوے لہجے میں بولی وہ اپنا سر جھکا چکی تھی
"آئیم سوری خانم !۔”وہ بھیگے لہجے میں بولی اصل میں اسے دُکھ اپنے کیے پہ نہیں تھا اسے تکلیف اپنے زبردستی شادی پہ ہورہی تھی
"سوری ؟ کس بات کی سوری معافی تو تمھیں اس بچی سے مانگنی چاہیے کیا قصور تھا مجھے بتاو اتنی محبت تو تمھیں بھائی سے نہیں تھی یہ تو میں اچھی طرح جانتی ہوں جس طرح تم نے اس کو مارنے کی کوشش کی اب خود ہی اپنے منہ سے اقرار کروں کہ آخر تم نے ایسا کیوں کیا ؟۔”
وہ تیزی سے بولتے بولتے بلاآخر سنیجدگی سے کہنے لگی
"آپ ایسے کیسے کہہ سکتی ہیں خانم جان ہادی بھائی کے لیے میں کتنا تڑپی بیشک میری ان سے بنتی نہیں تھی مگر اس کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ میں اپنے بھائی سے محبت نہیں کرتی ۔”
بھیگے آنکھوں اور لہجے سمیت وہ ردا خانم کو اس وقت ڈھونگی لگی تھی
"محبت اگر تم کرتی تو تم جائے نماز بچھا کر اس کے لیے نفل پڑتی جو کچھ ہوا اسے درگزر کرتی ہادی کے لیے فاتحہ پڑھتی ناکہ خود اپنے لئے جہنم خریدتی چلو فرض کرو اگر ہادی سے اس کے خاندان کے کسی فرد کا قتل ہوجاتا اور تم خون کے بدلے جاتی پھر جو تمھارے ساتھ کرتی وہ کیا درُست ہوتا ؟ سچی سچی جواب دینا تمھیں اس لیے نہیں پڑھانے کی اجازت دی میں نے کہ تم جان لینے پر تُل جاو اب جواب دوں چُپ کیوں ہوگی اگر کوئی جواب نہیں ہے تو خاموشی سے نکل جاو ۔”
وہ تیزی سے کہتی اب کتاب کے صفے کو اُٹھانے لگی جب وہ ان کے پیر پکڑنے لگی اب اس بندے سے کسی ایک ہی طریقے سے دستبردار ہوا جاسکتا تھا کہ خانم کو قائل کیا جائے آخر فیصلہ خانم کا ہی تو تھا
"مجھے معاف کردیں آپ بیشک مجھے ان کے پاس لے جائے میں ان سے معافی مانگوں گی مگر میری کسی چالیس سال کی عمر کے اضغر علی سے شادی مت کروائیں خانم میں نے ابھی پڑھنا ہے اپنی تعلیم مکمل کرنی ہےمیرا مستقبل تباہ مت کریں ۔”
وہ اپنا پیر ہٹانے لگی
"پرے ہٹو مجھے ایسے بالکل نہیں پسند میرے سامنے مت جھکا کروں جو بھی بات کرنی ہے سیدھے سیدھے کیا کروں یہ ہتھکنڈے زرا بھی نہیں پسند مجھے اور ابھی بھی تمھارے میں کوئی احساس شرمندگی نہیں ہے بلکہ صرف اور صرف اپنی ہی مفاد کی خاطر تم یہ سب کررہی ہو جب سچ مچ تم اپنی غلطی دل سے تسلیم کروں گی پھر میرے پاس ورنہ بھول جاو تمھاری کوئی بات میں سُنو گی ۔”
بے حسی کے سوا ان کے پاس کچھ نہیں تھے وہ حرا کو دیتی اس نے کام ہی ایسا کیا تھا کہ معافی کی گنجائش ہی نہیں تھی اور معافی کو تب قبول کیا جاتا جب اگلا بندہ واقعی اپنی غلطی کو سچے دل سے تسلیم کرتا اور ردا خانم کو وہ ابھی تک مفاد پرست ہی لگی تھی تو وہ کیونکر اس کو معاف کردیتی اس کی خواہش پوری کرتی وہ دو تین بار ان کو سوری بولتی رہی جب کوئی جواب نہ مل پایا تو اپنے بھیگے گال صاف کرتے وہ سر جھکائے مڑ پڑی جبکہ اندر آتے بلال نے بہت شدت سے اس کا درد محسوس کیا تھا پھر اپنی شکوہ کرتی نگاہیں اپنی پیاری دادی جان کی طرف بڑھائی جو اب اس کی موجودگی اور نظروں کو نظر انداز کرتی کتاب میں گُم ہوچکی تھی وہ بلال کو پاڑ کرتی کمرے سے باہر نکل پڑی اور بلال مڑ کر اسے دور جاتا ہوا دیکھنے لگا
•••••••••••••
"نوری !!!!!!”
