منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ مختصر کہانیاں

Episode 27 Samreen Shah "صلاح الدین کو اگر پتا چل …


Episode 27
Samreen Shah
"صلاح الدین کو اگر پتا چل گیا آغا جان تو وہ ہنگامہ کریں گا ہمیں اس کی پروا نہ ہوتی اگر بڑی جان یہاں نہ ہوتی ۔”
وہ کھانا کھا چکا تھا اب سڈی روم میں بیٹھا تھا
"کنڑول میں آئی لڑکی تمھارے سبق سکھایا تم نے ۔”
وہ جانا چارہے تھے کم سے کم ان کو اتنی تو ٹھنڈ پڑ جاے جبکہ اسامہ خاموش ہوگیا
وہ نیچے کچن میں آئی اور گل شیر کو دیکھنے لگی جو برتن رکھ کر کپڑا مار رہا تھا اسے بُرا لگا اس کی وجہ سے وہ گر گیا اور بیچارا ابھی تک کام کررہا ہے
"بات سُنیں !۔”
وہ آہستہ سے بولی وہ مڑا ایک منٹ کے لیے اس چھوٹی بلی کو دیکھا جو آج ایک دن میم پورا گھر ہلا کر رکھ چکی تھی مگر وہ اب اس سے محتاط ہوگا کیونکہ یہ بہت خطرناک بلی تھی
"جی بولے بی بی ۔”
"میں آپ سے چھوٹی ہو تو آپ میرا نام کہہ کر بلایا کریں اور کھانا ہے مجھے بھوک لگ رہی ہے ۔”
"آپ ہماری مالکن ہیں اس لیے اسامہ لالہ سے کُٹ نہیں کھانے اور جی بی بی ابھی دیتا ہوں آپ کہاں کھائے گی ۔”
"وہ اسامہ کھا چکا ہے ۔”
وہ اپنی سوجی آنکھوں کو مسلتے ہوے بولی
"جی وہ تو کب کے ابھی سٹڈی روم میں بیٹھے ہیں لالہ !۔”
"یہ لالہ کیا ہوتا ؟ کسی میوزک سے امپریس ہوکر آپ نے انھیں کہنا شروع کردیا تھا ۔”
"بی بی آپ پٹھان نہیں ہے ؟۔”
وہ حیرت سے انھیں دیکھنے لگا آغا جان تو کھبی ایسا نہیں کرسکتے تھے باہر کے خاندان میں شادی تو کہی اسامہ لالہ نے پسند سے تو نہیں کی لیکن اتنی چھوٹی بچی کو وہ سر جھٹکنے لگا
"نہیں میں پٹھان تو نہیں ہو مجھے تو پشتو بھی نہیں آتی ۔”
"نہیں وہ آپ اسامہ لالہ کا بیوی ہے تو ۔”
اس کا منہ بگڑ گیا اسے پھر سے اپنے ماں باپ کا اس پر ظلم یاد آنے لگا
"اچھا ویسے کیا پکا ہے ۔”
"پلاؤ پکا ہے !۔”
وہ پلیٹ میں ڈال کر اس کے سامنے پیش کرنے لگا کابلی پلاؤ دیکھ کر اس کا نجانے کیوں دل خراب ہوا جو گاجر اور کشمش سے پورا پلاؤ بھرا ہوا تھا اس نے منہ پہ ہاتھ رکھا
"یہ کیا ہے ؟۔”
"یہ اسامہ لالہ کا فیورٹ ڈش ہے ۔”
"واقعی میں اسے صرف چکی ہی کھا سکتا ہے ۔”
"جی کیا بولا !۔”
وہ اس کے بڑبڑانے پر بولا
"کچھ نہیں سٹڈی روم کس طرف ہے ۔”
"آپ کھانا نہیں کھاے گا بی بی ۔”
وہ اسے اُٹھتے ہوے دیکھ کر حیرت سے بولا تھا
"نہیں مجھے نہیں پسند یہ ۔”
کھانے کے معاملے میں وہ ہرگز سمجھوتہ نہیں کرسکتی تھی
