Category: منتخب غزلیں
-

اتنی آسانی سے ملتی نہیں فن کی دولت ڈھل گئی عمر تو …
اتنی آسانی سے ملتی نہیں فن کی دولت ڈھل گئی عمر تو غزلوں پہ جوانی آئی …. اقبال اشہر کا یومِ پیدائش October 26, 1965 اردو اردو ہے مرا نام میں خسروؔ کی پہیلی میں میرؔ کی ہم راز ہوں غالبؔ کی سہیلی دکن کے ولیؔ نے مجھے گودی میں کھلایا سوداؔ کے قصیدوں نے…
-

نَوشاد نورؔی کا یوم ولادت 26؍اکتوبر 1926 نام محمد …
نَوشاد نورؔی کا یوم ولادت 26؍اکتوبر 1926 نام محمد مصطفٰے معصوم ہاشمی اور تخلص نوشاد نورؔی تھا۔ 26؍اکتوبر 1926ء کو دربھنگہ بِہار برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ نوشاد نوریؔ اپنی آخری عمر میں کینسر کے مرض میں مبتلا رہے اور 75 سال کی عمر میں 18؍جولائی 2000 کو ڈھاکہ میں انتقال کر گئے۔ منتخب کلام…
-
رہا نہ دِل میں وہ بے دَرد، اَور دَرد رہا مُقِیم کو…
رہا نہ دِل میں وہ بے دَرد، اَور دَرد رہا مُقِیم کون ہُوا ہے، مَقام کِس کا تھا۔۔۔! داغؔ دہلوی
-
کتابوں کے ساتھ سماج کا سوتیلا پن پچھلے دنوں می…
کتابوں کے ساتھ سماج کا سوتیلا پن پچھلے دنوں میں نے ایک سوال اٹھایا تھا کہ جن باذوق اور علم دوست لوگوں نے پچاس پچاس ساٹھ ساٹھ سال لگا کر کتابیں جمع کی تھیں، ان کی آنکھ بند ہونے کے بعد کتابوں کے ان ذخیروں کا کیا بنے گا؟ میرا خیال تھا کہ اس…
-
ذوالفقار عادل کے منتخب اشعار یہ کس نے ہاتھ پیشان…
ذوالفقار عادل کے منتخب اشعار یہ کس نے ہاتھ پیشانی پہ رکھا ہماری نیند پوری ہوگئی ہے یہ جو بھی لوگ ہیں ان کشتیوں میں ہمیں دریافت ہونے کی خوشی ہے دل سے گزر رہا ہے کوئی ماتمی جلوس اور اسکے راستے کو کھلا کر رہے ہیں ہم اب تک کوئی بھی تیر ترازو نہیں…
-
سر پر غم دنیا کی بڑی دھوپ کڑی ہے اور آنکھ تیرے گنب…
سر پر غم دنیا کی بڑی دھوپ کڑی ہے اور آنکھ تیرے گنبد خضریٰ پہ گڑی ہے اے شافع محشر ہمیں کملی میں چھپا لے امت تیری دہلیز پہ شرمندہ کھڑی ہے ہم فرش نشین عرش کے ہمسائے کے عاشق بیٹھے ہیں کہاں اور کہاں آنکھ لڑی ہے ہم محفل کونین میں گم ہو نہیں…
-
میں کب سے گوش برآواز ہوں پکارو بھی زمین پر یہ س…
میں کب سے گوش برآواز ہوں پکارو بھی زمین پر یہ ستارے کبھی اتارو بھی مری غیور امنگو ! شباب فانی ہے غرورِ عشق کا دیرینہ کھیل ہارو بھی سفینہ محوِ سفر ہو تو نا رسیدہ نہیں قدم قدم پہ کنارے ہیں تم سدھارو بھی مرے خطوط پہ جمنے لگی ہے گردِ حیات اداس نقش…
-

پہلے کبھی پوچھا تھا جو اب پوچھ رہی ہے دنیا مرے لُٹ…
پہلے کبھی پوچھا تھا جو اب پوچھ رہی ہے دنیا مرے لُٹنے کا سبب پوچھ رہی ہے … حق کانپوری کا یومِ وفات (پیدائش: 7 اکتوبر 1942ء – وفات: 22 اکتوبر 2019ء) —— منتخب کلام —— دل کو موہ لینے کے اور رُخ نکالیے پتھروں کے شہر میں آئینے نہ ڈھالیے —— کون آ گیا…
-

22؍اکتوبر 1978 اردو اور دکنی زبان کے مزاحیہ شاعر س…
22؍اکتوبر 1978 اردو اور دکنی زبان کے مزاحیہ شاعر سلیمان_خطیبؔ کا یومِ وفات سُلیمان خطیبؔ 26؍دسمبر 1922ء کو سابق ریاستِ حیدرآباد کے ضلع گلبرگہ، بیدر کے مقام چٹگوپہ، تعلقہ ہمنا آباد (کرناٹک) میں پیدا ہوئے۔ ان کے اجداد عہدِ عالمگیری میں جامع مسجد چٹگوپہ کے خطیب رہے، خطیب ان کا خاندانی نام ہے جسے انہوں…
-
مِلتی ہے غَم سے رُوح کو، اِک لَذَّتِ حَیات …
مِلتی ہے غَم سے رُوح کو، اِک لَذَّتِ حَیات جو غَم نَصِیب ہے، وہ بَڑا خوش نَصِیب ہے۔۔۔! وفاؔ ملک پوری