وہ جلدی سے چیختے ہوے بستر سے تیزی سے اُٹھی تھی
دین جو فجر کی نماز مکمل کررہا تھا اس کے چیخنے اور اُٹھنے سمیت تیزی سے کھڑا ہوا اور اس کے پاس آیا جو اب وحشت زدہ ہوکر دروازے کی طرف بڑھ رہی تھی
"موشم ! کیا ہوا ؟۔”
اس نے ثمرن کو پکڑا اور وہ اس کے پکڑنے پر تڑپ اُٹھی اور اسے دھکا دینے لگی دین نے اپنی گرفت مضبوط کر لی
"جانے دوں مجھے وہ میری نوری کی معصومیت چھین لے گا جانے دیں مجھے !! چھوڑو وہ نوری کے چھونے والا تھا میں اسے ماردوں گی ۔”
وہ چلائی تھی
"ہوش میں آو ۔”
دین اسے جنجھوڑنے لگا اور وہ تو ایسے تڑپ تھی جیسے اگلے پل اس کی روح نکل جائے گی اس کے چیخنے باہر کمرے میں بھی دستک ہونے لگی یقینن مورے بھی اس کی آواز سے ڈر کر آئی
"دین بچے کیا ہوا ؟۔”
مورے باہر سے آوازیں دینے لگی اور وہ اسے قابو کرنے میں مصروف تھا
"ثمرن کچھ نہیں ہوا نوری کو ہوش میں آو ۔”
وہ اب غصے سے اسے جنجھوڑتے ہوے کہنے لگا وہ اک دم ساکت ہوگئی دین اب اسے چھوڑ کر دروازے کی طرف بڑھا اور دروازے کو کھولا مورے اندر داخل ہوئی اور دین سے کچھ کہنے کے بجائے اس کی طرف آئی اور اسے اپنے ساتھ لگا لیا مورے کے مہربان لمس نے بھی اس کی چُپ نہ توڑی تھی جو یک دم اس کو اپنے لپیٹ میں لے چکا تھا وہ اسے بستر کے پاس بامشکل ہی اپنے بوڑھے بازو سے گھسیٹنے لگی اور اسے بیٹھایا
اور مڑ کر دین کو دیکھا جو خود بھی چُپ کر کے اسے دیکھ رہا تھا وہ اب سامنے سائڈ ٹیبل پہ پڑا پانی کا گلاس اُٹھا کر ثمرن کو پکڑانے لگی مگر وہ ہلی نہیں انھوں نے پیار سے اس کے بالوں کو سائڈ پہ کیا
"میری جان پانی پیوں رات کو سونے کی باعث حلق سوکھ جاتا ہے ۔”
وہ گلاس اس کے ہنٹوں کے قریب لے کر جاتے ہوے کہنے لگی پھر بھی اس کے وجود میں کوئی جنبش نہیں ہوئی
دین نے چل کر آیا اور ان کے ہاتھ سے گلاس لیا
"مورے آپ جائے سوری آپ ڈسٹرب ہوئی میں سنبھال لوں گا ۔”
انھوں نے اب اسے گھورا
"نہیں میں اپنی بیٹی کے پاس رہوں گی ۔”
"مورے کیوں پریشان ہوتی ہیں جائے آرام کریں آپ میں ہینڈل کرلوں گا ۔”
وہ گلاس ٹیبل پہ رکھ کر ان کو اپنے ساتھ لگائے دروازے کی طرف لے کر گیا
"دھیان سے دین بہت نازک ہے یہ لڑکی ۔”
وہ ہولے سے ہنس پڑا
"کوئی نازک وزک نہیں میڈم ایک چور کو پوری قطر بازار میں جوتے مار چکی ہیں نازک بس میں جب سے آیا ہوں ڈرامے ہیں محترمہ کے مجھے مزید قریب کرنے کےلیے ۔”
وہ مورے کی پریشانی کو کم کرتے ہوے بولا
"باز آو دین خیال رکھنا !۔”
وہ اس کے گال پر ہلکہ سے چپیٹ لگا کر بولی دین ہولے سے مسکرایا
اور انھیں کمرے تک چھوڑ کر واپس آیا اور جائے نماز اُٹھائی اسے تہہ کر کے رکھ کر اس کے پاس آیا جو بالکل اسی پوزیشن میں تھی جدھر وہ اسے چھوڑ کر آئے تھے وہ اس کے ساتھ بیٹھنے کے بجائے گھٹنے کے بل بیٹھا اور اس کے گود میں پڑا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا
"اِدھر دیکھو ویسے جس طرح تمھاری حرکتیں تمھارا نام موشم سوٹ نہیں کرتا اب کیا رکھو ۔”
وہ نرمی اور بڑے پیار سے بول رہا تھا اچانک ثمرن کی آنسو اس کے گود میں گرنے لگے ہولے ہولے جسم کانپنے لگا
"امی ابو نے ٹھیک نہیں کیا الادین میں انھیں کھبی معاف نہیں کروں گی ۔”
اس نے ایک ایک لفظ کو کتنی تکلیف سے کہا تھا دین اچھی طرح جانتا تھا
"میرا صبر ، میری برداشت کا کیا فائدہ ہوا دین کچھ بھی نہیں کہتے تھے صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے جھوٹ بولتے ہیں وہ لوگ کوئی نہیں میٹھا ہوتا الٹا عزت نفس کچلی جاتی ہے اور ویسا ہی ہورہا ہے دین آپ خود جانتے ہیں میں اپنے اوپر کسی کی سخت نگاہ نہیں برداشت کرسکتی اور میں نے چار دن کی اتنی مار اتنی زلت کیوں سہی اپنے گھر والوں کی خاطر میرے گھر کا ایک ایک فرد سلامت رہے میری بہن کا مستقبل تباہ نہ ہوئے میں نے ان کے لیے اتنا کچھ کیا اور انھوں نے سب ختم کردیا سب کچھ ۔”
وہ پھٹ پڑی دین خاموشی سے اسے سُنتا رہا اس کا ڈیپریشن اس کے بولنے سے ہی کم ہوگا اس لیے بیچ میں
کچھ نہیں بولا
"میرا دل کرتا آپ کے آغا جان کو شوٹ کردوں میرے بھائی نے نہیں مارا اس کے دوست نے یہ سب کیا تھا جو اب باہر عیاشی کررہا ہے میرے بھائی نے بیوقوفی کی تھی بس اور اس بیوقوفی کی اتنی بڑی سزا ۔”
دین اُٹھ کر اسے اپنے ساتھ لگایا اور اسے پیار کیا
"ریلکس موشم سب ٹھیک ہوجائے گا ۔”
وہ اس کی تکلیف کو باخوبی سمجھ رہا تھا مگر الفاظ نہیں مل رہے تھے جس سے اس کی تکلیف کم ہوتی
"کیا ٹھیک ہوگا دین طوفان تو اب گزر چکا ہے ۔”
اس کے سینے پر سر رکھے وہ تھکے ہوے انداز میں بولی دین نے اسے خود میں بھینچ لیا
"میری موشم سب سے بڑیو ہے کل میں حویلی کے لیے نکل رہا ہوں میری بھرپور کوشش ہوگی کہ میں نور صبح کو اپنے ساتھ لے آو تم پُرسکون ہوجاو میرے ہوتے ہوے اس کا مستقبل تباہ ہرگز نہیں ہوگا ۔”
وہ خاموش رہی
"یار کچھ کمی لگ رہی یہ دو دنوں سے ۔”
وہ اب اس کا دل ہلکہ کرنا چاہتا تھا وہ پھر بھی لب سیے بیٹھی رہی
"پوچھو گی نہیں ۔”
ثمرن نے نفی میں سر ہلایا
"میری فارسی ! تمھارے اس ٹینشن کے چکر میں دو دن سے فارسی نہیں بولی ۔”
"آپ نے بولی تھی ۔”
اب وہ کہنے لگی لہجہ بھاری تھا مگر تھوڑا سکون کی آمیزش تھی
"کیا بھلا بولا تھا مجھے یاد نہیں آرہا ۔”
وہ جان بوجھ کر اس سے وہ آخری لفظ منہ سے کہلوانا چارہا تھا
"پتا نہیں دوست درم ہاں شاہد یہی تھا ۔”
صلاح الدین کے چہرے پہ گہری مسکراہٹ آگئی
"دوستت دارم !۔”
وہ بولا
"ہاں وہی دوستت دارم !۔”
اس نے دین کی طرف دیکھتے ہوے کہا
"ارے ہاو سویٹ آف یو فارسی میں مجھے آئی لو یو بولا ۔”وہ شرارت سے بولا
"اس کا مطلب یہ تھا ۔”دین نے سر ہلایا
"او !!۔”
"جی او چلو اُٹھو اب فریش ہو نماز پڑھو پھر تمھیں صبح ہی صبح کہی لے کر جاتا ہوں ۔”