"ہم آپ کو کچھ ۔۔۔”
وہ اس کے بولنے سے پہلے ہی مڑ کر باہر کی طرف چل پڑئ
"آغا جان اس سب کو چھوڑے مجھے یہ بتائیں اگر دین یہاں آگیا تو میں کیسے سنبھالو گا ۔”
"شرم کرو تم ڈرتے ہو اس سے ۔”
وہ غصے سے بولے جبکہ اسامہ حیران ہوگیا یہ آغا جی بول رہے تھے جو دین کے خلاف ایک لفظ نہیں سُنا چاہتے تھے مگر اب ،اسامہ نے ان کے الفاظ کو بامشکل ہی ہضم کیا اور بات جاری کی
"ڈرتا نہیں ہوں میں عزت کرتا ہوں وہ بڑے ہیں مجھ سے ناچاہتیے ہوے بھی میں ان سے بدتمیزی نہیں کرسکتا یا ان کو روک سکتا ۔”
"پہلی بات حویلی میں ، میں نے دین سے رابطہ ہر کسی سے بند کروادیا ہے اور دوسرا سب کو لگتا ہے تم اسلام آباد والے گھر میں ہو اور اگر وہ یہاں آنے کی کوشش کریں گا یعنی حویلی وہ مجھ پر چھوڑ دوں اگر مجھے پتا چلا تو تم اس لڑکی کو لے کر نیلم آجانا سمجھ گئے ۔”
دروازہ کھلا تو نور کو دیکھ کر اس کی پیشانی پہ بل آگئے وہ پوری سٹڈی پہ نظریں گھماتی جب اسے دیکھنے لگی تو اس کی گھوری پہ کچھ کہنا چاہتی تھی مگر وہ فون پہ بات کررہا تھا اخلاق کے خلاف جاتی تھی یہ بات
وہ چلتے ہوے بُکس کی طرف آئی اور اتنے بڑے بڑے بُکس دیکھ کر اس کا دل خراب ہوگیا اُف بندہ تو مر جاے اتنی کتابیں ! واقعی یہ چکی جیسا خشک مزاج کا حامل بندہ ہی پڑھ سکتا تھا
"میرے روم میں کیا کررہی ہو کس کی اجازت کے بغیر اندر آئی ہو ۔”
وہ مڑی وہ بے انتہا سخت نظروں سے اسے کے سراپے کو دیکھ رہا جہاں اس کے کپڑے زیب تن کیے وہ بڑے آرام سے اس کی بُکس کو چھیڑ رہی تھی
"یہ گھر اگر تمھارا ہے تو یہ میرا بھی ہے ۔”
وہ تیزی سے اسے بولی تھی
"تمھارا ؟۔”
ابرو اوپر ہوے تھے اور پھر اس کی تمسخر سے بھری ہنسی چھوٹی تھی
"یہ تمھارا گھر نہیں ہے بلکہ تمھارا کوئی گھر نہیں ہے لٹل گرل ۔”
وہ اس کے دل پہ تیر پھینک رہا تھا اور تیر سیدھا نشانے پہ لگ رہا تھا مگر وہ مضبوط تھی ایک بہادر لڑکی جس کو کوئی نہیں تھا آنسو چھلکنے کو بیتاب تھے مگر وہ سختی سے روکے بولی
"مگر یہ گھر میرا ہے آپ بیشک کہتے رہے ماما جب آپی کو کہتی تھی ان کا اصلی گھر ان کے شوہر کا ہی گھر ہے ۔”
وہ بہت معصومیت سے بولی تھی ایک منٹ کے لیے اسامہ ٹہر گیا اور اسے دیکھنے لگا
"خیر مجھے اس وقت سخت بھوک لگی ہے ۔۔۔”
"تو آپ کی اطلاع کے لیے یہ کچن نہیں سٹڈی روم ہے اور یہاں کھانا نہیں ملتا ۔”وہ سرد لہجے میں بولا
"مجھے پتا ہے اور مجھے وہ نہیں کھانا گندا !۔”