وہ اسے اُٹھا کر بولا
"دین میں اس وقت کہی نہیں جانا ۔”
وہ بہت تھکی ہوئی لگ رہی تھی
"ہاں اس وقت بولوں گا کہ نیلم کے لیے نکلتے ہیں تو پھر محترمہ کی ساری تھکن ساری بیزاری دور ہوجائیں گی ۔”
"کیا ہم ابھی نہیں نکل سکتے ۔”وہ ایک دم اُٹھ کر اسے بولی تھی
"جی نہیں !۔”صلاح الدین نے اسے گھور کر واش روم کی طرف راہ دکھائی
"آپ بہت زیادہ بُرے ہیں ۔”
وہ غصے سے کہہ کر واش روم کی اندر گھس گئی اور
وہ گہرا سانس لیتا ہوا بستر کی طرف آگیا
••••••••••••••••
وہ اُٹھی تو کمرہ روشن ہوا وا تھا وجہ کمرے کے بڑے بڑے کھڑکیوں اور بالکنی دروازہ کھلا ہوا تھا اسی وجہ سے صبح کی روشنی کمرے میں پڑ رہی تھی نور نے تھوڑا سا سر اُٹھایا اور پھر تکیہ پہ گرا دیا مگر اس اسامہ کے بستر اور کمرے میں خود کو پاکر وہ اُٹھی
اور نظر سامنے صوفے پہ لیٹے اسامہ پہ پڑی
"یہ چکی کب سے اچھا ہوگیا حیرت ہے ۔”
اس نے اپنے بال کھجائے اور اس کے آدھ کھلے منہ کو دیکھ کر اس جیری کو صبح ہی صبح شرارت سوجی ایسا کیسے ہوسکتا تھا ٹام کو تنگ کیے بغیر اس کا دن خشگوار گزرتا
وہ جلدی سے کمبل ہٹا کر بستر سے اُتری اور واش روم کی طرف بڑھی یوٹیوب نے واقعی صبح کا دماغ خراب کردیا تھا یہ بات امی نے کچھ دن پہلے کی تھی اس میں مختلف پرینکس اور ڈرامے نہ صبح کو شیطان بنانے میں دیر نہیں کی تھی وہ واش روم سے ٹوت پیسٹ
لے کر آئی اور اس کے پاس پہنچی اس کا کیپ کھولتے ہوے اسے ہنسی بھی آرہی تھی اور ڈر بھی لگ رہا تھا کہی یہ اُٹھ نہ جائے اس نے جلدی سے پیسٹ کی نپ کو اس کے منہ کے قریب لے کر گئی اور اسے دبانے لگی اور پیسٹ نکل کر اسامہ کے منہ میں گھس گئی جلدی سے یہ کام کیا اور تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی یہ کیا کمرے میں کنڈی لگی ہوئی تھی اور اب صبح میڈم کی اتنی لائیٹ تو نہیں تھی کہ وہ کنڈی کھولتی !
اسامہ کو کچھ منہ میں محسوس ہوا اس کی پٹ سے آنکھیں کھلی اور اس نے جلدی سے منہ میں عجیب سی چیز محسوس کی اس نے اپنے منہ پہ ہاتھ رکھا اور تیزی سے اُٹھا اس کے منہ میں پیسٹ اس سے پہلے وہ صبح کا بندوبست کرتا وہ تیزی سے واش روم میں بڑھا
"او نو چکی اُٹھ گیا یہ کھلے کیسے کھل جا سم سم !!۔”
وہ جلدی سے سامنے پڑا ٹیبل دیکھنے لگی
اور وہ پانی سے اپنی زبان صاف کرتا بولا
"بیکار میں اس لڑکی کے ساتھ میں نے ہمدردی کی زندگی اجیرن کردیں ہے اس نے ۔”
وہ دانت پیستے ہوے تیزی سے باہر کی طرف آیا جو اب ٹیبل جلدی سے گھسیٹ کر اوپر چھڑنے لگی اسامہ بھاگتے ہوے آیا اور اسے پکڑ کر اُٹھایا
"تمھیں تو میں بتاتا ہوں !!! ویمپ !!!”وہ چیخنے لگی
"بچاو امی بچاو !!۔”
وہ اس کی گرفت میں نکلنے کی کوشش کرنے لگی
"امی بچائی گی تمھاری۔”
وہ اسے بستر پہ گرا کر غصے سے بولا وہ غصے سے مڑی اور وہ اب اس کے سامنے بازو سینے پہ باندھے خنخوار نظروں سے دیکھ رہا تھا چکی نہ ہو تو