وہ اسامہ کے فیورٹ افغانی پلاو کو منہ بگاڑ کر بُرا کہہ رہی تھی
"تو مت کھاو تمھاری مرضی مگر رات کو بھی یہی ملے گا ۔”
وہ اب فون ٹیبل پہ رکھتا اپنی ڈائری دراز میں رکھنے لگا
"پلیز نا مجھے فرآئز کھانے ہے اور ٹھنڈی پیپسی بھی پینی ہے ۔چاول مجھے سخت بُرے لگتے ہیں اور یہ تو بہت ہی بُرا ہے عجیب سی چیزیں ڈالی گئی ہے ۔”
وہ اس کے پاس آکر منت بھرے انداز سے بولی تھی جو کھبی بابا کو بولا کرتی تھی وقت بھی کیسے رنگ دکھاتا ہے وہ اپنی پیشانی مسلے اسے دیکھنے لگا
"جاو یہاں سے ۔”
"پلیز نا میں بھوکی رہو گی پھر سارا دن ۔”
وہ دھمکانے کا طریقہ آزمانے لگی جیسے اپنوں کے لیے استمعال کیا جاتا تھا مگر امیوشینل بلیک میلنگ تو وہاں کام کرتی ہے جہاں جزبات ہو یہاں تو جزبات سرے سے نہیں ہے تو پھر دھمکی بے کار تھئ
"میری بلا سے تمھیں کھانا میسر کررہے ہیں ایک چھت دیں رہے ہیں اتنا ہی کافی ہے اب جاو یہاں سے ۔”
وہ سرد لہجے میں کہتا لیپ ٹاپ کھول چکا تھا وہ خاموشی سے اسے دیکھنے لگی جو دُنیا سے بے نیاز اپنے لیپ ٹاپ پہ مصروف ہوچکا تھا وہ تھکے قدموں سے مڑ کر باہر آگئی اور دروازہ بند کر چکی تھی اور اسامہ کے کیبورڈ پہ چلتی انگلیاں تھم گئی تھی نیلی آنکھیں بے اختیار دروازے کی طرف گئی تھی یہ بے حد غیر متوقع حرکت تھی پُرسوچ لکیریں اس کی پیشانی پہ آئی تھی اور پھر بنا کچھ سوچے اس نے فون اُٹھایا اور صبح کے لیے آڈر کرنے لگا ۔
※※※※※※※※※※※
وہ کار گھر کے راستے پر لے کر جارہا تھا ،جب اچانک ثمرن تیزی سے بولی
"حویلی چلے ۔”
سارا ڈر ساری وحشت جیسے ہوا ہوگئی تھی وہ اب ڈرپوک سہمی ہوہی ثمرن ہرگز نہ تھی وہ صرف نور صبح کی بہن تھی جو ہر حال میں اس کے پاس اُڑھ کر پہنچنا چاہتی تھی وہ خاموش رہا ، ایک ہاتھ سے سٹیرنگ تھامے جبکہ دوسرے ہاتھ سے مسلسل ہر ایک کا نمبر ملا رہا تھا مگر فون بند تھا اس کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچ گیا تھا اسے ثمرن سے زیادہ تکلیف تھی اس کے گھر والے اس قدر گر سکتے تھے وہ بھول گیا تھا نور کا نکاح اس سے ہونے والا تھا تو وہ چُپ ہوگیا تھا تو کیسے اس کے گھر کہ مرد آغا جان کا حُکم ٹال سکتے تھے مگر اسامہ اور ارباز میں سے کون ہوگا اسامہ شاہد نہ ہو کیونکہ ارباز فون نہیں اُٹھا رہا تھا وہ واقعی اس سے رابطے میں تھا دو دن اس کہ کریش کی خبر کے باعث دو مسڈ کال آئی تھی دین نے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی مگر لاحاصل اب اسے سمجھ آگئی اس نے جلدی سے اسامہ کا نمبر ملایا مگر کال جانے سے پہلے ہی فون ڈیڈ ہوگیا
"شٹ !!!۔” اس نے فون غصے سے ڈیش بورڈ پہ پھینکا
"صلاح الدین علی خان بس کردیں آپ کا یہ ڈرامہ نہیں چلنے لگا مجھے میری بہن کے پاس لے کر چلے ۔”
وہ تیز مگر خاصی اونچی آواز میں کہنے لگی صلاح الدین ایسے بنا رہا جیسے گاڑی میں اس کے علاوہ اور کوئی موجود نہ ہو
"صلاح الدین ! ۔”
وہ اب اس کا بازو پکڑ کر جنجھوڑنے لگی آنکھیں چھلک چکی تھی سُرخ چہرے کے ساتھ وہ صلاح الدین کو دانت پیستے ہوے بولی تھی
"میری بہن ! وہ تڑپ رہی ہوگی دین اللہ کا واسطہ دیتی ہوں میں آپ کو ۔”
وہ اب سارا غصہ دور پھینک کر اب اس کی منت کررہی تھی
"دین میں آپ سب کی غلام بن جاوں گی میں نے پہلے بھی زبان سیے رکھی اب بھی ایسا کروں گی پلیز میری بہن میری نوری مجھے واپس لٹادیں ۔”
صلاح الدین اس سے ناراض رہنا چاہتا تھا مگر وہ کیا کرتا سامنے کوئی عام لڑکی نہیں تھی وہ موشم تھی صلاح الدین کی موشم ثمرن نے روتے روتے اپنا سر اس کی بازو پہ رکھ دیا
"مجھے پلیز میری بہن دیں دے وہ نہیں سہہ پائی گی یہ ایذا میرے لیے ناقابل برداشت تھا تو وہ کیسے جھیلے گی ۔”
اس کا ہر ایک لفظ تکلیف سے چور تھے صلاح الدین کا دل بھی بھر آیا تھا اس نے بازو ہٹا کر اس کے گرد پھیلائے اور اس کے سر پہ محبت کی مہر چھوڑی
"فکر نہ کروں موشم نور کو میں واپس لاو گا ۔”
لہجے میں محبت ، اپنے بات کی مضبوطی نے ثمرن کے دل کے اک کونے میں آسودگی پھیلا دی تھی اسے پختا یقین تھا کہ اس کا الادین اسے مایوس نہیں کریں گا ۔
※※※※※※※※※※※※※
وہ اوپر جانے کے بجائے سیدھا لاونج میں آگئی گھر میں خاموشی طاری ہوئی وی تھی اس وقت شام کے پانج بج رہے تھے اور پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے مگر گھر میں چاول کے علاوہ مزید کچھ نہیں تھا بے دلی سےوہ گرنے کے انداز میں صوفے پہ بیٹھی وہ پاس پڑا ریموٹ اُٹھا کر سامنے ہوم تھیٹر کو آن کرنے لگی جتنا اس کا سائز تھا اسے ٹی وی نہیں کہا جاسکتا تھا ٹی وی آن ہوگئی اور سکرین پہ نیوز چینل کی تیز تیز خبریں پڑھتی آوازیں پورے لاونج میں گونجنے لگی اس نے جلدی سے ریموٹ پکڑ کے آواز آہستہ کی پھر رُک گئی ایسا کیسے ہوسکتا تھا نور کو کوئی تنگ کریں اور نور اسے بخش دیں ایک شریر سی مسکان سے وہ چینل بدل کے آواز اونچی کرنے لگی
••••••••••••••••