"یہ کیا حرکت کی ہے تم نے؟۔”
وہ اب ایک ایک لفظ چبا چبا کر اس سے پوچھ رہا تھا
"میں نے کیا کیا ہے اسامہ !۔”
وہ ایک بلی کی طرح معصومیت کہ تمام ریکارڈ توڑ رہی تھی اور اس چھوٹی شیطان کی خالا کی اس معصومیت دیکھ کر اسامہ کا دل کیا اس کے لمبے بال سے اس کو پنکھے سے الٹا لٹکا کر پنکھا چلا دیں
"میں تمھیں وارن کررہا ہوں نور صبح اگر دوبارہ تم نے ایسی حرکت کی تو میں پنکھے سے الٹا لٹکا دوں گا یا تمھیں واشنگ مشین میں ڈال کر واشنگ مشین چلا دوں گا ۔”وہ دانت پیستے ہوے کہہ کر پانی پینے لگا کیونکہ اس کی زبان عجیب سے کڑوی ہوئ تھی کہ اس کا دل خراب ہورہا تھا
"واو پھر میں گول گول گھومو گی کسی رائونڈ رائونڈ ۔”
وہ مزے سے انگلی سے گول گول کا اشارہ کرتے ہوے بولی
"کیا کیا تم نے اُف ۔”
وہ اب فلیور خراب ہونے کے باعث بُرے بُرے منہ بناتا جلدی سے باہر کی طرف بڑھا کہ وہ بعد میں اس سے نمٹے گا وہ بھی اس کے پیچھے آئی
"ہاے کاش میرا ڈی ایسلار ہوتا تو آپ کی پکس لیتی ۔”
وہ اس کے پیچھے آئی تھی اور وہ مڑا تھا
"مجھے مجبور مت کروں صبح کہ میں تمھیں سڑھیوں سے اُٹھا کر پھینک دوں ۔”
وہ غصے سے بولا صبح نے اپنی آنکھیں گھمائی
"دھمکی ! یار رہے میں ارشد بھائی ۔”
"سٹاپ اٹ اتنا ہی وہ تمھارا بھائی ہوتا نا تو تمھیں میرے ساتھ مت بھیجتا اور اگر تم نے اس کا نام دوبارہ لیا تو زبان گدی سے کھینچ لوں گا ۔”
وہ تو جیسے پاگل ہوگیا تھا ہر وقت ارشد بھائی ارشد بھائی ایسا کیا ہے اس میں جس پر وہ اتنے مان سے کہہ رہی ہے کہ جیسے وہ اسے ہر نقصان سے بچا لے گا اور یہی بات اسامہ کو آگ لگا رہی تھی ۔
وہ خاموش ہوکر کندھے اچکاتی نیچے چل پڑی وہ بھی نیچے آیا
"اسامہ !۔”
وہ کچن کی طرف جارہا تھا جب صبح کی آواز نے اسے روکا مگر وہ اس کی طرف مڑا نہیں تھا
"مجھے کوئی کپڑے لے دیں میں نے پہن تو لیا تھا مگر میں بہت ان ایزی فیل کررہی ہوں ۔”
"کیوں لے کر دوں تمھارے ماں باپ کے پاس پیسے نہیں تھے یا پھر تم سے جان چھڑانے کی اتنی جلدی تھی انھیں کہ دو جوڑے کپڑوں کے بھی نہیں دیں سکے ۔”
وہ اتنی بے رحمی سے بولا تھا کہ پہلی بار نور صبح ضبط نہ کرسکی اور نمی اس کی آنکھوں میں پھیلتی گئی
"اور بالکل ٹھیک کیا انھوں نے تم جیسی کو کون برداشت کرسکتا ہے اور آغا جی نے ایک غلط فیصلہ کیا میرے حوالہ کر کے اچھی خاصی زندگی گزر رہی تھی میری مگر نہیں اسامہ کی زندگی میں مصیبت ہی لکھی ہوئی ہے کھبی خوشیاں تو ہے ہی نہیں گاڈ آئی جسٹ وانا کل مائی سیلف !۔”
وہ اپنی بولتا جارہا تھا یہ نہیں دیکھ رہا تھا کہ وہ کتنے تیر کسی معصوم کے جسم پر نشر کرچکا تھا
ایک دم دھڑم کی آواز پہ وہ چونکہ صبح زمین بوس ہوچکی تھی اور اس کا منہ کھل گیا یہ کیا ہوا جب اسے ہوش آیا تو تیزی سے اس کے پاس آیا
"صبح !!!!!۔”ij