گھر میں برونو مارز کی آواز ایسے گونجی جیسے کوئی کانسرٹ ہورہا ہو اتنی تیز اور اتنی اونچی چھت پھاڑ دینے والی آواز سے تقریباً گھر کا پورا حصہ تو نہیں مگر آدھا حصہ جہاں اسامہ سٹڈی روم میں موجود کو ہلا کے رکھ گیا تھا باہر نکلنے سے پہلے وہ نور ِصبح کی حرکت جان گیا تھا ایسا کیسے ہوسکتا تھا وہ اتنی خاموشی اور اتنی تمیز سے چُپ چاپ اس کی بات سُنتی ! اسامہ نے دروازہ کھولا تو ایسا لگا یہ آواز اس کے کانوں کے پردے پھاڑ دیں گے اس نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ کر چلا کر نور کو آواز دیں
"نور ِصبح !!!!!!۔”
مگر نتھنگ بٹ یو داٹس واٹ آئی لائک میں رقص کرتا برونو مارز کے مشکل ترین سٹیپس کو دیکھ کر خود بھی شروع ہوگئی کھبی دونوں بازو ہوا میں لہرا کر کھبی انھیں باندھ کر اپنی ٹانگوں کو آگئے پیچھے دائے بائے
"اُف کتنا تیز ہے ۔”
وہ جھنجھلا کر کہتے ہوے ریموٹ اُٹھا کر دوسرا گانا چلانے لگی کمرے میں اب میوزک کی چلنے سے پہلے ہی ہوم تھیٹر بند ہوگیا
"یہ کیا ہوا !۔”
اس نے اپنی گردن کو گھما کر دیکھا اسامہ دی چکی نے پلگ اُتار دیا وہ اب خنخوار نظروں سے صبح کو دیکھ رہا تھا ساری ہمدردی اس لڑکی کی حرکتوں کی وجہ سے ہوا میں اُڑ جاتی تھی
"اسامہ لالہ ! ہاے میرے پردے پھٹ گئے تھے ۔”
وہ مسکرا پڑی
"لالہ کے چمچے کانوں کے پردے ہوتے ہیں ۔”
وہ گل شیر کو ہنستے ہوے کہنے لگی اسامہ کو سمجھ نہیں آرہی تھی اس کے ساتھ کیا کریں کمرے میں بند کر چکا تھا ، کھانے کی پابندی کا انجام اس کے سامنے تھا وہ کچھ ایسا کریں جس سے یہ لڑکی اس کے کنڑول میں آجاے اس نے اسے کچھ دیر تک سخت نظروں سے دیکھا پھر گل شیر کو اس کے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا اور ایک بار پھر اسے ویسی نظروں سے دیکھتا وہ مڑ گیا تھا
******************
حرا ہمت کرتی رہی کہ وہ بات کریں مگر ردا خانم نے اس کی شکل دیکھنا گوارا نہیں کی تھی باقی سب تو ان کے فیصلے کے آگئے بے بس ہوگئے تھے اور اس نے رو رو کر آسمان سر پہ اُٹھایا تھا صلاح الدین !۔”
"چُپ کر حرا تیرے باپ نے سُن لیا نا تو تیرا گلا گھونٹ دیں گا ۔”
ماں اس کے رونے پر گھبڑا گئی تھی وہ بھی ڈر سے جلدی سے آنسو صاف کرنے لگی کہ محبت سے زیادہ اسے جان پیاری تھی
"اماں یہ کیا کررہی ہیں مجھے نہیں کرنی کسی سے بھی ۔”
"رامین نے اعتراض نہیں کیا تو تم کیوں کررہی ہو ۔”
وہ اب روایتی ماں کے روپ میں آگئی تھی ناجانے اپنی بے بسی کو چھپانا تھا یا وہ اپنی اولاد کے سامنے کمزور نہیں دکھنا چاہتی تھی
"دادو آپ صحیح نہیں کررہی ۔”
بلال چکر کاٹتیں ہوے ان کے پاس آیا اور ان کے گھٹنے پہ ہاتھ رکھا
"تو تم مجھے بتاو گے جانتے نہیں ہو اس سنگدل لڑکی نے کیا تھا اگر اس بچی کی جان چلی جاتی مجھے تو سوچ کر ہول اُٹھ رہے ہیں کہ میرے خاندان کے لوگ بے حس ہوگئے ہیں ۔”
وہ دُکھ سے بولی وہ اپنے جزبات صرف ایک شخص کے سامنے کھولتی تھی اور یہ اعزاز صرف بلال کو ہی حاصل تھا
"دادو اس کا بھائی مرا ہے اسے تکلیف تھی ۔”
جب انسان محبت کر بیٹھتا ہے تو اسے اس کی غلطی یا گناہ میں بھی اسے مجبوری یا بے بسی لگتی تھی اور یہی چیز بلال کررہا تھا
"بلال میں تو تمھیں بہت مختلف سمجھتی تھی تم نے محبت کی بھی تو اس سنگدل لڑکی سے ۔”
وہ اب حیرت سے بلال کو تک رہی تھی بلال نے لب دباے نظر چراتا ہوا کہنے لگا
"دادو غلطی آپ کی بھی ہیں آپ اگر ان کو سر پہ نہ چڑھاتی تو وہ ایسا نہ کرتی ۔”
بلال دل کی بات زبان پہ لے آیا ردا خانم کا منہ حیرت سے کھلا
"میں نے تو جو اسلام میں ان کا حق ہے وہی دلوایا ہے اس سے زیادہ کیا کیا ہے میں نے اور تعلیم انسان کو عقل اور شعور دیتی ہے مجھے کیا پتا تھا ان کی فطرت ویسی کی ویسی رہے گی ۔”
"آپ کو پتا ہے دادو فیصلے کرنے کا حُکم عورتوں کے بجائے مردوں کو کیوں دیا ہے کیونکہ عورتیں جزباتی ہوتی ہیں اور آپ جزباتی ہی ہورہی ہیں ۔”
اگر یہ بات بلال کی جگہ کوئی اور فرد یہ کہتا تو وہ اس کا سر پھاڑ دیتی وہ تھکے ہوے انداز سے اسے دیکھ رہی تھی
"آج تک کیا میں نے کوئی غلط فیصلہ کیا ہے ؟۔”
وہ بس اس سے پوچھنا چارہی تھی وہ آیا اتنی ظالم یا وہ خود جزباتی ہورہا ہے اپنی محبت نہ حاصل کرنے پر
بلال کو ان کے لہجے نے شرمندہ کردیا اور وہ ان کے ہاتھ تھامے بولا
"آپ نے کچھ غلط نہیں کیا مگر اب کرنے جارہی ہیں ۔”
"اس بات کو چھوڑو یہ دین اور اسامہ کا کیا چکر دین کی تو سمجھ میں آتی ہے اسامہ بہت عجیب طریقے سے بات کررہا تھا میرا دل جیسے بیٹھا جارہا پتا نہیں دین اور وہ بچی ٹھیک ہوگے مت پوچھو اتنی شرمندگی ہورہی ہے اس بیچاری کے حالت کے زمہ دار میرا خاندان ہے ۔”
"آپ پریشان نہ ہوے دادو صلاح الدین ایک اچھا انسان ہے اس کی اچھائی اس لڑکی کو سب بھلا دیں گئ رہی بات اسامہ کی تو اس کے اگزامز چل رہے ہیں اور شاہد وہ صلاح الدین کی وجہ سے آپ کو ان کے بارے میں نہیں بتانا چارہا ۔”
"شاہد تم ٹھیک کہہ رہے ہو مگر جو تمھاری ڈیمناڈ ہے وہ بہت بھاری میں اس لڑکی کو دیکھنا نہیں چاہتی اور تم ہو کے ۔”
"اگر آپ کسی ایسے شخص سے اس کی شادی کرواتی جس سے میں خود مطمن ہوجاتا کہ وہ وہاں خوش رہے گی مگر آپ اس کا رشتہ وہاں پکا کروارہی ہیں جہاں عورتوں کو دو کوڑی کا سمجھا جاتا ہے ۔”
ردا خانم نے اسے گھورا
"ارباز نے تمھیں بتایا ہے نا !۔”
وہ ان کی گھوری اور تیز لہجے کو خاطر میں لاے بغیر بولا
"ہمیں درگزر بھی تو کردینا چاہیے دادو اسے ایک موقع بھی تو دے ۔”
"جتنی تم اس کی منت کررہے وہ تو ایک بار بھی نہیں آئی میرے پاس معافی مانگنے ۔”
انھوں نے اپنا ہاتھ نکالا
"آپ نے اتنی دہشت پھیلائی ہے کہ وہ بیچاری کیسے ہمت کرتی ۔”
وہ مسکراہٹ دبانے لگی اور بلال کے چہرے پہ چپٹ لگائی
"بدمعاش مگر ابھی میں کوئی فیصلہ نہیں کروں گی مجھے سوچنے کا وقت دوں تم ہی کہتے ہو جزبات میں آکر فیصلہ کرنا چاہیے اور پلیز زرا یہ صلاح الدین کا پتا لگاو تاکہ میں اس کے پاس جانے کی تیاری کرو ۔”
وہ مسکرا کر ان کے گالوں پہ پیار کرتا تھینک یو دادو کہہ کر اُٹھ گیا اور وہ معض ٹھنڈا سانس بھر کر رہ گئیں ۔
••••••••••••••
"تھوڑا اور ڈالو ۔”
وہ سپائسس مزید پیزا میں دلوارہا تھا ساتھ میں ہاٹ ساس جس میں پورا جسم لال ہوجاتا ہے گرمی سے وہ بھی گل شیر سے منگوایا اور اب اسے ہدائیت دیں رہا تھا اس لڑکی نے جو کچھ کیا تھا وہ اب اس کی بھاری قمیت چکائی گی
"بس کردیں لالہ بی بی مر جائے گیئں ۔”
"مر ہی جائے ۔”
اسامہ نے اکتا کر کہا
"ہاے اسامہ لالہ توبہ کریں کیسی باتیں کررہے ہیں بی بی لے لیے ۔”
"تمھارا کام ہوگیا !۔”
"یہ لے ۔”
"میں کیوں تم جاکر دیں کر آو بلکہ نئیں رہنے دو مجھے دو ۔”
ایک ایول سمائل اس کے چہرے پہ رینگی تھی شام کے ٹائم وہ فرآئز اسے گل شیر کے ہاتھوں دیں چکا تھا اب وہ کھا کر اِدھر صوفے پہ ہی سو گئی تھی آج کے دن بہت ہوگیا ایڈونچر وہ اب سورہی تھی اسامہ چلتے ہوے اس کے پاس آیا
"اُٹھو !۔”
وہ اسے آواز دینے لگا مگر وہ اتنے فاصلے پہ اس کی آواز کیسے سُن پاتی وہ خاصی گہری نیند میں تھی رات کے اس وقت نو بج رہے تھے وہ وہ بڑے آرام سے اپنے سارے کام نپٹا کے اب اپنا پلان شروع کرنے لگا
اس نے ریموٹ اُٹھا کر ٹی وی آن کی اور آواز اونچی کی مگر اس کی نیند بے حد پکی تھی بلا آخر اس کا بازو جھنجھوڑنے لگا وہ اس کا ہاتھ جھٹکنے لگی
"سونے دو آپی !!!”
وہ رُک گیا وہ اب کروٹ بدل رہی تھی
"نور صبح !!!۔”
وہ چاہتیے ہوے بھی اپنے لہجے کو بدل نہ سکا تھا اور سخت لہجے میں ایک بار پھر اسے اُٹھانے لگا